تیسری آنکھ

بیٹھے بٹھائے ایک عجیب خواہش اس کے دل میں پیدا ہوگئی تھی جو اس کے لیے نرالی اور انوکھی خواہش تھی وہ کسی طرح اُس خواہش سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہ رہا تھا کہ ہاکر نے سائیکل روک کر اس زور سے اخبار پھینکا کہ اخبار پھڑپھڑاتا ہوا آنگن پھلانگ کر دالان میں ٹھیک ڈرائنگ روم کی دہلیز پر آگرا۔

وہ کرسی سے اٹھ کر دالان میں گیا، اخبار اٹھایا اور واپس کرسی پر آکر بیٹھ گیا۔

صفحہ اول کی خبر پڑھ کر پھر وہی خواہش نئی تازگی کے ساتھ اس کے اندر سر اٹھانے لگی۔

اُس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ یہ خواہش اُس کے دل کے اندر کیسے داخل ہوئی۔ یاد کرنے پر اُسے صرف یہ یاد آیا کہ وہ تقریباً دو تین روز سے ٹیلی ویژن کے مختلف چینلوں پر بحث دیکھ رہا تھا۔ شاید اس سے متاثر ہوکر یہ بے تکی خواہش دبے پاؤں اس کے دل میں آکر بیٹھ گئی۔

اُس کی نظریں اخبار کی حیران کردینے والی اس خبر پر رینگ رہی تھیں جس میں لکھا تھا ایک شخص نے اپنی بیوی کو صرف اس وجہ سے طلاق دے دی کیوں کہ وہ سڑک پر اس سے آگے چل رہی تھی۔ اسی خبر کے پہلو میں ایک چھوٹی سی خبر چھپی تھی جسے ہلکے دھانی رنگ سے نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں درج تھا:

’’ایک شخص نے اپنی بیوی کو صرف اس لیے طلاق دے دی کہ اس نے ’’ہنی مون‘‘ کے وقت پائل پہن رکھی تھی۔‘‘

خبر پڑھ کر اس کے لب الٹے ’’ب‘‘ کی طرح بھنچ گئے۔ بھویں سکڑ کر ایک دوسرے کے قریب آگئیں جس سے پیشانی پر شکن پڑ گئی ۔

’’کیا حقیقت میںا یسا ہوا ہوگا؟ آج کل تو خبروں کی خبر لینے والا بھی کوئی نہیں، سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹ چکی ہے۔ خبر میں مقام کی تفصیل درج ہے نہ شخص کا نام، خبر کی سرخی کے نیچے کونے میں ’’ایجنسیاں‘‘ لکھا ہے اور خبر شروع ہونے سے پہلے گوشے میں ’’دبئی‘‘۔

طلاق کے مسئلے کو پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا اتنی اہمیت دے رہا ہے جیسے یہ دیش کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مسلم سماج کے سارے مسائل سے اہم مسئلہ۔ یہ سوچتے ہوئے وہ اپنے خاندان کے بارے میں سوچنے لگا۔

جب سے میں نے ہوش سنبھالا میرے خاندان میں کسی مرد نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی۔ میرے محلے میں بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔ نہ میرے دوستوں اور شناساؤں میں سے کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر گھر سے نکالا۔ یہ سوچتے سوچتے اس کی نظر اپنی بیوی پر پڑی۔ اس کی بیوی آنگن میں کھڑی بالٹی سے نچوڑے ہوئے کپڑے جھٹک جھٹک کرتنے ہوئے تار پر ڈال رہی تھی… اس کی پتلون، قمیص، پاجامے، بنیائن، رومال، شلوار، فراک، دو پٹے، ساڑی بلاؤز وغیرہ۔

وہ اپنی بیوی کے سراپے کا جائزہ لینے لگا۔ متناسب بدن، نسوانیت کی جملہ خوبیوں سے آراستہ، پیازی کلر کے مختصر سے تراشیدہ گلے والے بلاؤز اور اسی کلر سے میچ کرتی ہوئی ساڑی میںلپٹا ہوا۔ ساڑی کا آنچل اس نے کندھوں سے کھینچ کر کمر میں اڑس لیا تھا۔

خواہش پھر اس کے اندر پھڑپھڑانے لگی۔ اس کبوتر کے مانند جس کی ٹانگیں کبوتر باز کی گرفت میں ہوں۔

’’میں … میں کیسے کہوں بیوی کو طلاق… کیوں کہوں… کیوں… کیوں… وہ بیوی کو دیکھ کر سونے لگا۔ یہ بے تکی، بے ہودہ خواہش میرے دل میں کیسے آکر بیٹھ گئی اور مجھے بے چین کرکے رکھ دیا۔ چھٹی کا دن تھا، سوچا تھا آرام سے دن گزار لوں گا۔ مگر طلاق… طلاق… طلاق… اس لفظ نے جیسے میرا جینا حرام کر دیا۔ میں کیا کروں؟ میں کوئی مخبوط الحواس آدمی نہیں ہوں، صحیح الدماغ انسان ہوں، اچھی طرح جانتا ہوں کہ جو خواہش میرے دل میں پیدا ہوئی وہ قطعی بے تکی اور بے سرو پا ہے۔ اگر میں نے اپنی خواہش پوری کرلی تو لوگ مجھے خبطی اور پاگل ہی کہیں گے۔ ٹھنڈے دماغ سے سوچتے ہوئے اس نے سر کرسی کی پشت پر ٹکا دیا اور آنکھیں موند کر دائیں ہاتھ کی انگلیاں سر میں گھمانے لگا۔ ’’کیا ہوا آپ کو، طبیعت ٹھیک نہیں!‘‘ بیوی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔

بیوی سامنے کھڑی ماتھے کا پسینہ دائیں ہاتھ کی کلائی سے پونچھ رہی تھی۔ ایک لٹ سر کے بالوں کی آراستگی سے بغاوت کر کے پیشانی پر اٹھلا رہی تھی۔

’’نہیں… نہیں‘‘ وہ جیسے ہڑبڑا گیا۔ ’’ٹھیک ہوں، مجھے کیا ہوگا!‘‘

وہ کرسی پر سیدھا بیٹھ گیا۔

’’نہیں آپ کچھ چھپا رہے ہیں، مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے، دیکھو ناچہرہ کیسا مرجھا گیا ہے، چلئے اٹھئے۔ بستر پر چلئے میں آپ کا سر دبائے دیتی ہوں، چھٹی کا دن ہے آرام کیجئے!‘‘ بیوی نے اس کی بانہہ پکڑلی، ’’ارے نہیں بھئی!‘‘ خواہش اس کے اندر کہیںدبک گئی۔

’’میں ٹھیک ہوں، جاؤ تم اپنا کام کرو۔‘‘

’’میرا سارا کام ہوگیا، کپڑے دھونا، برتن مانجھنا، گھر کی صفائی سب، چلئے بستر پر! بیوی بضد ہوکر اس کی بانہہ کھینچنے لگی۔

کتنی لذت ہوتی ہے بیوی کی خدمت میں، کتنی اپنائیت، کتنا پیار، کیا سب کی بیویاں میری بیوی جیسی ہوتی ہوں گی۔ کچھ جھگڑالو قسم کی بھی عورتیں ہوتی ہیں، کچھ تنک مزاج، کچھ چڑچڑی، جس طرح مردوں میں مختلف قسم کے مرد ہوتے ہیں، اسی طرح عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ مزاج میں جب ہم آہنگی نہ ہو تو طلاق کی نوبت آتی ہوگی۔ مگر میرے ساتھ تو ایسا کچھ نہیں!‘‘ وہ اپنے اندر کی بے سرو پا خواہش کو بہلانے لگا۔

بیوی اس کے سر میں ناریل کا تیل ڈال کر مالش کر رہی تھی…

’’زاہدہ! ایک بات پوچھوں؟‘‘

’’پوچھئے!‘‘

’’کیا تمہاری فیملی میں کسی مرد نے اپنی بیوی کو طلاق دی!‘‘

’’نہیں!‘‘ بیوی کی سرسراتی انگلیاں اس کے سر کے بالوں میں ٹھہر گئیں۔‘‘ آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘

’’آج کل میڈیا طلاق کا ایسا راگ الاپ رہا ہے جیسے مسلم معاشرہ کے شادی شدہ افراد اپنی بیویوں کو طلاق ہی دے رہے ہیں۔ طلاق … طلاق… طلاق!‘‘ یہ کہنے کے بعد اسے لگا جیسے اس کا سارا سینہ خالی ہوگیا۔

زاہدہ کے پاس کوئی تیسری آنکھ تو تھی نہیں کہ وہ اس کے سینے میں دیکھتی کہ کس بے چین کردینے والی خواہش سے اس کا سینہ بھرا ہوا تھا۔ وہ تو اپنی دونوں آنکھوں سے اس کا کھلا کھلا چہرہ دیکھ کر یکلخت چہک اٹھی تھی ’’کیوں جی! آپ بڑے اُو، ہیں۔ خدمت لینا تو کوئی آپ سے سیکھے!‘‘

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق

Leave a Reply