پانی کی قدر و قیمت

اللہ رب العزت نے انسانوں کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ خود انسان سراپا نعمت ہے، اس کے لیے نعمتوں کا شمار بھی ناممکن ہے۔ ان نعمتوں میں سے بہت سی نعمتیں ایسی ہیں جن کو عظیم نعمت کہا جاسکتا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان میں سے، بہت سی نعمتوں کو، بہت سے مواقع پر، ان کی اہمیت جتلانے کے لیے بطور احسان یاد دلایا ہے، انہی میں سے ایک عظیم نعمت ’پانی‘ بھی ہے۔

حقیقت بھی یہ ہے کہ تمام مخلوقات چرند پرند، انسان وحیوان، نباتات کی حیات دنیوی پانی ہی پر منحصر ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسے سہل الحصول اور اس کو کسی کا مملوک نہیں بنایا، بلکہ تمام بندوں کو اس کے حاصل کرنے میں پوری طرح سے مختار بنایا۔

اتنی سہل الحصول اور کثیر الوجود شے کے استعمال کو شریعت نے بالکل آزاد نہیں چھوڑا، بلکہ اس کے لیے حدود مقرر کیں۔ پانی کے استعمال کے بارے میں شرعی احکام کا جو خلاصہ ہے، وہ یہ ہے کہ استعمال کرنے والا پانی کی مقدار پر نظر نہ کرے، بلکہ اپنی حاجت اور ضرورت کا خیال کرے۔ جتنے پانی میں اس کی ضرورت پوری ہو سکے صرف اسی پر اکتفا کرے، اس سے زیادہ اگر استعمال کرے گا تو یہ ’’اسراف‘‘ (فضول خرچی) شمار ہوگا، چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی سعدؓ وضو فرمارہے تھے، جس میں ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کر رہے تھے تو نبی اکرمؐ نے ان سے فرمایا: یہ کیا اسراف ہے؟ صحابی رسول نے تعجب سے پوچھا، اللہ کے رسول! کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! چاہے تم بہتی ہوئی نہر ہی پرکیوں نہ ہو۔ (ابن ماجہ)

صاحب بذل المجہود نے لکھا ہے کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ طہارت میں ضرورت سے زائد پانی استعمال کرنا مکروہ ہے چاہے وضو ہو یا غسل یا کوئی دوسری نجاست زائل کرنا ہو۔

خود رحمۃ للعالمینؐ کا پانی کے استعمال کا کیا معمول تھا، ملاحظہ ہو: ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ؐایک مد (تقریباً پونے لٹر) پانی سے وضو فرماتے تھے اور ایک صاع (تقریباً ساڑھے تین لٹر) پانی سے غسل فرماتے تھے۔ (ابن ماجہ)

آج اگر کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو کہ جتنا اسراف پانی میں ہو رہا ہے اتنا شاید ہی کسی اور چیز میں ہو رہا ہو، جب پانی نلوں اور کنوؤں سے نکالنا پڑتا تھا تب معاملہ بہت غنیمت تھا۔ مگر جب سے ترقی ہوئی اور الیکٹرانک دور شروع ہوا تب سے اس کا استعمال بے دریغ ہونے لگا۔ پہلے جتنے پانی میں بآسانی غسل ہو جاتا تھا، اب اتنے پانی میں بمشکل وضو ہوتا ہے، جتنی مقدار پانی ایک متوسط گھرانے کے لیے کافی ہوتا تھا اب اتنے پانی میں ایک دو کا گزارا مشکل ہوگیا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ نہ کوئی روک ٹوک کرنے والا ہے اور نہ ہمیں اس کے نعمت ہونے کا احساس اور نہ یوم الحساب میں جواب دہی کا ڈرہے۔

لیکن یاد رہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی انتہائی ناقدری ہونے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کو چھین لیتے ہیں۔ اگر آپ پورے عالم میں نظر ڈالیں گے تو اس وقت پوری دنیا پانی کے مسائل سے دو چار ہے۔ آپ نے اپنے ملک کا حال سنایا دیکھا ہوگا کہ وہاں پر گرمیوں میں پانی کا کال پڑجاتا ہے، لوگ پانی کے لیے میلوں کا سفر کر رہے ہوتے ہیں اور لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہوتی ہیں، گھنٹوں کے بعد جب نمبر آتا ہے تو بقدر ضرورت بھی پانی نہیں ملتا، زمینوں میں لگے ہوئے نل اور ٹیوب ویل فیل ہوجاتے ہیں، ندیاں اور نہریں خشک ہوتی جارہی ہیں اور ہر علاقے میں پانی کی سطح روز بروز گھٹتی جارہی ہے، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اگلی عالم گیر جنگ پانی کے مسئلے پر ہوگی۔

ابن ماجہ کی حدیث ہے: نبی پاکؐ نے ارشاد فرمایا کہ وضو کے لیے ایک مد اور غسل کے لیے ایک صاع پانی کافی ہے۔ اس پر ایک صاحب نے فرمایا کہ ہمارے لیے تو کافی نہیں ہوتا؟ جواب میں ایک صحابی رسول نے فرمایا: ’’ان کے لیے تو کافی ہو جاتا تھا جو تجھ سے زیادہ بہتر اور تجھ سے زیادہ بالوں والے تھے۔‘‘ (ابن ماجہ)

مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں یہ خیال ہو کہ طہارت حاصل کرنے میں تم زیادہ حریص اور متقی ہو تو آپؐ تم سے زیادہ حریص اور متقی تھے اور اگر اپنے بالوں کی وجہ سے سمجھتے ہو کہ یہ ناکافی ہے تو آپؐتم سے زیادہ بالوں والے تھے۔

خلاصہ یہ ہے کہ عام حالات میں پانی کے بارے میں اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ پاک پانی کو حتی الامکان ناپاک اور ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ تمام انسانوں، خصوصاً مسلمانوں سے ہماری درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ پانی کے معاملے میں احتیاط سے کام لیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
پانی کی قدر و قیمت

Leave a Reply