غزل

فاران کی زمین تجلی ’’جناب‘‘ کی

ذروں میں روح دوڑ گئی آفتاب کی

اللہ رے! جمال رخ مصطفی کا حال

کرنیں پڑھیں سلام جنہیں ماہتاب کی

ہر شے میں بے حجاب تری ذات ساقیا!

ہر آنکھ تجھ سے دور، یہ حد ہے حجاب کی

اللہ کی کتاب سے روشن ہیں راستے

حاجت کہاں ہے اور کسی آفتاب کی

موجِ فرات آج ہے پھر محوِ اضطراب

کس کی سپاہ دشت میں پیاسی ہے آب کی

اب زندگی کی شام ڈھلے کیا عبادتیں

رب کو تو ہے پسند عبادت شباب کی

لے آج میں بھی آگیا بازار مصر میں

قیمت تو دیکھ لے! ترے خانہ خراب کی

انگڑائی لے رہی ہیں ہزاروں قیامتیں

دستک سنائی دے ہے بڑے انقلاب کی

بزمی کہاں تھے زلف زلیخا کے ہم اسیر

ملتی رہی ہے ہم کو سزا اجتناب کی

شیئر کیجیے
Default image
سرفراز بزمی

Leave a Reply