غزل

رنج و غمِ حیات سے پہلو تہی کرو

کچھ پل خوشی کے لے کے انھیں دائمی کرو

لَو دے اٹھیں چراغ دلوں کے بجھے ہوئے

کچھ اس طرح سے بزم میں اب روشنی کرو

بیعت نظامِ جبر سے ہیں رہبرانِ قوم

یارانِ حق نوا تمھی اب رہبری کرو

اس شہر ہوْ کی گوش عذابی تو کچھ ٹلے

اتنا تو ہو، بلند کوئی چیخ ہی کرو

برپا ہے جشنِ دار و رسن قتل گہ میں آج

سو کاروبارِ زیست ذرا ملتوی کرو

اپنی قیادتوں میں نئی منزلیں چنو

لازم ہے اپنے شوق کی خود رہبری کرو

لو ہم نے بڑھ کے روک لیا سیلِ ظلم و جبر

تم بس دعائے ردِّ بلا ہر گھڑی کرو

صحرا نچوڑو یا کوئی بادل کرو شکار

"کچھ تو علاجِ شدّتِ تشنہ لبی کرو”

بولا نہ تھا کہ زخم مرے مسکرائیں گے

اے چارہ ساز اور مری دل دہی کرو!

ظلمات کے حلیف ہیں مقتل کے سب چراغ

عرفاں سروں کی لو ہی سے اب روشنی کرو

شیئر کیجیے
Default image
عرفان وحید

Leave a Reply