5

سوچ کا فرق

ایک مشہور مصنف نے اپنے مطالعے کے کمرے میں قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پرلکھا:

٭ گزشتہ سال میرا آپریشن ہوا اور پتا نکال دیا گیا، بڑھانے میں ہونے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہوکر رہنا پڑا۔

٭ اِسی سال میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پڑا۔ میں نے نشر و اشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے۔

٭ اِسی سال مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔

٭ اسی سال میرا بیٹا میڈیکل کے امتحان میں فیل ہوگیا، وجہ اس کی کار کا حادثہ تھا جس میں زخمی ہوکر اسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوا جانا علیحدہ نقصان تھا۔

٭ صفحے کے نیچے اس نے لکھا: آہ، یہ کیا ہی برا سال تھا!!

مصنف کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی، تو دیکھا کہ اس کا خاوند غم زدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں میں گھور رہا تھا۔ اس نے خاندان کی پشت کے پیچھے کھڑے کھڑے ہی کاغذ پر یہ سب کچھ لکھا دیکھ لیا۔ خاوند کو اس کے حال پر چھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر بعد واپس کمرے میں لوٹی، تو اس نے ایک کاغذ تھام رکھا تھا، جسے لاکر اس نے خاموشی سے خاوند کے لکھے کاغذ کے برابر رکھ دیا۔ خاوند نے کاغذ دیکھا تو اس پر لکھا تھا۔

٭ گزشتہ سال میں آخر کار مجھے اپنے پتے کے درد سے نجات مل گئی، جس سے میں برسوں کرب میں مبتلا رہا۔

٭ میں اپنی پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ سال کا ہوگیا۔ برسوں کی ریاضت کے بعد مجھے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ ملی ہے، تو میں مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنا وقت کچھ بہتر لکھنے کے لیے استعمال کرسکوں گا۔

٭ اسی سال میرے والد ساحب پچاسی سال کی عمر میں بغیر کسی پر بوجھ بنے اور بغیر کسی بڑی تکلیف اور درد کے آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

٭ اسی سال اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرمادی اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار تباہ ہوگئی تھی، مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ سلامت رہا۔

آخر میں مصنف کی بیوی نے یہ فقرہ لکھ کر تحریر مکمل کی کہ: ’’واہ ایسا سال، جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا اور بخیر و خوبی گزرا۔‘‘

ملاحظہ کیجیے: بالکل وہی حوادث اور بالکل وہی احوال لیکن ایک مختلف نقطہ نظر سے…

بالکل اسی طرح اگر، جو کچھ ہو گزرا ہے، اسے اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے، جو اس کے برعکس ہوتا تو، ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شاکر بن جائیں گے۔

اگر ہم بہ ظاہر کچھ کھو بیٹھے اسے مثبت زاویے سے دیکھیں تو ہمیں جو کچھ عطا ہو اور بہتر نظر آنا شروع ہوجائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔

اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے، لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
کرن رانا

تبصرہ کیجیے