اپنی جسمانی ساخت پر بے اطمینانی

کیا ہی اچھا ہوتا اگر میری آنکھیں ریحانہ کی آنکھوں کے مانند گرے ہوتیں ،میرا قد اگر دو انچ لمبا ہوتا تو میری باڈی پرفیکٹ ہو جاتی، میرا فیس اگر گول ہوتا اور ناک تھوڑی سے کھڑی ہوتی تو میں زیادہ خوب صورت نظر آتی، اس طرح کے جملے اکثر ہمارے کانوں میں پڑتے ہیں۔ اگر غور کریں تو احساس ہوگا کہ لوگوں کی بڑی تعداد اپنی جسمانی ساخت سے مطمئن نہیں ہے۔ ہر ایک کو اپنی ساخت میں کوئی نہ کوئی کمی محسوس ہوتی ہے، قدرت نے اسے جس طرح بنایا ہے، اس سے غیر مطمئن اور تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے۔ یہ عدم اطمینان انسان کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اگر انسان اپنی جسمانی ساخت سے مطمئن ہو تو اسے خوشی اور طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ اس احساس کی بدولت اس کی سوچ مثبت ہو جاتی ہے اور وہ پر اعتماد ہوکر زندگی میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس خود کو ’پرفیکٹ‘ نہ سمجھنے والے افراد احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کا اثر ان کی پوری زندگی پر پڑتا ہے۔ ہمہ وقت اس احساس میں گھرے رہنے کی وجہ سے وہ کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر پاتے، نتیجتاً ناکامیاں ان کے حصے میں آتی ہیں۔ وہ خود کو ایک ناکام انسان سمجھنے لگتے ہیں۔ بہت سے لوگ اسی احساس کے زیر اثر اپنی زندگی کا خاتمہ بھی کرلیتے ہیں۔

اپنی جسمانی ساخت سے مطمئن نہ ہونا اور اپنے اندر کسی نہ کسی کمی کا محسوس کرنا در اصل ایک ذہنی بگاڑ یا مرض ہے جسے طبی اصطلاح میں Body dysmorphic disorder کہا جاتا ہے۔ اس مرض میں نوجوان لڑکے لڑکیاں اور زائد العمر افراد ہی مبتلا نہیں بلکہ بچوں میں بھی اس کی شرح بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی تین فی صد آبادی اپنی جسمانی ساخت سے غیر مطمئن ہے۔

بچوں میں اس مرض کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ ٹیلی ویژن او رسوشل میڈیا ہے۔ ان ذرائع سے ’پرفیکٹ باڈی‘ کا غیر حقیقی تصور ابتدائی عمر سے ان کے سامنے پیش کیا جاتا رہتا ہے، چناں چہ وہ اپنے جسم کا موازنہ اس تصور کے ساتھ کرنے لگتے ہیں اور اس ذہنی بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس مرض کے ضمن میں کی گئی تازہ تحقیق ظاہر کرتی ہیں کہ بچے اور نوجوان اس میں تیزی سے مبتلا ہو رہے ہیں۔ حتی کہ تین سال کے بچے بھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کے بال کالے کیوں ہیں، سنہرے کیوں نہیں، آنکھیں کالی کیوں ہیں نیلی کیوں نہیں۔

بچوں میں علامات

اگر آپ کو بچے میں مندرجہ ذیل علامات نظر آئیں تو سمجھ جائیے کہ اپنی جسمانی ساخت کے متعلق منفی خیالات اس کے دماغ میں گھر کرنے لگے ہیں اور آپ کو اسے سمجھانے کی ضرورت ہے۔

٭ بچہ جب اپنی جسمانی ساخت پر توجہ دینے لگے۔ عام طور پر آغازِ بلوغت میں ایسا ہوتا ہے، اس کے ساتھی بھی اس جانب توجہ دلا سکتے ہیں اور وہ خود کو ان کے درمیان ’مس فٹ‘ سمجھنے لگے۔

٭ جب وہ کہنے لگے کہ اس کے بازوؤں میں بھی چھوٹا بھیم (یا کسی بھی کارٹون کردار) جیسی طاقت ہونی چاہیے۔

٭ جب وہ اپنا موازنہ کسی دوست سے کرنے لگے کہ وہ اس کی طرح اسمارٹ نہیںہے۔

درج بالا علامات نظر آئیں تو سمجھ جائیے کہ اس مرحلے پر بچہ آپ کی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ اگر آپ نے بے پروائی برتی تو پھر وہ زندگی بھر کے لیے احساسِ کمتری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

بڑوں میں علامات

بچوں کی طرح بڑوں میں بھی اس مرض کی علامات ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں:

٭ آئینے میں بار بار خود کو دیکھنا اور پوچھنا کہ کیسا لگ رہا/ رہی ہوں۔

٭ اپنی ظاہری ہیئت کے بارے میں اہل خانہ اور دوستوں سے یقین دہانی حاصل کرنا۔

٭ کچھ لوگ آئینہ دیکھنے سے گریز کرتے ہیں، کیوں کہ وہ خود کو بد صورت سمجھتے ہیں۔

٭ بار بار میک اب کرنا یا بال بنانا۔

٭ ڈائٹنگ اور حد سے زیادہ ورزش کرنا۔

٭ ان سماجی تقاریب یا اجتماعات میں جانے سے گریز کرنا جہاں انہیں ان جسمانی اعضا کی نمائش کرنی پڑ سکتی ہو جو ان کے خیال میں باعث شرمندگی ہوسکتے ہوں۔

٭بلا ضرورت کاسمیٹک سرجری کروانے کی خواہش کرنا۔

Body dysmorphic disorder کا شکار افراد بہ ظاہر نارمل نظر آتے ہیں۔ بہت سوں کو عمر بھر ادراک نہیں ہو پاتا کہ وہ اس ذہنی یا نفسیاتی مرض کا شکار ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق اس مرض کا علاج محدود ہے۔ اس سے نجات کے لیے ذپریشن کی دوائیں ہی استعمال کروائی جاتی ہیں، اس کے علاوہ cognitive behavioral Therapy کی جاتی ہے اور شخصیت کی تعمیر میں معاون کتب اور ویب سائٹس وغیرہ کا مطالعہ تجویز کیا جاتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ندیم سبحان میو

Leave a Reply