کہانی تین لفظوں کی

[افسانے میں بیان کردہ طلاق کا طریقہ غیر شرعی اور غیر قانونی ہے۔ اس کا بیان محض افسانے کی ضرورت ہے، جس کی ذمے داری مصنف یا ادارہ پر عائد نہیں ہوتی۔ ایڈیٹر]

کافی بھاگ دوڑ کے بعد میری تقرری میرٹھ میں ہوگئی تو میں نے سکون کا سانس لیا۔ لوگوں کے طعنے، ان کی چبھتی ہوئی نگاہیں اور ہونٹوں پر چپکی ہوئی طنزیہ مسکراہٹ سے اب مجھے نجات مل جائے گی۔ میرے بچپن کا دوست مکیش تیواری میرٹھ میں پہلے ہی سے تعینات تھے۔ وہ میرٹھ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دفتر میں ایک بڑا آفیسر ہے۔ اس کے خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی تک کنوارا ہے اور میرٹھ اسپورٹس کلب میں ٹینس کھیل کر اپنے فرصت کے لمحات گزارتا ہے۔ اس کے پتا جی بابو مہیش تیواری میرٹھ کمشنری سے ریٹائرمنٹ کے بعد آریہ سماج کے پلیٹ فارم سے خدمت خلق کا علم بلند کیے سماج سدھار میں مشغول ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خدمت خلق سے اچھا جاب اور ہو بھی کیا سکتا ہے۔ مکیش کی ماتا جی ایک دم دیوی، شفیق اور مہربان لیکن اپنے شوہر کے وچاروں سے بالکل الٹ۔ مورتی پوجا میں یقین کرنے والی، ہر دوسرے تیسرے روز ایک برت، ہر دن، ہر رات، ہر پل، ہر چھن اشبھ کا نقشہ بغل میں دبائے کرشن کنہیا کے چرنوں میں لین۔ کتنی محبت کرتی ہیں وہ مجھ سے۔ ان کے میکے سے لے کر کانپور تک کی پوری زندگی میں شاید میں پہلا مسلمان تھا جس نے ان کے برتنوں میں کھانا کھایا تھا۔ شاید ان کے لیے یہ پہلا موقع تھا جب انھوں نے کسی مسلمان کے جھوٹے برتنوں کو اپنے ہاتھوں سے دھویا تھا۔ وہ اس کا اظہار بار بار اپنی زبان سے کرچکی تھیں اور فخر کرتی تھیں کہ ان کا ایک بیٹا مسلمان بھی ہے۔
مکیش کو میں نے اپنے بھائی کی طرح چاہا تھا۔ جس دن اس کا ٹرانسفر کانپور سے میرٹھ کے لیے ہوا تھا تو میں کتنا اداس تھا لیکن آج جب میری تقرری میرٹھ میں ہوئی تو میں کتنا خوش تھا۔ جہاں مجھے بابو جی، ماتا جی اور مکیش کی رفاقت اور محبت نصیب ہوگی۔ وہاںمجھے اس دم گھونٹ دینے والے ماحول سے بھی نجات مل جائے گی۔
میں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک وکیل کی حیثیت سے کیا تھا۔ میری شادی بھی اسی دوران ہوگئی۔ ریحانہ میری زندگی میں بہار بن کر آئی تھی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زندگی کے سفر میں اتنا حسیں ساتھی مجھے ملے گا۔ ریحانہ کو پاکر میں خود کو خوش نصیب سمجھنے لگا لیکن یہ خوشی، یہ ترنگ، یہ مسرت دیرپا ثابت نہ ہوئی، میں نے اپنی خوشیوں کا جو آشیانہ تعمیر کیا تھا وہ تنکے تنکے کر کے بکھر گیا۔ تباہی اور بربادی کے مہیب سائے میری خوشیوں کو کھا گئے۔
وہ دن شاید میں کبھی نہ بھول سکوں گا، جب ریحانہ کی نجی ڈائری اور اس میں رکھے ہوئے خطوط میرے ہاتھ لگے۔ یہ خطوط اس کے خالہ زاد بھائی اکرم نے اسے لکھے تھے۔ ڈائری میںاس کی اپنی تحریر۔ اکر م سے اس کا لگاؤ، خطوط میں انتظار، فراق، وصل اور تنہائی، کیف و سرور میں ڈوبا ہوا ریحانہ کا اعتراف۔
میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ ذہن و دل میں سناٹا در آیا۔ جسم پر تشنجی کیفیت طاری ہوگئی۔ چند لمحے بعد جب میری طبیعت ذرا سنبھلی تو میں اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا۔ ریحانہ میک اپ میں مصروف تھی اور کسی تقریب میں جانے کی تیاری میں تھی۔ میں نے اکرم کے خطوط اور اس کی ڈائری سنگار میز پر اسی کے سامنے رکھ دی اور اپنی سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر گاڑ دیں۔ وہ یکایک نروس ہوگئی۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے؟‘‘ اس نے روہانسی آواز میں کہا: ’’کسی کی نجی ڈائری اور خطوط پڑھنا کون سی تہذیب میں شامل ہے؟‘‘
’’تم اور تہذیبی اصول کی بات کرتی ہو؟‘‘ میں ذرا تند لہجے میں بولا:
’’آخر ایسا کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا جو تم اتنے لال پیلے ہو رہے ہو؟‘‘
’’ریحانہ! مجھے بتاؤ ان تمام باتوں کے باوجود تم میرے پاس کیا لینے آئی تھیں؟‘‘
’’دقیانوسی باتیں مت کرو۔‘‘
’’یہ دقیانوسی باتیں ہیں؟‘‘ اس نے مجھے بلندی سے پستی کی جانب دھکیل دیا۔
’’یہ دقیانوسی باتیں نہیں تو اور کیا ہیں؟ پتہ نہیں تم کون سی صدی میں سانسیں لے رہے ہو۔ تمہارے ذہن میں جالے لگے ہوئے ہیں۔‘‘
’’تو کیا تمہیں اپنے اس قبیح فعل پر ندامت کا احساس تک نہیں ؟‘‘ میں نے گھٹی گھٹی آواز میں پوچھا۔
’’اس میں ندامت کی کیا بات ہے؟‘‘
مجھے لگا جیسے کسی نے مجھے فرج کر دیا ہو۔ میرے ہاتھ پاؤں شل ہوگئے۔ میں ایک ٹک ریحانہ کو دیکھتا رہ گیا۔ میں شاید اسے معاف بھی کر دیتا لیکن جسے اپنے گناہ پر شرمندگی نہ ہو، جسے پچھتاوے کا احساس تک چھو کر نہ گزرا ہو، ایسی عورت کے ساتھ کیسے نباہ کیا جاسکتا ہے۔ میں نے امی کو آواز دی۔ ابو کو آواز دی۔ امی آئیں، ابو آئے۔ میں نے سیف سے پچاس ہزار روپے کی گڈی نکالی اور بولا:
’’امی، ابو گواہ رہنا۔ ریحانہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔‘‘ کمرہ طلاق طلاق طلاق کی بازگشت سے گونج اٹھا۔
’’ہائے بیٹا یہ تو نے کیا کر دیا؟‘‘ امی نے ریحانہ کو اپنی آغوش میں بھر لیا اور دونوں زمین پر بیٹھتی چلی گئیں۔ میں نے پچاس ہزار روپے حق المہر ریحانہ کی گود میں ڈال دیے اور بیڈ روم سے باہر چلا آیا۔
کچھ دیر بعد ریحانہ فون پر اپنے گھر بات کر رہی تھی۔
’’ابو فوراً آئیے اور مجھے اس گھر سے لے جائیے۔ مظفر نے آپ کی بیٹی کو طلاق دے دی ہے۔‘‘ اس شام ہمارے گھر چند لوگ اکٹھا ہوئے۔ ریحانہ کے ابو بھی آئے۔ مہر کی بات ہوئی۔ عدت کے دوران ہونے والے اخراجات یعنی نان نفقہ کی بات ہوئی۔ میں نے وہ سب کچھ ادا کر دیا۔ جہیز کے سامان کو انھوں نے ایک ٹرک میں لوڈ کیا اور چلے گئے۔ لیکن اپنے پیچھے طعن و تشنیع کے تیر چھوڑ گئے۔ جنہیں امی، ابو، عزیز و اقارب اور محلے والوں نے اپنی زبانوں اور آنکھوں میں بھر لیا اور سب مل کر ان کی بوچھار مجھ پر کرنے لگے۔
امی اور ابو اور رشتے دار طلاق دینے کی وجہ معلوم کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے کسی پر بھی وجہ ظاہر نہیں کی۔
دن آہستہ آہستہ گزرنے لگے۔ مجھے کبھی کبھار ریحانہ کی یاد آتی لیکن جب میں اس کی ڈائری اور اکرم کے خطوط دیکھتا تو میرا غصہ بھڑک اٹھتا اور میں اس کی یاد اپنے ذہن سے جھٹک دیتا۔ ادھر میں نے منصفی کا امتحان پاس کرلیا اور میرا سب سے پہلا تقرر میرٹھ کورٹ میں ہوگیا۔
لیکن بقول شخصے، ’’آدمی کہیں بھی جائے اس سے پہلے اس کی بدنامی وہاں پہنچ جاتی ہے۔‘‘ میں تھاپر نگر مکیش تیواری کی کوٹھی پر رات کو پہنچا۔ بابو جی، ماتا جی اور رمکیش نے مجھے بڑی گرم جوشی سے خوش آمدید کہا۔ وہ تینوں مجھ سے مل کر نہال ہوئے جا رہے تھے۔ بابو جی کا خیال تھا کہ میں مستقل ان کی کوٹھی میں ہی رہوں لیکن میں نے معذرت چاہ لی۔ کیوں کہ سرکار کی جانب سے میرے لیے کاٹج کا انتظام ہوچکا تھا لیکن اس رات انھوں نے اپنے یہاں رکنے پر اصرار کیا اور میں مان گیا۔
اگلے روز اتوار تھا۔ میں دیر سے جاگا، ماتا جی اپنے مندر نما کمرے سے پوجا پاٹ کر کے فراغت پاچکی تھیں۔ بابو جی ناشتے کی میز پر بیٹھے کچھ منتروں کا اچارن کر رہے تھے۔ مکیش بھی اسپورٹس کلب سے ٹینس کھیل کر واپس آچکا تھا۔ ناشتے کی میز پر میرا انتظار تھا۔ میں بھی جلدی جلدی نہا دھوکر ناشتے کے لیے جا پہنچا۔ سب نے میرا استقبال کیا۔
’’مظفر بیٹے! تم مجسٹریٹ تو بن گئے ہو لیکن لوگوں کے ساتھ کیا انصاف کر پاؤگے؟ ‘‘ بابو جی نے پراٹھے کی پلیٹ میری جانب سرکاتے ہوئے کہا۔
’’کیوں؟ آپ کو کوئی شک ہے بابو جی؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے سوال کیا۔
’’ہاں بیٹے! جو آدمی اپنی بیوی کو انصاف نہ دے سکا وہ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرے گا؟‘‘
مجھے جیسے بچھونے ڈنک مار دیا۔ میرے ہاتھ پراٹھے کی طرف بڑھتے بڑھتے رک گئے۔
’’میں نے ریحانہ کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی بابو جی‘‘ میں نے اپنی صفائی دی۔
’’کیوں طلاق سے بڑی ناانصافی کیا ہوگی۔‘‘ ماتا جی بولیں۔
’’طلاق دے کر میں نے کوئی ناانصافی نہیں کی۔ میں نے اس کا جہیز واپس کر دیا، اس کے پچاس ہزار روپے مہر کے اسے ادا کردیے۔‘‘
’’لیکن مہر تو شادی کے بدلے میں دیے جاتے ہیں۔‘‘ مکیش نے ٹوکتے ہوئے کہا۔
’’نہیں یہ عورت کا حق ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ازدواجی زندگی کے دوران مہر کی ادائیگی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ادا نہ کرے اور نوبت طلاق تک پہنچ جائے تو طلاق کے فوراً بعد اسے ادا کرنا پڑتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اچھا یہ تو مہر کے روپے ہوگئے اور بقیہ زندگی کے لیے؟‘‘
’اسلامی قانون میں ایک چیز ہوتی ہے، عدت۔ عورت تنہائی میں اپنا وقت گزارتی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ Pregnent تو نہیں ہے۔ اگر نہیں تو شوہر صرف تین مہینے دس دن کے جتنے بھی اخراجات ہوں گے وہ انہیں Bear کرتا ہے اور اگر حاملہ ہے تو Delivery Time تک کے تمام اخراجات برداشت کرتا ہے اور اس وقفہ کے بعد ان دونوں کا رشتہ تمام ہو جاتا ہے۔‘‘
’’تو تمہارا مطلب ہے بقیہ زندگی کا سفر وہ تڑپ تڑپ کر کاٹے۔ اپنے اخراجات کے لیے یا تو بھیک مانگے یا دوسروں کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر دیکھے۔‘‘ بابو جی نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
’’عدت کے بعد اخراجات نہ دینے کا مطلب اس بات پر زور دینے سے ہے کہ عورت جلد از جلد اپنا کوئی سہارا ڈھونڈلے۔ میر امطلب ہے شادی کر لے۔‘‘ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
’’واہ میاں یہ خوب رہی۔ بغیر کسی وجہ کے تین بار طلاق کہہ دو اور پھر یہ بھی اعلان کرو کہ وہ چند ماہ کے بعد دوسرا بیاہ رچالے۔‘‘ ماتا جی نے اپنی پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔
’’ماتا جی بغیر کسی وجہ کے طلاق نہیں دی جاتی۔‘‘
’’کیوں تم نے کس وجہ سے طلاق دی ریحانہ کو۔‘‘ مکیش نے پوچھا۔
’’بھائی میں وجہ تو بتاؤں گا نہیں۔‘‘
’’آخر کیوں؟‘‘ بابو جی نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
’’دیکھئے کچھ وجوہ ایسی ہوتی ہیں جن سے عزت جانے کا خطرہ رہتا ہے، اس کا اظہار نہ کرنا ہی مناسب ہے۔ اس سے سماج میں عورت Defameہوتی ہے اور اگر ایک بار عورت بدنام ہو جاتی ہے تو پھر کوئی اسے سماج میں قبول نہیں کرتا۔ یقین جانئے اس سے سماج میں جنسی انارکی پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔
’’معاف کرنا بھئی۔‘‘ بابو جی نے ناشتہ ختم کرتے ہوئے کہا۔ ’’تم مسلمان لوگ عورت کو ایک کھلونا سمجھتے ہو۔ جب دل چاہا تم نے تین بار طلاق کا لفظ دوہرایا اور عورت کی چھٹی کر دی۔‘‘
’’بابو جی میں نے پہلے بھی کہا کہ بغیر وجہ کے طلاق نہیں دی جاتی۔ میں یہ مانتا ہوں کہ ایک آدھ طلاق غلط بھی ہوتی ہے لیکن اسے Exception کہا جاتا ہے اور Exceptions کو پوری قوم پر Frame نہیں کیا جاسکتا اور یہ آپ نے کیا کہاکہ ہم عورت کو کھلونا سمجھتے ہیں، ہم تو نہیں البتہ وہ لوگ ضرور کھلونا سمجھتے ہیں بلکہ کھلونا بنانے پر مصر ہیں جو اسے اس کے سابقہ شوہر سے نان نفقہ کے نام پر تاحیات اس کے اخراجات دلانا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ معاشرے میں کرپشن، جنسی آزادی اور بے حیائی کو بڑھانا چاہتے ہیں۔‘‘
’’میاں نان نفقہ اور اسی قسم کی دوسری Problems طلاق کی وجہ سے ہی تو وجود میں آتی ہیں۔ اس طلاق کے رجحان پر ہی Checkلگنا چاہیے۔‘‘ بابو جی نے مدبرانہ انداز میں کندھے سکوڑتے ہوئے کہا۔
’’بیٹے ہمارے یہاں تو طلاق کا کوئی چکر ہی نہیں۔ ہمارے یہاں تو عورت اردھانگنی ہوتی ہے یعنی مرد کا آدھا انگ۔ ایسا انگ جسے کبھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔ عورت اور مرد کا یہ پوتر بندھن جنم جنمانتر کا ہے، اسے توڑا نہیں جاسکتا۔‘‘ ماتا جی نے آنکھیں موندتے ہوئے جیسے کرپشن کنہیا کے چرنوں میں بیٹھ کر یہ بات کہی۔
’’مظفر میاں:
Hindu Marriage is a sacrament. it is a union of flash with flash and union of soul with soul.”
’’ٹھیک کہا آپ نے پتا جی۔‘‘ مکیش بولا: مجھے تو ایسا لگتا ہے Law of Divorce is a law of animals”
’’کیا کہا؟ یہ جانوروں کا قانون ہے۔‘‘ میں بھڑک کر کھڑا ہوگیا۔ ’’کیا تم مجھے جانور سمجھتے ہو؟‘‘ میں نے چیختے ہوئے کہا۔
"Yes, You are also an educated animal” مکیش نے چیختے ہوئے اسی لہجے میں جواب دیا۔
میں غصے سے تھرتھر کانپنے لگا۔ دل تو چاہتا تھا کہ ناشتے کی میزان پر الٹ دوں۔ مکیش کا یہ ریمارک کہ تم بھی پڑھے لکھے جانور ہو۔ میرے ذہن و دل میں اتر گیا۔
بچپن سے لے کر جوانی تک کی وہ شفقت، محبت اور رفاقت میں تھاپر نگر کی اس کوٹھی میں چھوڑ آیا۔ مجھے ریحانہ کے رشتے سے زیادہ اس بندھن کو ٹوٹنے کا دکھ تھا۔ مکیش کا اتنا سخت ریمارک میری برداشت سے باہر تھا۔
مجھے میرٹھ کورٹ میں بیٹھتے ہوئے چھ مہینے بیت گئے۔ اس دوران میں نہ تو کانپور ہی گیا اور نہ مکیش کی کوٹھی پر۔ بار ایسوسی ایشن کے فنکشنوں میں شرکت کے بعد میری زندگی میں کئی دوستوں کا اضافہ ہوا مگر جو بات، جو نشہ مکیش کی دوستی میں تھا وہ مجھے میسر نہ آسکا۔
ایک دن مجھے شادی کے دو کارڈ موصول ہوئے۔ ایک کارڈ مکیش کی شادی کا تھا، کانپور کی ہی کسی لڑکی سے شادی کر رہا تھا وہ۔ میں بہت خوش ہوا۔ دوسرا کارڈ ریحانہ کی شادی کا تھا۔ میں نے کارڈ لفافے سے نکال کر دیکھا۔ کارڈ کے ساتھ ریحانہ کا تحریر کردہ ایک چھوٹا سا پیپر پن کیا ہوا تھا۔ لکھا تھا: ’’مظفر تم شاید سوچتے ہوگے کہ ریحانہ تمہارے بغیر زندگی کا یہ کٹھن سفر طے نہیں کر سکے گی۔ میری شادی کا یہ کارڈ تمہاری غلط فہمی رفع کرنے کے لیے کافی ہے۔ میرا ہونے والا شوہر وہی اکرم ہے جس کے خطوط کی بنا پر تم نے مجھے طلاق دی تھی۔ میں سمجھتی ہوں کہ تم ایک شریف آدمی ہو۔ تم میں اخلاقی جرات بھی ہے۔ وہ خطوط اور میری ڈائری تمہارے کسی کام کے نہیں۔ اگر وہ سب تم مجھ تک پہنچا دو تو تمہارے اخلاق کا معیار دو چند ہوگا کم نہیں۔‘‘
میرے اخلاق کا معیار دو چند ہوا یا نہیں لیکن میری مسرت ضرور دو چند ہوگئی۔ ایک طرف مکیش شادی کر رہا تھا تو دوسری طرف ریحانہ بھی اپنی منزل کو پہنچ رہی تھی۔
اس واقعہ کے دو سال بعد میرا ٹرانسفر کانپور ہوگیا۔ میں خوشی خوشی کان پور چلا گیا۔
اب مجھ پر لعن طعن کی بنیاد ہی ختم ہوگئی تھی۔
زندگی نہایت خوش گوار اور آرام و چین سے گزر رہی تھی۔ میں عدالت میں بڑی مستعدی اور مستقل مزاجی سے بیٹھ رہا تھا۔ کیسوں کو جلد از جلد فیصل کرنے میں میری دلچسپی رہی ہے۔ میں اپنی ذات سے کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ حتی المقدور میری یہ کوشش ہوتی تھی کہ مظلوم کے ساتھ انصاف ہو۔
لیکن اس دن میری زندگی کا شاید دوسرا تکلیف دہ تھا۔ میرا دماغ ماؤف ہوگیا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ عدالت کا کمرہ چکرانے لگا۔ میرے سامنے مجرموں کے کٹہرے کے پاس پولس کی حفاظت میں کھڑے ہوئے ملزم اور میرے سامنے رکھی ہوئی کیس کی فائل۔ سب آپس میں گڈمڈ ہوگئے۔ میں نے اپنے چکراتے ہوئے سر کو تھاما۔
’’میرے خدا! آخر یہ سب کیا ہے؟‘‘ میں ہونٹوں ہی ہونٹوں میں بدبدایا۔ میں نے آنکھیں پھاڑ کر ملزموں کو دیکھا۔ پولیس کے گھیرے میں ہتھکڑیاں لگے ہوئے مکیش تیواری، شری مہیش تیواری اور ماتا جی۔ میں نے ایک نظر کیس کی فائل پر ڈالی۔ وہی پرانا الزام۔ وہی پرانا واقعہ، وہی پرانا کیس۔ جس نے ایک وبا کی شکل میں ہمارے پورے ملک کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے۔ بہو کو جلا کر مارنے کا الزام، وہی جہیز کا لالچ، وہی انسانیت سوز حرکت۔ مجھے لگا جیسے پوری عدالت ایک مچھلی بازار بن گئی ہے، جس میں پبلک پر اسی کیوٹر اور وکیل صفائی گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہے تھے۔ ’’مائی لارڈ۔ یہ لوگ جو آپ کے سامنے سر جھگائے، بھولے بھالے چہرے بنا کر کھڑے ہیں، یہ انسان نہیں حیوان ہیں، وحشی ہیں، درندے ہیں۔ انھوں نے جہیز کے لالچ میں ایک عورت کو ہی جلا کر نہیں مارا بلکہ انسانیت کے سینے میں اپنے لالچ کا خنجر بھونک دیا ہے۔ مائی لارڈ یہ جانور ہیں، خونی ہیں، ایسے جانوروں کو سولی پر چڑھا دینا چاہیے۔‘‘
’’نہیں نہیں مائی لارڈ! میرے موکل بے قصور ہیں۔ انھوں نے اپنی بہو کا قتل نہیں کیا ہے بلکہ اس نے خود کشی کی ہے۔ وہ نہایت بد زبان عورت تھی۔ اس کی بد زبانی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ اپنے شوہر کو ’’خریدا ہوا گھوڑا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتی تھی۔ اس بدکردار عورت کے کئی لوگوں سے ناجائز تعلقات تھے۔ میرے موکل مسٹر مکیش تیواری یعنی اس عورت کے شوہر کو جب اس راز کا پتہ چلا تو اس نے بدنامی کے ڈر سے خود کشی کرلی۔ مائی لارڈ۔ بس اتنی سی بات کا بتنگڑ بنا رہے ہیں، سرکاری وکیل۔ مائی لارڈ میرے موکل بے قصور ہیں، بے قصور ہیں۔‘‘
میں نے ایک بار پھر اپنی آنکھیں ملیں اور ان کی طرف دیکھا۔ ٹھیک میرے بالکل سامنے وہ تینوں سر جھکائے کھڑے تھے۔
بابو جی، ماتا جی اور مکیش۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے نزدیک عورت اردھانگنی ہوتی ہے یعنی مرد کا آدھا انگ جسے کبھی مرد سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ جس کا رشتہ جنم جنمانتر کا ہوتا ہے۔ ان کے یہاں شادی ایک پوتر بندھن ہے جسے جسمانی اور روحانی رشتہ کہا جاتا ہے جو اٹوٹ ہے، ان کے یہاں طلاق کا تو کوئی چکر ہی نہیں ہے۔
میں یہ تو نہیں جانتا کہ وکیل صفائی اور سرکاری وکیل اپنے اپنے کیس کو مضبوط کرنے کے لیے کیا دلائل دیں گے۔ کیسی کیسی گواہیاں پیش کریں گے، یہ کیس کتنا طول پکڑے گا، لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ڈاؤری ایکٹ (Dowery act) کے تحت ان تینوں کو سزا ضرور ہوگی۔ اور اگر یہ کیس میری عدالت سے ٹرانسفر نہ کرالیا گیا تو یہ سزا میرے ہی قلم سے لکھی جائے گی۔ میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سب کو سزا ضرور دوں گا لیکن اپنے فیصلہ میں یہ جملہ ضرور لکھوں گا کہ عورت کتنی ہی ذلیل، بد زبان اور بدکردار کیوں نہ ہو اسے زندہ جلا کر مار دینے سے شرعی طلاق دینا زیادہ بہتر ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مسعود اختر

Leave a Reply