موٹاپا پیدا کرنے والی عادتیں

دورِ جدید میں بدلتے ہوئے طرزِ زندگی سے جہاں ہمارے رہن سہن میں تبدیلی آئی وہیں طرز طعام اور عادات بھی متاثر ہوئیں اور کچھ مسائل سے جنم لیا جس میں ’’موٹاپا‘‘ گزشتہ کئی سالوں سے قابل توجہ موضوع رہا ہے۔ دنیا کے کچھ دیگر ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی ہر چار میں سے ایک فرد موٹاپے کا شکار ہو رہا ہے جو عارضہ قلب، ذیابیطس، فشارخون اور بلڈ پریشر جیسے امراض کو گود مہیا کرتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنے اور بہتر صحت کی نعمت سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صحت مند خوراک کے استعمال کے ساتھ ساتھ ایسی عادتیں بھی بدلیں جو ہمیں موٹاپے کا شکار بناتی ہیں۔

ناشتہ نہ کرنا

بہت سے لوگ صبح کا ناشتہ اسکول، کالج یا دفتر جانے کی عجلت میں چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ اسے ضروری ہی نہیں سمجھتے۔ در اصل آپ کے جسم اور ذہن کے لیے ناشتہ چھوڑ دینا انتہائی نقصان دہ ہے۔ کیوں کہ ناشتہ چھوڑ دینے کے بعد باقی دن آپ جو کچھ کھاتے ہیں وہ میٹابولزم سست ہونے کے باعث جسم کے لیے زائد خوراک بن جاتا ہے۔ امریکن جرنل آف ایپی ڈیمالوجی کے مطابق ناشتہ نہ کرنے والوں میں موٹاپے کے امکانات چار سے پانچ گنا بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا میٹابولزم کو درست رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ غذائیت سے بھرپور خوراک تھوڑی تھوڑی مقدار میں وقفے سے استعمال کریں۔

تیزی سے کھانا

بہت سے لوگ تیزی سے کھانے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ یہ عادت بھی اچھی صحت کے لیے ناموزوں ہے۔ یونیورسٹی آف روڈ آئیلینڈ کے مطابق جو لوگ آہستہ چبا کر کھانا کھاتے ہیں وہ تیز کھانے والوں کی نسبت خوراک کا تیسرا حصہ لیتے ہیں۔ ہمارا معدہ سیر ہو جانے کا پیغام دماغ تک پہنچانے میں تقریباً بیس منٹ لگاتا ہے لہٰذا آپ کو پانچ منٹ میں کھانے کے بجائے کم از کم بیس منٹ میں کھانا ختم کرنا چاہیے اور ایک لقمے کو کم از کم بیس مرتبہ چبا کر کھانا چاہیے۔

بڑے لقموں میں کھانا

خوراک کو چھوٹے لقموں میں چبا کر کھانا لطف دیتا ہے اور زیادہ وقت لیتا ہے جس سے آپ کی بھوک بھی سیر ہو جاتی ہے۔ امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کے مطابق جو لوگ بڑے لقموں میں کھاتے ہیں وہ چھوٹے لقموں میں دیر تک چبانے والوں کی نسبت 52 فیصد زیادہ کیلوریز حاصل کرتے ہیں۔

کھاتے ہوئے مصروفیت

ٹیلی ویژن یا موبائل فون استعمال کرنے والوں کی اکثریت کی توجہ کسی بھی دوسری چیز بہ شمول کھانے کی طرف کم ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف برمنگھم کے محققین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ جن کی توجہ کھانے پر نہیں تھی وہ پوری توجہ سے کھانا کھانے والوں کی بہ نسبت پانچ سے دس گنا زیادہ مقدار میں اسنیکس وغیرہ کھا گئے یہاں تک کہ ان میں اکثر کو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ انھوں نے کیا کھایا۔

کم چکنائی والی خوراک

کم چکنائی والی خوراک جس پر Food fat low یا fat freeکا لیبل لگا ہوتا ہے۔ ایسی خوراک بظاہر آپ کو کم کیلوریز کی وجہ سے مناسب لگتی ہے مگر در اصل اس میں چکنائی کو نشاستہ یا دوسرے کیمیکلز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جو کہ چکنائی سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ ایسی خوراک جلد ہضم ہوجاتی ہے اور بھوک بھی جلد لگ جاتی ہے، جس سے آپ خوراک زیادہ یا بار بار کھاتے ہیں۔

موٹے لوگوں سے دوستی کرنا

دانیو لینڈ جرنل آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق اگر آپ کے دوست یا زوج پیٹو ہیں تو آپ میں موٹاپے کے امکانات 57 فیصد بڑھ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ موٹے دوستوں سے تعلق نہ رکھیں یا دوستی نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ باہر کھانا کھانے کے بجائے کھیل کود یا سیر و تفریح کے پروگرام ترتیب دیں، جس سے آپ ان کی صحبت سے زیادہ لطف اٹھائیں گے اور ان کی کیلوریز جسم میں ذخیرہ ہونے کے بجائے استعمال ہوکر ان کے موٹاپے میں بھی کمی لائیں گی۔

جنک فوڈ اور مشروبات

جنک فوڈ اور کوک جیسے مشروبات کا بکثرت استعمال بھی وزن میں اضافے اور موٹاپے کا باعث بن جاتا ہے۔ پھل اور سبزیوں کا کم استعمال خوراک کو غیر متوازن بنا دیتا ہے۔ لہٰذا موٹاپے سے بچنے اور اچھی صحت کے لیے غذا میں تمام ضروری اجزا کا مناسب مقدار میں ہونا ضروری ہے۔ اپنے وزن کو وقتاً فوقتاً چیک کرتے رہنا اور خوراک پر تھوڑی سی توجہ دینا، ہلکی پھلکی ورزش، چہل قدمی اور بھوک رکھ کر کھانا کھانے سے موٹاپے جیسے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عائشہ صدیقہ

Leave a Reply