مسلم پرسنل لا: کچھ اہم فیصلے اور قوانین

ہندوستانی سماج کثرت میں وحدت کے لیے پوری دنیا میں اپنی ایک انفرادیت رکھتا ہے۔ یہ ایک وسیع تر ملک ہے جہاں بے شمار مذاہب، ان گنت تہذیب و تمدن، اور ہزار رنگ و نسل کے باوجود تمام ہی طبقات اپنی اپنی ثقافت اور رسم و رواج کے ساتھ زندگی گزارتے رہے ہیں۔

ہندوستان میں جب قوانین کی تدوین عمل میں آئی تو ان متفرق تہذیبوں، مختلف مذاہب، تہذیب، سماجی اقدار و رسم و رواج کا پاس و لحاظ رکھا گیا، حکومت برطانیہ و اس کے ہندوستان میں موجود اہلکاروں نے ہندوستانی سماج اور اس کے جذبات کی قدر کی۔ چنانچہ جب قوانین کی تدوین عمل میں آئی تو ان تمام مذاہب کے قوانین، جو ان کے مذہبی معاملات سے متعلق تھے، کو مخصوص ذمرے میں پرسنل لاء کا درجہ دیا گیا، یعنی حکومت وقت نے اس حق کو تسلیم کیا کہ جہاں اور جن معاملات میں سماج کے مخصوص طبقے کو ان کامذہب اگر کچھ رسم ورواج کی ادائیگی کے لئے خاص احکامات دیتا ہے تو وہ قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ احکامات یا مخصوص مراعات شادی، طلاق ، نان نفقہ و وراثت کے تناظر میں فراہم کی گئیں۔

ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ان مراعات و حقوق پر جن کی اساس بنیادی طور پر مذاہب و آسمانی احکامات پر منحصر تھی، اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ۱۹۲۸ میں اس وقت کے مشہور ماہر قانون و سیاست داں موتی لال نہرو نے ممکنہ و متوقع آزاد ہندوستان کے دستور کا ایک پیشگی مسودہ پیش کیا، جس مسودہ کی تجویزات کے مطابق آزاد ہندوستان میں شادی بیاہ کے معاملات کو یکساں ملکی قوانین کے تحت لائے جانے کی تجویز بھی تھی، تاہم علماء کے اختلاف و انگریز حکومت کی دوراندیشی و حکمت عملی کے مدنظر اس مسودے کو قبول نہیں کیا۔

پھر ملک آزاد ہوگیا۔ آزاد ملک میں ایک آزاد نظام حکومت کی ایک مضبوط بنیاد رکھنے کے لئے مفصل و منظم دستور حکومت کی تدوین عمل میں آئی، دستور کی تدوین و ترتیب کے دوران اس امر کا خیال رکھنے کی کوشش کی گئی کہ ایک ایسا دستور ترتیب دیا جائے جو پورے سماج کے متفرق و منقسم طبقات کے مفادات و حقوق کا پاسدار ثابت ہو، اسی غرض سے دستور کے باب سوئم، جو کہ شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق پر منحصر ہے، جس کے آرٹیکل ۲۵ کے مطابق ہندوستان کے ہر شہری کو ضمیر اور مذہبی عمل نیز تبلیغ مذہب کی پوری آزادی دی گئی ہے۔ اس کے مطابق تمام افراد مساوی طور پر آزادیِ ضمیر کا حق رکھتے ہیں۔ ان کو حق ہے کہ وہ آزادانہ طور پر مذہب کا اقرار کریں، اس پر عمل کریں نیز اس کی تبلیغ کریں۔ تاہم ان حقوق کو پبلک آرڈر اور ضابطہ اخلاق کا پابند کیا گیا ہے۔ یعنی ان حقوق و رسم و رواج کی پابندی کے نتیجے میں اس امر کا پاس و لحاظ رکھا جائے گا کہ ان پر عمل آوری کے نتیجے میں سماج یا سماج کے کسی طبقے کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ اس کا بے جا استعمال ہو رہا ہے جو اخلاقی اقدار کے خلاف ہے تو اس صورت میں دستور کے تحت حاصل شدہ مراعات پر حکومت پابندی عائد کرسکتی ہے۔

Article 25: (All persons are equally entitled to) freedom of conscience and free profession, practice and propagation of religion:—Article 25: (All persons are equally entitled to) freedom of conscience andfree profession, practice and propagation of religion:-

(1) Subject to public order, morality and health and to the other provisions of this part, all persons are equally entitled to freedom of conscience and the right freely to profess, practise and propagate religion.

(2) Nothing in this article shall effect the operation of any existing laws or prevent the State from making any law –

(a) (a) regulating or restricting any economic, financial, political or othersecular activity which may be associated with religious practice;

مذہب کا یہ انتخاب اس مذہب کے افراد کی اپنی مرضی پر دستور کی روشنی میں حاصل مراعات پر منحصر ہوگا، اسی لئے دستور ہند کی دفعہ ۲۵ کی تشریح میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کی مذہبی آزادی میں ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق اپنے ساتھ کرپان(تلوار) رکھیں۔

دستور کی دفعہ ۲۹ کے مطابق

Article.29: Protection of interest of Minorities:

(1) (1) any section of the citizens residing in the territory of India or any part thereof having a distinct language, script or culture of its own shall have the right to conserve the same.

یعنی دستور ہند میں ‘‘کلچرل رائٹس’’ کے تحت عمومی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کا کوئی بھی طبقہ جو اپنا الگ کلچر اور زبان رکھتا ہو اس کو حق ہوگا کہ وہ اپنے کلچر اور زبان کی حفاظت کرے۔

آزادی کے بعد کی تاریخ میں سب سے پہلا کیس ‘‘محمد احمد خان بنام شاہ بانو بیگم‘‘ تھا، جس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو حاصل مسلم پرسنل لاء و اس کی آزادی نیز ان کے مذہبی تشخص کی آزادی کو لے بے چینی کا سامنا کرنا پڑا، عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ ایسا پہلا فیصلہ تھا جس نے مسلم پرسنل لاء کی جگہ یونیفارم سول کوڈ کی تائید کی تھی نیز مسلم پرسنل لاء کے وجود پر سوالیہ نشان لگایا تھا۔

سپریم کورٹ نے شاہ بانو مقدمہ میں مرکزی سوال یہ بنایا تھا کہکیا مسلم پرسنل لا مطلقہ بیوی کے نان نفقہ کی کوئی ذمہ داری شوہر پر نہیں ڈالتا؟ بلا شبہ مسلم شوہر کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ جب چاہے، وجوہات اچھی ہوں بری ہوں یا صرف اختلافات ہوں اوریقینا چاہے کوئی بھی وجہ نہ ہو تب بھی بیوی کو طلاق دے سکتا تھا۔ طلاق کے بعد مرد کے ذمہ صرف دوران عدت کے اخراجات ہوتے ہیں۔ سوال یہ اٹھا کہ عدت کے بعد مطلقہ عورت کی معاشی ضرورت کیسے پوری ہوگی؟ کیا ان مراعات کی حیثیت صرف مدت عدت کے دوران معمولی خیرات کی سی ہوگی یا اس کے لیے کچھ اور انتظام ہونا چاہیے؟ قانون بھی اس تناظر میں اس قدر غیر واضح ہے کہ شوہر دوران عدت بیوی کو نفقہ کے نام پر کیا دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ کچھ بھی دے دے گا اس سے کوئی مطلب نہیں کہ وہ کتنا ہی کم ہو جس کی ادائیگی کے بعد اس کی ہمیشہ کے لئے ذمہ داری ختم، بجائے اس کے کہ اس کو اس قدر دیا جائے کہ وہ اپنی روح اور جسم کو ایک ساتھ رکھ سکے؟ مزید یہ کہ کیا مسلم پرسنل لا میں ایسا کوئی نظام ہے جس کے مطابق اس رقم کا تعین کیا جاسکے جو عورت کو اس کی طلاق پر ادا کیا جاسکے؟ یہ وہ چند اہم سوالات ہیں جو اگرچہ تلخ ہیں تاہم ہمیں اسی پر فیصلہ کرنا ہے۔ یہی وہ سوالات ہیں جن پر غور کرنے کے بعد سیپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا تھا، چنانچہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم شاہ بانو کیس کے حقائق و سپریم کورٹ کے فیصلے پر روشنی ڈالیں۔

شاہ بانو کیس کے حقائق

شاہ بانو کی شادی ۱۹۳۲ میں محمد احمد خان سے ہوئی۔ محمد احمد خان پیشہ سے وکیل تھے۔ شادی کے بعد ان کی کل پانچ اولاد ہوئیں جن میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ محمد احمد خان نے ۱۹۷۵ میں شاہ بانو کو گھر سے بے دخل کردیا۔ اپریل ۱۹۷۸ میں شاہ بانو نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۲۵ کے تحت اندور (مدھیہ پردیش) کی عدالت میں نان نفقہ حاصل کرنے کی غرض سے درخواست داخل کی۔ ۶ نومبر ۱۹۷۸ میں محمد احمد خان نے اپنی بیوی شاہ بانو کو غیر رجعی(irrevocable) طلاق دے دی، نیز عدالت میں نان نفقہ کی درخواست کے خلاف یہ دفاع پیش کیا کہ چونکہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اس بنیاد پر نان نفقہ کی ذمہ داری اس کے اوپر عائد نہیں ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے تقریبا دوسال تک دو سو روپے بطور نفقہ ادا کیا ہے، مزید دوران عدت اس نے عدالت میں مہر کے تین ہزار روپے بھی جمع کر دیے ہیں۔ اگست ۱۹۷۹ میں عدالت نے اپنے فیصلے میں محمد احمد خان کو حکم دیا کہ وہ شاہ بانو کو ماہانہ ۲۵ روپے بطور نفقہ ادا کریں۔ جس کے بعد شاہ بانو نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں نچلی عدالت کے گزشتہ فیصلے پر نظرثانی کے لئے رویزن پٹیشن داخل کی، جس پر ہائی کورٹ نے ماہانہ نفقہ کی رقم کو بڑھا کر ۱۷۹ روپے ۲۰ پیسے کر دیا۔ ہائی کورٹ آف مدھیہ پردیش کے اس فیصلے کو محمد احمد خان نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا۔

کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۲۵ کے لئے شرط ہے کہ شخص (شوہر) جو پوری طرح صاحب استطاعت ہو، بے توجہی یا جان بوجھ کر اپنی بیوی کو اس کے اخراجات سے محروم کررہا ہو، جب کہ اس کی بیوی اپنے اخراجات پورے کرنے کی استطاعت نہ رکھتی ہو(مسکینی و محتاجی کا شکارہو) تو وہ عدالت کے ذریعے شوہر سے ماہانہ اخراجات کا نفقہ حاصل کرسکتی ہے۔

Section 125. Order for maintenance of wives, children and parents.

(1) If any person having sufficient means neglects or refuses to maintain.

a. his wife, unable to maintain herself, or

b. his legitimate or illegitimate minor child, whether married or nor, unable to maintain itself, or

c. his legitimate or illegitimate child (not being a married daughter) who has attained majority, where such child is, by reason of any physical or mental abnormality or injury unable to maintain itself, or

d. his father or mother , unable to maintain himself or herself,

a Magistrate of the first class may, upon proof of such neglect or refusal, order such person to make monthly allowance for the maintenance of his wife or such child, father or mother, at such monthly rate, as such Magistrate thinks fit, and to pay the same to such person as the Magistrate may from time to time direct:

Explanation: (b) "wife”includes a woman who has been divorced by, or has obtained a divorce from, her husband and has not remarried.

سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل ہونے کے بعد یہ معاملہ چونکہ بظاہر کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۲۷ (۳) (ب) کے الفاظ کے برعکس تھی یعنی شوہر نے طلاق کے بعدبیوی کو مہر کی معینہ رقم ادا کر دی تھی نیز مدت عدت کا نان نفقہ بھی ادا ہوچکا تھا، تاہم یہ مسلم پرسنل لا (شریعت) اپلیکیشن ایکٹ ۱۹۳۷ کی دفعہ ۲ کے بنیادی اصول کے خلاف تھا جس پر ابھی تک سپریم کورٹ نے اپنے کسی سابقہ فیصلے کے دوران غور نہیں کیا تھا، چنانچہ اس مقدمے کو سپریم کورٹ کی پانچ ججوں پر مشتمل خصوصی دستوری بنچ کے سامنے پیش کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ ۲۳ اپریل ۱۹۸۵ کو سنایا۔ فیصلے کے اہم اقتباسات درج ذیل ہیں، جن کے مطابق :

(۱) چونکہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۲۵ (۱) کی تفصیل (ب) میں مطلقہ بیوی کو بھی نفقہ کی اس دفعہ میں بیوی کے زمرے میں ہی رکھا گیا ہے جب تک کہ وہ دوسری شادی نہ کرلے۔ نیز دفعہ ۱۲۵ کا اطلاق تمام ہی مذاہب کے ماننے والوں پر یکساں ہوتا ہے چنانچہ مسلم مطلقہ بیوی اگر اس قانون کے تحت درخواست دیتی ہے تو اس پر اس دفعہ کا اطلاق ہوگا، کیونکہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی نوعیت پوری طرح سیکولر ہے جو کسی بھی مذہبی یا پرسنل لا کے خلاف نہیں ہے۔

(۲) کرمنل پروسیجر کوڈ ۱۸۹۸ (غیر ترمیم شدہ) کی دفعہ ۴۸۸ کے تحت بیوی کے نان نفقہ کا انحصار اس کی مدت شادی پر تھا، چونکہ مسلم پرسنل لا یا دیگر قوانین کے تحت طلاق ہونے کے بعد یہ رشتہ ختم ہوجاتا ہے اس بنیاد پر نفقہ کی ذمہ داری بھی نہیں ہوتی تھی۔

(۳) اس سوال پر کسی طرح کا کوئی تنازع نہیں ہے کہ مسلم شوہر پر اگر اس کی بیوی صاحب استطاعت نہیں ہے تو شوہر پر اس کے نفقہ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

(۴) مطلقہ بیوی کا حق برائے مطالبہ نفقہ کسی بھی طرح سے پرسنل لا سے متاثر نہیں ہو سکتا ہے، جو کہ مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ ۱۹۳۷ کی دفعہ ۲ کے خلاف نہیں ہے۔

(۵) مہر کی ادائیگی شادی کی شرط ہے جس کا اطلاق دفعہ ۱۲۷ کی شق ۳ ب کے مطابق نہیں ہوسکتا، جس کی روشنی میں مہر کی رقم کو طلاق کے وقت ادا کرکے طلاق کی رقم کے طور پر تعین کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے مطابق کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۲۵ کی نوعیت کلی طور پر سیکولر ہے، جس کا بنیادی مقصد ایسے افراد جو پوری طرح سے غیر مستطیع ہیں ان کو فوری طور پر مدد فراہم کرنا ہے، ایسے منصوبے جن کی بنیادی روح احتیاط ہو وہاں مذہب کی تمام رکاوٹیں ختم کردی جاتی ہیں۔ وہ فریقین کے پرسنل لا کی جگہ نہیں لے سکتے۔ دفعہ ۱۲۵ کے تحت عائد کی گئی غیر مستطیع اقرباء کے نفقہ کی ذمہ داری کی نوعیت پوری طرح سے سماج کے تئیں انفرادی ذمہ داری کی ادائیگی ہے تاکہ سماج کو مفلسی و خانہ بدوشی سے بچایا جاسکے۔ قانون کے اخلاقی حکم نامہ اور اخلاقیات کو ایک ساتھ مذہبسے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔

سیپریم کورٹ کے مطابق کوئی بھی عورت اس بنیاد پر کہ اس کے شوہر نے دوسری شادی کرلی ہو، وہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کرسکتی ہے، اس صورت میں شوہر کو اپنی پہلی بیوی کا نفقہ دفعہ ۱۲۵ کے تحت ادا کرنا ہوگا، اس کی روشنی میں مسلم عورت بھی نفقہ کا مطالبہ و شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کرسکتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ابو بکر سباق سبحانی (ایڈوکیٹ سپریم کورٹ)

Leave a Reply