babri

قضیہ بابری مسجد اور حالیہ تنازعات

گذشتہ دنوں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکے اجلاس کے بعد بابری مسجد کے قضیہ کے حوالہ سے جو صورت حال پیدا ہوئی وہ بلاشبہ بڑی افسوسناک تھی۔ اس طرح کے سنگین حالات میں امت کے اندر نزاعات کا جنم لینا، الزامات اور جوابی الزامات کے سلسلے، سوشل میڈیا پر موقر علماء اور قائدین کے بارے میں تیز و تند تبصروں کے طویل سلسلے، یہ سب باتیں یقیناً بڑی حوصلہ شکن اور مایوس کن ہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں پر اکثر چیلنجوں کی یلغار چو طرفہ ہوتی ہے۔ پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے ایک سے زیادہ رایوں کا پایا جانا غیر فطری نہیں ہے اور اگر ان رایوں کا تعلق بابری مسجد جیسے حساس مسئلہ سے متعلق ہو تو اس پر تلخیوں کا پیدا ہوجانا بھی غیر متوقع نہیں ہے۔ایسے حالات میں اجتماعی بصیرت کا اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ ہم کیسے ان مسائل سے خود کو نکالتے ہیں اور کیسے آراء کے اختلاف کو امت کے اندر انتشار کا سبب بننے سے بچا لیتے ہیں؟

یہ کہنا کہ بابری مسجد کی جگہ حوالہ کردی جائے تو فرقہ پرست قوتوں کے پاس۲۰۱۹ کے لئے کوئی ایشو نہیں رہے گا، بڑی کمزور بات ہے۔اس کے بالمقابل واقعہ یہ ہے کہ، ان قوتوں کا اصل مسئلہ اب یہی ہے کہ یہ ایشو اب باقی نہیں رہا، بلکہ گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے حکومت کو لعن طعن کرکے اور ہجوم کے ہاتھوں قانون شکنی کے ذریعہ اس ایشو کوزندہ رکھنا ممکن تھا۔ اب جبکہ مرکز اور ریاست ہر جگہ پر انہی کی حکومت ہے ان کے لیے یہ بڑا مسئلہ ہے کہ وہ عوام کے پاس کیا منہ لے کر جائیں؟ انہوں نے تو مندر کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔ اب اقتدار ملنے کے بعد ان کے ووٹرز اس وعدہ کی تکمیل کی توقع رکھتے ہیں۔یہ ایشو دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے تو صرف اس صورت میں کہ کسی طرح اس وعدہ کی تکمیل اور مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہو۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ عدالت میں مقدمہ آخری مرحلوں میں ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے مقدمہ کے فیصلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی کمزور قانونی بنیاد بھی مندر کے حق میں فیصلہ کے لئے موجود نہیں ہے۔ اگر عدالت یہاں بھی بندر بانٹ کا طریقہ اختیار کرتی ہے تو دنیا بھر میں ملک کے عدالتی نظام کا وقار بری طرح مجروح ہوگا۔ اور اگر مسجد کے حق میں فیصلہ سناتی ہے تو حکومتوں میں رہتے ہوئے عدالت کے حکم کی صریح خلاف ورزی، ان قوتوں کے لئے، ناممکن نہ سہی بہت مشکل ضرورہوگی۔

اس الجھن کا حل یہ ڈھونڈا گیا کہ کسی طرح فیصلہ سے پہلے مسلمان خود دستبردار ہوجائیں۔ وعدہ کی تکمیل اور عوام کو منہ دکھانے کی گنجائش نکل آئے۔ اس طویل کشمکش کی پر امن یکسوئی کا سہرا باندھ کر اور فتح یابی کے تاریخی جشن کے درمیان۲۰۱۹ کا بگل بجایا جائے۔

اس لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مقدمہ سے دستبرداری، حکمران جماعت سے ایشو چھیننا نہیں بلکہ اْسے ایشو فراہم کرنا ہے۔ ایک مردہ ایشو کو جو اس کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے، دوبارہ زندہ کرنا ہے۔

یہ سمجھنا بھی بہت سادہ لوحی کی بات ہے کہ یہ ایشو ختم ہوجائے تو اس طرح کی سیاسی جماعتوں کے پاس ایشو ختم ہوجائیں گے۔ گذشتہ چند سالوں ہی کا جائزہ لے لیجئے کہ کتنے نئے ایشو پیدا ہوگئے؟ کیا کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ ’لو جہاد‘ جیسی نامعقول بات بھی اکیسویں صدی کے ہندوستان میں ایشو بن سکتی ہے؟ بابری مسجد کا مسئلہ بھی مصنوعی طور پر تخلیق کردہ ایشو ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ، خاص طور پر جسٹس سدھیر اگروال کا تفصیلی فیصلہ جن لوگوں نے پڑھا ہے ،وہ جانتے ہیں کہ اب یہ بات عدالت کی مہر کے ساتھ ثابت ہوگئی ہے کہ رام چندر جی کی اْس مقام پر پیدائش کی آستھاکی بنیاد، نہ کوئی مذہبی کتاب ہے اور نہ کوئی قدیم روایت۔ انیسویں صدی میں زبردستی بت رکھ کر اور پھر شور شرابہ کرکے یہ آستھا پیدا کی گئی ہے۔ ان قوتوں کے سیاسی عزائم اور ان کے حتمی مقاصد کا حصول ایسے ایشوز تخلیق کرتے رہنے میں ہے، سو وہ کرتے رہیں گے۔ ملک میں امن و امان کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہو اور تمام سیاسی ہتھکنڈے اورنظریاتی کشمکش قانون کے تابع ہو۔ اس لئے نہایت ضروری ہے کہ قانونی عمل مکمل ہو۔ قانونی عمل میں کسی بھی قسم کا خلل اور عدلیہ کی کاروائی کا رک جانا دراصل بھیڑ کی سیاست کے مقابلہ میں قانون کی شکست ہوگی۔ اور اس سے اس طرح کے نئے ایشوز کی تخلیق اور بھیڑ کی سیاست کے رجحان کو زبردست تقویت ملے گی۔

یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ مقدمہ سے دستبرداری قانونی طور پرکسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے، نہ یوپی سنی وقف بورڈ کے لئے، نہ کسی اور مسلمان فریق کے لئے، نہ پرسنل لا بورڈ کے لئے اور نہ ہی کسی عالم یا سیاسی رہنما کے لئے۔ ماہرین قانون کہتے ہیں کہ قانون وقف کے مطابق وقف کی جائیداد فروخت کرنا، ہبہ کرنا یا اس کا تبادلہ کرنا سب، غیر قانونی ہے۔غیر قانونی طور پر وقف کی جائیدادوں پر قبضہ ایک الگ مسئلہ ہے، لیکن اس قدر حساس اور مشہور مقدمہ میں، باقاعدہ سپریم کورٹ میں صریح خلاف قانون موقف، وقف بورڈ نہیں لے سکتا۔پھر یہاں وقف بورڈ اکیلا فریق نہیں ہے، کئی فریق ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ مقدمہ ایک’مقدمہ نمائندگی Representative Suit‘ ہے۔ یعنی مسلمان فریق ،یہاں دراصل سارے مسلمانوں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ایسے میں ان نمائندوں کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ مقدمہ سے دستبردار ہوجائیں۔ سارے مسلمان فریق بھی مقدمہ واپس لینے کی درخواست دے دیں تو قانونی طور پر کورٹ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اشتہار دے اور کوئی بھی مسلمان گروپ اٹھ کر فریق بن جائے تو مقدمہ چلتا رہے گا۔ گویا مقدمہ سے دستبرداری اسی وقت ممکن ہے جب ہندوستان کے مسلمان سب کے سب اس پر متفق ہوجائیں۔

اس لئے زیادہ معقول بات یہی ہے کہ مسلمان اس مقدمہ کو اس کے حتمی اور منطقی انجام تک پہنچائیں۔ اہل ملک کے سامنے سچائی پوری طرح واضح ہوجائے۔ مکر و فریب اور جھوٹ اور دغا کے علم بردار ہیرو نہ بنیں بلکہ ان کا جھوٹ ملک اور دنیا کے سامنے بے نقاب ہو۔ حریفانہ جذبات کی شدت کی عمر ہمیشہ بہت کم ہوتی ہے لیکن سچائی اور حقیقت تاریخ کا اٹل اور ان مٹ حصہ بنتی ہے۔ یہ فرقہ وارانہ کشمکش آج ہے، کل نہیں رہے گی لیکن یہ بات تاریخ میں ہمیشہ کے لئے نقش ہوجائے گی اور ہمیشہ اس ملک میں ہندو مسلم تعلقات کی بنیاد بنی رہے گی کہ، بابری مسجد کی یہ لمبی لڑائی مسلمانوں نے سچ کی بنیاد پر لڑی تھی یا ایک جھوٹے دعوے کے لئے ؟

بابری مسجد کی لڑائی محض جگہ کی لڑائی نہیں ہے۔اوقاف کی نہ جانے کتنی جائدادیں ناجائز قبضوں کا شکار ہیں۔ مگر یہ لڑائی اصلاًانصاف کی لڑائی ہے۔مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری ہیں اور انہیں یہاں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ یہ بات عدالت سے منوانا اب اور بھی ضروری ہوگیا ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ سے صحیح فیصلہ کرانا اور اس کی کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔خاص طور پر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ سپریم کورٹ کو آمادہ کیا جائے کہ ٹھوس حقائق کی روشنی میں وہ اس قضیہ کا از سر نو جائزہ لے اور انصاف کا جو بھی تقاضہ ہو، اسے بے لاگ اور جرات مندانہ طریقہ سے پورا کرکے عدالت کے مقام و منصب کا وقار بحال کرے۔سپریم کورٹ میں یہ باتیں طے ہونا ضروری ہیں کہ ایک: آستھا عدالتی فیصلوں کی بنیاد نہیں بن سکتی، دو، عدالتیں اکثریتی فرقہ کے عقیدہ کو دیگر فرقوں کے عقیدوں پر ترجیح نہیں دے سکتیں اور تین ، مصالحت باہمی بات چیت کے ذریعہ اور آپسی رضامندی کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے۔ عدالتی فیصلوں کے ذریعہ مصالحتی فارمولے تھوپے نہیں جاسکتے۔

عدالتی عمل کے ساتھ ہمیں عوام کی عدالت میں اور ملک کے حق پسند انسانوں کے سامنے بھی اپنے کیس کو دلائل کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ہندو مسلم تعلقات کی خوشگواری ، غلط فہمیوں کو برقرار رکھتے ہوئے، مسجد سے دستبردا ر ہونے میں نہیں ہے۔آپ مسجد حوالہ کردیں تب بھی ہندو عوام یہی سمجھتے رہیں گے کہ مسلمان ناحق اس قدر متبرک جگہ پر اتنے عرصہ تک قابض رہے اور اس ناجائز قبضہ کو برقرار رکھنے کے لئے اتنی لمبی اور ملک کے لئے نقصاندہ لڑائی لڑتے رہے۔تعلقات کی خوشگواری کے لئے ایک ہی بنیادی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ حقیقت لوگوں کے سامنے روز روشن کی طرح واضح ہو کر آجائے۔ہندستان کے بچہ بچہ کو معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کا موقف حق اور صداقت پر مبنی ہے۔

البتہ یہ بات بھی صحیح ہے کہ اس مسئلہ کو جس طرح جذباتی سیاست کی بنیاد بنادیا گیا ہے، اس سے ملت اسلامیہ ہند کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ آئندہ شدت سے احتیاط کرنا ضروری ہے کہ ہمارے کسی اقدام سے یہ مسئلہ سیاسی اور سماجی کشمکش کی بنیاد نہ بننے پائے۔ یہ مسئلہ سچ اور جھوٹ کا اور قانون و انصاف کا مسئلہ ہے، اسی دائرہ تک اسے محدود رکھنے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے۔

ان سب باتوں کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ، ہم اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے اس موقف کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ انسانی غور و فکر کا نتیجہ اور اجتہادی موقف ہے۔ اس میں غلطی کا ہمیشہ امکان موجود ہے۔ اس پر بحث و تبادلہ خیال اور مختلف رائے کی گنجائش ہمیشہ رہے گی۔ ہر زندہ اور باشعور قوم ایسے اہم مسائل پرغور و فکر اور تبادلہ خیال کی ہمیشہ ہمت افزائی کرتی ہے۔ ہمارے نزدیک مولانا سلمان صاحب کا اپنا نقطہ نظر ہوسکتا ہے، انہیں اپنی رائے رکھنے کا اور اسے پیش کرنے کا حق حاصل ہے لیکن اس نقطہ نظر کی بنیاد پر اکیلے اقدام کردینا، اسے اندرونی سطح پرغور و فکر اور سنجیدہ تبادلہ خیال کے بجائے میڈیا کا ایشو بنادینا، اجتماعی فیصلہ کو ٹھکرانا او ر سنجیدہ بات چیت کی مناسب کوشش کے بغیر اجتماعی فورم سے علٰحدگی کا اعلان کردینا، یقیناً غلطی ہے۔اس غلطی پر انہیں سنجیدہ ماحول میں متوجہ کرنا چاہیے۔ جس طرح کہ مولانا ارشد مدنی اور جماعت اسلامی ہند نے کیا ہے۔ نہ اختلاف کرنا گناہ ہے اور نہ اس کا اظہار غلط ہاں صحیح وقت اور صحیح انداز میں مناسب فورم میں اس کا اظہار لوگوں کو سوچنے سمجھنے پر آمادہ کرتا ہے۔

ان واقعات سے زیادہ افسوسناک وہ گفتگو ہے جو سوشل میڈیا میں سنجیدہ دینی حلقوں میں اس کے حوالہ سے ہورہی ہے۔ خیالات پر بحث کو خیالات تک محدود رکھنے کی صلاحیت اجتماعی شعور اور بالغ نظری کی بڑی اہم علامت ہوتی ہے۔ یہ بحث اگر تیزی سے ذاتیات کی سطح پر اترنے لگے تو سمجھ لیجئے کہ ہمارا شعور ابھی بالغ نہیں ہوا ہے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس نابالغی کے مظاہرے ان دودنوں میں بہت کثرت سے ہوئے۔ اگر کوئی سیاسی قائد نامناسب زبان استعمال کرتا ہے تو اس کا تو کوئی

سیاسی مقصد ہوسکتا ہے لیکن جو لوگ سوشل میڈیا پر ذاتیات کے حوالہ سے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں ان کی اس غیر ذمہ دارانہ روش کی کیا توجیہہ ہوسکتی ہے؟

ہمارے بڑے بھی انسان ہیں۔ کبھی اختلاف کی حساسیت ان کو بھی جذباتی بناسکتی ہے۔ ایسے ماحول میں ہمارا رویہ وہی ہونا چاہیے جو گھر میں ماں باپ کے درمیان کسی وقتی تلخ کلامی پر بچوں کا ہوتا ہے۔ انہیں نہ خود کو دو گروپوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ ایک دوسرے پر لعن طعن کی۔بحث کو زیر بحث مسئلہ تک محدود رکھئے۔ اس امت کو بڑے مسائل کا سامنا ہے اور اندیشہ ہے کہ آئندہ اور بڑے مسائل کا مقابلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی معمولی باتوں پر ہم ٹوٹتے اور بکھرتے رہے تو پھر ہم زندہ کیسے رہ پائیں گے؟

اس سلسلہ کی آخری ور اہم ترین بات یہ ہے کہ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بابری مسجد کا مسئلہ اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود ہمارے کئی مسائل میں سے محض ایک مسئلہ ہے۔ترجیحات کا شعور،قوموں کے اجتماعی شعور کی سب سے بڑی علامت ہوتاہے۔مختلف امور و مسائل کوترجیحات کی ترتیب میں مناسب اور درست مقام دینا اور ہر طرح کے جذباتی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں ان کے صحیح مقام پر برقرار رکھنا، اْن اجتماعی صلاحیتوں میں سے ایک ہے جن پر قوموں اور جماعتوں کی کامیابی کا انحصار ہوتا ہے۔بابری مسجد اور دیگر جذباتی ایشوز کے حوالہ سے ترجیحات کی غلطیاں ہم سے ماضی میں سرزد ہوئی ہیں۔ ان غلظیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اور ہر معاملہ کو اس کے صحیح مقام پر اتنی ہی اہمیت کے ساتھ رکھنا چاہیے جس کا وہ مستحق ہے۔ نہ اس سے کم نہ زیادہ۔

بابری مسجد کے ملبہ کا منظر بے شک ہمیں خون کے آنسو رلاتا ہے۔ رلانا بھی چاہیے کہ یہ ایمان کی علامت ہے۔ لیکن ایک داعی امت کی حیثیت سے اس منظر سے زیادہ درد ناک ہمارے لئے یہ نظارہ ہونا چا ہیے کہ ہمارے کروڑوں ہم وطن شرک و کفر کی غلاظتوں میں مبتلا ہوکر نار جہنم کی طرف رواں دواں ہیں۔کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں براجمان کرائے گئے بتوں سے زیادہ ان بتوں کا اضطراب نہیں تھا جو اللہ کے بندوں کے دلوں میں براجمان تھے؟

مسجد کی حفاظت بے شک ہماری شرعی ذمہ داری ہے لیکن کیا اس سے پہلے اور اس سے زیادہ اہم، پورے دین کی حفاظت اور اس کی اقامت کی ذمہ داری نہیں ہے؟

ان باتوں کا مقصد بابری مسجد کی بازیابی کی جدوجہد کی اہمیت کم کرنا نہیں، اس کی اہمیت اور اسٹریڈجی پر ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔کہنا صرف یہ ہے کہ ہم ایک مشن اور مقصد رکھنے والی امت ہیں۔ ہمارا اپنا ایک تعمیری اور مثبت ایجنڈا ہے۔دنیا میں عدل و انصاف کا قیام، اسلام کی اقامت، ساری انسانیت کو اسلام کی طرف متوجہ کرنا، امت مسلمہ کی اصلاح اور اسے ایک اثر انداز ہونے والی امت کی حیثیت سے کھڑا کرنا۔اس طویل ایجنڈہ کو نظر انداز کرکے ہم صرف وقتی رد عمل میں الجھے ہوئے رہیں تو یہ خود اپنے آپ سے نا انصافی ہوگی۔بابری مسجد اور اس جیسے دیگر مسائل کی حیثیت راستہ کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ہے۔ ہمیں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی فکر اور سعی ضرور کرنی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ راستہ پر اصل سفر اور اصل منزل کی بھی فکر کرنی ہے۔اگرہم ان وقتی مسائل میں اس طرح الجھ گئے کہ اصل راستہ اور منزل سے بے خبر ہوگئے تو یہ سانحہ امت مسلمہ کی بنیادوں کی مسماری کا سانحہ ہوگا جو ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کی مسماری سے کہیں زیادہ افسوسناک مسماری ہوگی۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ آمینlll

سید سعادت اللہ حسیینی

شیئر کیجیے
Default image
ایڈیٹر

Leave a Reply