احسان مندی کا تقاضا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ لَّمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللّٰہَ

’’جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔‘‘

تشریح: شکرکا مطلب ہے احسان کرنے والے کے احسان کو تسلیم کرنا اور اسے بیان کرنا، یعنی اس کے سامنے بھی اس کا اقرار و اعتراف کرے اور لوگوں کے سامنے بھی اس کا اظہار و اعلان کرے۔ اسے احسان شناسی کہتے ہیں اور اس کے برعکس رویے کو احسان ناشناسی۔ احسان شناسی اخلاقی خوبی ہے، جس کی تاکید اس حدیث میں بھی کی گئی ہے، نیز دوسری احادیث میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احسان کرنے والے کو جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا ’’اللہ تجھے بہترین بدلہ دے۔‘‘ کے الفاظ میں دعا بھی دے۔ محض زبان سے شکریہ یا ’’تھینک یو‘‘ کہہ دینا کافی نہیں جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے۔ کوئی بھلا انسان کسی آشوب یا آزمائش کے موقع پر مخلصانہ اعانت کرے مگر اس کی مہربانی کا اظہار و اعتراف نہ کیا جائے تو یہ فعل احسان فراموشی قرار پائے گا۔ یہ یقینا بد اخلاقی بلکہ ایسا قبیح فعل ہے کہ اسے اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ناشکری قرار دیا گیا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حافظ صلاح الدین یوسف

Leave a Reply