غزل

راس آئے ہیں کسے لیل و نہار زندگی

چار دن کی چاندنی ہے یہ بہارِ زندگی

کی گلوں کی چاہ تو ہاتھ آئے خارِ زندگی

حادثوں کی مار سے ٹوٹا مزارِ زندگی

ہر گھڑی اک امتحاں ہے، یہ کبھی سوچا نہ تھا

اس قدر دشوار ہوگی رہ گزارِ زندگی

مال و دولت، جاہ و ثروت بھی نہ کچھ کام آئیں گے

چھین لے گی موت سب نقش و نگارِ زندگی

چل رہی ہے سانس جب تک رابطہ دنیا سے ہے

آخر اک دن ٹوٹ ہی جائے گا تارِ زندگی

اے مجاہد اس جہانِ آب و گل میں ہر بشر

اپنے کاندھے پر لیے پھرتا ہے بارِ زندگی

شیئر کیجیے
Default image
مجاہد احمد

Leave a Reply