پاگل

یہاں پاگلوں کی کوئی کمی نہیں ہے یارو، لوگوں کو کام سے فرصت نہیں ہے اور کچھ پاگل عجیب و غریب کاموں میں مگن ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک ایسے ہی پاگل سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ میری باتوں کو احمقانہ کہہ رہا تھا۔ پہلے تو بہت ہنسا، پھر لمحے بھر سانس بحال کی اور مسکرا کر بولا:

’’تمہیں تو میری حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تھی اور تم مجھ پر تنقید کر رہے ہو۔‘‘

’’اچھا تو جناب اس کام پر داد کے طلب گار ہیں۔‘‘

’’نہیں، نہیں داد کا طلب گار نہیں ہوں لیکن تنقید کا سزاوار بھی تو نہیں۔‘‘

’’چلو یار ایک کام کرتے ہیں۔‘‘

کیا…؟ میں نے پوچھا۔ ’’تم اپنا کام کیے جاؤ اور مجھے اپنا کام کرنے دو۔‘‘

’’یہی تو میں کہہ رہا ہوں، کوئی کام وام کرو۔ یہ کیا اپنا وقت ضائع کر رہے ہو۔‘‘ میں نے اپنی دانش وری جھاڑی۔ اس نے مسکراکر میری طرف دیکھا اپنی نئی کار اسٹارٹ کی اور ہاتھ ہلاتے ہوئے نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ میں دفتر جانے کے لیے جو سڑک استعمال کرتا ہوں اس پر فرنیچر مارکیٹ ہے۔ پرانے فرنیچر کی دکانوں پر لوگ اپنی پسند کا فرنیچر دیکھتے اور اس کے دام سن کر اپنا سر کھجاتے ہیں۔ دو تین ٹھیلے والے شربت، جسے وہ گرمی کا دشمن کہتے ہیں لیے بیٹھے ہیں۔ ایک ٹھیلے والا دنیا جہاں کے پرانے کھلونے سجائے بیٹھا رہتا ہے۔ میکینک موٹر سائکلیں اور گاڑیاں مرمت کرتے اور سڑک کو گھیر کر بیٹھے ڈینٹر اپنی ٹھک ٹھک سے اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کی سعی کرتے ہیں۔ نرسری والا اپنے پودوں کو پانی دے رہا ہوتا ہے۔

درخت سے آئینہ لٹکائے ایک حجام آس پاس کی دن رات تیزی سے تعمیر ہونے والی عمارتوں کے مزدوروں کو سوہنا بنانے میں مصروف رہتا ہے۔ ہوٹلوں پر توے سے اٹھتا ہوا دھواں اور اس میں ترتراتے ہوئے پراٹھے پردیسیوں کو گھر کی یاد دلاتے ہیں۔ لڑکے بالے اسٹاپ پر کھڑے ایک دوسرے سے چیخ چیخ کرگپ شب اور سگریٹ کا کثیف زہر اپنے اندر اور دوسروں میں انڈیلتے رہتے ہیں۔ بس زندگی اسی طرح رواں دواں رہتی ہے۔

یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے

میں نے اسے ایک بہت بڑے اسکول کے سامنے ایک اجاڑ درخت کے نیچے کھڑے ہوئے دیکھا تھا۔ میں نے سمجھا، اس کا بچہ اسکول میں پڑھتا ہوگا تبھی تو یہ اکثر یہاں نظر آتا ہے۔ میں نے نظر انداز کر دیا، پھر اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں ہوگئیں، لیکن وہ بندہ بے کار کبھی کبھار نہیں، اکثر وہاں نظر آتا۔

آخر وہ کرتا کیا ہے؟ میرے اندر کے تجسس نے انگڑائی لی، کرتا ہوگا کچھ، تجھے کیا ہے؟ تو اپنا کام کر۔ لیکن صاحب میرا تجسس اور گہرا ہوتا گیا۔ اچھا میں معلوم کروں گا، میں نے خود کو بہلانے کی کوشش کی۔

’’کب؟‘‘ … اندر سے آواز آئی۔

’’جب وقت ہوگا۔‘‘

’’وقت ہوتا نہیں ہے نکالنا پڑتا ہے پیارے۔‘‘

’’اچھا نکال لوں گا۔‘‘

ایک ہفتہ تو جیسے تیسے گزر گیا لیکن میں اپنے اندر کی آواز سے اکتا نہیں بیزار ہوگیا تھا۔ کل تو یہ کام ضرور کر گزروں گا تاکہ یہ جو اندر کا تجسس کا مارا ہواہے، کچھ تو شانت ہو۔

خانہ خدا کے بلند میناروں سے غافل انسانوں کو پکارا جانے لگا۔ صبح سویرے کا وقت اور اذان کی آواز کیا سماں باندھتی ہے۔ میں جلدی جلدی تیار ہوا، اب میں جانے کے لیے تیار تھا۔ سڑک پر ٹریفک بہت کم تھا۔ اخبار لیے ہوئے موٹر سائیکل سوار تیزی سے اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ دودھ سپلائی دینے والی گاڑیاں راکٹ بنی ہوئی تھیں۔ ایئر پورٹ جانے اور آنے والے بہت جلدی میں تھے۔ میں بھی اس سیلاب میں بہا چلا جا رہا تھا۔ کبھی ایسا لگتا ہے یہ دنیا ایک بپھرا ہوا سمندر ہے اور ہم سب اس کی خوراک ہیں اور کبھی ایسا جیسے ایک دیو منہ کھولے کھڑا ہمیں نگل رہا ہے۔ خیر اب یہ جو بھی ہے، راستے میں ایک صاحب سے ملنا تھا۔ ان سے ملاقات ہوئی، لیکن اصل کام سے تو میں اب جا رہا تھا۔ اسی بڑے اسکول کے سامنے والے درخت کے نیچے پہنچ کر میں اس پاگل کا انتظار کرنے لگا۔

’’نہیں، یہاں نہیں۔‘‘ میرے اندر سے آواز آئی۔

’’پھر کہاں…؟‘‘ کہیں چھپ کر اسے دیکھتے ہیں، میں نے نرسری کے پودوں کی اوٹ لی اور اس کا انتظار کرنے لگا۔ بہت دیر ہوگئی تھی، میں نے سوچا کیا خبر وہ آئے گا بھی یا نہیں۔ ’’آئے گا، آئے گا۔‘‘ ذرا صبر کر۔ ’’اور میں صبر سے اس درخت کو دیکھنے لگا۔

اس اجاڑ درخت کے اوپر مٹی کی دورکابیاں رسی سے بندھی ہوئی تھیں اور چڑیاں چہچہا رہی تھیں، میں اکتا گیا تھا کہ ایک صاحب نے آکر پوچھا:

’’کوئی مسئلہ ہے کیا…؟‘‘

’’نہیں تو کچھ نہیں بھیا۔‘‘

’’یہاں کیا کر رہا ہے؟‘‘

’’کچھ نہیں بھئی، آپ جائیں اپنا کام کریں۔‘‘

’’فالتو ہے کیا؟ تو تم چڑیا…؟‘‘

وہ مجھے پاگل کہتے ہوئے چلا گیا۔ پھر میں نے دیکھا، ایک نئی کار آکر رکی۔ وہی پاگل تھری پیس میں ملبوس اترا۔ ان کے ایک ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل اور دوسرے ہاتھ میں ایک تھیلی تھی۔ وہ خاموشی سے اس درخت کے قریب آیا۔ پھر منرل واٹر کی بوتل کھولی اور مٹی کی پلیٹ پر انڈیل دی۔ دوسری تھیلی میں سے ایک لفافہ نکالا اور دوسری رکابی میں ڈال دیا۔ رکابی باجرے سے بھر گئی۔ پھر وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اپنی کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور درخت کی طرف دیکھتا رہا، چڑیوں کا ایک غول ان رکابیوں میں سے دانہ چگ رہا تھا، کچھ پانی پی رہی تھیں۔ ایک عجیب سی خوشی اس کے چہرے پر رقص کرنے لگی اور گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی۔ اس سے پہلے کہ وہ گاڑی کو آگے بڑھاتا، میں اس کے سامنے تھا۔

’’واہ جی واہ! کیا کام چنا ہے تم نے!‘‘

’’وہ مسکرایا، کیا ہوا؟‘‘

بہت وقت ہے کیا تمہارے پاس!

’’نہیں، میں بہت مصروف ہوں لیکن ان کے لیے وقت نکالتا ہوں اور پھر میرے اصرار پر وہ بتانے لگا: ’’یار، یہ کام مجھے اچھا لگتا ہے۔ چڑیوں کا چہچہانا ان کا دانہ چگنا، پانی پینا، اچھا لگتا ہے مجھے۔ بہت سکون ملتا ہے۔‘‘

لوگ توزندگی میں انسانوں کو بھی کچھ نہیں دییواہ تم نے آسان راہ اپنائی ہے!۔

’’نہیں نہیں ، یہاں بہت اچھے لوگ بستے ہیں۔ انسانوں کا خیال رکھتے ہیں، دیکھا نہیں ہوٹلوں کے باہر لمبی قطاروں میں بیٹھے لوگوں کو کھانا ملتا ہی ہے نا۔‘‘

ہاں ضرور ملتا ہے بے کس و نادار لوگوں کو کھانا، لیکن کس قیمت پر؟ ان کی عزت نفس برباد کر کے۔ ان کے وسائل پر کچھ لوگوں نے قبضہ کرلیا ہے اور ان کے جسم ان ہی سرمایہ داروں، وڈیروں، جاگیر داروں اور ان مشینوں، زمینوں اور فارم ہاؤسوں کا ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ وہ یہ سب اس لیے نہیں کر رہے ہیں کہ وہ بہت ہم درد ہیں، بہت ایثار ہے ان میں، بلکہ اس لیے کر رہے ہیں کہ کچھ کھائیں پئیں گے نہیں تو ان کے کام کیسے آئیں گے۔ واہ صاحب واہ… میری تلخی کو بڑھتا دیکھ کر وہ کہنے لگا۔

’’جناب سب کے دیکھنے کازاویہ مختلف ہے، میں چیزوں کو کسی اور رخ سے دیکھتا ہوں اور آپ کسی اور طرح سے، لیکن مجھے ان چڑیوں کو دانہ ڈالنا اچھا لگتا ہے۔

کیوں…؟

’’پتا نہیں۔‘‘

یہ کیا بات ہوئی پتا نہیں؟

’’واقعی مجھے نہیں معلوم۔ اچھا پھر کبھی بات کریں گے۔‘‘

اچھا اتنا تو بتاؤ آج کل تم روزانہ کیوں آتے ہو؟

وہ مسکرایا اورکہنے لگا: ’’جب اسکول کھلا ہوتا ہے تو بہت سے لوگ ان چڑیوں کو دانہ ڈالتے ہیں۔ اب اسکول میں چھٹیاں ہیں، میں نے سوچا، دوماہ میں ان چڑیوں کی خدمت کرتا ہوں، بس اسی لیے روزانہ یا ہر دوسرے دن یہاں ضرور آتا ہوں۔ اچھا پھر ملیں گے۔‘‘ کہتے ہوئے اس نے اپنی کار کا ایکسلیٹر دبا دیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد اللطیف ابو شامل

Leave a Reply