مسلم خواتین

عالم اسلام کی تعمیرمیں خواتین کا حصہ

انسانی تاریخ کا ہر طالب علم اس بات سے واقٖف ہے کہ انسانی زندگی کا آغاز ایک عورت اور ایک مرد کے اتحاد سے ہوا۔ اسی سے اس کی نسل بھی پھیلی اوریہیں سے علم و فن ،صنعت و حرفت اور تہذیب و تمدن کا آغاز ہوا۔ لیکن جب اس کا سفر آگے بڑھا تو اس کی عزت و آبرو اور عفت و عصمت کی پامالی بھی شروع ہو گئی۔ وہ عورت جو اپنے خون کے قطروں سے نسل انسانی کی پرورش کرتی ہے اس کو ذلت و پستی میں ڈال دیا گیا اور اس میں سب سے آگے تہذیب و تمدن میں اعلیٰ مقام رکھنے والی قوم اہل یونان تھے۔

ایک قدیم یونانی مفکر کا قول ہے کہ ’’آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسنے کا علاج تو ممکن ہے لیکن عورت کے شر کا مداوا محال ہے۔‘‘لیکی نے اپنی کتا ب ’’تاریخ اخلاق یورپ‘‘ میں لکھا ہے کہ بہ حیثیت مجموعی باعصمت یونانی بیوی کا مرتبہ بہ غایت پست تھا۔ اس کی زندگی مدت العمر غلامی میں بسر ہوئی۔ لڑکپن میں اپنے والدین کی ،جوانی میں اپنے شوہر کی اور بیوگی میں اپنے فرزندوں کی ۔

صنف نازک دور قدیم کے سب سے مہذب و متمدن دنیا میں اِن حالات سے دو چار تھی ۔اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ قومیں جوتہذیب و تمدن سے نا آشنا ،شرک اور جہالت میں ڈوبی ہوئی تھیں،ان کے یہاں اس کے ساتھ کیا برتاؤ کیا گیا ہوگا۔عربوں نے تو اس پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے اورظلم و بربریت کی انتہا ء کردی تھی۔انہوں نے عورت کے وجود کو ذلت و عار سمجھ لیا تھا۔عربوں کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات ثبت ہیں کہ جس میں صنف نازک کو ذلت و عاریت کی چیز سمجھ کر درگور کردیا تھا ۔

لیکن بے اعتدالی اور افراط و تفریط کی اس دنیا میں ایک ایسانظام تمدن برپا کیا گیاجس میں غایت درجہ کا اعتدال و توازن پایا جاتا ہے اور وہ اسلام ہے ۔ اس نے نسوانی فطرت کے ایک ایک پہلو حتی کے اسکی نہایت خفی پہلو کی بھی رعات کی ہے اور بتایا ہے کہ عورت ایک ایسا پھول ہے کہ باغ آدم میں نہ کھلتا تو دنیا کا مشام جاں روح پرور خوشبو ؤں سے محروم رہتا ۔وہ ایک ایسا گلدستہ ہے جسکی مہک شیفتگی سے ہی بزم کائنات عطر بیز وشاداب ہے بلکہ عورت تو وہ پاک و پوتر خوشبو ہے جسے روح کی گہرائیوں میں اتار لینا ہی مرد کی معراج ہے۔

اسلام نے اس کو ذلت و پستی سے اٹھا کر اوج ثریا پر پہنچا دیااور اس کو وہ تما م حقوق دئیے جو ایک مرد کو حاصل تھے لیکن قوموں کے عروج و زوال نے اس کو پھر اسی مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے وہ چلی تھی۔ موجودہ دور میں مغربی تہذیب نے آزادیٔ نسواں کے حسین اور پرفریب نعروں کے ذریعہ اس کا خوب استحصال کیاحتی کہ اس کوزندگی کی رمق باقی رکھنے کے لئے اپنی عزت و آبرو کو سرے بازار نیلام کرنا پڑا۔ تاریخ انسانی میںاس پر شاید ایسا دور کبھی نہیںآیا تھا۔ Prostitution in the united Stateکا مصنف لکھتا ہے کہ ’’امریکہ میں جن عورتوں نے زنا کاری کو مستقل پیشہ بنالیا ہے ان کی تعداد کا اندازہ کم ازکم پانچ چھ لاکھ کے درمیان ہے۔‘‘

مغرب کے بالمقابل آج بھی عالم اسلام میں خواتین کو معاشرہ میں اعلی مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ ابتداء اسلام سے لے کر آج تک سینکڑوں پردہ نشیں خواتین نے حدود شریعت میں رہ کر گوشہ علم و فن سے لے کر میدان جہاد تک زندگی کے ہر شعبہ میں حصہ لیا اورنہ صرف اپنے علم و فن سے اس چمن کی آبیاری کی بلکہ اپنے خون جگر سے اس کو سینچا ہے۔تصنیف ہو یاتالیف ،رزم ہویا بزم کسی بھی میدان میں ان کے کارناموں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔آج بھی ارض فلسطین کی مائیں سر بکف میدان جہاد میں بر سر پیکار ہیں اور قبلہ اول کی حفاظت کے لئے اپنے خون کا نظرانہ پیش کرتی ہیں۔اسلام پر مرنا اوراس کے اصولوںکی حفاظت میں مٹ جانے پر انہیں فخر ہے۔افغانستان کی وادیاں ان کے خون سے لالہ زار ہیں اور ایرانی انقلاب میں ان کی حصہ داری اسلام آزادیٔ نسواں کی بین دلیلیں ہیں۔یہ صرف آزادی ٔ نسواں کے پرفریب اور حسین نعروں کی مثالیں نہیں ہیں بلکہ عالم اسلام کی آزاد عورتوںکے عمل و کردار کے آئینہ دار ہیں۔

لیکن پھربھی اہل مغرب کی نظر میں ’’ابھی تک نا مکمل ہے مگر تعبیر آزادی۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد اشفاق عالم ندوی

Leave a Reply