بلی کی واپسی

خدا جانے کس بات پر تو تو میں میں شروع ہوئی تھی۔ گھر کا کمرہ شور سے بھر گیا تھا۔ کمرے کے کونے میں ٹیبل کے نیچے سوئی بلی جاگ گئی۔ اپنے پچھلے پیروں پر وزن دے کر سامنے کے پیروں کو لمبا کر کے کھڑی ہوگئی۔ پیٹھ کو کمان بنا کر دم کو تقریباً خط مستقیم کی شکل میں کھڑا کیاـ۔ پھر اپنے تنے ہوئے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر ایک جمائی لی…

تو تو میں میں جاری تھی…

بلی نے اپنے اگلے پیروں کے پنجے کو زبان سے چاٹا اور پھر اُس پنجے سے اپنا چہرہ پونچھنے میں مگن ہوگئی۔

کمرے میں شور بڑھ رہا تھا…

بلی چہرہ پونچھ کر ٹیبل کے نیچے سے نکل آئی اور کرسی پر بیٹھے مرد کی ٹانگوں سے اپنا جسم رگڑنے لگی۔

مرد نے بلی پر توجہ نہیںدی۔ اس کا چہرہ غصے سے تمتمایا ہوا تھا۔ منہ میں بتیس دانتوں کے درمیان زبان بے لگام ہوچکی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے لیے اولے برسانے والا بادل بن چکا تھا اور بیوی بھی پلنگ پر پاؤں لٹکائے بیٹھی گرج رہی تھی۔

بلی مرد کے رویے سے مایوس ہوکر بغیر ’’میاؤں‘‘ کیے عورت کی طرف ہولے سے بڑھی، اس کے لٹکے ہوئے پیروں میں جو کمرے کے فرش سے چار انچ اوپر تھے، لوٹنے لگے۔

عورت نے بھی بلی کی حرکت کا کوئی نوٹس نہیں لیاـ۔ وہ ترکی بہ ترکی مرد کو جواب دے رہی تھی۔ مرد لعن طعن کرنے لگا۔ عورت کی زبان بھی خنجر کی طرح چلنے لگی تھی۔

’’میں تمہیں طلاق دے سکتا ہوں!‘‘ مرد کا غصہ انتہا کو پہنچ گیا ۔بلی باہر آگئی۔

’’نہیں ، تم مجھے اس حالت میں طلاق نہیں دے سکتے!‘‘ عورت کے لہجے میں لرزش آگئی تھی۔

’’نہیں … نہیں دے سکتا؟‘‘ مرد کا لہجہ حاکمانہ تھا!

’’کیوں کہ میں حالت طہر میں نہیں ہوں اگر میری بات سے آپ متفق نہیں ہیں تو خدا کے لیے سورہ بقرہ اور سورہ طلاق کی ان آیات کا مطالعہ کرلیجیے جس میں طلاق کے اصول اور آداب بتائے گئے ہیں! ’’عورت کی آواز بھرّا گئی تھی۔

مرد اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا تھا۔ خاموش عورت کی طرف دیکھنے لگا جو سر جھکائے اپنی گھنی پلکوں سے ٹوٹتے آنسوؤں کے قطروں کو دو پٹے کے کونے میں جذب کر رہی تھی۔ اس کی ستواں ناک کے نتھنے مخصوص آواز کے ساتھ بے آب مچھلی کے گلپھڑوں کی طرح پھڑک کر ساکت ہو رہے تھے۔

کمرے کے وسط یں لٹکے تیز رفتار سے گھومتے سیلنگ فین کی ہوا سے عورت کی زلفیں چہرے پر بکھر گئی تھیں … عورت بکھری ہوئی زلفوں کے درمیان سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی۔

شوہر اسے گھور رہا تھا۔ اس کا چہرہ غصہ کی تپش سے ابھی بھی تمتمایا ہوا تھا۔ الٹے ’’ب‘‘ کی طرح پہنچے ہوئے لب طیش کی شدت کا اظہار کر رہے تھے۔ ’’میں تمہیں طلاق دے سکتا ہوں!‘‘ شوہر کے الفاظ صدائے بازگشت بن کر وزنی ہتھوڑوں کی طرح بیوی کے سر پر برس رہے تھے اور اس کا وجود اندر ہی اندر ریزہ ریزہ ہوا جا رہا تھا۔

شوہر نے آب دیدہ بیوی کو دیکھا اور پھر کرسی سے اٹھ کر کمرے سے ملحق کچن میں گیا۔ فریج سے پانی کی بوتل نکال کر غصے کی تپش سے سوکھے حلق کو تر کیا اور گھر سے نکل پڑا۔

’’میں کیا کروں، بہت بد زبانی کی اس نے! مالدار کی بیٹی ہے، باپ کی دولت کا گھمنڈ ہے، مگر میں بھی دو ٹکے کا آدمی نہیں ہوں۔ اچھی ملازمت ہے، گاؤں میں کھیت اور حویلی نما مکان ہے۔ مجھے اس کے گھمنڈ کو توڑنا ہی ہوگا۔ وہ سوچتے ہوئے اس فٹ پاتھ پر چل رہا تھا جو پارک کی طرف جاتا ہے۔

کچھ دور چلنے کے بعد وہ پارک میں پہنچ گیا۔ پارک کے سنسان گوشے میں نیم کے گھنے درخت کے نیچے رکھے سمنٹ کے بنچ پر جاکر بیٹھ گیا۔

’’میں حالت طہر میں نہیں ہوں۔‘‘ بیوی کے الفاط اس کے ذہن میں گونجنے لگے… لفظوں کی گونج کے ساتھ اسے دوست کی بات یاد آگئی جو ڈاکٹر تھا۔

’’ایامِ ماہواری میں بالعموم عورت کی طبیعت میں غصہ، چڑچڑاپن اور ہٹ سی پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات اس زمانے میں عورت کو اپنے اوپر قابو نہیں ہوتا۔‘‘

میری بیوی تو اکثر بے قابو ہوجاتی ہے۔ تنک مزاج ہے، روز روز کی کھٹ پٹ سے میری زندگی دو بھر ہوچکی ہے۔ مجھے تو فیصلہ کرنا ہی ہوگا۔

بیوی کی بھرائی ہوئی آواز اس کے ذہن پر دستک دینے لگی۔ ’’خدا کے لیے سورہ بقرہ اور سورہ طلاق کی ان آیات کا مطالعہ کرلیجئے جس میں طلاق کے اصول اور آداب بتائے گئے ہیں۔‘‘

فیصلہ کرنے سے پہلے میں ضرور قرآن کی ان آیات کا مطالعہ کروں گا اور اس کی تفسیر بھی پڑھوں گا۔ ’’اس نے خود کلامی کی اور پھر سر اٹھا کر نیم کی گھنی شاخوں کو دیکھنے لگا جس پر پرندے چہچہا رہے تھے…

نیم کے سبز پتوں سے آسمان چھن کر اس کی آنکھوں میں اترنے لگا اور اسے ایسا لگنے لگا جیسے نیم کے پتوں کا تلخ رس اس کی آنکھوں میں قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے اور پرندے اس کی بے قراری پر چہچہا رہے ہیں۔

جھنجھلا کر وہ بینچ سے اٹھا۔

’’بیوی کی بد زبانی نے میری زندگی کو تلخ بنا دیا۔ مجھے اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہی ہوگا۔‘‘ وہ آسمان کی طرف سر اٹھا کر خود سے بولا اور پھر تیز تیز قدموں سے پارک سے نکل پڑا۔

مغرب کی اذان اس کے کانوں سے ٹکرائی اور اس کے قدم مسجد کی طرف اٹھ گئے۔

نماز ادا کرنے کے بعد اس کی بے قراری میں کچھ کمی آئی۔ مصلیان نمازیں پڑھ کر مسجد سے چلے گئے تھے۔ وہ تنہا مسجد کے گوشے میں دو زانو سر جھکائے بیٹھا رہا… بیوی کی بات یاد آتے ہی وہ فورا اٹھا مسجد کی الماری میں رکھے ہوئے قرآن شریف کی جلدوں میں سے ترجمہ والا قرآن نکالا اور پھر سورہ بقرہ، سورہ طلاق کی ان آیات کا ترجمہ پڑھا، جس میں طلاق کے احکام تفصیل سے بیان کیے گئے تھے۔ ترجمہ پڑھنے کے بعد اس نے تفسیر بھی دیکھی پھر سوچنے لگا میں نے طلاق کو کتنا آسان سمجھ لیا تھا۔ احکامِ الٰہی کے مطابق طلاق کا فیصلہ غصہ و طیش میں نہیں بلکہ عقل و ہوش کی روشنی میں لیا جانے والا فیصلہ ہے۔ ایک سنجیدہ فیصلہ۔ بیک وقت تین طلاقیں دینا اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ایک ناپسندیدہ اور برا فعل ہے۔

یہ سوچتے ہوئے اسے وہ واقعہ یاد آگیا جو طلاق کی آیات کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’رسول کریمﷺ کو ایک آدمی کے متعلق خبر دی گئی جس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی تھیں۔ آپ غصے سے کھڑے ہوگئے اور فرمایا ’’کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جاتا ہے حالاں کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: ’’اے اللہ کے رسولؐ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں۔‘‘ (معارف القرآن، جلد۱، صفحہ۵۶۰)

واقعہ یاد آتے ہی وہ لرز اٹھا۔

’’نہیں … میں ایسا نہیں کروں گا، ہرگز نہیں کروں گا، میں حدودِ الٰہی پر قائم رہوں گا۔‘‘ خود کو اطمینان دلاتے ہوئے اس نے دو بارہ سورہ بقرہ کی آیات ۲۳۱ تا ۲۳۶ کا ترجمہ پڑھا، اس کے بعد سورہ طلاق کی ایک تا سات آیتوں کا بغور مطالعہ کیا۔جن میں مردوں کو تاکید کی گئی تھی کہ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو۔ زمانہ عدت میں عورتوں کو گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ عدت کی مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں روک رکھو یا بھلے طریقے پر اُن سے جدا ہو جاؤ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں۔‘‘

’’اُف! یہ تو بڑا مشکل مسئلہ ہے!‘‘ سورہ طلاق کی آیات کا ترجمہ پڑھ کر اس نے سوچا ’’ایک مرد کو طلاق کا جو اختیار دیا گیا ہے اسے استعمال کرنے کے طریقے ایسے بتائے گئے ہیں کہ علاحدگی کی نوبت نہ آنے پائے اور علاحدگی ہو تو بدرجہ آخر ایسی حالت میں ہو جب کہ باہمی مواقف کے سارے امکانات ختم ہوچکے ہوں۔ ’’میں کیا کروں؟‘‘ اس نے قرآن شریف بند کر کے اپنے اندر کے انسان سے دریافت کیا ’’اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کرو کیوں کہ اللہ نے سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۹ میں فرمایا ہے کہ ’’جو لوگ حدودِ الٰہی سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں۔‘‘ کیا تم خود کا شمار ظالموں میں کرنا پسند کروگے؟‘‘ اندر کے انسان نے اس سے پوچھا۔

’’نہیں … نہیں … نہیں …! اس نے اپنے اندر کے انسان کو جواب دیا۔

اسی وقت موذن نے عشاء کی اذان دی، اس نے اٹھ کر قرآن شریف اسی الماری میں رکھ دیا جہاں سے نکالا تھا۔

اذان ختم ہونے کے بعد اس نے عشا کی چار رکعت نماز سنتِ غیر موکدہ ادا کیں اور جماعت کے انتظار میں بیٹھا رہا۔

جماعت سے عشا کی فرض نماز پڑھی اور پھر سنت و تر اور نفل نمازیں ادا کر کے مسجد سے سیدھا گھر کی طرف چل پڑا…

راستہ بھر وہ طلاق کے بارے میں سوچتا رہا… مجھے حالت طہر میں اپنی بیوی کا رویہ دیکھنا ہوگا۔ میں نے کبھی اپنے دوست کی بات پر غور ہی نہیں کیا تھا۔‘‘

گھر کے دروازے پر پہنچ کر اس نے خود سے کہا اور کال بیل کا بٹن دبا دیا۔

بیوی جیسے اس کے انتظار میں ہی تھی۔ فوراً دروازہ کھول دیا۔ اس نے کنکھیوں سے بیوی کا چہرہ دیکھا، جس پر تناؤ موجود تھا۔ بیوی اس سے کچھ نہ بولی تھی … اسے غصہ آگیا۔ اس نے بھی اپنے لب سی لیے اور ڈرائنگ روم سے ہوتا ہوا کمرے میں پہنچ گیا۔

کچھ دیر بعد کچن سے بیوی کی آواز آئی ’’کھانا لیجئے!‘‘

آواز سن کر وہ کرسی پر ہی بیٹھا رہا … اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ ایک لقمہ بھی منہ میں نہ ڈالے بھوکا ہی سوجائے۔ مگر بھوک کی شدت اسے کرسی سے اٹھا کر کچن میں لے آئی تھی۔

کچن میں دسترخوان بچھا تھا۔ حسب معمول دسترخوان کے بازو سلپچی اور پانی سے بھرا بدھنا رکھا تھا۔ بیوی سامنے بیٹھی تھی۔ ہمیشہ کھانے سے پہلے بیوی بدھنے سے اس کے ہاتھ پر پانی ڈالتی اور وہ سلپچی میں ہاتھ دھوتا، لیکن آج بیوی اس کے سامنے منہ پھلائے بیٹھی تھی۔ اس نے خود ہاتھ دھویا اور کھانا شروع کر دیا۔

بیوی سوچ رہی تھی ’’کبھی میں ساتھ کھانا نہیں کھاتی تو پوچھا کرتے تھے‘‘ کیوں، کیا ہوگیا تمہیں، طبیعت ٹھیک نہیں؟ کھانا کیوں نہیں کھا رہی ہو؟‘‘ مگر آج ایسا نظر انداز کر دیا جیسے میرا ان سے کوئی رشتہ ہی نہیں!‘‘

بیوی اندر ہی اندر پیچ و تاب کھانے لگی۔

وہ لقمے منہ میں ڈالتے ہوئے سوچ رہا تھا ’’ہمیشہ کھانے سے پہلے وہ میرا ہاتھ دھلاتی تھی مگر آج ایسی بیٹھی ہے جیسے میں اس کا کوئی نہیں، بہت گھمنڈی ہے، میں اس کا شوہر ہوں۔ اگر حدودِ الٰہی کا پاس نہ ہوتا تو مزہ چکھاتا!‘‘

جلدی جلدی اس نے کھانا کھایا اور ہاتھ دھوکر کچن سے بیڈ روم میں آیا۔ اپنا بستر دیوار سے لگے تخت پر ڈالا اور لائٹ آف کر کے آنکھیں موندے لیٹ گیا۔

کچن سے برتنوں کی آواز آرہی تھی۔ اس نے سوچا ’’بیوی کھانا کھا کر اب برتن سمیٹ رہی ہے کچھ دیر میں آتی ہی ہوگی۔ مجھے تخت پر سوتا دیکھ کر جگائے گی ’’چلئے! اٹھئے، پلنگ پر سوئیے، اتنا غصہ ٹھیک نہیں، مجھے معاف کر دیجئے، اٹھیے نا!‘‘

ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی بیوی بیڈ روم میں آئی، سوئچ آن کیا۔ کمرہ روشنی سے بھر گیا۔

وہ اپنے دائیں ہاتھ کی کلائی آنکھوں پر رکھے لیٹا۔ کلائی کی اوٹ سے بیوی کو دیکھنے لگا…

بیوی چند لمحے کھڑی اُسے دیکھتی رہی پھر سر کو خفیف سا جھٹکا دیا اور پلنگ پر جاکر لیٹ گئی۔

اس نے دل برداشتگی سے کروٹ بدلی اور ذہن لڑانے لگا ۔

’’بہت گھمنڈ ہے میری بیوی کو اپنے حسن پر۔ باپ کی دولت پر، میری ناراضگی کا اسے ذرا بھی خیال نہیں۔ میں اسے طلاق ہی دے دوں گا۔‘‘

اس نے کروٹ بدلی۔ بیوی کو دیکھا جو پلنگ پر اس کی طرف منہ کیے لیٹی تھی۔ جیسے ہی بیوی نے اسے کروٹ بدلتے دیکھا فوراً کروٹ لے کر اس کی طرف پیٹھ کرلی۔

غصے سے اس کے دماغ کی نسیں تن گئیں ’’بہت اکڑو ہے، اسے اکڑ بازی کا سبق سکھانا ہی پڑے گا جب وہ حالت طہر میں آئے گی تب…

اس نے فیصلہ کرلیا اور آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ کافی دیر بعد اسے نیند آگئی۔

حسب معمول وہ فجر کے وقت جاگا، وضو کر کے نمازِ فجر ادا کرنے مسجد چلا گیا۔

نماز پڑھ کر مارننگ واک کے لیے نکل پڑا… دیر تک وہ سڑکوں پر گھومتا رہا… پھر ایک ہوٹل میں چائے پی کر کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا۔

اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ گھر نہ جائے۔ اس نے ہوٹل کی دیوار پر آویزاں گھڑی دیکھی، ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔ لائبریری بھی ابھی کھلی نہیں ہوگی، میں اپنا وقت کہاں گزاروں۔‘‘ اس نے سوچا۔ مگر کب تک میں گھر سے باہر رہ سکتا ہوں۔ بیوی سے ان بن ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں گھر نہ جاؤں، گھر میرا ہے… بیوی سے رشتہ منقطع کرنے کا میں فیصلہ کرچکا ہوں۔ پھر کیوں اس سے منہ چھپاتا پھروں۔

وہ فوراً ہوٹل کے بنچ سے اٹھا اور گھر کی طرف چل پڑا، نمازِ فجر کو جاتے وقت اس نے گھر کے دروازے کی چٹخنی باہر سے لگا دی تھی، گھر پہنچ کر اس نے چٹخنی کھولی۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔

دیر تک وہ کال بیل کا بٹن دباتا رہا…

’’کیا بیوی ابھی تک سوئی ہے؟ اگر سوئی ہے تو اندر سے دروازہ کس نے بند کیا۔ شاید وہ جاگ گئی ہوگی۔ دروازہ بند کر کے پھر سوگئی ہوگی۔ مگر وہ کبھی ایسا نہیں کرتی۔ حالتِ طہر میں فجر کی نماز کبھی اس کی قضا نہیں ہوتی۔ دیر تک سونے کی تو وہ عادی ہے ہی نہیں … پھر وہ دروازہ کیوں نہیں کھول رہی ہے۔ ماجرا کیا ہے؟

انجانے خدشات سے اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں… وہ کال بیل کا بٹن مسلسل دباتا رہا۔

کچھ دیر بعد دروازہ کھلا۔

بیوی سامنے کھڑی تھی، اس نے اپنے سر کے گیلے بالوں کو خشک کرنے کے لیے تولیے میں بالوں کو پیچ دے کر پگڑی کی طرح باندھ رکھا تھا۔

بیوی کے چہرے پر اس نے ایک اچٹتی نگاہ ڈالی، چہرہ پر کل جیسا تناؤ نہیں تھا، مگر لب خاموش تھے۔

دروازہ کھول کر وہ چند سیکنڈ رکی اور پھر کمرے میں چلی گئی۔ ہاکر نے گھر میں جو تازہ اخبار ڈالا تھا، اسے اٹھا کر وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔

بظاہر اخبار کے صفحات پر اس کی نظریں جمی ہوئی تھیں مگر وہ خبر نہیں پڑھ رہا تھا، اسے بیوی کے گیلے بالوں نے یہ خبر دے دی تھی کہ بیوی نے غسل کرلیا ہے اب وہ حالت طہر میں آچکی ہے۔

’’میں اسے اس حالت میں طلاق دے سکتا ہوں!‘‘

اخبار پر نظریں جمائے وہ اپنے اند رکے انسان سے مخاطب ہوا۔ اندر کا انسان اسے سمجھانے لگا ’’قرآن پاک کی تعلیم ہے کہ شوہر عفو و درگزر سے کام لے۔ اگر بیوی سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو اسے معاف کر دے۔ اگر اس کے اندر کوئی عیب ہے تو اس پر صبر کرے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ ’’کون سی حالت میں؟ کیا تم نے اس پر غور کیا؟ اندر کا انسان اس سے پوچھنے لگا۔

اسی وقت بیوی کی آواز اس کے کانوں میں آئی ’’لیجیے چائے۔‘‘

اندر کا انسان خاموش ہوگیا۔

اس نے اخبار سے نظریں ہٹا کر دیکھا۔ بیوی شوخ لباس میں ملبوس، بن سنور کر اس کے سامنے چائے کا ٹرے لیے کھڑی تھی۔

وہ بیوی کے سراپے کو تکنے لگا…

’’لیجیے نا…! میں نے بھی چائے نہیں پی۔ رات کھانا بھی نہیں کھایا، بھوکی ہی کروٹیں بدلتی رہی۔ آپ نے تو پوچھا تک نہیں!‘‘ بیوی کے لہجے میں پیار بھری شکایت تھی۔

’’کیسے پوچھتا۔ شرمساری سے اس نے اپنا سر جھکا لیا اور پھر کچھ توقف کے بعد ٹرے سے چائے کی پیالی اٹھا کر مضمحل لہجے میں کہنے لگا۔

’’تم نے غصہ ہی اتنا دلا دیا تھا، وہ تو قرآن و حدیث نے میری رہ نمائی کی نہیں تو…‘‘

’’ہاں، نہیں تو آپ مجھے …‘‘ بیوی بھی بات ادھوری چھوڑ کر ٹی، ٹیبل پر ٹرے رکھ کر اس کے قریب کرسی پر بیٹھ گئی۔

بلی کمرے میں داخل ہوئی۔

’’نہیں … نہیں!‘‘ شوہر اپنے طرزِ عمل پر اندر ہی اندر خجل ہو رہا تھا۔ ’’لو، چائے پیو!‘‘ شوہر نے ٹرے میں رکھی چائے کی پیالی بیوی کی طرف بڑھا دی۔

بلی کود کر شوہر کی گود میں بیٹھ گئی۔

یکلخت بیوی کا چہرہ کھل اٹھا، وہ شکایت آمیز نگاہوں سے شوہر کو دیکھ کر بولی ’’جب بھی ہم میں ان بن ہو جاتی ہے میں ہی آپ کو مناتی ہوں، کبھی تو آپ مجھے…

شوہر نے لمحے بھر کے لیے اقرار میں اپنی پلکیں بند کر کے سر جھکا لیا۔

بیوی بلی کا سر سہلانے لگی…

دونوں کے لبوں پر تبسم کے پھول کھل اٹھے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق

Leave a Reply