اسمارٹ فون

کچھ عرصہ پہلے میں ایک بہت اچھی عورت تھی، میرے خوابوں کا مرکز صرف میرا شوہر تھا۔ اولاد تو تھی نہیں، بس تمام وقت شوہر کی ناز برداری کے طریقے سوچا کرتی تھی۔ پھر ایک روز میرے شوہر نے ایک اسمارٹ فون میری گود میں ڈال دیا۔ بس تب سے میری دنیا ہی بدل گئی، یا یوں سمجھ لیں کہ محبتوں کا مرکز ہی بدل گیا۔ پہلے میاں کے اردگرد گھومتی تھی، اب فون کے اردگرد گھومنے لگی۔ پہلے میاں کے آنے کی منتظر رہتی تھی، اب میاں کے جانے کا انتظار کرنے لگی۔ جیسے ہی وہ گھر سے نکلتے، میں چھپاک سے اپنا فون اٹھاتی، پیار سے اس کی اسکرین صاف کرتی اور اسے چارج پر لگا دیتی کہ پہلے یہ کچھ کھا پی لے۔ اسمارٹ فون دے کر میاں نے تو دوبارہ پلٹ کر خبر نہ لی مگر میری آزمائشوں میں اضافہ ہوگیا کہ اب اس کا استعمال کیسے سیکھا جائے۔

بڑی تانک جھانک کے بعد محلے کے ایک بچے پر نظر پڑی۔ راہ چلتے بھی اْس کی نظریں اپنے فون پر ہوتی تھیں جس سے اْس کا ذوق و شوق صاف ظاہر تھا۔ دوسرے روز سوّیاں پکائیں، ٹرے میں سجائیں اور اْسے آواز دے کر بلایا ’’سنو شمائل خان۔‘‘

وہ جھجکتے ہوئے رکا، موبائل پر چلتے اْس کے ہاتھ رک گئے۔ ’’دیکھو بیٹا یہ ٹرے اپنے گھر تک لے جائو اور امی کو میرا سلام کہنا۔۔۔ ارے ہاں ذرا یہ موبائل چلانے میں تو میری مدد کردو۔‘‘

وہ بچہ میرا اسمارٹ فون دیکھ کر خوش ہوگیا۔ میری مدد تو کیا کرنی تھی، اپنی خواہشات زیادہ پوری کرنے لگا۔ بہرحال اس بچے کی منت سماجت کرکے میں نے موبائل چلانا سیکھ لیا۔

اب مشکل یہ تھی کہ اسمارٹ فون آجانے سے میری دنیا تو بدل گئی مگر اللہ نے اپنے اصول نہ بدلے۔ دن وہی بارہ گھنٹے کا رہا۔ موبائل ہاتھ میں لیتے ہی پتا بھی نہ چلتا کہ گھنٹے کہاں اْڑن چھو ہوگئے۔ خاص طور پر ادبی بہنوں کے گلشن سے جب آشنائی ہوئی تو دل کی وہ کلی جو ادیب نہ بننے پر مرجھا گئی تھی، دوبارہ کھِل اٹھی۔ گلشنِ بہتات۔۔۔ نام تو اس گروپ کا کچھ اور تھا مگر پیغامات کی کثرت کی وجہ سے میں اسے گلشن بہتات کہتی تھی۔ پلک جھپکتے میں سو سے زیادہ ادبی مرقعے اور پیغامات آموجود ہوتے اور میں کمر باندھ کر دل جمعی کے ساتھ انہیں پڑھنے میں مصروف ہوجاتی۔ اتنے انہماک سے ہر بہن کی ادبی کستوری پڑھتی کہ لگتا، جیسے کسی امریکی جاسوسی ادارے میں تعینات ہوں۔

اس گروپ میں بہنیں ہر طرح کے مشوروں سے بھی نوازتیں۔ چونکہ میں محسوس کرنے لگی تھی کہ میرے شوہر کی توجہ مجھ سے اور گھر سے ہٹتی جارہی ہے، لہٰذا مجھے ایسے مشورے کی ضرورت تھی جس سے میں اپنا گھر بچا سکوں۔ آخر ایک ادبی بہن کی بات مجھے بہت اچھی لگی کہ جب ہمارے شوہر گھر سے باہر رنگ برنگی عورتوں کے بِل بورڈ دیکھتے ہیں اور دفتروں میں ان کے ساتھ کام کرتے ہیں تو گھروں کی بے مزا اور اجڑی اجڑی صورت والی بیویاں ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں، لہٰذا بیوی کی طرف دیکھنے کے بجائے وہ عموماً آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جب آنکھیں بند ہیں تو بیویاں دل میں کیسے اتر سکتی ہیں! لہٰذا بیوی کو ہر روز ایک نئے انداز سے شوہر کے سامنے آنا چاہیے کہ وہ چونکے بغیر نہ رہ سکے، اور بیوی کو دیکھنے پر مجبور ہوجائے۔ مشورہ نمبر ایک پر عمل کرنے کے لیے ہم نے پوری تیاری کرلی اور شوہر کے آنے سے پہلے جو چکنی چیز میسر ہوئی اسے منہ پر لگا لیا۔

دوسرا مشورہ یہ تھا کہ لپ اسٹک گہرے رنگ کی لگائیں جو آپ کو جاذبِ نظر بنادے۔ سرخ رنگ کی لپ اسٹک ذرا ہونٹوں سے باہر چلی گئی اور کچھ دانتوں کے اوپر۔ لیکن ہم نے کون سی بیوٹی پارلر سے ٹریننگ لی تھی!

تیسرا مشورہ ادبی بہن کا یہ تھا کہ شوہر کو باہر گاڑی تک لینے جائو اور اس طرح خوش آمدید کہو جیسے کسی بادشاہ سلامت کی آمد پر کیا جاتا ہے، اور ہوسکے تو استقبال کرتے ہوئے کوئی خوشگوار جملہ یا شعر بھی کہہ دو۔

آخری مشورہ یہ تھا کہ شوہر کے ہاتھ میں جو بھی سامان ہو اْسے خود پکڑنے کی کوشش کرو، اس سے دلوں میں عزت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔

ساری تیاری مکمل کرنے کے بعد اور اچھی طرح استقبالیہ شعر یاد کرنے کے بعد ہم انتظار میں بیٹھ گئے۔ جیسے ہی گاڑی کا ہارن بجا، ہم نے اپنی ہیل والی جوتی پہنی اور کھٹ کھٹ کرتے گاڑی کی طرف لپکے، مگر اس سے پہلے ہی لڑکھڑا کر گرے، مگر پھر جلد ہی سنبھل گئے۔ اس افراتفری میں یہ ہوا کہ شعر کا توازن بگڑ گیا۔ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہی میاں نے ہماری شکل کی طرف دیکھا اور پھر دیکھتے ہی رہ گئے، کیونکہ ہم نے بھی منہ چکنا کرنے کے لیے خوب ویسلین لگائی ہوئی تھی اور اس پر بھر بھر کے ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک۔

ان کی نظریں چہرے پر مرکوز دیکھیں تو ہمیں ادبی بہن کے دعووں کی صداقت پر یقین آگیا۔ اب شعر کا مرحلہ تھا، وہ ہم گرنے کی وجہ سے بھول چکے تھے۔ تیسرا مشورہ تھا کہ ان کے ہاتھ کا سامان پکڑ لیں۔ ان کے ہاتھ میں صرف ان کا پرس تھا، لہٰذا ہم نے زور لگا کر اس کو ہی کھینچنا شروع کیا۔ اب عجیب کھینچا تانی شروع ہوگئی۔ وہ پرس چھوڑنے کو تیار نہیں اور ہم نے بھی اَنا کا مسئلہ بنا لیا کہ اسے لے کر ہی رہنا ہے۔ بہن کے مشوروں میں ہم بریک نہ آنے دینا چاہتے تھے، کیونکہ ابھی تک شوہر ہمارے چہرے سے نظریں نہ ہٹا سکے تھے، یہ اور بات کہ ان میں محبت یا پسندیدگی کا دور دور تک شائبہ نہ تھا۔ خیر نظروں کی اجنبیت کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم نے زور آزمائی جاری رکھی اور بالآخر پرس کھینچنے میں کامیاب ہوگئے۔ اب ہم فخر وکامرانی کے احساس کے ساتھ گردن تانے ہوئے گھر میں داخل ہوئے، اور وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح ہمارے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔

اس کے بعد کوئی مشورہ ہمیں یاد نہ تھا، لہٰذا ایک طویل خاموشی کا وقفہ آگیا اور ہم نے بھی کھانا میز پر سجانے میں عافیت سمجھی۔ اس خاموشی سے مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ کہیں وہ مجھے ویسا ہی تو نہیں سمجھ رہے جیسی میں ہوں۔ دل میں خیال آیا، مگر عقل نے فوراً کہا کہ یہی موقع ہے ان کو اپنی ادبی قابلیت سے مرعوب کرنے کا۔ مجھے یاد آیا کہ ادبی فورم پر ادبی بہنیں سب سے زیادہ بحث یہ کرتی ہیں کہ فلاں مذکر ہے یا مونث۔ لہٰذا میں نے بھی پکا سا ادبی منہ بناکر شوہر کی طرف دیکھا اور انہیں مخاطب کر کے کہا ’’آپ کے خیال میں یہ گھیا توری مذکر ہے یا مونث؟‘‘

انہوں نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور پھر الٹا مجھ سے ہی سوال کیا ’’تمہیں کیا لگتا ہے؟‘‘

میں نے میڈیا پر آئے ہوئے کسی دانش ور کی طرح پہلو بدلا اور کہا ’’اگر آپ کھا رہے ہوں تو گھیا کی مناسبت سے مذکر ہے، اور اگر میں کھا رہی ہوں تو توری کی مناسبت سے مونث ہے۔‘‘ اپنے اس ادبی گہرائی والے جواب پر میں خود عش عش کر اٹھی اور دل چاہا اپنے اس ادبی دماغ کو چوم لوں جس نے اتنی خوب صورت مذکر اور مونث کی تعبیر بتائی۔

میاں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور میز سے اٹھ گئے، گویا اب سب ان کی برداشت سے باہر ہوگیا تھا۔ وہ کھانا کھائے بغیر بے مزا ہوکر میز سے اٹھ گئے اور میں سوچ میں پڑگئی کہ اس کے آگے بہن کا کوئی مشورہ بھی نہ تھا۔

اگلے دن میاں کے کام پر جانے کے بعد جلدی سے فون اٹھایا مگر ساتھ ہی دماغ پر شدید بوجھ محسوس ہونے لگا۔ گلشنِ بہتات کے ادبی گروپ میں لگ بھگ دو سو بہنوں کے پیغامات آچکے تھے یعنی آج بھی شدید مشقت کا دن تھا۔ بہرحال ہمت کرکے پیغامات پڑھنے شروع کیے کہ شاید آج بھی ادبی محفل میں شوہروں کا دل جیتنے کا کوئی سنہرا اصول مل جائے۔ اس کام میں اتنی محو ہوگئی کہ وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا، اور اْس وقت چونکی جب جلنے کی بو دماغ کو لاچار کرنے لگی۔ پھر بھی یہ کہہ کر دوبارہ کام میں مشغول ہوگئی کہ ہمسایوں کو اپنی ہنڈیا کے جلنے کا پتا بھی نہیں چلتا۔ پھر اچانک دماغ میں دھماکا ہوا۔۔۔ کچھ یاد آیا کہ گوشت کی ایک ہنڈیا تو میں نے بھی چڑھائی تھی۔ چیخ مار کر اٹھی۔ موبائل زور سے پھینکا اور بھاگتے ہوئے باورچی خانے میں پہنچی۔ مگر کسی عاشق کے جلے دل سے بھی زیادہ گوشت جل کر سیاہ ہوچکا تھا اور پورے گھر میں اس کے جلنے کی بْو پھیل چکی تھی۔

گھڑی میں وقت دیکھا تو ہوش اْڑ گئے۔ مگر حیرت تھی کہ میں اتنا وقت تو موبائل پر نہ بیٹھی تھی جتنا وقت یہ گھڑی بتا رہی تھی۔ اب کیا کروں۔۔۔ شوہر کی آمد میں تھوڑا ہی وقت تھا۔ جلدی جلدی دال چڑھائی اور جلے ہوئے گوشت کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کرنے لگی۔

گاڑی کا ہارن سن کر ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ چہرے پر پسینہ آگیا۔ گوشت جلنے کی بو سے گھر مہک رہا تھا۔ میں نے جلدی سے سارے پنکھے چلا دیے۔ شوہر اندر آئے تو تیز پنکھوں کے نیچے میں ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی۔

’’یہ کیا۔۔۔! اس سردی کے موسم میں پنکھے کیوں چلائے ہوئے ہیں؟‘‘ انہوں نے کچھ سونگھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

’’مگر تم تو سردی سے کانپ رہی ہو، گرمی کیسے لگ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔

’’اوہ۔۔۔اچھا، مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ میں کانپ رہی ہوں‘‘۔ میں نے احمقانہ مسکراہٹ سے کہا اور جلدی جلدی پنکھے بند کرنے شروع کیے۔ میاں کو ایک دو روز سے میری دماغی حالت پر شک تھا کہ میں نارمل برتائو نہیں کررہی ہوں۔کھانے میں دال دیکھ کر ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات چھا گئے۔ ’’میں نے تمہیں گوشت پکانے کے لیے کہا تھا۔‘‘

’’ہاں ہاں۔۔۔ گوشت ہی تو بنایا تھا۔‘‘ میں نے گھبرا کر کہا۔’’پھر کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے حیرت سے سوال کیا۔’’وہ۔۔۔ وہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی جن ہے جو سارا گوشت کھا جاتا ہے۔‘‘ میں نے بات بنانے کی احمقانہ کوشش کی۔

’’اچھا۔۔۔ یہ کیسا جن ہے جو گوشت کھا جاتا ہے اور دال تمہاری ہنڈیا میں ڈال جاتا ہے۔‘‘ میاں نے طنز سے کہا۔’’کوئی مرد جن ہوگا،مردوں کو گوشت زیادہ پسند ہوتا ہے‘‘ میں نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا۔

میاں نے چند سیکنڈ خاموشی سے میری طرف دیکھا، فون سے نمبر ڈائل کیا اور میری ماں سے درخواست کی کہ وہ مجھے آکر چند روز کے لیے ساتھ لے جائیں کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ حارث نے امی سے معذرت کی کہ ایک ضروری میٹنگ کی وجہ سے وہ خود نہیں آسکتے۔

امی آئیں، میرا مختصر سا سامان ساتھ لیا اور کچھ پوچھے بنا مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئیں۔ ان کی ناراضی اور خاموشی بتا رہی تھی کہ وہ قصوروار مجھے ہی سمجھ رہی تھیں، کیونکہ پہلے بھی میری حماقتوں سے ایسا وقت آچکا تھا۔

ماں کے گھر آکر تھوڑی دیر تو اس واقعہ کا افسوس رہا مگر پھر جلد ہی میں اپنے فون میں مشغول ہوگئی اور ساری ناخوشگوار باتیں بھول گئی، بلکہ تھوڑی بہت جو میاں کی ٹینشن تھی وہ بھی نہ رہی۔ حیرت اس بات پر تھی کہ امی نے بھی کوئی مداخلت نہ کی، نہ کوئی سوال جواب کیے اور نہ ہی کوئی گھر بسانے کا لیکچر دیا۔

اگلے ہی روز امی نے حارث کو فون کیا کہ آکر اپنی بیوی کو لے جائو، وہ ٹھیک ہوگئی ہے۔

مجھے بہت حیرت تھی نہ اپنے پاگل ہونے کا پتا چلا اور نہ اب ٹھیک ہونے کا۔ شام کے وقت حارث مجھے لینے آئے تو امی نے میرا مختصر سا سامان انہیں پکڑا دیا۔ میں نے اپنا پرس اٹھایا اور فون اس میں رکھا اور حارث کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگئی۔

دروازے تک پہنچی، امی سے گلے ملنے لگی تو انہوں نے خاموشی سے میرا موبائل فون پرس سے نکالا اور اسے ڈسٹ بن میں ڈال کر مجھے گھر سے باہر کی طرف دھکیل دیا، اور جاتے جاتے صرف یہ کہا ’’خدا کسی گنجے کو تو ناخن دے دے لیکن کسی احمق کو اسمارٹ فون نہ دے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ ارشد

Leave a Reply