پیاس بجھاتے چلو! (قسط-۹)

فائزہ نے گولڈن اور میرون رنگ والا ٹخنوں تک آتا ہوا انار کلی فراک زیب تن کیا ہوا تھا۔ گہرا میرون جس کی پیٹی پر گولڈن امبراڈری کا نفیس کام کیا ہوا تھا۔ دو پٹے کو اچھی طرح سیٹ کر کے اس نے اپنی تیاری مکمل کرلی تھی۔ لائٹ سا میک اپ بھی کرلیا تھا۔

ابو اور تایا جان سے عیدی وصول کر کے وہ کچن میں آگئی جہاں امی اور تائی جان کچھ کام کر رہی تھیں۔

’’آپ لوگ اندر جائیں میں اور صبا یہاں کا کام دیکھ لیتے ہیں۔‘‘ صبا بھی اس کے پیچھے ہی چلی آئی تھی۔ کافی سارا کام تو ان لوگوں نے رات کو ہی کرلیا تھا۔ مہمانوں کی ضیافت کے لیے پکوان بھی تیار کرلیے تھے۔

باہر مہمانوں کی آمد کا شور اٹھا تو تائی جان اور امی باہر نکل گئیں۔

’’شیر خرما تیار ہے…‘‘

امی انہیں اطلاع دیتی باہر چلی گئیں…

’’ہیلو مس ہریالی۔‘‘ پھپھو کی دونوں بیٹیاں کچن میں وارد ہوئیں۔

’’آہا السلام علیکم… عید مبارک۔‘‘ فائزہ نے بہت خوش دلی سے ان کا خیر مقدم کیا اور بہت پرجوش انداز میں ان سے گلے ملی۔ دونوں بہنیں اچھی خاصی صحت مند تھیں۔ بڑی بہن محترمہ مسکان باجی … ۲۷ سال کی تھیں۔ نام تو ان کا مسکان تھا لیکن مسکرانے سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے ان کا نام خوشی تھا لیکن وہ اپنے بچپن میں ہمیشہ ناراض ہی رہا کرتی تھیں اس لیے نام تبدیل کر کے مسکان رکھا گیا جس کا کچھ خاص اثر نہیں پڑا تھا۔

چھوٹی بہن تنزیلہ باجی… پچیس سال کی تھیں۔ دونوں بہنیں فضا آپو سے بڑی تھیں لیکن اب تک ان کی شادیاں نہیں ہوئی تھیں۔ ان پر اپنے نام کا خوب اثر پڑا تھا۔ نام تو ان کا ’’ت‘‘ سے تنزیلہ تھا، مگر وہ ’’ط‘‘ سے طنز خوب کرتی تھیں اور ان کے طنز کو پینا واقعی جگر کا کام تھا۔

ہمیں تو لگ رہا تھا کہ پتہ نہیں آج گرین میں کونسا شیڈ دیکھنے کو ملے۔‘‘ پھوپھی زاد کے طنز شروع ہوگئے تھے۔

فائزہ ان سے الگ ہوتی ہوتی ہلکے سے ہنس دی۔

’’ویسے ’ڈریس‘ خوب صورت لگ رہا ہے۔‘‘ تنزیلہ باجی کے لہجے میں ستائش کم جلن زیادہ تھی۔ انھوں نے ڈریس، پر خاص زور دیا تھا۔

’’اور خود فائزہ بھی…‘‘ صبا نے نرمی سے کہتے ہوئے چولھے پر رکھے ہوئے بگونوں کے ڈھکن کو ہٹاتے ہوئے جائزہ لیا کہ تائی جان اور امی کیا کچھ تیار کرچکی ہیں۔

فائزہ کیبنیٹ سے کانچ کی پیالیاں اور پلیٹیں نکال رہی تھی۔

’’آپو، میرے دوست آئے ہیں، چھ لوگ ہیں۔‘‘

مہران نے تعداد بتاتے ہوئے بیک وقت صبا اور فائزہ کو اطلاع دی۔ وہ بہت عجلت میں لگ رہا تھا۔ وہائٹ شرٹ پر نیوی بلیو کوٹ پہنے نکھرا ستھرا بالکل تیار وہ بہت اسمارٹ دکھ رہا تھا۔ اور عطر کی پوری نہیں تو آدھی بوتل تو ضرور انڈیلی تھی۔ کیوں کہ اس کے کچن میں آتے ہی خوشبو کا ایک ریلا سا اندر آیا تھا۔

اچھا، کیا لیں گے تمہارے دوست؟ چائے یا شربت؟؟‘‘

مہران باہر جاتے ہوئے یکدم گھوم کر پلٹا۔

فائزہ سنک میں پیالیاں کھنگالتی بظاہر سنجیدہ لگ رہی تھی۔ البتہ اس کی بات پر مسکان تنزیلہ باجی اور صبا ہنسنے لگی تھیں۔

’’چائے اور شربت اپنی سہیلیوں کو پیش کیجئے گا۔ میرے دوست تو عید کے دن شیر خرما ہی پیتے ہیں۔‘‘

دانت پیس کر کہتا وہ باہر چلا گیا۔ فائزہ نے محظوظ ہوتے ہوئے شیر خرمے کی چھ پیالیاں ٹرے میں سجا دی تھیں۔

’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے صبا کو ایک بڑے سے باؤل میں ڈھیر سارا شیر خرما انڈیلتے دیکھ کر حیرت سے دریافت کیا۔ ’’تم سالن والے ڈش میں یہ کیوں نکال رہی ہو؟‘‘

’’میڈم وہ مہران کے غیر مسلم دوست ہیں۔ صرف ایک پیالی سے ان کا دل نہیں بھرتا وہ بار بار آکر ہمیں ہی تنگ کرے گا اور اس باؤل کو دیکھ کر جو تمہاری آنکھیں پھٹ رہی ہیں ناں یہ بھی دوبارہ بھرنے کے لیے آئے گا۔ وہ ناشتے کی چیزیں (Items) تو تم رہنے ہی دو۔ انہیں اس کی ضرورت نہیں ہوتی وہ صرف شیر خرمے سے پیٹ بھرتے ہیں۔‘‘

صبا نے آہستہ سے اس کانچ کے باؤل پہ نازک سا ڈھکن رکھ دیا۔

’’مائی گڈینس‘‘ فائزہ سینے پر داہنا ہاتھ رکھ کر ہلکا سا ہنسی اسے اب اپنی نان مسلم سہیلیوں کی فکر لگ گئی تھی۔

’’واؤ گریٹ‘‘ مہران نے ٹرے دیکھ کر توصیفی انداز میں کہا اور ٹرے اٹھا کر خوشی خوشی جانے لگا۔

مسکان باجی کچن کاؤنٹر کے تمام برتنوں کے ڈھکن اٹھا اٹھا کر چیک کر رہی تھیں، للچاتی نظروں سے…

’’مائی فیوریٹ‘‘ انھوں نے دہی بھلوں کو للچائی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا اور اس سے پہلے کہ فائزہ ان کی طرف پلیٹ بڑھاتی وہ ایک چمچ مار چکی تھیں۔ فائزہ آہ بھر کر انہیں دیکھ کر رہ گئی۔

’’ایک منٹ مہران۔‘‘ صبا بے ساختہ چلائی تھی۔ مہران کچھ قدم آگے جا چکا تھا واپس ہوا۔ ٹرے احتیاط سے پکڑا ہوا تھا۔

’’تم لوگ کہاں بیٹھے ہوئے ہو؟‘‘ صبا نے مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھا تھاـ۔ اس نے بے بسی سے آنکھیں میچیں اور آہستگی سے بادل نخواستہ بولا۔

’’آپ کے کمرے میں۔‘‘

’’خبردار…‘‘ وہ انگشت شہادت اٹھا کر کچھ کہنے جا رہی تھی کہ وہ فی الفور بولا۔

’’یار آپو، بات سمجھیں ناں۔ لاؤنج میں سب بزرگ حضرات براجمان ہیں۔ بیشتر چاچو کے ملنے والے پونو انکل ٹائپ… اب میں اپنے دوستوں کو کہاں بٹھاتا… مجھے تو آپ لوگوں نے خیر سے اتنا بڑا کمرہ دے رکھا ہے کہ میں عزت کے ساتھ اپنے مہمانوں کو بھی وہاں نہیں بٹھا سکتا… جب کہ سارے دوستوں میں میرا ’’وٹ‘‘ ہے کہ مسٹر مہران قیصر مرتضیٰ کے اکلوتے شہزادے ہیں ان کو ایسی اور ایسی آسائشیں میسر…‘‘

’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے…‘‘

صبا نے بیزاری سے ہاتھ اٹھا کر اسے منہ بند کرنے کو کہا…

پھر انگلی اٹھا کر اسے متنبہ کیا۔

’’خبردار اگر میری نئی بیڈ شیٹ پر ایک چھینٹ بھی گری یا معمولی سا داغ بھی لگا تو…‘‘

’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔‘‘ وہ بھی اسی کے انداز میں بولتا باہر نکل گیا۔

’’کوئی بات نہیں مہمان ہیں۔‘‘ فائزہ نے اسے تسلی دی۔ صبا لاچاری سے بولی۔

’’وہ نئی چادر آج ہی بچھائی ہے اور میں کچھ دن اسے بغیر دھوئے استعمال کرنا چاہتی تھی۔ اس کے دوست شرافت کا مظاہرہ کریں تو بہتر ہے۔‘‘

وہ بڑبڑاتی ہوئی کام سے لگ گئی۔

تنزیلہ باجی کی نظریں فائزہ کا تفصیلی جائزہ لے رہی تھیں۔ وہ کافی توجہ کے ساتھ فائزہ کو سرتا پا دیکھنے میں مصروف تھیں۔ فائزہ سر جھکائے چٹ پٹی بھیل کے لیے پیاز باریک کتر رہی تھی۔ اس نے اپنے گولڈن سنہرے دو پٹے کو چہرے اور گردن کے اطراف اسکارف کی شکل میں تائٹ لپیٹا ہوا تھا۔ سر کے بال مکمل طور پر چھپ گئے تھے۔ اسکارف اس طرح لپیٹا تھا کہ اس کی گردن کی دونوں طرف خوب صورت بل بن گئے تھے۔ یہ آج کل کا جدید اسٹائل تھا۔ لڑکیاں اسی طرح اسکارف لینے لگی تھیں۔ فائزہ اپنے گولڈن دو پٹے کو سر اور دائیں کان کی جانب سے گولڈن وریڈ ڈائمنڈ کی لشکارے مارتی پن لگائی ہوئی تھی۔ یہ وہی ڈریس تھا جو فضا آپو نے اسے رزلٹ سے پیشگی گفٹ کے طور پر دیا تھا۔ گولڈن دو پٹے کے ہالے میں اس کی سنہری رنگت دمک رہی تھی۔

’’اگر تمہیں اسکارف کرنا ہی تھا تو اونچے جوڑے کے ساتھ یہ زیادہ اچھالُک دیتا۔‘‘

مفت کا یہ مشورہ مسکان باجی کی طرف سے آیا تھا۔‘‘

’’جی، لیکن اونچے جوڑے کے لیے حدیث میں منع کیا گیا ہے۔ اور پھر اس سے نماز بھی نہیں ہوتی۔‘‘

فائزہ نے سہولت سے جواب دیا پیاز اور ٹماٹر کاٹنے کے بعد وہ اسے چنوں میں مکس کرنے لگی۔ اوپر سے ہرا دھنیا چھڑک دیا تھا۔ بھیل تیار تھی۔

’’تو نماز کے وقت جوڑا کھول لیتیں۔‘‘ مشورہ پھر حاضر تھا۔

’’بالوں کا اونچا جوڑا باندھنے والیاں، خوشبو لگا کر لوگوں کو مائل کرنے والیاں جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکیں گی۔‘‘

صبا نے حدیث کا مفہوم بتاتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا اور دونوں بہنوں کو دہی بھلوں کی پلیٹیں پیش کیں۔ مسکان باجی کی پلیٹ میں اتنے سارے دہی بڑے ڈالے تھے کہ فائزہ ایک نظر میں گن بھی نہ سکی۔

’’تو یہاں کون سے غیر لوگ ہیں۔ جنہیں فائزہ رجھانے لگی ہے۔‘‘

تنزیلہ باجی نے سخت بدتہذیبی کا مظاہرہ کر دیا تھا۔ فائزہ نے بہ مشکل ان لفظوں کو پیا تھا۔ آج عید تھی اور وہ کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔ مگر اس کا دل برا ہونے لگا تھا۔

’’آپ کے بھائی۔‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی۔ کزنز بھی تو غیر محرم ہی تھے۔ اب چوں کہ خاندان کے افراد تھے تو وہ ان سے اس طرح تو پردہ نہیں کرتی تھی جس طرح اجنبیوں سے کرتے ہیں لیکن بہرحال پردہ تو ان سے بھی تھا اور اس نے اریب بھائی و ارحم بھائی کے سامنے کھلے سر آنا کب کا چھوڑ دیا تھا۔

آج کل تو اسکارف پر جوڑے کا فیشن ’’اِن‘‘ ہے۔ اور میں تو اس لیے کہہ رہی تھی اس سے تمہاری پرسنالٹی خوب صورت نظر آتی۔‘‘

تلخ لہجے میں کہتے ہوئے انھوں نے ایک کاٹ دار نگاہ پھر سے فائزہ کے سراپے پر ڈالی تھی۔ گہرے میرون اور سنہرے کانٹراسٹ کا فلورٹچ انار کلی فراک… اس کا گھیر بھی اتنا زیادہ تھا کہ فائزہ اس میں سندریلا جیسی لگ رہی تھی۔ مخروطی انگلیوں میں انگوٹھیاں، کلائیوں میں ہم رنگ چوڑیاں، ناک میں جھلملاتی لونگ۔ کسی اور کی آنکھیں خیرہ ہوں یا نہ ہوں لیکن تنزیلہ کی ضرور ہوگئی تھیں اور وہ اس معصوم و نو خیز حسن کی تاب لانا یا اس کا اعتراف کرنا اس جیسی کم ظرف لڑکی کے لیے بہت مشکل تھا۔

اس نے لاشعوری طور پر اپنے پھیلتے وجود اور قدرے دبتی رنگت اور بے رونق ہاتھوں کا فائزہ کے نازک اندام اور سنورے وجود سے تقابل کیا اور کلس کر رہ گئی۔ اس کے اندرونی جذبات سے بے خبر فائزہ نے بہت سکون سے اس کی بات کا جواب دیا۔

’’ایسی خوب صورتی کس کام کی ڈیئر ’’تنزوباجی‘ جس کی قیمت جنت گنوا کر چکانی پڑے۔ کیوں کہ لوگوں کے Attractionکے لیے جوڑا کرنے والیاں جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہیں گی حالاں کہ جنت کی خوشبو کئی سالوں کی مسافت سے بھی آجاتی ہے… یعنی ان بے چاریوں کو جنت سے کتنا دور … میرے اللہ…‘‘ وہ گویا اچنبھے میں تھی… ’’کتنا دور… روک دیا جائے گا۔‘‘ اس نے جھرجھری لی۔ ’’اسی لیے میں نے سارے بالوں کو سمیٹ کر ڈھیلی چوٹی باندھ لی۔

’’یومین ٹو سے کہ جوڑا سرے سے حرام ہے۔‘‘

تنزیلہ باجی نے تیکھے پن سے پوچھا۔ جانے کیوں ان کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا۔

فائزہ لفظ حلال و حرام‘ استعمال کرنے سے حتی الامکان گریز کرتی تھی۔ چند مہینوں پہلے اس نے خرم مراد کی آخری وصیت پڑھی تھی اور وہ اسے ابھی تک بھولی نہیں تھی۔ چناں چہ بدستور نرمی سے بولی۔

’’وہ تو مجھے نہیں پتہ البتہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ Unnatural way میں بالوں کو اوپر اٹھانا منع ہے۔ وہ واضح نظر آنے لگے جب شیپ بن جائے اس طرح تو حجاب میں شیطان داخل ہوگیا۔ حجاب چھپانے کے لیے ہوتا ہے جب کہ جوڑا باندھ کر تو مزید Attraction ہو جاتا ہے۔‘‘

مسکان باجی توجہ سے سن رہی تھیں انھوں نے منہ میں رکھا دہی بڑے کا پیس بہ مشکل نگلا، تنزیلہ باجی کی تندی کے برعکس وہ بہت کول نظر آرہی تھیں۔ سادہ انداز میں پوچھنے لگیں۔

’’اور اگر جوڑا لپیٹا نہ جائے ار اس کی جگہ کوئی اونچا سا کلچر یا کلپ لگا لیا جائے کیوں کہ آج کل تو ایسا دیکھنے میں آرہا ہے… یہ کیسا ہے؟‘‘

فائزہ چند لمحے خاموش رہی پھر کچھ سمجھتے ہوئے بولی۔

’’ویل… زمانہ جاہلیت میں بھی تو عورتیں خوب صورت اور پرکشش نظر آنے کے لیے سر پر لیف کی طرح کوئی مصنوعی چیز لگا کر اس پر دو پٹہ اٹکا لیتیں اور دو پٹہ کی دونوں پلو پشت پر پھینک دیتیں… اسی کو تو اللہ کے رسولؐ نے منع کیا ہے اور اسے زمانہ جاہلیت کے طریقے سے تشبیہ دی ہے۔

اس لیے وہ کلیچر ہو یا کلپ یا کوئی اور چیز جو سر سے اوپر جائے اور اسکارف کے باوجود اس کا ہونا نظر آئے وہ منع ہے۔ Thats it۔‘‘

اس نے شانے اچکائے اور پیار سے مسکرائی۔ جب کہ تنزیلہ باجی نے ’’ہنہ‘‘ کہہ کر جھٹکے سے کندھے پیچھے کیے۔ ہاں بھئی اب تو تم اجتماعات میں جانے لگی ہو نا۔‘‘ قرآن کی کلاسز اٹینڈ کرنے لگی ہو بہت دین دار ہوگئی ہو… ہم ہی جہنمی ہیں۔‘‘

فائزہ کی مسکراہٹ یکلخت غائب ہوگئی۔ جہالت کی انتہائی تھی۔ ایسے رشتہ داروں کو برداشت کرنا ناممکن تھا۔ وہ جتنا ان کے ساتھ اچھا رہنا چاہتی تھی وہ اتنا ہی اس کے ساتھ برا پیش آتے تھے۔

اس نے چمچہ بھر سویاں منہ میں ڈالیں حلق کی کڑواہٹ پھر بھی کم نہ ہوئی۔ اس نے ایک اور چمچ لیا۔ لیکن تنزیلہ باجی کے لفظوں کی تلخی کو سیویوں کی مٹھاس بھی کم نہ کر سکی۔ صبا کو بھی ان کی یہ طعنہ زنی پسند نہ آئی تھی۔ مہران ان کے بارے میں ٹھیک کہتا تھا ’’وہ واقعتا ’’طنزیلہ‘‘ باجی تھی۔

فائزہ کا موڈ بہت خراب ہوگیا تھا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب ہم کسی اچھے کام کو کرنے کی نیت کرتے ہیں اور ارادہ کرلیتے ہیں تو لوگ ہمیں اس پہ قائم نہیں رہنے دیتے… اس نے دکھ سے انہیں دیکھا اور تاسف سے سر جھٹکا۔ شاید لوگوں کا یہی رویہ ہمارے ارادے کی مضبوطی کا اصل امتحان ہوتا ہے کہ ناگوار و ناموافق حالات میں خود پر کتنا کنٹرول رکھ پاتے ہیں۔ اور خود سے کیے گئے عہد کو واقعی پورا کرپاتے ہیں یا کمزوروں اور بے بسوں کی طرح ہمت ہار دیتے ہیں۔

’’تو‘‘ اس نے دائیں بائیں گردن کو ہلکی جنبش دی اور عزم مصمم سے اپنے بگڑے موڈ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔ اور ایک گہری اور بہت گہری سانس اندر کھینچی۔

تنزیلہ باجی کی باتوں میں ہرگز اتنا دم نہیں کہ فائزہ حیدر کی عید بگاڑ سکے۔ اس کی قوت ارادی کو چیلنج کر سکے اور اس کے خوش باش رہنے اور عید سیلبریشن کے پلان کو ملیا میٹ کردے۔

حق کو طاقت ور ہونا چاہیے۔ صبر کو ضبط کو اور تحمل کو طاقت ور ہونا چاہیے۔ تلخی، طعنہ زنی اور بد زبانی کو نہیں۔

خوش خلقی کو غالب آنا چاہیے بد اخلاقی کو نہیں اس لیے … (اس نے اپنی پھوپھی زاد پر گہری نظر ڈالی) تنزیلہ باجی کو ہارنا چاہیے فائزہ حیدر کو نہیں۔

اس نے اپنے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے چھوڑ دیے۔ یوں محسوس ہوا جیسے کندھوں اور گردن کے پہلوؤں سے ایک بھاری بوجھ نیچے گر پڑا ہو۔ اب وہ ریلکس تھی ایک دم نارمل۔

اپنی غائب ہوئی مسکراہٹ کو وہ کھینچ کھانچ کے واپس لائی اور زبردستی ہونٹوں پہ سجایا۔

’’آج تو آپ کی تیاری بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے غضب ڈھا رہی ہیں جناب۔‘‘

شوخ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے موضوع بدلا۔ اپنی تعریف کسے پسند نہیں ہوئی۔ نتیجہ حسب توقع نکلا۔ اس کے ستائشی جلے پر تنزیلہ باجی بہت خوش اور پرجوش ہوگئی تھیں۔ اور کونسی چیز کہاں سے کن داموں پر خریدی ان کے گوش گزار کرنے لگیں۔

فائزہ اور صبا دونوں کو ان تفصیلات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین آکولہ

Leave a Reply