لفافہ

حجاب کے نام

سوشل میڈیا

دسمبر کے حجاب اسلامی میں کئی مضامین بہت زیادہ پسند آئے۔ سوشل میڈیا کے خواتین اور بچوں پر اثرات مضمون اس حیثیت سے قابل توجہ لگتا ہے کہ اس نے ہماری زندگی کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ اور یہ ہماری نئی نسل کی نہ صرف فکر اور سوچ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ ان کی تعلیم و تربیت پر بھی بہت گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اسی شمارے میں ایک مضمون میں اس کی تباہ کاریوں کا ذکر ہے جو بچوں کو تعلیم پر توجہ دینے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ چیز بہ ذات خود بری نہیں اس کا استعمال اس کو برا بنا رہا ہے۔ دوسری بات استعمال کی کثرت اس کو برائی کے دائرے میں لے آئی ہے۔

میں والدین سے یہی کہوں گی کہ وہ بچوں میں اچھائی اور برائی کے شعور کو واضح اور پختہ کرنے کی فکر کریں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو خود بھی پرسکون رہیں گے اور ان کے بچے بھی اللہ کے فضل سے بہت سی برائیوں سے محفوظ ہوجائیں گے۔

سوشل میڈیا کے بارے میں بھی شروع ہی سے بچوں کو آگاہ کر دیں کہ اس کے استعمال سے فوائد بھی اور نقصانات بھی۔ اور نقصانات کا پختہ اور عملی تصور ان کے ذہن میں ہوگیا تو وہ اس کے شر سے محفوظ ہوجائیں گے۔

نداء سکینہ، فرنیرر ٹاؤن، بنگلور

اچھا رسالہ

حجاب اسلامی کا تازہ شمارہ سامنے ہے۔ دسمبر کا یہ رسالہ اپنے مشمولات کے اعتبار سے قابل قدر ہے۔ میں گزشتہ سات آٹھ سال سے اس رسالہ کا قاری ہوں۔ میرے گھر کے افراد خصوصاً لڑکیاں اسے بڑے شوق سے پڑھتی اور اس کی آمد کا انتظار کرتی ہیں۔

بہت دنوں سے دل چاہتا تھا کہ خط لکھوں اور رسالے کے لیے اپنی پسند کا اظہار کروں۔ آپ نے رسالہ کے مشمولات کے لیے جو پالیسی فریم بنایا ہے اور اس میں جس طرح کے مضامین شائع کرتے ہیں وہ ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہیں۔ اسی وجہ سے رسالہ ہر گھر کی ضرورت بن گیا ہے۔ اس کے مضامین کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ گھر کے تمام افراد، بڑے چھوٹے اور مرد و خواتین سبھی پڑھ سکتے ہیں۔ جب کہ اکثر دوسرے رسالوں، اخبارات اور ان کے ہفتہ وار ضمیموں کو بچوں سے بچا کر رکھنا پڑتا ہے۔

تعلیم و تربیت کا گوشہ بہت مضبوط اور مفید ہے۔ اسی طرح حالات حاضرہ اور خواتین و بچوں کے دیگر موضوعات پر شائع ہونے والی خاص رپورٹیں پسند آتی ہیں۔ دینیات کے گوشے کو اور مضبوط اور بڑا کیا جانا چاہیے۔

دعا ہے کہ رسالہ ترقی کرے اور ہر مسلم اور اردو داں گھر کی ضرورت بن جائے۔

احمد عبد الحی رضا

وکاس نگر، بریلی (یوپی)

مضامین پسند آئے

آپ کے رسالے کا دسمبر کا شمارہ پڑھنے کو ملا بہترین مضامین تھے اس میں۔ خواتین اور بچوں پر سوشل میڈیا کے اثرات، اسلامو فوبیاکا چیلنج اور خصوصی رپورٹ پسند آئے۔ میری جانب سے آپ کی ٹیم کو مبارکباد۔

اے عبد الرحیم

وانم باڑی (بذریعہ ای-میل)

اچھی رہ نمائی

نومبر کا حجاب اسلامی موصول ہوا، پسند آیا۔ شیخ سمیہ تحریم کے دونوں مضامین بہت پسند آئے۔ انھوں نے بہت سادہ انداز میں شوہر بیوی کے لیے بڑی اچھی رہ نمائی دی ہے۔ ویسے ان کی تحریریں حجاب اسلامی میں جب بھی شائع ہوتی ہیں تو پسند کی جاتی ہیں۔

مونسہ بشریٰ

ہری نگر، غازی آباد (یوپی)

(بذریعہ ای-میل)

نومبر کے شمارے میں شائع ہونے والے مضامین میں کئی ایک بہت اچھے لگے۔ تاریخ اسلام کی آخری صحابیہ معلوماتی اور اچھا لگا۔ افسانوں میں ’کہانی کا انجام‘ بہت پسند آیا، خواتین کی ایجادات، جیسا مضمون معلوماتی لگا۔ عام طور پر ہم لوگ چیزوں کو استعمال کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ اس کو بنانے والا کون ہے اور اس نے اس مقام تک اس چیز کو لانے میں کس قدر محنت کی ہوگی۔اگر ہم اس پر غور و فکر کرنے لگیں تو خود بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔lll

ذاکرہ سلطان

(بذریعہ ای-میل)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply