2

امہات المومنین کی بے مثال انجمن

جب ہم خیر امت کی تاریخ کے روشن صفحات پر نظر ڈالتے ہیں تو امہات المومنین کے حوالے سے بہت دلکش اور خوب صورت تصویریں سامنے آتی ہیں۔ یہ تصویریں بتاتی ہیں کہ امہات المومنین میں آپس میں جس قدر الفت ومحبت تھی، اس کی نظیر سگی بہنوں میں بھی نہیں مل سکتی ہے۔ امہات المومنین کی باہمی اخوت کو ایمانی اخوت کی بہترین مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ امہات المومنین کے گھروں میں کتاب وحکمت کا خوب خوب چرچا رہتا تھا، اور اس کی برکت سے ان کی زندگی روشن سے روشن تر ہوتی جاتی تھی۔ اللہ کے رسول کی تربیت کے فیض سے ان کی سیرت شاہ کار بن گئی تھی، ان کے دل کدورتوں سے پاک اور ان کی زبانیں بد کلامی سے دور تھیں۔ ایسی پاک بی بیوں کے بے مثال باہمی تعلقات کی مکمل عکاسی کردینا نہ راویوں سے ممکن تھا اور نہ وہ کر سکے،بس کچھ جھلکیاں روایتوں کے ریکارڈ میں محفوظ ہوگئیں، ان جھلکیوں سے بہت کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ امہات المومنین کی باہمی قربت نے ایک مثالی انجمن کی صورت اختیار کرلی تھی، اور اس انجمن کے اندر ہر وقت محبت،دوستی اور خیر خواہی کا دور دورہ رہتا تھا۔ وہ ایک دوسرے کی بہت قریبی سہیلیاں تھیں، ان کا آپس میں جتنا گہرا تعلق تھا، اتنا گہرا تعلق اپنی دوسری رشتے دار خواتین سے بھی نہیں تھا۔وہ ایک دوسرے کی دم ساز اور ہم راز تھیں،وہ جب اپنی سوکنوں کا ذکر کرتیں تو صواحبی کا لفظ استعمال کرتیں، یعنی سہیلیاں اور ہم جولیاں۔ اس انجمن کی مستقل ملاقاتیں اور نشستیں ہوا کرتی تھیں، کبھی اللہ کے رسول کے ساتھ سب کی نشست ہوتی تھی، تو کبھی آپ کے بغیر ہوتی تھی۔ انہیں اللہ کے رسول کے سامنے اپنا کوئی مشترکہ مسئلہ رکھنا ہوتا تھا، تو پہلے وہ آپس میں میٹنگ کرتی تھیں، باہم مشاورت کرتی تھیں،اور پھر آپس ہی میں اپنا ایک نمائندہ طے کر کے اسے اللہ کے رسول کے پاس بھیجتی تھیں، کہ وہ سب کی طرف سے عرض داشت پیش کرے۔ایک بار انہوں نے حضرت ام سلمۃ کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا، ان کے الفاظ میں: کلمنی صواحبی أن أکلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسند احمد) میری سہیلیوں نے مجھ سے کہا کہ میں اللہ کے رسولؐ سے (ایک مسئلے میں) بات کروں۔

اس بے مثال انجمن کی نشستیں اللہ کے رسول کے ساتھ روزانہ شام کوباری باری سب کے گھر میں ہوا کرتی تھیں۔(صحیح مسلم) وہ با دل ناخواستہ محض اللہ کے رسول کے حکم کی تعمیل میں اپنی سوکن کے گھر جمع نہیں ہوتی تھیں، امام نووی کہتے ہیں کہ وہ سب خوشی اور رضامندی سے اپنی کسی ایک سوکن کے گھر جمع ہوجایا کرتی تھیں۔ (شرح نووی)

جب امہات الومنین کی اس انجمن میں کسی نئی رکن کا اضافہ ہوتا تو سب اس کا گرم جوشی سے پرتپاک خیر مقدم کرتیں، اور اپنے اچھے جذبات اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتیں، ام المومنین حضرت زینب بنت جحش آپ کے نکاح میں آتی ہیں، نان گوشت کا ولیمہ ہوتا ہے، اس کے بعد راوی کے بقول اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک کرکے تمام بیویوں کے حجروں میں تشریف لے جاتے ہیں، اور سب بارک اللہ لک کہہ کر آپ کو خیر وبرکت کی دعائیں دیتی ہیں۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)، امام قرطبی اس منظر سے متأثر ہوکر لکھتے ہیں: سوکن کی آمد پر ان کا یہ انداز بیان بتاتا ہے کہ ان کی سوچ کتنی بلند تھی، ان کا ظرف کتنا بڑا تھا، ان کا ساتھ رہ کر جینے کا سلیقہ کتنا عمدہ تھا، ورنہ یہ تو سوکنوں کے لیے آپے سے باہر ہوجانے اور پاس ولحاظ بھول جانے کا موقعہ ہوتا ہے، لیکن وہ تو بہترین انسان کی بہترین بیویاں تھیں۔ (المفھم)

امہات المومنین میں آپس میں کس قدر محبت اور بے تکلفی ہوا کرتی تھی اس کا ایک واقعہ حضرت عائشہ کی زبانی سنئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف رکھتے تھے، ان کے ایک طرف سودہ بیٹھی تھیں، میں آپ کے لیے خزیرہ (ایک سالن) بنا کر لائی، میں نے سودہ سے کہا تم بھی کھاؤ، سودہ نے کہا مجھے خواہش نہیں ہے، میں نے کہا کھاؤ ورنہ ابھی یہ تمہارے منھ پر مل دوں گی، سودہ نے نہیں کھایا، میں نے اپنے ہاتھ میں سالن لگایا اور ان کے چہرے پر مل دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے، پھر آپ نے سودہ کے ہاتھ میں سالن لگایا اور کہا تم عائشہ کے چہرے پر مل دو، اس کے بعد پھر آپ ہنسنے لگے، اتنے میں باہر سے حضرت عمر کی آواز سنائی دی، آپ کو خیال ہوا شاید وہ ملاقات کرنے آئے ہیں، آپ نے دونوں سے کہا، اٹھو جلدی سے اپنا منھ دھو لو۔ (مسند ابی یعلی) اس واقعہ سے دو سوکنوں کے درمیان جو محبت، اپنائیت ، بے تکلفی اور صاف دلی جھلک رہی ہے وہ نہایت دل کش اور بے نظیر ہے۔

ازواج مطہرات کی اپنے شوہر سے محبت اور اپنی سوکنوں کے سلسلے میں کشادہ ظرفی کا عالم یہ تھا کہ اپنے کسی بھی حق سے خوشی خوشی دست بردار ہوجایا کرتی تھیں، اللہ کے رسول اللہؐ جب سخت بیمار ہوئے تو آپ کے لیے مشکل ہوگیا کہ ایک ایک دن سب کے یہاں گزاریں،اور یہ ضروری ہوگیا کہ آپ کسی ایک حجرے میں رہیں، اس بات پر تمام ازواج خوش دلی سے راضی ہوگئیں، (صحیح بخاری)اس موقعہ سے حضرت عائشہ کے حجرے کو تیمار داری کا شرف حاصل ہوا، لیکن کوئی افسردہ خاطر ہوکر اپنے گھر نہیں بیٹھی، تمام ازواج بے نفسی اور فراخ دلی کے ساتھ آپ کے پاس حاضر رہیں اور مل جل کر آپ کی خدمت اور عیادت میں لگی رہیں۔ حضرت عائشہ کے الفاظ ہیں، ہم اللہ کے رسول کی بیویاں سب کی سب آپ کے پاس تھیں، ہم میں سے کوئی ایک بھی وہاں سے ہٹی نہیں تھی۔ (صحیح بخاری)

امہات المومنین کی اس انجمن میں ایک دوسرے کو تحفے تحائف بھیجنے کا بھی خاص اہتمام رہتا تھا، کسی کے یہاں کوئی مزے دار چیز تیار ہوتی تو وہ بڑے اہتمام کے ساتھ دوسری ازواج کے گھر بھیجا کرتیں۔ کن أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتھادین الجراد علی الأطباق ( ابن ماجہ)

رسول پاک کی پاک بیویوں میں آپس میں اس قدر دل داری اور غم خواری تھی، کہ اگر آپؐکسی ایک سے ناراض ہوجاتے تو دوسری اس پر خوش ہونے کے بجائے آپ کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کرتی، ایک بار آپ کو حضرت صفیہ سے کچھ ناراضگی ہوگئی، اس دن حضرت صفیہ کے یہاں آپ کے رہنے کی باری تھی، حضرت صفیہ حضرت عائشہ کے پاس آئیں، اور کہا کہ میری آج کی باری تم لے لو اور میرے سلسلے میں اللہ کے رسو ل کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کرو، حضرت عائشہ تیار ہوگئیں، حضرت صفیہ کی اوڑھنی اوڑھی، اور آپ کے پاس جا کر بیٹھ گئیں، آپ نے دیکھ کر کہا تم یہاں سے جاؤ آج تمہارا دن نہیں ہے، انہوں نے کہا یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اس کے بعد پوری بات بتائی تو اللہ کے رسول کی ناراضگی دور ہوگئی اور آپ حضرت صفیہ سے راضی ہوگئے۔ (مسند احمد)

رسول اللہﷺ کی رحلت کے بعد بھی امہات المومنین کی یہ انجمن اپنی وحدت والفت کے ساتھ برقرار رہی، ان کی باہمی نشستیں اور مشاورتیں جاری رہیں۔ وہ گاہے گاہے کسی ایک کے گھر جمع ہوجایا کرتی تھیں (مستدرک حاکم) ، حضرت ابوبکر کے زمانے میں انہوں نے جمع ہوکر مشورہ کیا اور تجویز رکھی کہ حضرت عثمان کو حضرت ابوبکر کے پاس بھیجیں، اس مطالبے کے ساتھ کہ مال فیء میں سے آٹھواں حصہ انہیں دیا جائے، حضرت عائشہ نے اس تجویز سے اختلاف کیا اور کہا کہ آپ ؐ کی ہدایت کے مطابق ہمارا اس میں کوئی حصہ نہیں بنتا ہے، حضرت عائشہ کی اس بات سے سب کو اطمینان ہوگیا اور انہوں نے اپنا مطالبہ واپس لے لیا۔ (صحیح بخاری)

امہات المومنین کی یہ بے مثال انجمن بہت سی دینی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی، سب بی بیاں مل کر باہم مشورے سے ایک فیصلہ کرلیتی تھیں، اور پھر مل کر اسے انجام دیتی تھیں، جنگ کی نازک اور پرخطر حالت میں وہ سب مل کر نکلتیں اور مشکیزوں میں پانی بھر بھر کر لاتیں اور پیارے نبی کے پیارے ساتھیوں کو پانی پلاتیں۔(مسند ابی یعلی)

حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا تو رسول پاک کی تمام ازواج مطہرات نے مل کر فیصلہ کیا اور پیغام بھیجا کہ جنازے کو مسجد کے اندر سے گزاریں، وہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں گی، ایسا ہی کیا گیا، ان کے حجروں کے سامنے جنازہ رکھ دیا گیا، اور انہوں نے نماز جنازہ ادا کردی، بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ کچھ لوگ نکتہ چینی کررہے ہیں، کہ مسجد میں جنازہ کیوں لایا گیا، اس پر حضرت عائشہ نے ان نکتہ چینیوں کا جواب دیا اور کہا کہ لوگ جانے بغیر نکتہ چینی کرنے میں جلد بازی کیوں کرتے ہیں، یہ حضرات مسجد سے جنازہ گزارنے کو لے کر ہم پر تنقید کررہے ہیں، حالانکہ اللہ کے رسول نے سہیل ابن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ادا فرمائی تھی۔ (صحیح مسلم)

اس انجمن کا ایک اہم کام یہ تھا کہ لوگوں کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی سنتوں سے واقف کرائیں، چنانچہ لوگ آتے تھے اور امہات امومنین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات اور طریقہ حیات کے بارے میں پوچھا کرتے تھے، اور امہات المومنین بلا مبالغہ سنت کی صحیح تصویر پیش کرتی تھیں، غلو پسندلوگوں کو بسا اوقات صحیح تصویر نہیں بھاتی تھی، تاہم امہات المومنین اپنی ذمہ داری بالکل صحیح صحیح انجام دیتی تھیں۔(صحیح بخاری)

اس انجمن کا ایک اہم کام یہ بھی تھا کہ اگر کسی گھر کی معاشرتی صورت حال اصلاح طلب ہو تو اس کی اصلاح کی جائے، اس سلسلے میں ازواج مطہرات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کیا کرتی تھیں۔ عثمان بن مظعون کی بیوی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ ان کے شوہر نے پرہیزگاری اور عبادت گزاری کی شدت شوق میں اہل خانہ سے یکسر بے توجہی اختیار کر رکھی ہے، تو اللہ کے رسول کو بتایا اور اللہ کے رسول نے انہیں راہ اعتدال کی تعلیم دی۔ شیطان کے بہکاوے میں آکر بہت سے مرد وخواتین گھروں کو بگاڑنے اور خاندانوں کو توڑنے میں پیش پیش رہتے ہیں، یہ اللہ کی نیک بندیاں خود بھی بے مثال الفت ومحبت کے ساتھ رہتی تھیں اور دوسرے خاندانوں میں الفت ومحبت کی فضا استوار کرنے کے لئے بھی کوشاں رہتی تھیں۔

ازواج مطہرات کے درمیان اس میں تو مقابلہ ہوتا تھا کہ ان میں سے ہر ایک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ خوش رکھنا چاہتی تھیں، تاہم مسابقت کا یہ اعلی جذبہ رقابت ومنافرت کے پست جذبات کو ابھرنے کا موقعہ نہیں دیتا تھا۔ وہ اس مقابلہ کے دوران بھی ایک دوسرے کے لیے بے پناہ خیر خواہی کے جذبات سے لبریز رہتی تھیں، اور ایک دوسرے کے فضل ومرتبے کی بھر پور قدر کرتی تھیں اور کھل کر اس کا اعتراف بھی کرتی تھیں، ایک نازک موقعہ پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش سے پوچھا کہ عائشہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا میری سماعت وبصارت کی خیر ہے، اللہ کی قسم میں نے ان کے اندر بھلائی دیکھی ہے اور صرف بھلائی دیکھی ہے، بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ واللہ ماعلمت الا خیرا (صحیح بخاری) دوسری طرف حضرت عائشہ بھی حضرت زینب کے بارے میں کھل کر اعتراف کرتی ہیں: میں نے دین داری میں، خدا ترسی میں، صاف گوئی میں، صلہ رحمی میں، صدقہ وخیرات اور اللہ سے قریب ہونے کی خاطر خود کو فنا کردینے میں زینب سے بڑھ کر کوئی خاتون نہیں پائی۔ (صحیح مسلم)

قدرو منزلت اور فضل ومرتبت کے اعتراف کی آخری بلندی ہے یہ کہ ایک بی بی کو اپنی سوکن کے اندر ذرہ برابر برائی نظر نہیں آتی ہے، بس اچھائی ہی اچھائی نظر آتی ہے، اور دوسری بی بی کو ساری دنیا کی عورتوں میں اپنی سوکن کی نظیر نظر نہیں آتی ہے۔ اور دونوں ہی اپنے احساسات کا کھل کر اظہار کرتی ہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ سیرت وکردار نہایت بلند ہوں، اور دل ودماغ بالکل پاک وصاف ہوں۔ امہات المومنین کی پوری انجمن ایسی ہی بلندیوں پر فائز تھی۔

حضرت جویریہ کے بارے میں حضرت عائشہ کا اعتراف بھی قابل قدر ہے، فرماتی ہیں: ہم نے ایسی کوئی عورت نہیں دیکھی جو اپنی قوم کے لئے جویریہ سے بڑھ کر بابرکت ثابت ہوئی ہو، ان کی خاطر بنو مصطلق کے سو خاندان آزاد کردئے گئے۔ فما رأینا امرأۃ کانت أعظم برکۃ علی قومھا منھا، أعتق فی سبیلھا مائۃ أھل بیت من بنی المصطلق (سنن ابی داود)

ازواج مطہرات میں حضرت سودہ اور حضرت عائشہ کا ساتھ سب سے پرانا تھا، اس طویل صحبت نے ایک دوسرے کی خوشی اور قدر شناسی میں اضافہ ہی کیا، حضرت عائشہ حضرت سودہ کی تعریف کرنے میں بہت فیاض تھیں، فرماتی تھیں: تیز مزاج عورتوں میں اگر کسی کے جیسے بننے کی خواہش میرے دل میں ہے تو وہ سودہ ہیں، ان کی جیسی اچھی تیز مزاج عورت میں نے نہیں دیکھی۔ ما رأیت امرأۃ أحب الی أن أکون فی مسلاخھا من سودۃ بنت زمعۃ من امرأۃ فیھا حدۃ ( صحیح بخاری، صحیح مسلم) عورت تیز مزاج بھی ہو، اور اپنی سوکن کی بے حد محبوب ودل عزیز بھی بن جائے ، یہ سیرت وکردار کی حد درجہ بلندی کی علامت ہے۔

حضرت عائشہ حضرت میمونہ کی عظمت ومنزلت کا اعتراف بھی پوری فراخ دلی سے کرتیں، ایک موقعہ پر فرمایا: ہمارے درمیان وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والی اور رشتوں کا حق ادا کرنے والی تھیں۔ (مستدرک حاکم)

ازواج مطہرات کی کوشش تو یہی رہتی تھی کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں اور ساری دنیا کے سامنے الفت ومحبت کا ایک بہترین نمونہ قائم کریں، اور وہ اس کوشش میں ہر طرح سے کامیاب بھی تھیں، پھر بھی ان کو یہ فکر ستاتی تھی کہ کہیں ان کی طرف سے کسی کے ساتھ کوتاہی نہیں ہوگئی ہو۔ حضرت ام حبیبۃ کا جب آخری وقت آیا تو حضرت عائشہ کو بلوایا، اور ان سے کہا ہوسکتا ہے ہمارے درمیان کوئی ایسی بات ہوگئی ہو جو سوکنوں کے درمیان ہوجایا کرتی ہے، اللہ ہم دونوں کو معاف کرے، حضرت عائشہ نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا، اس پر انہوں نے کہا: عائشہ تم نے مجھے خوش کردیا، اللہ تمہیں خوش کرے۔سررتنی سرک اللہ۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت ام سلمۃ کو بلوایا اور ان کے سامنے بھی اسی طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ (طبقات ابن سعد)ان پاک سوکنوں کا آپس میں کیسا گہراقلبی تعلق تھا کہ آخری وقت میں بھی سب سے زیادہ انہیں کا خیال رہتا، اور ان کو راضی کرنے اور ان سے اپنی غلطیاں معاف کرانے کی فکر رہتی۔

ازواج مطہرات میں آپس میں کتنی بے تکلفی تھی، اور ایک دوسرے کے لیے ان کے دل میں کیسے نیک جذبات رہا کرتے تھے، اس کی ایک مثال حضرت عائشہ خود بیان کرتی ہیں: ایک بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے پہلے مجھ سے وہ آکر ملے گی جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں، یہ سننا تھا کہ وہ آپس میں ہاتھ ناپنے لگیں، کہ کس کا ہاتھ سب سے لمبا ہے، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سعادت حضرت زینب کے حصے میں آئی، وہ اپنے کام خود کیا کرتی تھیں اور صدقہ وخیرات میں سب سے پیش پیش رہتی تھیں۔ (صحیح مسلم)، ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ کے الفاظ اس طرح ہیں، آپ کی وفات کے بعد جب بھی ہم سب کسی ایک کے گھر میں جمع ہوتے تو دیوار پر اپنے ہاتھ ناپتے، ہم ایسا کرتے ہی رہے یہاں تک کہ زینب کی وفات ہوگئی تو ہم نے جانا کہ لمبے ہاتھ سے مراد صدقہ وخیرات میں آگے بڑھ جانا ہے۔(مستدرک حاکم)، ایک دوسرے سے ہاتھ کی لمبائی میں مقابلہ کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بے تکلفی اور قربت درکار ہے، جو ان کے درمیان خوب تھی۔

امہات المومنین کی یہ انجمن اپنے علمی تفوق اور امتیاز کے لیے بھی سب کے نزدیک معروف تھی، مشکل مسائل میں لوگ ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔ ایک مسئلہ درپیش ہوا تو حضرت علی نے فرمایا اس بارے میں سب سے زیادہ علم پیارے نبی کی ازواج کے پاس ہے۔ ان أعلم الناس بھذا أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔(مسند احمد)، ایک اور موقعہ پر حضرت ابن عمر اور حضرت ابو ھریرۃ نے کہا ازواج مطہرات اس بارے میں زیادہ جانتی ہیں۔ أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم أعلم بذلک۔(مسند احمد) حضرت زینب کا انتقال ہوا تو حضرت عمر نے ازواج مطہرات کے یہاں سوال بھیجا کہ انہیں قبر میں کون اتارے؟ (مسند بزار) ازواج مطہرات کے معمولات اور ان کے کاموں کو دیگر لوگ حوالے کے طور پر بیان کیا کرتے تھے۔أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کن یختضبن بعد العشاء الآخرۃ الی الصبح (مصنف عبد الرزاق)

امہات المومنین کے باہمی تعلقات پر لکھنے والے زیادہ تر مصنفین ان کی باہمی رقابت کو نمایاں کرکے پیش کرتے ہیں۔ اور اس طرح یہ ایک مسلمہ بنادیا جاتا ہے کہ باہمی رقابت سوکنوں کی فطرت میں شامل ہے، اور اس کے اثرات بد سے کوئی عورت محفوظ نہیں رہ سکتی ہے خواہ وہ کیسی ہی دین دار اور پرہیزگار ہو۔ امہات المومنین کی باہمی رقابت کے قصے اتنے مشہور ہوئے کہ امہات المومنین کی باہمی محبت کی تصویر ذہنوں سے اوجھل ہوگئی۔ اس حسین وجمیل تصویر کو عام اور مشہور کرنے کی ضرورت ہے۔

قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے ازواج مطہرات کی آپسی رقابت والی کوئی تصویر سامنے نہیں آتی ہے، ایسا تو لگتا ہے کہ ازواج مطہرات نے کبھی آپس میں ایکا کر کے حضور پر اپنی پسند ناپسند کے لئے دباؤ بنانے کی کوشش کی ہو، آپ کے کسی راز کو آپس میں افشا کرلیا ہو، آپ سے کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کروا لیا ہو، اس طرح کے واقعات کی طرف اشارہ ملتا ہے، لیکن باہمی منافرت یا رقابت کا کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا ہے۔قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والا صاف محسوس کرتا ہے کہ اللہ کے رسول کے سامنے امہات المومنین کی باہمی رقابت کا کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ ان کی آپسی محبت اور تعلق خاطر کا حال یہ تھا کہ رسول پاک کے راز کا افشا بھی کیا تو اپنے میکے میں جا کر نہیں کیا،اپنی سوکن کے سامنے کیا۔اس زمانے میں کسی سوکن نے اپنے شوہر سے یہ نہیں کہا کہ ازواج مطہرات میں بھی تو جھگڑے ،بدکلامی اور منافرت کا اظہار ہوتا ہے، البتہ بیویوں نے اپنے شوہروںسے یہ ضرور کہا کہ رسول پاک کی بیویاں رسول پاک سے بحث کرتی ہیں، ہم کیوں نہیں کرسکتے۔

دس سال کی طویل رفاقت کے دوران اگر معمولی نوک جھونک کے دو چار واقعات پیش آجائیں تو مناسب نہیں ہے کہ انہیں نو بیویوں کی پوری زندگی کا عنوان بنادیا جائے، ان واقعات کو ان کی سیرت کی پیشانی پر چپکادیا جائے اور ہزاروں سال تک ان کا تذکرہ کیا جائے۔ درحقیقت نوافراد کی مشترک زندگی میں ایسے چند واقعات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے، اصل اہمیت اس کی ہے کہ پوری زندگی کن احساسات، جذبات اور سرگرمیوں کے ساتھ گزاری گئی۔واقعہ یہ ہے کہ امہات المومنین نے جس قدر باہمی محبت والفت کے ساتھ مل جل کر زندگی گزاری، اللہ کے رسول کی رفاقت میں بھی اور دور رفاقت کے بعد بھی وہ بے مثال ہے۔ نہ اس کی مثال پیش کی جاسکتی ہے، اور نہ اس سے بہتر کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ع نہ ہماری بزم خیال میں اور نہ دکان آئینہ ساز میں۔

اس زمانے میں جب کہ خود غرضی نے رشتوں کو نباہنا بہت مشکل بنادیا ہے، امت کی ماؤں کی سیرت میں امت کے بیٹوں اور امت کی بیٹیوں کے لئے بہترین نمونہ ہے۔امہات المومنین کی باہمی محبت سے ایک عظیم پیغام یہ ملتا ہے کہ اللہ کا بنایا ہوا ہر رشتہ محبت کا رشتہ ہوتا ہے، کوئی رشتہ نفرت اور رسہ کشی کانہیں ہوتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محی الدین غازی

تبصرہ کیجیے