ایک شمع جلانی ہے! (گیارھویں قسط)

مری بربادیوں پر رونے والے کیا خبر تجھ کو

خریدی ہیں بہت کچھ دے کے یہ بربادیاں میں نے

ابا اور عفان بھائی اسے اس کے گھر چھوڑ آئے۔ ابا نے شاید وہاں آنے سے پہلے ابتسام سے فون پر بات کرلی تھی اور مفاہمت کی درخواست بھی کی تھی۔ شاید اسی لیے وہاں کسی نے غافرہ کو دیکھ کر حیرت کا اظہار نہ کیا اور نہ ہی کوئی بات کی۔ سپاٹ چہرے، اور سرد تاثرات!! غافرہ کو لگا کہ کہیں اس کا فیصلہ اس سرد فضا میں گم ہوکر نہ رہ جائے۔ دل کے دھڑکنے کی آواز اسے اپنے سینے میں بھی محسوس ہو رہی تھی… دل جسے کوئی مٹھی میں لے رہا تھا۔ وہ اپنی انا تو کچل چکی تھی لیکن عزت نفس …!! مگر حقیقت تو یہی تھی نا کہ غلطی بھی تو اسی کی تھی تو پھر سزا بھی تو اسی کو ملنی تھی۔ اس نے ایک نظر اٹھا کر ابتسام کو دیکھا جو اس کے ابا اور بھائی کے ساتھ نہایت ادب و احترام سے کچھ بات کر رہا تھا… اس کے چہرے پر اگرچہ جذبات کی گرم جوشی نہ تھی تو وہ سرد مہری بھی نہ تھی جو اسے مایوس کرے۔ دل میں کہیں ایک سکون سا اتر آیا تھا۔ وہ اب بھی اس کے گھر والوں کی عزت کرتا ہے، اس کے دل میں اِس رشتہ کی گنجائش اب بھی ہے چاہے تھوڑی اور بہت تھوڑی ہی کیوں نہ ہو…!!

اور پھر اس نے ایک عزم کرلیا… محبت تو فاتح عالم ہوتی ہے، اور پرخلوص جذبے اپنی حدت سے ہر سرد رویے کو گرم کر دیتے ہیں۔

اسے ایک مشکل وقت سے گزرناتھا۔ فیصلہ کرنا اور بات ہوتی ہے اور اس پر جمے رہنا ایک اور بات۔ اس میں زیادہ محنت، زیادہ ہمت اور زیادہ صبر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن راحت ملتی بھی ہے تو ملتی ہے کلفت کے بعد!

اس کا چہرہ چمکنے لگا تھا۔ ابتسام ابا اور بھائی کو الوداع کہہ کر باہر جا چکا تھا، وہ گھر، وہ رشتے جو کبھی اس کے تھے اب اجنبی سے ہوگئے تھے لیکن وہ بھی تو میدان میں اتر چکی تھی۔ غافرہ نے اپنا بیگ لیا اور اپنے روم کی طرف قدم بڑھا دیے… اس نے فیصلہ کرلیا تھا اور اس فیصلے پر قائم رہنے کے لیے اسے دو چیزوں کی بڑی ضرورت تھی… ’’صبر اور نماز‘‘ اس نے پڑھا تھا کہ ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو…‘‘ اور اسے مدد کی ضرورت تھی… اور اللہ ایسے لوگوں کو محبوب رکھتا ہے تو پھر وہ یہ کام بھی کر ہی لے گی… کیا وہ اس آزمائش میں سرخ رو ہو جائے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا تھا!

پانچ سال بعد

بارہا سورج یہ ہوتا ہے گھٹاؤں کا ہجوم

اور پھر بھی دن کی تابانی فنا ہوتی نہیں

’’غافرہ میری گھڑی کہاں رکھی ہے دکھائی نہیں دے رہی…‘‘ ابتسام کی عجلت بھری آواز سن کر ناشتہ کی ٹرے لاتی غافرہ کے قدموں میں تیزی آگئی۔

’’یہیں تو رکھی ہے ابتسام… ڈریسنگ ٹیبل پر… آپ کی گھڑی، موبائل، والٹ سبھی…‘‘ غافرہ نے ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔

’’ارے ہاں، یہ تو ہے، میں کب سے تلاش کر رہا تھا… غافرہ اگر تم نہ ہو تو میں تو کبھی آفس وقت پر نہ پہنچوں! سامنے رکھی چیزیں دکھائی نہیں دیتیں…‘‘ ابتسام نے گھڑی پہنتے ہوئے آئینے میں اس کا عکس دیکھا جو زیر لب مسکراتے ہوئے بریڈ پر مکھن لگا رہی تھی۔

’’اگر ڈائیلاگ بازی ہوگئی ہو تو آجائیے ناشتہ کرلیجئے۔‘‘ غافرہ نے اسی مسکراہٹ کے ساتھ مطمئن انداز میں کہا تو ابتسام نے منہ بنا لیا…

’’کیسی بیوی ہو تم… شوہر تعریف کر رہا ہے، سراہ رہا ہے اور تم ہو کہ اسے ڈائیلاگ بازی کہہ رہی ہو! حد تو ہے۔ ایسی بیوی نہ کہیں دیکھی نہ کہیں سنی (اس بے سر و پیر کے جملے پر غافرہ نے بہ مشکل اپنی ہنسی روکی تھی)۔ لوگوں کی بیویاں ترس جاتی ہے کہ شوہر دو لفظ تعریف کے کہے…‘‘ ابتسام نے مصنوعی خفگی کے ساتھ بڑے تاسف سے کہا۔

’’وہ کیا ہے نا جناب ابتسام صاحب، ایسی بیوی کہیں اور دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں آپ کو! بس ابھی نا مجھ پر گزارہ کرلیجیے۔ اور رہی بات یہ صبح صبح تعریف کرنے کی تو ضرور آج پھر کسی دوست کو لنچ پر گھر لانا ہوگا، جس کی بیوی میکے گئی ہوگی اور آپ کو بڑا درد ہوتا ہے نا جب کسی دوست کو ہوٹل میں کھاتے دیکھ لیں تو؟ خیر بتائیے کسے لا رہے ہیں آج آپ؟؟‘‘ غافرہ نے یوں چمکارتے ہوئے پوچھا کہ ابتسام اپنے قہقہے پر قابو نہ پاسکا… اعترافی قہقہہ…

’’تم تو بڑی چالاک ہوگئی ہو… ویسے سبھی کی بیویاں ایسی ہی ہوتی ہے یا تم ہی ہو… ابتسام نے تیزی سے چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا…

’’ابتسام… کون کون آرہا ہے؟‘‘ غافرہ نے انداز نہ بدلا۔

’’تابش اور مسٹر کھنہ‘‘ ابتسام نے خود کو مصروف ظاہر کرنے کے لیے موبائل نکال دیا۔ غافرہ نے مطمئن انداز میں اس کا بچا ہوا بریڈ مکھن اٹھا کر کھانا شروع کر دیا۔

’’ٹھیک ہے… اب خوامخواہ خود کو شرمندہ ظاہر کرنے کی ایکٹنگ نہ کریں بس آفس سے نکلنے سے پہلے ایک فون کر دیں مجھے اور بغیر مکھن لگائے بھی یہ بات کہہ دیتے۔‘‘ غافرہ نے اسے پھر تنگ کیا تو اس بار ابتسام نے اسے گھور کر دیکھا۔

’’اب ایسی بھی کوئی بات نہیں… بہت ہوگیا۔‘‘ لوگ سچ کہتے ہیں بیویاں بڑی ناشکری ہوتی ہے…‘‘ ابتسام نے مصنوعی افسوس ظاہر کیا۔

’’چلیے آفس کا وقت ہوگیا۔‘‘

’’ارے ہاں… چلو اللہ حافظ… وہ چھوٹی سی شرارت کی پڑیا بھی اٹھنے کو ہے ایک بار اٹھ گئی نا تو میرا آفس جانا مشکل کردے گی۔‘‘ ابتسام نے مسکراتے ہوئے اپنی تین سالہ بیٹی کو دیکھا جو بڑے مزے سے سوئی ہوئی تھی۔

’’بالکل صحیح… اچھا چلیے ذرا دھیان سے گاڑی چلائیے… آفس پہنچ کر فون کیجیے… اللہ حفاظت کرے…‘‘ غافرہ نے وہی الفاظ دہرائے جو ابتسام پچھلے ایک عرصہ سے سنتا آرہا تھا مگر کبھی ان کی یکسانیت اسے بری نہ لگتی تھی۔

’’اوکے … اللہ حافظ۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور روم سے باہر نکل گیا…

یہ صبح صبح کے پندرہ، بیس منٹ جب ابتسام ناشتہ کرتا اور غافرہ ناشتہ تیار کرکے دیتی دونوں ہی کو نعمت لگتے… ہلکے پھلکے انداز میں ایک دوسرے کو چھیڑنا، تھوڑا ہنسی مذاق، اور کبھی روٹین کے کاموں پر گفتگو… بظاہر تو معمولی سا لگتا ہے یہ سب کچھ لیکن دن کا آغاز ایک ہلکے پھلکے ٹینشن فری مصروفیت فری ماحول میں ہو، شوہر کو یہ احساس ہو کہ ازدواجی زندگی صرف ابتدائی دنوں میں ہی نہیں بلکہ شادی کے کئی سال بعد بلکہ مدتوں بعد بھی اتنی ہی پرکیف اور پرسکون ہے…

اکثر خواتین صبح سویرے اتنی بری طرح کاموں میں الجھی ہوتی ہیں کہ صحیح ڈھنگ سے شوہر کو آفس کے لیے جاتے وقت الوداع بھی نہیں کر پاتیں… روزانہ تیار کیے ناشتے کے ساتھ وہ دو سے پانچ منٹ بھی ناشتے کے دوران ان کے ساتھ بیٹھ جائے کچھ ہلکی پھلکی بات کرلے اور کام پر جانے سے پہلے کوئی دعائیہ جملہ کہہ دے تو پھر وہ جان جائے گی کہ یہ بس چند لمحوں والی روٹین ہی کتنی خوشگواریت بھری ہوتی ہے اور کیسا جادو کرتی ہے زندگی پر۔ اور اگر وہ جان جائے گی تو پھر اس روٹین کو جان کر کبھی نہ چھوڑ پائے گی۔

غافرہ ہلکی سی مسکراہٹ لیے اپنی سوچوں میں گم ناشتہ کے برتن سمیٹ رہی تھی، ایک نظر سوئی ہوئی بیٹی پر ڈالی اور پھر گھڑی پر جو اس وقت صبح کے سات بجا رہی تھی۔ ایک گھنٹے بعد اسے نیند سے اٹھ جانا تھا اور یہ ایک گھنٹہ وہ آرام سے جو چاہے کرسکتی تھی… بہت دنوں سے وہ ڈائری لکھنے کا سوچ رہی تھی۔ وہی گزرتے وقت اور گزر رہے وقت میں اپنے احساسات کو تحریر کرنے کا پرانا عمل جو اب عادت بن چکا تھا۔

ایک کپ گرما گرم چائے لیے اس نے اپنی ڈائری نکالی۔ قریباً ایک سال ہوگیا تھا اسے کچھ نہ لکھے ہوئے، اس نے دھیرے دھیرے صفحے پلٹے، بہت سی یادیں تھیں، تلخ بھی، تلخ ترین بھی اور خوب صورت اور خوب صورت ترین بھی… پہلا صفحہ اس نے اس وقت لکھا تھا جب اسے یہاں آئے ایک ہفتہ ہوا تھا، وہ جو ایک غلطی کو سدھارنے اور اپنے ٹوٹتے گھر کو بچانے اور اسے دوبارہ خوشیوں، رنگوں اور محبتوں سے بھرنے کے لیے یہاں واپس آئی تھی… ہر طرف سرد رویے تھے اور اجنبی بن جانے والے اپنے تھے، تب اس نے ڈائری تھامی تھی اور تبھی سے ان دونوں کا ساتھ بن گیا تھا۔ اس نے گزرے دنوں کو جو اِن اوراق پر بکھرے تھے سرسری نظر سے دیکھتے ہوئے قلم کو تھام لیا اور ایک الوہی مسکراہٹ کے ساتھ لکھنے لگی۔

٭٭

کوئی ہو سمجھنے والا تو بہت نہیں فسانہ

کبھی مسکرا کے رونا، کبھی رو کے مسکرانا

اس نے خالی چائے کے کپ کو سائیڈ میں رکھا اور لکھنا شروع کیا۔

’’شروع اللہ کے نام سے جو بے انتہا رحمن اور بے حد رحیم ہے جو بڑا محبت کرنے والا اور لطیف ہے، لطیف جذبوں کو سمجھنے والا، اور بڑا ہی پاک ہے وہ رب برتر…

’’محبت کے واقع ہونے سے زیادہ اس کا قیام و استحکام ضروری ہے۔‘‘

بہت عرصہ بعد یوں فرصت سے خود سے باتیں کرنے بیٹھی ہوں… آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو حیران رہ جاتی ہوں کہ کیا کچھ گزار کر آگئی ہوں۔ زندگی یوں بدل جائے گی میں نے گمان بھی نہ کیا تھا… قریباً پانچ سال پہلے کی بات ہے جب اپنی ایک احمقانہ ضد سے ہونے والی غلطی کو میں نے سدھارنے کی ہمت کی تھی، جب میں اپنے اندر ایک تبدیلی لیے، امید کی جوت جلائے ابا اور بھائی کے ساتھ اس گھر میں آئی تھی جہاں کسی نے بھی کھلے دل سے خیر مقدم نہ کیا تھا… سرد مہری ملنے ہرنے والے لوگ، سرد رویے لیے تھے اور میں نے اس بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں کہ دوسروں کی کتنی اور کہاں تک غلطی ہے…! میں نے اپنی غلطی دیکھی، دوسروں کے سرد رویے کو اپنی غلطی کا نتیجہ سمجھا اور اپنی اصلاح کی… رشتوں میں آئی اس برف کو صرف محبت کی حدت ہی پگھلا سکتی تھی۔ جذبوں کی حدت وفا شعاری، خدمت، خلوص اور بے غرض محبت کی حدت۔ مجھے خود بھی یاد نہیں کہ کتنا عرصہ میں اجنبیوں کی طرح اس گھر میں رہی، طنزیہ لہجے، باتیں اور گزرے وقت کے طعنے اور ابتسام کی خاموشی۔

جب بھی امی ابا سے ملنے جاتی تو ان کی جانچتی، کھوجتی نگاہوں سے ڈر لگتا، اس سے بچنے کے لیے غیر ضروری باتیں کرتی اور ہنستی… لیکن ایک دن ابا کی کتاب میں ایک اخبار کا تراشہ دیکھا ’’مڑا تڑا سا‘‘ شاید کبھی بہت گیلا بھی ہوا تھا، ایک چھوٹی سی تحریر تھی اس پر، بس آنکھیں رِم جھم ہوگئی تھیں وہ پڑھ کر کہ … بیٹی جب شادی کے اسٹیج سے سسرال جاتی ہے تب پرائی نہیں لگتی۔۔۔

مگر

جب بات بات پر غیر ضروری قہقہے لگا کر خوش ہونے کا ڈرامہ کرتی ہے

تب وہ پرائی لگتی ہے

جب میز پر کھانا لگنے کے بعد بھی برتن کھول کر نہیں دیکھتی تو پرائی لگتی ہے…

جب پیسے گنتے وقت اپنی نظریں چراتی ہے

تب وہ پرائی لگتی ہے

اور لوٹتے وقت ’اب کب آؤگی‘ کے جواب میں دیکھو کب آنا ہوتا ہے، کہتی ہے تو لگتا ہے ہمیشہ کے لیے پرائی ہوگئی ہے۔

لیکن گاڑی میں بیٹھنے کے بعد جب وہ چپکے سے اپنی آنکھیں خشک کرنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ پرایا پن ایک جھٹکے میں بہہ جاتا ہے لیکن

یوں آنسو چھپاتی وہ پرئی سی لگتی ہے…‘‘

یہ ماں باپ کیسی عجیب مخلوق ہوتی ہے دنیا کی! وہ کیسے اولاد کا حال جان لیتی ہے؟؟ یہاں آنے سے پہلے اور یہاں آنے کے بعد بھی وہ کافی وقت یہی سوچتی رہی کہ اگر امی میری صحیح رہ نمائی کرتیں تو شاید وہ تلخ یادیں میری زندگی میں نہ آتیں… مگر دھیرے دھیرے گزرتے وقت نے مجھے سمجھایا کہ انھیں جتنا غلط سمجھ رہی ہوں وہ اتنی غلط نہیں تھیں۔ وہ ماں تھیں اور ماں باپ کی محبت میں بڑی تڑپ ہوتی ہے۔

بعض بیٹیوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ شادی کے بعد معمولی معمولی باتیں، چھوٹی چھوٹی تکراریں، سسرال کی ہر تلخ و شیریں بات، وہاں کیا گیا ہر ایک کام اور ساس نندوں، شوہر کی باتیں یہاں تک کہ شوہر کی معمولی سرزنش یا ڈانٹ کو بھی اپنے والدین کوبتاتی ہیں اور اگر بات صرف بتانے کی حد تک ہوتی تو بھی کوئی مشکل نہ تھی مگر وہ تو بڑھا چڑھا کر مبالغہ آرائی سے کام لیتی اور خود کو نہایت مظلوم ظاہر کرتی ہیں۔ شاید وہ اپنے اندر موجود اپنے ہی گھر میں محسوس کرتے پرائے پن کو جھٹکنے کے لیے وقتی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہوں، یا یہ ظاہر کرنا کہ وہ سسرال میںبڑے صبر سے کام لے رہی ہیں یا پھر پتہ نہیں کسی اور نفسیاتی تسکین کے لیے، لیکن وہ بات کرتی ہے اور گھر سے باہر نکلتے ہی بھول بھی جاتی ہے۔

لیکن لڑکیوں کو یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ ان کے لیے وہ معمولی سی بات، وقتی تلخی اور ہلکی تکرار ہوتی ہے جسے والدین کے سامنے ظاہر کر کے وہ تو بھول جاتی ہیں لیکن والدین کے حافظوں میں کہیں جاکر محفوظ ہو جاتی ہے اور پھر جب ایسا بہت بار ہو جائے اور کبھی بیٹی ناراضگی میں گھر آجائے تو والدین کو لگتا ہے کہ سچ ہے اپنی بیٹی روزِ اول سے ہی برداشت کر رہی ہے اور اب تو حد ہوگئی… اور پھر وہ تلخ فیصلے کرلیتے ہیں اور فیصلوں میں سخت ہو جاتے ہیں تب لڑکی پریشان ہو جاتی ہے، اور لوگوں کو بھی لگتا ہے کہ معاملہ اتنا گمبھیر نہ تھا بلکہ والدین ہی نے انا کا مسئلہ بنا دیا۔ بات انا کی نہیں، محبت اور برداشت کی ہے۔ یہ لڑکی ہی کی غلطی تھی جو انہیں سسرال مخالف سوچ دی۔ ہر وقت سسرال کا رونا رو رو کر ان کی برداشت کو آزمایا۔ ماں باپ بیٹیوں سے بڑی محبت کرتے ہیں، ان کے معاملے میں بہت اطمینان اور ان کا تحفظ چاہتے ہیں، اور بیٹی کو ہونے والی ہر تکلیف انہیں بڑا بے چین کر دیتی ہے اور یہ تلخ فیصلے ان ہی بے چینیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ یہی غلطی میں نے بھی کی تھی۔ مگر اللہ نے مجھے موقع دیا اور توفیق دی اور اللہ ہر ایک کو موقع دیتا ہے اور ایک سے زائد بار دیتا ہے لیکن ضرورت سنبھلنے کی ہوتی ہے۔

میں نے اس گھر میں واپس آنے کا فیصلہ بھی کیا اور آبھی گئی لیکن کون جانے کہ میں نے ایک عرصہ کس طرح اس گھر میں گزارا ہے… بس صبر تھا جو اللہ سے مانگا کرتی تھی اور ہمت بھی او رمستقل مزاجی بھی۔ ایک قید بامشقت تھی جو ختم ہوگئی۔ میں نے اپنی ذات کو صفر کر رکھا تھا اور اس صفر کی اہمیت اتنی تھی کہ اللہ کے پاس اپنے Points بڑھانے تھے اور بس۔ رشتے نبھانا شاید اتنا مشکل نہ ہو اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ دل اللہ کے ہاتھ میںہوتے ہیں۔ بھلے ہی لوگ ہماری خدمت، خلوص اور محبت کو نہ سمجھیں اور قدر نہ کریں مگر اللہ بڑا قدر کرنے والا ہے اور کیا خوب قدر دان ہے وہ۔

لوگ بے رحم ہوسکتے ہیں، مگر تم رحم دل ہی رہو

وہ اچھائی کرنا بھول سکتے ہیں، مگر تم رہو اچھے

وہ دھوکہ دیں تمہیں مگر تم ایماندار رہو…

اور آخر میں یہ تمہارے اور اللہ کے درمیان ہوگا

نہ کہ تمہارے اور لوگوں کے درمیان!!

اور جب میں نے معاملات اللہ اور اپنے درمیان رکھے تو اللہ نے میرے اور لوگوں کے درمیان کے معاملات درست کردیے۔ میرا حال میرے ماضی سے زیادہ اہم اور پر اثر بن گیا۔ ابتسام پہلے سے بڑھ کر محبت کرنے والے اور خیال کرنے والے بن گئے… میرا وہ واپسی کا فیصلہ جو کسی کی نظر میں غلط اور میرے لیے یہاں باعث سزا بنا وہی فیصلہ آج میرے لیے باعث عزت ہے۔

اور پھر اس ’’ماویہ ثمین‘‘ کی ہماری زندگی میں آمد نے سب کچھ بدل دیا، اللہ کی رحمت ہے یہ… بیٹی کی پیدائش نے مجھے اپنے معاملات میں مزید محتاط اور باشعور بنا دیا ہے۔ ابتسام اکثر مجھے چھیڑتے ہیں کہ میں نے یہ نام ’ماویہ ثمین‘ کیسے رکھ دیا! میں صرف مسکرا کر رہ جاتی ہوں… ماویہ کے معنی ہے ’’زندگی کا نچوڑ‘ واضح عکس، اور ثمین کے معنی ہے بیش قیمت، میں اپنی بیٹی کو اپنی زندگی کے نچوڑ سے ایک واضح عکس دینا چاہتی ہوں جو اسے بیش قیمت بنا دے گا…

رحمیٰ باجی میری زندگی میں اللہ کی رحمت بن کر آئی تھیں اور میری بجھتی شمع کو روشن کیا تھا، اور اب مجھے کئی شمع بلکہ بے شمار شمعیں جلانی ہیں، اب وہ کیسے…؟

تو یہ تو ابھی میری کہانی تھی ایک غافرہ ابتسام کی کہانی… اور ابھی ایک نئی کہانی لکھے گی ’’ماویہ ثمین‘‘ اور اس کی کہانی میری کہانی سے بہت مختلف ہوگی…‘‘ ایک الوہی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے ڈائری بند کی، قلم دراز میں رکھا اور اٹھ گئی… وقت ہوگیا تھا کہ اب وہ اپنی بیٹی کو جگا دے جو کسمساتے ہوئے آنکھیں کھول رہی تھیں… ایک نئی کہانی لکھنے کے لیے!lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply