3

قرآن کی اخلاقی تعلیم

بدی کبھی اپنی اصلی شکل میں رونما ہونے کی جرأت نہیں کرتی۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی نیکی کا لبادہ اوڑھ کر ہی سامنے آتی ہے، اور یوں خود اپنی شکست کا خاموش اعتراف کر لیتی ہے۔ اس سے انسان کی حقیقی فطرت کا بھی پتا چلتا ہے جو خیر اور حسنِ خلق سے عبارت ہے۔ انسان کو باقی حیوانی دنیا سے ممیز کرنے والی چیز اخلاق ہی ہے۔ اس کے سنوارنے سے انسان کا سنورتا ہے، اور اس کے بگاڑنے سے انسان کا بگاڑہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ تہذیب میں تمام معاشرے اور تمام تمدن جس چیز پر متفق نظر آتے ہیں وہ حسنِ اخلاق ہے۔ سچائی ، پاسِ عہد، رحم ، فیاضی ، صبر ، تحمل، بردباری ، اولوالعزمی ، شجاعت ، ضبطِ نفس، خودداری، میل ملاپ، شائستگی، فرض شناسی، اتفاق اور دوسری اچھی صفات کو سب نے سراہا ہے، اور اس کے برعکس تقریباً تمام معاشروں نے جھوٹ ، بد عہدی ، ظلم ، بخل، بے صبری، بزدلی، ذلت، ترش روئی، خیانت، چغلی، غیبت اور تمام دوسری برائیوں کو برا سمجھا ہے۔ یہ اقدار انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہیں اور اسلام نے ان معروفات اور منکرات کو اپنے نظام میں سمولیا ہے۔ البتہ جس پہلو سے قرآن کا نظامِ اخلاق منفرد ہے وہ یہ ہے کہ اس نے فلسفۂ اخلاق کے تمام بنیادی امور کے بارے میں ایک منظم اور مربوط نظر یہ پیش کیا ہے۔ اور وہ اپنا ایک خاص ماخذ ِ علمِ اخلاق، قوتِ نافذہ اور قوتِ محرکہ رکھتا ہے اور یہ سب مل کر اس کے فلسفۂاخلاق کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ بنیادی باتیں قابلِ ذکر ہیں:

(ا ) قرآن کی اخلاقی تعلیمات کی پہلی بنیاد یہ نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں آزمایش اور امتحان کے لیے بھیجا ہے اور ایک دن انسان کو پوری زندگی کا حساب اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کرنا ہو گا۔ اسلام نے اخلاقی امور کا کمال یہ قرار دیا ہے کہ وہ یہ سمجھ کر ادا کیے جائیں کہ یہ خدا کے احکام ہیں اور انسانوں کو خدا کے بتائے ہوئے معیار ِ خیروشر کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اسی میں اْن کی فلاح ہے۔

(ب) انسان خود اپنے مفاد اور برے بھلے کے متعلق محض اپنی عقل کی بنا پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز کو اچھی اور مفید سمجھتا ہے لیکن درحقیقت وہ مضر ہوتی ہے، اور بعض چیزوں کو وہ مضر سمجھتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے حد درجہ مفید ہوتی ہیں۔ قرآن کے یہ الفاظ اسی مضمون کی ترجمانی کرتے ہیں:

عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بْری لگے اور وہ تمھارے حق میں بھلی ہو، اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمھارے لیے مضر ہو۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (البقرہ: ۲۱۶)

آخر میں وجہ بھی بتا دی کہ اللہ ہی حقائقِ اشیا سے کما حقہ با خبر ہے اور تمھارے علم کا دائرہ محدود ہے۔ اگر ہر انسان یا انسانی گروہ اپنے لیے خود اخلاقی ضابطے وضع کرنے لگے تو انسانی معاشرہ انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاق کا تعلق باہمی معاملات ومسائل سے ہے۔ یا یوں کہیے کہ باہمی تعلقات کی شیرازہ بندی کا دوسرا نام اخلاق ہے۔ ’’دنیا کی ساری خوشی، خوش حالی اور امن وامان انھی اخلاق کی دولت سے ہے۔ اسی دولت کی کمی کو حکومت وجماعت اپنی قوت اور طاقت کے قانون سے پورا کرتی ہے۔ اگر انسانی جماعتیں اپنے اخلاق وفرائض کو پوری طرح خود انجام دیں تو حکومت کے جبری قوانین کی کوئی ضرورت ہی نہ رہے۔ اسی لیے بہترین مذہب وہ ہے جس کا اخلاقی دبائو اپنے ماننے والوں پر اتنا ہو کہ وہ ان کے قدم قدم کو سیدھے راستے سے بہکنے نہ دے‘‘۔ (سیرت النبیؐ، سیّد سلیمان ندوی، جلد ششم، طبع چہارم)

اس اعتبار سے اسلام دنیا کے تمام مذاہب اور نظاموں سے کہیں زیادہ جامع ہے۔ اخلاق کے دائرے میں تو زندگی کے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی پہلوبھی آجاتے ہیں لیکن ہم اپنے مطالعے کی آسانی کے لیے اخلاق کو اس کے معروف اور عام تصور اور تعریف تک محدود رکھیں گے، اور اس ضمن میں قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات کو اختصار کے ساتھ پیش کریں گے۔ ویسے تو دنیا کے ہر مذہب اورنظام نے اخلاق پر زور دیا ہے لیکن قرآن نے اخلاق کی بلندی کا وہ معیار پیش کیا ہے، جہاں انسان اللہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے اور اس کی زندگی میں اسماے حسنیٰ کا پر تو نظر آتا ہے۔

قرآن نے اخلاقی تعلیمات کا جو خاکہ پیش کیا ہے وہ یہ ہے:

نفسانی اور ذاتی اغراض سے پاک

اسلام میں چونکہ اخلاق بھی دوسرے مذہبی امور کی طرح ایک عبادت ہے۔ اس لیے اس کی غرض وغایت بھی، ہر قسم کی دنیاوی، نفسانی اور ذاتی اغراض سے پاک ہونی چاہیے۔ اگرایسا نہیں ہے تو اس کی حیثیت کچھ نہیں ہے، اور نہ ان اخلاقی اْمور کا کوئی اْخروی فائدہ ہو گا:

اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا ) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے، اور جو آخرت میں طالب ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے۔ (آل عمرن: ۱۴۵)

کوئی بھلائی کا کام اگر بد نیتی ، ریاکاری اور نمایش کے جذبے سے کیا جائے تو وہ باطل ہوگا، اور اس کا کوئی اجر نہ ملے گا بلکہ الٹا آخرت میں وبال جان بن جائے گا۔

’’مومنو! اپنے صدقات کو احسان رکھنے اور ایذا دینے سے برباد نہ کرو۔‘‘ (البقرہ: ۲۶۴)

حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین

اسلام میں جماعت کے افراد پر، ان کی قوت کے مطابق ، جماعت کے دوسرے افراد کی نگرانی فرض ہے۔ اسی اخلاقی اور شرعی فرض کا نام امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ قرآن کریم کی وضاحت کے پیش نظر امت ِ مسلمہ کی فضیلت ہی اس بات پر ہے کہ یہ امت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتی ہے:

’’ تم بہترین امت ہو، جو سارے انسانوں کے لیے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۱۰)

لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ جہاں بھی برائی کو دیکھے اسے مٹانے کی کوشش کرے اور ہرحالت میں حق بات کہے:

’’ اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔‘‘ (العصر: ۳)

عدل و احسان

عدل وانصاف کو ہمیشہ مدِ نظر رکھنا چاہیے۔ کسی فرد یا قوم کی دشمنی کی وجہ سے ، راہ ِاعتدال سے ہٹنا یا سچی شہادت دینے سے گریز کرنا ناجائز ہے خواہ اس کی خاطر رشتہ داروں، دوستوں اور حد یہ کہ اپنی ذات کے خلاف ہی گواہ کیوں نہ بننا پڑے۔ اسی طرح اگردو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا معاملہ پیش آئے تو بے لاگ فیصلہ کرنا چاہیے:

’’ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کا فیصلہ کرو۔‘‘(النساء: ۵۸)

’’ اور لوگوں کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو۔‘‘ (المائدہ: ۸)

’’انصاف پر قائم رہو، اللہ واسطے کے گواہ بنو خواہ تمھاری گواہی تمھارے یا تمھارے ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (النساء: ۱۳۵)

اس سے بھی آگے بڑھ کر قرآن نے عدل کے ساتھ ساتھ احسان کو بھی مسلمانوں کی ایک اخلاقی خصوصیت بتایا ہے۔ احسان کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی کمی کو پورا کر دینا ، تا کہ معاشرے اور زندگی میں حسن قائم رہے۔ اسلامی مملکت میں عدل کا تعلق بڑی حد تک ریاست کے ہاتھ میں ہو گا، لیکن احسان ہر شخص کے ہاتھ میں :

’’اللہ تمھیں عدل اور انصاف کا حکم دیتا ہے۔‘‘(النحل:۹۰)

مذموم صفات کی نفی

قرآن کے نزدیک وہ تمام صفات مذموم ہیں، جو معاشرے کی اخلاقی فضا کو مکدّر کریں اور معاشرے کے اتحاد اور نظم وضبط کو نقصان پہنچائیں اور جن سے اس بات کا خطرہ ہو کہ پوری سوسائٹی ناقابلِ اعتماد قرار پائے۔ مثلاً جھوٹ ، انتشاروافتراق، افتراپردازی ، بدگمانی ، چغلی ، غیبت ، نفاق اور تحقیر وغیرہ ، کہ یہ محرکات ہیں جن سے کسی سوسائٹی کی فضا مکدّر ہو سکتی ہے۔ ان سب سے بچنے کے لیے اس طرح ہدایات دی گئیں:

’’ اور بچتے رہو جھوٹی بات سے۔‘‘ (الحج:۳۰)

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو۔‘‘ ( آل عمرن:۱۰۳ )

’’ سچوں کے ساتھ رہو۔‘‘ (التوبہ:۱۱۹)

’’ قیاس آرائیوں سے بچو۔‘‘ ِّ(الحجرات:۱۲)

’’ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔‘‘ (الحجرات:۱۲)

’’ ٹوہ میں نہ لگے رہو۔‘‘ (الحجرات:۱۲)

’’ ایک دوسرے کو عیب نہ لگائو ۔‘‘ (الحجرات:۱۱)

’’کچھ لوگ دوسروں کا مذاق نہ اڑائیں۔‘‘ (الحجرات:۱۱)

’’ ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو۔‘‘ (الحجرات :۱۱)

انسانی جان اور عزتِ نفس کا احترام

مسلمانوں کی جان ومال ، عزت و آبرو، سب محترم ہیں۔ ناحق کسی کی جان لینا یا بے عزت کرنا ، یا ذلیل وخوار کرنا جائز نہیں ہے، جیساکہ خیانت ، بددیانتی ، ظلم ، غرور و تکبر ، خود ستائی ، حسد ، بغض ، ناپ تول میں کمی بیشی، انتقام ، قتل ناحق وغیرہ۔ قرآن کے نزدیک یہ سب مذموم صفات ہیں۔ ذیل کی آیات میں ان باتوں کی وضاحت موجود ہے:

’’اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہو۔‘‘ (انفال: ۲۷)

’’اور لوگوں سے گال پھلائے نہ رکھو، اور نہ زمین پر اکڑ کر چلو۔‘‘ (لقمان : ۱۸)

’’ زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔‘‘ (بنی اسرائیل:۳۷)

’’اپنی پاک بازی نہ جتائو۔‘‘ (النجم:۳۲)

’’ حاسد کے حسد سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ (الفلق: ۵)

’’جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی ، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت دونوں میں لعنت ہے۔‘‘ (النور:۲۳ )

’’ اللہ ظالموں کو محبوب نہیں رکھتا۔‘‘ (آل عمران:۵۷)

’’تول پورا کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔‘‘ (الاعراف:۸۵)

ناجائز سفارش اور رشوت کی نفی

قرآن مجید کا یہ بھی حکم ہے کہ جائز سفارش کرو اور کسی کا مال ناجائز طور پر نہ کھائو، یعنی بطور رشوت یا کسی اور ناجائز ذریعے سے:

’’ ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھائو اور نہ اس کو حاکموں کے پاس پہنچائو تا کہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جائو اور اسے تم جانتے ہو۔‘‘ (البقرہ: ۱۸۸)

حْسنِ اخلاق

باہمی میل ملاپ میں اور بات چیت میں تواضع اور شیریں زبانی سے کام لو اور غروراور بدمزاجی سے پرہیز کرو:

’’ سب لوگوں سے اچھی بات کہو۔‘‘ (البقرہ: ۸۳)

’’ ان مومنوں کے ساتھ خاطر تواضع سے پیش آئو جو آپ کے تابع ہیں۔‘‘ (الشعراء:۲۱۵)

ضبطِ نفس

عفوو درگزر سے کام لو اور ہر چھوٹی اور معمولی بات پر آپے سے باہر نہ ہوجائو :

’’ غصہ پی جانے والے اور لوگوںسے درگزر کرنے والے۔‘‘ ( آل عمران: ۱۳۴ )

’’ اگر تم معاف کر دو تو یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔‘‘ (البقرہ :۲۳۷)

’’ انھیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں۔‘‘ (النور: ۲۲)

’’اور جو صبر کرے اور درگزر سے کام لے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔‘‘ (الشورٰی :۴۳)

قناعت اور اعتدال

معاشی نقطہ نظر سے وہ ایسی روش اختیار کریں جس میں قناعت اور خرچ میں اعتدال ہو اور اسراف سے دْور رہیں۔ اگر اللہ نے کسی کو زیادہ دیا ہے تو لالچ نہ کریں اور نہ اس سے حسد کریں۔ اگراللہ نے انھیں زیادہ دیا ہے تو اسراف نہ کریں اور نہ بخل سے کام لیں :

’’ کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنے فضل سے نواز دیا؟‘‘ (النساء: ۵۴)

’’ اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو۔‘‘ (النساء: ۳۲ )

’’نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے کھلا چھوڑ دو۔‘‘ (بنی اسرائیل :۲۹ )

’’اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ تنگی اور بخل سے کام لیتے ہیں، بلکہ اس کے درمیان اعتدال کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (الفرقان ۲۵:۶۷)lll

شیئر کیجیے
Default image
سید معروف شاہ شیرازی

تبصرہ کیجیے