اعصابی تشنج کو دور کرنے کے پانچ طریقے

اعصابی تشنج یا کھچاؤ کی کیفیت ہماری روز مرہ کی زندگی میں اس قدر عام پائی جاتی ہے ہے کہ بہت سے لوگوں کو صحیح معنوں یں اس کا شعور ہی نہیں ہوتا اس لیے وہ اس سے محفوظ رہنے کے متعلق سوچتے بھی نہیں۔

اگر آپ بھی اکثر لوگوں کی طرح کمزور اعصاب کے مالک ہیں اور اپنی پریشانیوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے تو یقینا آپ کے لیے اس قسم کی نصیحتیں بے سود اور بے معنی ہیں کہ ’’پریشانیوں کو زیادہ اہمیت نہ دیجئے‘‘ یا ’’آپ کو سستانے کی عادت ڈالنی چاہیے‘‘ وغیرہ وغیرہ کیوں کہ آپ بجا طور پر یہ سوچیں گے کہ کوئی بھی شخص واقعتا پریشانیوں سے نہیں بچ سکتا۔ ممکن ہے آپ کا یہ خیال ہو کہ وہ لوگ جو زندگی کے بارے میں سہل انگاری کا رویہ اختیار کرتے ہیں وہ ہم میں سے اکثر لوگوں کی طرح اعصابی کھنچاؤ سے بکثرت دو چار نہیں ہوئے ہوں گے۔ لیکن حقیقت اس کے بھی برعکس ہے۔

در اصل آپ ایک ایسے طرز عمل کے محتاج ہیں جو آزمودہ، قابل عمل اور ٹھوس ہو او رجس کے ذریعے آپ اپنے اعصاب کو صحت مند رکھ سکیں۔ ممتاز نفسیات دان، اعصابی امراض اور علاج نفس کے ماہرین مختلف یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں ایسے سادہ اور موثر طریقے معلوم کرنے میں لگے رہے ہیں جن سے آپ اپنے اعصابی تناؤ کو ختم کر سکیں۔ چناں چہ ذیل میں وہ پانچ طریقے درج کیے جاتے ہیں جو آپ کے لیے کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں:

۱- اپنے اعصاب کو مضبوط بنائیے۔ معمولی ورزشیں آپ کو اعصابی دباؤ برداشت کرنے کے قابل بنا سکتی ہیں:

تحقیق سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ باقاعدہ جسمانی ورزش کے ساتھ آپ اپنے اعصاب کو بہت زیادہ کھچاؤ یا دباؤ برداشت کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ یہ ورزش بہ تکرار ہونی چاہیے۔ ایک ہفتے میں دو یا تین مرتبہ اور کم از کم تیس منٹ کے لیے۔ اس ضمن میں تیرنا اور پیدل چلنا سب سے مفید ثابت ہوئے ہیں کیوں کہ ایک تو ان میں بہت سے اعصاب کو کام کرنا پڑتا ہے، دوسرے ان میں ایک طرح کی یکسانی اور ہمواری پائی جاتی ہے۔ باقاعدہ جسمانی ورزش نہ صرف اعصابی قوتِ برداشت کو کافی حد تک بڑھا دیتی ہے بلکہ ایک دوسری قابل قدر خدمت بھی انجام دیتی ہے یعنی وہ جذباتی اور اعصابی تشنج کی کیفیتوں کو ختم کرنے اور آسودگی بخشنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے اور جب تک یہ شدید کیفیتیں ختم نہ ہوں، اعصاب پر دباؤ بدستور بڑھتا رہتا ہے۔

۲- ایسی خوراک استعمال کیجیے جو اعصاب کو آسودگی بخشے۔ موزوں خوراک آپ کی اعصاب زدگی کو کم کرسکتی ہے۔

جدید سائنسی تجربات سے یہ بات ظاہرہوگئی ہے کہ آپ کے اعصاب زیادہ پرسکون ہوں گے اگر آپ ایسی متوازن خوراک استعمال کرتے ہیں جس میں اعلی پروٹینی غذائیں بھی شامل ہوں۔ مثلاً نرم گوشت، مرغیاں، چوزے، مچھلی، انڈا، بادام وغیرہ اور طاقت بخش اناج اعلیٰ پروٹینی غذا جسمانی صحت کی نشو و نما میں غیر معمولی حصہ ادا کرتی ہے۔ ایک یونیورسٹی میں زندگی کے مختلف شعبوں سے منتخب شدہ مردوں اور عورتوں کی ایک کثیر تعداد کو مکمل جسمانی آزمائشوں سے گزارا گیا جن میں اعصابی تردد، عمل اور تاثرات کو معلوم کرنا بھی شامل تھا۔ تجربہ سے معلوم ہوا کہ جو لوگ زیادہ تر لحمیات اور پروٹینی غذائیں استعمال کرتے ہیں مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ ان کے اندر توانائی بھی زیادہ ہے اور اعصابی آزمائشوں کے مقابلے میں ان کا رد عمل پرسکون اور تاثرات عملی استعداد کے مظہر ہوتے ہیں۔

موزوں غذا کا استعمال ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہوسکتا ہے جو صبح کو بے داری کے وقت اضمحلال اور افسردگی کے شاکی رہتے ہیں۔ ان میں یہ کیفیت بلڈ شوگر کی سطح کے بہت زیادہ گر جانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور یہ نتیجہ ہوتی ہے پروٹینی غذا کے ناکافی استعمال کا، چناں چہ پروٹینی غذا کے بکثرت استعمال سے یہ شکایت رفع ہوسکتی ہے۔

۳- کھانا کھانے سے پہلے پرسکون رہیے، کیوں کہ دن کے ان اوقات میں طبیعت بہ آسانی اشتعال کا شکار ہوسکتی ہے۔ ایک محتاط مطالعے سے یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ آپ کے اعصاب، کھانے کے اوقات کے قریب، بہت زیادہ حساس اور نازک ہوتے ہیں۔ تجربوں نے بتایا ہے کہ تقریباً پچاس فیصدی جذباتی اشتعالات انہی اوقات میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں اگر ان وقتوں میں جب آپ کا معدہ خالی ہوتا ہے، جذباتی مسائل اور بحثوں سے احتراز کریں تو آپ بڑی حد تک اعصابی کھنچاؤ اور اضطراب سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

۴- اس بات کا غم نہ کیجیے کہ آپ پریشان ہیں۔ اکثر اوقات پریشان ہوتا ایک فطری اور قدرتی بات ہوتی ہے۔

فکر مندی سے مکمل اجتناب کی کوشش اپنی توانائی کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقی خطروں یا پریشانیوں سے فکر مند ہونا بالکل ایک فطری امر ہے۔ اس کے برعکس ان سے متاثر یا پریشان نہ ہونا ایک غیر فطری اور خلاف معمول جذبہ یا عادت ہے۔ علاجِ نفسی کے ایک مشہو رماہر کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں کہ تلخ اور پریشان کن حقائق کے مقابلے میں بھی فکر مند نہ ہونا اکثر اوقات شدید ذہنی خلفشار اور عدم صحت کی علامت ہوتا ہے۔

البتہ محض خیالی اور غیر حقیقی خطروں سے خائف رہنا بالکل ایک دوسری چیز ہے، اور اگر اس بری عادت کا بر وقت تدارک نہ کرلیا جائے تو اس کی وجہ سے خوف اور تفکر کی ایک مستقل کیفیت جنم لے سکتی ہے۔ ہاں جب فی الواقع کوئی ٹھوس اور حقیقی خطرہ آپ کو در پیش ہو تو اس پر اپنی فکر مندی سے پریشان نہ ہوں بلکہ اس سے جرأت کے ساتھ نبرد آزمائی کیجیے۔ ایسی حالت میں تو آپ کا فکر مند نہ ہونا ایک غیر فطری بات ہوگی۔

۵- جلد بازی، باقی سب چیزوں سے بڑھ کر اعصابی تناؤ کا باعث بنتی ہے۔

ماہرین نفسیات کی رائے میں آپ خود کو پریشانی اور الجھن میں مبتلا کیے بغیر جلد بازی کا ارتکاب نہیں کرسکتے۔ جلد بازی توازن اور خود اعتمادی کو زائل کردیتی ہے اور ان کی جگہ خوف، فکرمندی اور پریشانی کو جنم دیتی ہے۔ عجلت سے بڑھ کر کوئی عادت بھی آپ کے اعصاب کو اتنی جلدی کمزور نہیں کرسکتی اور پھر ستم ظریفی یہ ہے کہ عجلت سے کسی کام کی جلدی تکمیل کے بجائے ہر شعبے میں انسان کی صلاحیتِ کار اور قوتِ عمل واضح طو رپر گھٹ جاتی ہے۔ اس کے پیچھے اگرچہ ’’زیادہ اور جلد کام‘‘ کا جذبہ چھپا ہوتا ہے لیکن فی الحقیقت وہ تھکن کے عمل کو تیز تر کرتی ہے اور نتیجتاً انسان کی کامیابی اور حصولِ مسرت کے امکانات کو محدود کردیتی ہے۔

آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے پروگرام کو باضابطہ بنائیں تاکہ آپ کو عجلت سے کام نہ لینا پڑے۔ مزید برآں اپنے اردگرد مصروفیتوں کا ہجوم نہ کیجئے ورنہ آپ اپنے آپ کو اعصابی اضمحلال Nervous Break down میں مبتلا کرنے کا خطرہ مول لیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ عارضہ قلب، خون کے دباؤ یا کسی ناسور وغیرہ کا شکارہوجائیں۔

عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جب اعصاب میں تناؤ ہوتا ہے تو ذہنی قوتوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے لیکن متعدد یونیورسٹیوں میں تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اعصابی تشنج فی الحقیقت آپ کی ذہنی صلاحیتوں کو ناکارہ بنا دیتا ہے، مثلاً اعصابی کھنچاؤ کی کیفیت:۱- ذہنی یکسوئی کو دشوار تر کر دیتی ہے۔ (۲) قوتِ توجیہہ و استدراک کو نقصان پہنچاتی ہے۔ (۳) فہم و ادراک کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ (۴) نقد و تمیز کی صلاحیتوں کو گھٹا دیتی ہے اور (۵) حافظے کے عمل میں حارج ہوتی ہے۔

معلوم ہوا کہ اعصابی تشنج ہمیں ذہنی اور جسمانی دونوں طریقوں سے نقصان پہنچاتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے سائنس کے بتائے ہوئے آزمودہ اور قابل عمل طریقوں کو اختیار کرنا ناگزیر ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حفیظ الرحمن احسن (ایم اے)

Leave a Reply