پلاسٹک: ماحولیات کے لیے بڑا چیلنج

موجودہ دور اگرچہ ترقی کا ہے، لیکن ترقی کے ساتھ آج کے انسان کو آلودگی تحفے میں ملی ہے چناں چہ جدید دور کا انسان آلودہ ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اسی وجہ سے وہ بے شمار بیماریوں کا بھی شکار ہو رہا ہے۔ آلودہ ماحول انسان کی زندگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی اسے روکنے کیلیے موثر اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔ درختوں کی کٹائی، کوڑے کرکٹ کا ذخیرہ، فیکٹریوں، گاڑیوں اور بسوں کا دھواں، سمندروں، نہروں اور ندی نالوں میں فیکٹریوں کے گندے پانی کی نکاسی یہ سارے کام انسان ہی کر رہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق ان حالات پر قابو پانا نہ صرف انسان بلکہ بری اور بحری جان داروں کی زندگی کے لیے بھی ضروری ہے۔

آج سمندروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے سبب آبی حیات تیزی سے موت کا شکار ہو رہی ہے اور اس کی متعدد اقسام ناپید بھی ہوگئی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال کئی سو آبی پرندے، مچھلیاں اور کچھوے سمندر میں پھینکی جانے والی پلاسٹک کھانے سے مرجاتے ہیں۔

ماحولیاتی ماہرین کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی مرکبات سے تیار شدہ کپڑوں کی دھلائی کے دوران ان سے خارج ہونے والے پلاسٹک کے باریک ذرات سمندروں میں جمع ہوکر غذائی چین میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ماہرین نے سمندروں سے ملنے والے پلاسٹک کے ان باریک ذرات کا منبع بھی تلاش کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ سنتھیٹک یا مصنوعی مرکباب سے تیار ہونے والے کپڑے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق انسانی زندگی میں پلاسٹک کی مصنوعات کا استعمال بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے جانوروں کی زندگی بھی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ یہ سب گندگی ان کی خوراک میں شامل ہو رہی ہے۔

ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ گاڑیوں کے ٹائروں کے باریک ذرات سمندر میں شامل ہوکر اسے آلودہ کر رہے ہیں اور ایک دن یہ سمندر کو ’’پلاسٹک کا شوربہ‘‘ بنا دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹائروں اور مصنوعی کپڑوں سے پھیلنے والی اس آلودگی کا حل مشکل ہے۔ آئی یو سی این انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے مطاق ٹائروں اور ٹیکسٹائل سے نکلنے والے پلاسٹک کے باریک ذرات سمندری آلودگی کی بڑی وجہ ہیں۔ ائی یو سی این نے دنیا کے سات خطوں سے اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں، تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ ہر سال سمندر میں شامل ہونے والے ۹۵ لاکھ ٹن پلاسٹک کے تازہ کچرے میں باریک ذرات کی مقدار کتنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۱۵ سے ۳۰ فیصد تک پلاسٹک کی آلودگی ان باریک ذرات کی وجہ سے ہوتی ہے جو مذکورہ کپڑوں اور گاڑیوں کے ٹائروں سے نکلتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مصنوعی مرکبات سے تیار شدہ کپڑوں سے نکلنے والے پلاسٹک کے ذرات سمندر میں ایشیا کے علاقوں سے زیادہ شامل ہوتے ہیں۔ ٹائروں کی آلودگی امریکہ، یورپ اور وسطی اشیاء سے سمندروں میں شامل ہوتی ہے۔

آئی یو سی این کے سمندروں سے متعلق پروگرام کے ڈیٹی ڈائرکٹر فرانز یکوسمرڈ کے مطابق یہ نتائج حیران کن ہیں۔ ہم نے پایا کہ زیادہ تر پلاسٹک کے باریک ذرات یا تو کپڑے سے آتے ہیں یا ٹائروں سے۔ یہ باریک ذرات سمندر میں ہر طرف جا رہے ہیں، ہماری خوراک میں بھی پلاسٹک کے اس نل کو بند کرنا ہوگا۔ آئی یو سی این کے ڈائریکٹر جنرل انگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے روز مرہ کے معمولات جیسے کے کپڑے دھونا اور گاڑی چلانا، آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں اور اس کے زندگی اور انسانی صحت پر تباہ کن اثرات ہوسکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹائروں اور مصنوعی کپڑوں سے پھیلنے والی اس آلودگی کا حل نکالنا مشکل ہے۔

اس ترقی یافتہ دور میں کھانے پینے کی اشیا کو پلاسٹک کے ڈبوں، بوتلوں اور پیکٹس میں پیک کرنے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ کوڑا کرکٹ زمین کے ساتھ سمندروں کو بھی آلودہ کر رہا ہے۔ کچھ ادارے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

پلاسٹک ایک پائیدار مادہ ہے اسی لیے یہ بحری ماحول میں مسائل کا باعث بنتا ہے۔ یہ نہ تو پانی میں حل ہوتا ہے نہ بحری جانداروں کو غذا فراہم کرتا ہے۔ چناں چہ یہ کئی سالوں تک سمندر میں ہی رہتا ہے۔ تھیلے، بوتلیں، برتن، کھلونے، آج کل کون سی ایسی شئے ہے، جو پلاسٹک سے تیار نہیں کی جاتی۔

یہ مادہ دنیا بھر میں تقریباً ایک سو سال سے استعمال ہو رہا ہے لیکن اس سے قدرتی ماحول کو بھی کافی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پلاسٹک کے گل سڑ کر ختم ہونے کا عمل کہیں ساڑھے چار سو برس میں جاکر مکمل ہوتا ہے۔ ہماری زمین کے خشکی پر مشتمل حصے پر تو ہر طرف پلاسٹک کی مصنوعات کا کوڑا کرکٹ ہی نظر آتا ہے لیکن اب عالمی سمندروں میں بھی پلاسٹک کے کوڑے کرکٹ کے بڑے بڑے ڈھیر تیرتے ہوئے نظر آنے لگے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ایک مال دار برطانوی شہری نے انوکھی مہم کے ذریعہ سمندر وں میں اس کوڑے کرکٹ کی طرف توجہ دلانے کی کامیاب کوشش کی تھی۔ اس مہم کے سربراہ اور تحفظ ماحول کے لیے سرگرم کارکن ڈیوڈ ڈی روتھ شیلڈ نے مکمل طور پر پلاسٹک کی بوتلوں سے بنائی گئی ایک کشتی کے ذریعے بحرالکاہل عبور کیا تھا۔ اس کشتی نے جسے ’’پلاسٹیکی‘‘ کا نام دیا تھا، اپنے سفر کا آغاز امریکی شہرسان فرانسسکو سے کیا تھا۔ یہ کشتی چار مہینے کے بحری سفر کے بعد بحر الکاہل کو عبور کر کے بالآخر آسٹریلیا پہنچی تھی۔ جب یہ کشتی پندرہ ہزار کلو میٹر کا سفرمکمل کر کے سڈنی پہنچی تو ہزاروں افراد نے چھ رکنی ٹیم کا پرجوش استقبال کیا تھا۔ یہ کشتی تین سال میں پلاسٹک کی ساڑھے بارہ ہزار خالی بوتلوں کو شکر اور کاجو سے تیار شدہ ماحول دوست گوند کی مدد سے آپس میں چپکاکر بنائی گئی تھی۔ اس کشتی کی تیاری اور اس مہم کا مقصد صرف ایڈونچر نہیں تھا بلکہ لوگوں میں اس بات کی آگاہی پیدا کرنا تھا کہ بڑے پیمانے پر پلاسٹک کی آلودگی سے سمندروں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کشتی پر سفر کے دوران اس پر موجود چھ رکنی عملے نے شمسی سیلز، ہوا کی مدد سے چلنے والی ٹربائن اور سائیکل کی مدد سے چلنے والے جنریٹرز کے ذریعے بجلی حاصل کی تھی۔

دنیا بھر میں سالانہ ۲۴۰ ملین ٹن پلاسٹک تیار ہوتا ہے۔ تاہم اس سے پیدا ہونے والے کوڑے کو ری سائیکل کر کے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے بجائے یہ کوڑا ٹنوں کے حساب سے سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تیار ہونے والے تین سو ملین ٹن پلاسٹک کی دس فی صد مقدار کوڑے کرکٹ کی شکل میں سمندروں میں پہنچ جاتی ہے۔ پلاسٹک کے تھیلے یا پھر کاروں کے ٹائروں کے ربڑ کی گرد اُڑ کر سمندروں تک پہنچ جاتی ہے۔ جرمنی کی یونیورسٹی آف اولڈن برگ کے محققین نے کچھ عرصہ قبل ایک انوکھے منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد یہ پتہ چلانا ہے کہ پلاسٹک کا کوڑا کرکٹ کہاں سے آتا ہے اور پانی میں اس کے بہاؤ کی نوعیت کیسی ہوتی ہے۔ مختلف موٹائی کے حامل آٹھ سو چھوٹے چھوٹے چوبی بلاک جرمن ساحلوں سے بحیرہ شمالی میں چھوڑے گئے۔ ہر بلاک پر یہ پیغام لکھا ہے کہ جسے بھی جہاں بھی یہ چوبی بلاک ملیں وہ برائے مہربانی ایک مخصوص ویب سائٹ کو اس بلاک کے ملنے کے مقام اور وقت سے مطلع کرے۔ ۲۰۱۸ء تک جاری رہنے والے اس منصوبے کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ چوبی بلاک چودہ مختلف مقامات سے دریاؤں اور سمندروں میں چھوڑے جائیں گے۔

پی ایچ ڈی کی طالبہ روزانا شوئنائش آرگینٹ اور فلوریان باہنر اس منصوبے کے روح رواں ہیں۔ روزانا شوئنائش کے مطابق ہر چوبی بلاک کو ایک نمبر دیا گیا ہے جیسے جیسے لوگوں کو یہ بلاک ملتے جاتے ہیں، ویسے ویسے ہم درج کرتے چلے جاتے ہیں کہ فلاں بلاک کہاں اور کس وقت ملا۔ کسی ایک مقام پر بہت سے چوبی بلاک ایک ساتھ ملنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ موجیں اور ہوا کا رخ انہیں دھکیل کر وہاں لے گئے ہیں۔ پھر محققین موقعے پر جاکر جانچ پڑتال کرتے ہیں کہ آیا وہاں پلاسٹک کا کوڑا بھی جمع ہے۔ ایسا ہو تو پھر یہ پتا چلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ کوڑا آیا کہاں سے ہے۔ پھر ذمے داروں کے ساتھ جا کر مسئلے کے حل پر بات کی جاتی ہے۔ فلوریان باہنر کے بہ قول کئی فیکٹریز بھی اس منصوبے میں تعاون کر رہی ہیں۔

پلاسٹک بری چیز نہیں ہے۔ ہم لوگوں کو بس یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ استعمال کے بعد اسے پھینکیںنہیں بلکہ دوبارہ استعمال میں لائیں۔ پانی میں پلاسٹک کی ایک بوتل کی باقیات اندازاْ ساڑھے چار سو سال تک موجود رہ سکتی ہیں۔ پلاسٹک کا گوڑا باریک سے باریک تر ذرات میں بدل کر سمندری حیات کی خوراک بنتا ہے اور نہ صرف مچھلیوں اور دیگر سمندری جان داروں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ بالآخر خود انسانی صحت کے لیے بھی مضر ثابت ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ایک اندازے کے مطابق ہر سال کئی ملین میٹرک ٹن سمندری پانی پٹرولیم اور تیل کے ٹینکروں کی وجہ سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی سمندری آلودگی کے سبب پانی کا ذخیرہ ایک خاموش تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس سے نہ صرف جزائر کو خطرات لاحق ہیں بلکہ سمندروں کے کنارے واقع آبادیوں کے لیے بھی مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ندا سکینہ صدیقی

Leave a Reply