غزل

زمانے میں غم کا فسانہ رہے گا

وہی یادگار زمانہ رہے گا

یہ بجلی سدا یوں ہی گرتی رہے گی

کہ جب تک مرا آشیانہ رہے گا

رہِ عشق پرخار ہوتی ہے اکثر

وہ چل پائے گا جو دیوانہ رہے گا

میرے دیپ سے صلح مت کر ہوا تو

ترا رخ سدا باغیانہ رہے گا

تری جان لے کر رہے گا وہ اخترؔ

وفا کا جو لب پر ترانہ رہے گا

شیئر کیجیے
Default image
اختر اعظمی

Leave a Reply