چھوٹی بہن

اسٹور کا سراغ رساں ہنری گرمی کی شدت سے بوکھلایا ہوا تھا، پسینے کے قطرے کمر سے چپکی ہوئی پتلون میں جذب ہو رہے تھے، وہ کوٹ، قمیص اور جوتے اتار دینا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہیں تھا کیوں کہ اس کے چھوٹے سے کمرے میں دو بچوں کے علاوہ دو خواتین بھی موجود تھیں۔

کتابی چہرے والی عورت موسم کے اعتبار سے کچھ زیادہ ہی کپڑے پہنے ہوئے تھی، گرمی کا اثر بھی اسی پر زیادہ تھا۔ وہ مسلسل طعنہ زنی کر رہی تھی حالاں کہ اس کا دس ڈالر کا نوٹ اس کے پرس میں واپس پہنچ چکا تھا۔ کوئی اور ہوتا تو نوٹ کی واپسی پر صبر و شکر سے معاملہ رفع دفع کر کے گھر کی راہ لیتا۔

’’یہ مسئلہ یوں ہی درگزر نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ عورت ہنری کی آنکھوں میں گھستے ہوئے بولی: ’’یہ لڑکا چور ہے، اسے میں سبق سکھا کر رہوں گی تاکہ یہ آئندہ اس قسم کی حرکت نہ کرے۔‘‘

کمرے میں ایک کم عمر لڑکا اپنی ننھی سی بہن کے ساتھ موجود تھا۔ ’’لڑکا کہہ رہا ہے کہ یہ اتنی بھیڑ بھاڑ کے علاقے میں اپنی ماں کی اجازت سے آیا ہے، میں سمجھتی ہوں، یہ جھوٹ بول رہا ہے۔‘‘ عورت کی زبان تیزی سے چلتی رہی۔‘‘ اور اگر یہ بات واقعی سچ ہے تو اسے ایک ماں کی انتہائی بے پروائی کہنا چاہیے۔‘‘ اس نے کچھ توقف کیا پھر ہنری سے پوچھا: ’’اب ایسے معاملات میں کیا کرتے ہیں مسٹر ہنری۔ مسٹر ہنری ایک ریٹائرڈ پولیس سراغ رساں تھے۔

ہنری نے بے زاری سے کندھے اچکائے، پولیس کے محکمے سے سبک دوش ہونے کے بعد وہ گزشتہ پانچ سال سے یہاں ملازم تھا۔ اپنے طویل تجربے سے اس نے سیکھا تھا کہ ہر معاملہ نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے لہٰذا تمام واقعات کے لیے تفتیش کا کوئی معین طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ اس نے عورت سے کہا: ’’دیکھئے محترمہ! یہ ایک واضح مگر پیچیدہ قصہ ہے۔ کیا آپ نے لڑکے کو نوٹ اٹھاتے ہوئے دیکھا تھا؟‘‘

’’نہیں۔‘‘ مدعیہ نے جواب دیا، ’’میں نے دیکھا نہیں تھا مگر ا سنے نوٹ اٹھانے کا اعتراف کیا ہے۔‘‘

کاؤنٹر کلرک مسز ہیمر نے بھی لڑکے کو نوٹ اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ہنری کے ذہن میں یہ سوال چبھ رہا تھا کہ مدعیہ اور مسز ہیمر دونوں عاقل و بالغ عورتیں ہیں، انھوں نے دس ڈالر کا نوٹ اس طرح کیوں چھوڑ دیا تھا کہ کوئی بھی اسے آسانی سے اٹھا لے۔ ملزم لڑکا بہت ڈرا ہوا تھا لیکن اس کے چہرے سے مستقل مزاجی ظاہر ہو رہی تھی، یہ بات ہنری کو پسند آئی۔ مدعیہ نے کہا: ’’مسز ہنری! اگرچہ میں نے اسے نوٹ اٹھاتے ہوئے دیکھا نہیں لیکن جیسا کہ میں بتا چکی ہوں، میں اپنی ضرورت کی چیزیں لینے کے بعد ان کی قیمت ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر پر آئی۔ میں نے دس ڈالر کا نوٹ نکال کے کاؤنٹر پر رکھا پھر اچانک کچھ یاد آنے پر نوٹ وہیں چھوڑ کر دوبارہ اسٹور کے اندر چلی گئی، اسٹور سے میں نے ایک چیز اور لی پھر فوراْ واپس آئی لیکن اتنی دیر میں نوٹ غائب ہوچکا تھا۔ یہ لڑکا اور چھوٹی لڑکی کاؤنٹر سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔ میں نے دیکھا کہ میرا نوٹ لڑکے کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ اس نے طنزیہ مسکراہٹ سے لڑکے کی طرف دیکھا۔ ’’کیوں لڑکے! میں نے غلط تو نہیں کہا؟‘‘

لڑکے نے اقرار میں سر ہلایا۔ اس کے ماتھے پر پسینہ چکنے لگا۔ ’’تمہاری عمر کیا ہے ماسٹر؟‘‘ ہنری نے اس سے پوچھا۔ لڑکے نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر دھیرے سے بتایا۔ ’’آٹھ۔‘‘

پھول کی طرح معصوم چھوٹی بچی لڑکے کا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔ اس کے سنہرے بال ربر بینڈ سے پونی ٹیل کی شکل میں بندھے تھے۔ اس کا سرسوں کے رنگ کا لباس موسم بہار کی علامت تھا۔ اس کی نیلی آنکھیں ہنری کے چہرے پر تھیں۔ ہنری نے لڑکے سے سوال کیا: ’’تمہاری بہن کتنے سال کی ہے؟‘‘

’’تین سال کی۔‘‘

’’تم نے نوٹ کیوں اٹھایا تھا؟‘‘ ہنری نے نرمی سے پوچھا۔ لڑکے نے ہنری کی پرانی میز پر ایک نظر ڈالی۔ ’’پتا نہیں۔‘‘ وہ زیب لب بولا۔

ہنری ایک لمبی سی سانس لے کر کرسی کی پشت سے ٹک گیا۔ نہ معلوم لڑکے نے نوٹ کیوں اٹھایا، گرمی کی وجہ سے اسے آئس کریم کھانے کی خواہش ہو رہی ہوگی یا کسی ٹھنڈے مشروب کی۔ مدعیہ کبھی لڑکے کو گھورتی، کبھی ہنری کو۔ ہنری نے اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے لڑکے سے دریافت کیا۔ ’’تم اسٹور میں کیوں آئے تھے؟‘‘

وہ چند ثانیے چپ رہا پھر بولا: ’’کھلونے دیکھنے۔‘‘

’’تلین (ٹرین) دیکھنے‘‘ ایک باریک آواز بھری۔

ہنری نے باریک آواز والی پایری سی بچی پر نظر ڈالی اور سوچا شاید یہ کھلونا ٹرین کا ذکر کر رہی ہے۔ اس نے کاؤنٹر کلرک مسز ہیمر سے پوچھا: ’’کیا تم نے انھیں اس واقعے سے پہلے اسٹور میں دیکھا تھا؟‘‘

؟؟؟؟ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پھنسا کے جواب دیا۔ ’’جی نہیں۔ میں نے انھیں واقعے سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔‘‘

’’میرا خیال ہے، یہ معاملہ پولیس کے حوالے کر دینا چاہیے۔‘‘ مدعیہ نے درشتی سے کہا: ’’یہ قصہ یہاں طے ہوتا دکھائی نہیںدیتا۔‘‘

ہنری کو اس کی سنگ دلی بہت ناگوار گزری۔ لڑکا عام چوروں کی طرح نہیں لگ رہا تھا۔ کیا واقعی یہ معاملہ پولیس کے حوالے کر دیا جائے؟ کای ایرکنڈیشنڈ کمرے میں فروکش کوئی منصف ہی اس معاملے کا فیصلہ کرسکتا ہے؟ ہنری نے سوچا کہ یقینا کوئی ایسی بات ہوگی جس نے لڑکے کو نوٹ اٹھانے پر مجبور کیا اور جس کا یہ اظہار نہیں کر پا رہا ہے۔ اس نے واردات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کچھ غور و فکر کیا مگر گرمی کے باعث اس کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا۔ آخر اس نے کہا: ’’کیوں نہ ہم اس جگہ چلیں جہاں یہ سب کچھ ہوا ہیـ۔‘‘

مسز ہیمر اور مدعیہ، ہنری کے محبوس کمرے سے باہر نکل گئیں۔ ہنری نے بچوں کو اشارہ کیا وہ بھی آہستہ سے باہر نکلے، لڑکا اپنی بہن کا ہاتھ ذمے داری سے تھامے ہوئے تھا۔ اسٹور کا اندرونی حصہ ہنری کے دفتر سے ٹھنڈا تھا۔ چھت کے پنکھے سست رفتاری سے چل رہے تھے، ہلکی ہلکی ہوا آرہی تھی۔ وہ کاؤنٹر کے قریب پہنچے۔ ہوا لگنے سے مسز ہیمر کے چہرے کا تناؤ کم ہوگیا۔ اس کی پشت کے شیلف پر رکھا ہوا گھومنے والا پنکھا گھوم کر اس کے سر پر آیا تو لڑکی کے بال بکھر گئے۔ اس نے فوراً کلپ لگا کے بال ٹھیک کیے۔ ہنری نے مدعیہ سے نرم لہجے میں پوچھا: ’’خاتون! نوٹ آپ نے کہاں رکھا تھا؟‘‘ مدعیہ نے نخوت آمیز انداز میں کاؤنٹر پر ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ ہنری نے شائستگی سے پوچھا: ’’کیا بالکل اسی جگہ آپ نے نوٹ چھوڑا تھا؟ آپ کو اچھی طرح یاد ہے؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘ عورت نے زہریلی آواز میں جواب دیا۔ ’’بالکل ایس جگہ، کیش رجسٹر کے قریب۔‘‘ مسز ہیمر نے بھی اس کی تائید کی۔

ہنری نے چاکلیٹ کا ایک پیکٹ اٹھا کے اس جگہ رکھ دیا او رمسکرا کے بچی سے سوال کیا۔ ’’بے بی! تمہیں چاکلیٹ پسند ہیں؟‘‘ بچی نے اس کی آنکھوں میں دوستاہ تاثر محسوس کر کے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا۔ ہنری نے کہا: ’’اچھا، کاؤنٹر سے چاکلیٹ اٹھا لو۔‘‘ بچی نے اپنے بھائی سے ہاتھ چھڑایا اور پنجوں کے بل اوپر ہو کے کاؤنٹر سے چاکلیٹ کا پیکٹ اٹھانے کی کوشش کی۔ لیکن اس کی یہ کوشش رائیگاں گئی۔ پیکٹ اس کی انگلیوں سے چند انچ دور رہ گیا۔ ہنری نے خود پیکٹ اٹھا کے اسے دے دیا۔

’’مسز ہنری! آپ وقت ضائع کر رہے ہیں۔‘‘ مدعیہ کو طیش آگیا۔ ’’معلوم ہوتا ہے، آپ چور لڑکے کو بے گناہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اسے سزا دلوانے کے لیے مجھے منیجر کے پاس جانا پڑے گا؟‘‘

ہنری نے سرد نگاہوں سے عورت کی طرف دیکھا اور اپنی جیب سے ایک نوٹ نکال کے وہاں رکھ دیا جہاں چاکلیٹ کا پیکٹ رکھا تھا۔ ہنری نے مدعیہ سے دریافت کیا۔ ’’محترمہ! یہ بتائیے کہ آپ نے اپنا نوٹ یہاں رکھنے کے بعد کیا کیا؟‘‘

مدعیہ اسٹور کے اندر چند قدم گئی اور لوٹ آئی۔ اس کے چہرے سے بے صبری ظاہر ہو رہی تھی۔ ہنری نے مسز ہیمر سے پوچھا: ’’اور آپ کیا کر رہی تھیں؟‘‘

مسز ہیمر نے مڑتے ہوئے بتایا: ’’میں نے ایک لمحے کے لیے اس طرف پیٹھ کرلی تھی۔‘‘

ہنری کی نظریں اپنے نوٹ پر جمی ہوئی تھیں۔ مسز ہمیر نے جیسے ہی کاؤنٹر کی طرف پیٹھ کی، پیچھے رکھے ہوئے پنکھے کی تیز ہوا نے نوٹ اڑا دیا۔ مدعیہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ سخت منتشر ہوگئی تھی۔ ہنری آہستہ آہستہ لڑکے کے نزدیک گیا۔ ’’ہاں ماسٹر! کیا تم نے نوٹ کاؤنٹر سے اٹھایا تھا؟‘‘ لڑکے نے انکار کیا۔ ہنری نے پوچھا: ’’کیا نوٹ تمہارے بجائے تمہاری بہن نے فرش سے اٹھا کر تمہیں دیا تھا؟‘‘ لڑکے نے گردن جھکالی۔ ہنری نے دریافت کیا۔

’’کیا تم نے یہ دیکھا تھا کہ تمہاری بہن نے نوٹ کہاں سے اٹھایا ہے؟‘‘

لڑکا کوئی جواب دینے کے بجائے رو پڑا۔ ہنری نے اپنے رومال سے اس کے آنسو پونچھے اور مدعیہ کی طرف دیکھتے ہوئے ملزم سے پوچھا: ’’تم نے ان محترم خاتون سے یہ کیوں کہا کہ ان کا نوٹ ٹم نے اٹھایا تھا؟‘‘

لڑکے نے اپنی بہن کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور بکھری ہوئی آواز میں بولا: ’’یہ میری بہن ہے، چھوٹی … بہن۔‘‘

مدعیہ کا منہ فق ہوگیا۔ ہنری کو ایسا محسوس ہوا کہ سارا قصور گرمی کا ہے اور اس مقدمے کی اصل مجرم گرمی ہی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
جون ایل ہیواڈ ترجمہ: نعیم خان

Leave a Reply