موسم گرما بخیر وخوبی گزارئیے

موسم گرما میں باہر نکلیں تو ’’قیامت کی گرمی‘‘ جیسے الفاظ منہ سے نکلتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود باہر نکلنا اور کام کاج بھی ضروری ہوتا ہے۔ ماہرین طب و صحت کی رائے ہے کہ اگر تمام امور موسمی تقاضوں کے باعث حد اعتدال میں ہوں تو موسمی شدتوں سے بچا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے اس گرم موسم میں طرز زندگی کے مندرجہ ذیل بنیادی اصول ہر ایک کو معلوم ہونا چاہئیں تاکہ موسم کی شدت میں اس سے محفوظ اور صحت کو برقرار رکھا جاسکے۔

غذاء میں تبدیلی

موسم گرما میں غذائی معمولات میں تبدیلی ایک لازمی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اس موسم میں درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے پسینا بہت زیادہ آتا ہے، جس سے قوت ہاضمہ متاثر ہوتی ہے۔ بھوک میں کمی ہو جاتی ہے۔ چٹ پٹے کھانے، کڑھائی گوشت، مرغ روسٹ، نشاستہ دار اشیا کا استعمال کم کر دینا چاہیے اور انڈے کا استعمال ترک کردینا ہی بہتر ہے۔ اس موسم میں بھوک کم لگتی ہے۔ اس لیے جسم کو درکار غذا کا اندازہ بھوک سے نہیں لگانا چاہیے بلکہ جسم کی صرف شدہ توانائی سے کرنا چاہیے اور موسم گرما میں بھی جسم کو اپنی صحت قائم رکھنے کے لیے اتنی ہی توانائی درکا رہے جتنی کہ موسم سرما میں۔ پھلوں اور سبزیوں کا موسم گرما میں استعمال زیادہ مناسب ہے۔

اس طرح نہ صرف جسم کی مطلوب غذائیت پوری ہوگی بلکہ حرارت سے بھی بچاؤ ہوگا۔ ہمارا جسم اسی فی صد سے زیادہ پانی پرمشتمل ہے اور قدرتی طور پر پائی جانے والی غذاؤں میں یہ دونوں چیزیں عموماً اتنا ہی پانی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اس طرح بہت زیادہ پانی استعمال نہ کرنے کی صورت میں بھی پانی کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جاتی ہے۔ اس موسم کے پھلوں اور سبزیوں میں پانی کی کافی مقدار ہی نہیں ہوتی بلکہ تمام غذائی اجزا متوازن ہوتے ہیں۔ نیز حیاتین بھی بہ کثرت پائے جاتے ہیں جس سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ مثلاً کدو، ٹینڈے، ککڑی، حلوہ کدو، کھیرا جب کہ پھلوں میں آلو بخارا، خربوزہ، تربوزہ، آڑو اور انگور وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ اس طرح ہم ان نعمتوں کا استعمال کر کے نہ صرف غذائیت حاصل کر سکتے ہیں بلکہ موسمی شدتوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اللہ کی ذات موسم میں جن غذاؤں کا اہتمام کرتی ہے وہ قدرتی طور پر موسمی تقاضوں کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ البتہ اس موسم میں باسی اشیا کا استعمال نہ کیا جائے کیوں کہ ان میں گلنے سڑنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔

پانی اور نمک کی تلافی

موسم سرما کے بعدموسم گرما میں پسینا بہت زیادہ آتا ہے۔ پسینہ کے ساتھ جسم سے نمک کا بھی اخراج ہوتا ہے۔ موسم گرما میں پسینے کے باعث ہماری جلد گیلی رہتی ہے جس سے جسم کا درجہ حرارت نارمل رہتا ہے۔ مگر پسینے کے زیادہ اخراج کے باعث پانی اور نمکیات کی جسم میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اس کمی کے باعث پیاس بہت لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما میں پانی کا استعمال بڑھ جاتا ہے مگر ہم نمکیات کو بھول جاتے ہیں۔ موسم گرما میں جسم میں پانی اور نمک کی کمی دور کرنے کے لیے لیمو کا رس تازہ یا ٹھنڈے پانی میں قدرے نمک ملا کر پینا مفید ہے۔ ٹھنڈے مشروبات جن میں قدرے چینی اور نمک ملا ہو پینا بھی مفید ہے۔ نمک استعمال کرنے سے خارج شدہ نمک جسم میں واپس آجاتا ہے اور یوں کمزوری کا احساس نہیں ہوتا۔ چینی کے استعمال سے نمکیات کو جسم میں جذب ہونے کا موقع مل جاتا ہے لیکن جہاں تک زیابیطس او رہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کا تعلق ہے وہ چینی اور نمک کا استعمال اپنے معالج کے مشورے سے ہی کریں۔

کولڈ ڈرنکس فائدہ کے بجائے مضر ہیں کیوں کہ یہ وقتی تسکین دیتے ہیں۔ بعض افراد اس موسم میں برف کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ خیال رکھیے کہ برف کا استعمال حد اعتدال میں کریں ورنہ صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

پانی ہمیشہ صاف استعمال کریں۔ مناسب تو یہ ہے کہ پانی کو ابال کر جراثیم سے پاک کرلیا جائے۔ صرف ایک منٹ تک ابالنا کافی ہے جو لوگ موسم گرما میں سرد مقامات پر جاتے ہیں ان کو بھی چشموں کا پانی ابال کر استعمال کرنا چاہیے۔ اگرچہ یہ پانی خوش ذائقہ اور بظاہر صاف معلوم ہوتا ہے تاہم ان میں، پیچش اور دوسرے امراض کے جراثیم ہوسکتے ہیں۔ ایک منٹ تک ابالنا پانی جراثیم سے پاک کردیتا ہے۔ تازہ ہوا اور غذا کی طرح صاف پانی کا استعمال بھی موسم گرما کے عوارض سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔

غسل کرنا نہ بھولیں

جسم کی صفائی سے اچھی صحت کا تعلق بہت گہرا ہے۔ مگر یہ تعلق موسم سرما اور گرما دونوں کے لیے ہے۔ روزانہ غسل سے صحت پر خوش گوار اثر ہوتا ہے اور انسان معاشرتی اعتبار سے بھی پسندیدہ بن جاتا ہے۔ موسم گرما میں چوں کہ پسینا زیادہ خارج ہوتا اور جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے دوبار غسل کرنا مفید ہے۔

تیز دھوپ سے بچیں

موسم گرما میں سخت دھوپ یا ہوا (لُو) میں باہر نکلنے سے اجتناب کریں۔ اگر دھوپ میں نکلنا ضروری ہو تو مناسب مقدار میں پانی، مشروبات اور قدرے نمک کا استعمال کریں۔ کام کے دوران وقفے وقفے سے پانی پئیں۔ چائے، کافی اور مرغن اشیا کا استعمال نہ کریں۔ چھوٹے بچے، بڑی عمر کے لوگ، کھلاڑی اور دھوپ میں کام کرنے والے جلد لو کا شکار ہوجاتے ہیں۔ نیز سرد علاقوں سے گرم علاقوں کی طرف آنے والے۔ اپنا کام صبح و شام کے اوقات میں کریں۔ گہرے رنگ کے کپڑے استعمال نہ کریں کیوں یہ جلد گرمی کو جذب کرتے ہیں جب کہ ہلکے رنگوں میں سوتی کپڑوں کا استعمال مناسب ہے۔ لو لگنے کی صورت میں معالج سے رجوع کریں۔

حشراتی خطرات

موسم گرما میں مکھیوں اور مچھروں کی بہتات ہوجاتی ہے۔ جن کی وجہ سے بیماریاں پھیلانے والے جراثیموں کی منتقلی دیکھی گئی ہے۔ ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف بنا کر اور جدید حشرات کش ادویہ کے ساتھ پیچش، اسہال اور ملیریا اور ان کے باعث پیدا ہونے والے دیگر امراض کے خطرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
موسم گرما بخیر وخوبی گزارئیے

Leave a Reply