6

دین میں خدمت خلق کی اہمیت

مسلمانوں کو آپس میں معاملات اور معاشرت بھائیوں کی طرح کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ رحمت، شفقت اور نرمی برتنے اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون میں پورے اخلاص اور خیر خواہی سے پیش آنا چاہیے۔ حدیث شریف میں ہے۔

ترجمہ: ’’رحم کرو تم زمین والوں پر، رحم کرے گا تم پر آسمان والا۔‘‘ (ترمذی)

ایک اور حدیث میں آتا ہے۔

ترجمہ: ’’ساری مخلوق میں سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اللہ کی عیال یعنی مخلوق کے ساتھ زیادہ بھلائی سے پیش آتا ہے۔‘‘ حضرت علیؓ شمائل نبویؐ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ ’’آپ کے قریب بہت سے لوگ ہوتے تھے لیکن ان میں سے آپ کی نظر میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہی ہوتا جو عام لوگوں کی زیادہ بھلائی چاہتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک وہی شخص صاحب مرتبہ ہے جو لوگوں کے دین و دنیا کے کام آتا اور ان کے ساتھ محبت و اخلاق سے پیش آتا ہے۔‘‘

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس سے خیانت کرے گا اور نہ وہ اس سے جھوٹ بولے گا اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑے گا۔ مسلمان کا سب کچھ دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اس کی آبرو ریزی اس پر حرام ہے اور اس کا مال اس پر حرام ہے اور اس کا خون اس پر حرام ہے اور (دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) تقویٰ یہاں ہے اور کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر و توہین کرے۔‘‘ (ترمذی)

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے کہ اس عمارت کا بعض حصہ دوسرے حصے کو طاقت دیتا ہے۔‘‘ (ترمذی)

اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے باہمی اتفاق و اتحاد اور ایک دوسرے سے تعاون و تناصر اور ہر کار خیر میں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر زور دے کر ایک مثال سے اس کی توضیح کی ہے۔ جس طرح ایک عمارت متفرق اجزا سے بنی ہوئی ہوتی ہے، لیکن ہر جز نے دوسرے جز سے چمٹ کر اس کو مضبوط سے پکڑ لیا ہے تو خود بھی مضبوط ہوا اور اس کو بھی مضبوط بنا لیا اور اس طرح ایک مضبوط خوب صورت اور بلند عمارت ظہور پذیر ہوئی۔ مسلمان کو بھی ایک دوسرے سے افتراق اور ایک دوسرے سے قطع تعلق کرنا درست نہیں بل کہ آپس میں نرمی، رحم دلی اور محبت کے ساتھ مل کر رہنا چاہیے۔ نظم و ضبط اور اتفاق و اتحاد سے زندگی بسر کرنی چاہیے اور جس طرح دیوار سے نچلے حصے اوپر والے حصوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، اسی طرح مسلمانوں کو اپنے استحکام اور اتفاق و اتحاد قائم کرنے اور پھر اپنی منظم قوت و شوکت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے آپ کو بڑی سے بڑی قربانی کے لیے پیش کرنا ہوگا۔

جو قوم اپنے اجتماعی نظام، قوت و استحکام اور نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے اپنے بھائی کا بوجھ خوشی اور محبت کے ساتھ اٹھانا گوارا نہیں کرتی تو دشمن ان پر مسلط ہوکر زبردستی ان کے سروں پر بیٹھ جاتا ہے اور پھر ناگواری کے ساتھ دشمن کا بوجھ اٹھاتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی راہ نمائی فرمائی ہے لیکن کاش کہ امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے بنیاد بنالے اور امت کی کامیابی اور فلاح کے لیے جدوجہد کرے تو امید کی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں پر چھائے ہوئے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں کا خاتمہ ہوجائے اور مسلمان طلوع سحر کی نوید سن لیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا۔

’’بے شک تم میں سے ہر ایک (مسلمان) اپنے بھائی (دوسرے مسلمان) کا آئینہ ہے، پس اگر اس نے اس مسلمان میں کوئی برائی اور تکلیف دہ چیز دیکھی تو اس چیز کو اس سے دور کردے۔‘‘ (مسلم)

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تمام اہل ایمان بھائی بھائی ہیں۔ آج خالص مادی دور میں شاید اس کو سمجھنا مشکل ہو۔ اخبار میں اکثر یہ خبریں ٍبھی آنے لگی ہیں کہ ماں نے بیٹے کو قتل کیا، نوزائیدہ بچہ کو اس کی ماں کوڑے دان میں ڈال گئی، ماں بچیوں سمیت دریا میں کود گئی وغیرہ۔

بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عربوں میں ہزار جہالتوں کے باوجود یہ درندگی نہ تھی، وہ بھائی کے رشتہ محبت سے آشنا تھے۔ اسی رشتے کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے ایک بھائی کا بھائی سے جو تعلق ہوتا ہے وہی تعلق ایک ایمان والے کا دوسرے ایمان والے سے ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ ایمانی اخوت کا مضبوط تر رشتہ جس کے نتیجے میں ایک صحابیؓ نے جان دے دی لیکن اپنے پیاسے ایمانی بھائی سے پہلے خود پانی پینا گوارا نہ کیا۔

اس نوع کے متعدد واقعات کتب حدیث میں مذکور ہیں۔ کیا انتہا ہے ایثار کی کہ اپنا بھائی دم توڑ رہا ہو اور پیاسا ہو، ایسی حالت میں کسی دوسرے کی طرف توجہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے چہ جائے کہ اس کو پیاسا چھوڑ کر دوسرے کو پانی پلایا جائے۔ اور ان شہداء کی روحوں کو اللہ جل شانہ اپنے لطف و فضل سے نوازے کہ مرنے کے وقت بھی جب ہوش و حواس سب ہی جواب دیتے ہیں یہ لوگ ہم دردی میں جان دیتے ہیں۔ دینی اخوت کی فضیلت کے بارے میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہے جو میرے لیے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے رہیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہے جو میری خاطر ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔ میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (احیاء العلوم)

خالق کی عبادت کے ساتھ اس کی مخلوق سے حسن سلوک بے پناہ اجر کا باعث ہے۔ احادیث مبارکہ سے پتا چلتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز روزہ اور دیگر عبادات کے بارے میں تاکید کے ساتھ صحابہ کرامؓ کو دوسرے انسانوں سے بھلائی اور خیر خواہی کی بھرپور تلقین فرماتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کے ایثار کی حق تعالیٰ شانہ نے کلام اللہ میں تعریف فرمائی اور اس صفت کا ذکر فرمایا کہ وہ لوگ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان پر فاقہ ہی ہو۔

کنز العمال میں ایک حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یہ عمل پسند ہے کہ کسی مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔ اسی طرح انسانی تعلقات میں باہمی خیر خواہی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرت کا یہ زریں اصول عطا فرمایا: ’’ایسے شخص کی محبت میں خوبی نہیںجو تمہارے لیے بھی وہ کچھ نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے یا اس انداز میں نہ سوچے جس انداز میں وہ اپنی بہتری اور بھلائی سوچتا ہے۔‘‘

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

ترجمہ: ’’خدا کی قسم تم مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ کچھ نہ چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو۔‘‘ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات ہمارے لیے فلاح و نجات کی راہیں متعین کرتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو اسے وہ رسوا کرے اور نہ ہی اس پر ظلم کرے اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہے گا اللہ اس سے قیامت کے دن کی تکالیف دور کرے گا اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا قیامت کے دن اللہ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ’’آپس میں خصومت اور دشمنی سے گریز کرو کیوں کہ اس سے خوبیاں فنا ہو جاتی ہیں اور فقط عیوب زندہ رہتے ہیں۔‘‘ اسی طرح پڑوسیوں کے ساتھ حسن معاملہ کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’جو شخص خدا اور روز جزا پر اعتقاد رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسیوں کی عزت کرے اور اسے ایذا نہ دے، وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا ہمسایہ امن میں نہیں وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو مصیبت و تکلیف میں مبتلا دیکھتے تو سخت رنجیدہ ہوجاتے، دل میں رقت پیدا ہو جاتی اور گریہ طاری ہو جاتا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے:

’’تم میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں یتیم معزز طریقے سے رہتا ہے۔‘‘ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ میرا دل سخت ہے اس کا علاج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر و اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جو زمین والوں پر رحم نہیں کرے گا آسمان والا اس پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
حاجی محمد حنیف طیب

تبصرہ کیجیے