یوٹیوب قائدین

آپ بھی ملت کے قاید بننا چاہتے ہیں؟

مشورہ مانیے!!

ایک ایچ ڈی کیمرہ، ایک بلو ٹوتھ اسپیکر خرید لائیے، سامنے کچھ مداحوں کو بٹھالیجیے، ساونڈ پروف کمرے میں ایک اسٹیج سجا لیجییـ۔۔۔۔لو اب آپ آزاد ہیں!!! روزانہ ایک نئے عنوان پر اپنے فن خطابت کے جوہر دکھایئے۔کبھی رہٹورک تو کبھی بیانیہ انداز کبھی قصہ گوئی تو کبھی جوش وولولہ، کبھی بھرائی ہو ئی آواز تو کبھی سنجیدگی اور متانت، کبھی تنقید تو کبھی تضحیک غرض اہل سماعت کے ذوق کا پورا سامان کردیجیے۔

اپنے مسلک کو سچ ثابت کرنے کے لیے دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے چکر میں ہر وہ حربہ استعمال کر ڈالیے جو دوسروں میں احساس شکست اور خود میں فتح کا بھرم پیدا کردے۔

تنقید میں اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔ آپ اس کی فکر مت کیجیے۔ آپ کو تو بس تضحیک سے کام چلانا ہے وہاں اصولوں کی کیا ضرورت ہے ؟؟

ویسے محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔

اور یہاں بھی محبت ہے اپنے مسلک کی اور جنگ ہے دوسرے مسلک سے۔۔۔پھر تو سب کچھ جائز ہے۔۔۔

کچھ فین فالوورس بنا لیجیے جو آپ کو سوشل میڈیا پر لایکس اور شیر دلواتے رہیں گے اور زیادہ فکر مت کیجیے۔

آج کل ملت کے بیشتر افراد اور نوجوان سوشل میڈیا سے جڑ رہے ہیںاور خوش خبری یہ ہے کہ خواتین میں بھی سوشل میڈیا کافی مقبول ہورہا ہے۔

ایک ضروری بات ڈریسنگ ہے جس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے سلیکشن میں سامعین اور باصرین کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ کوٹ اور ٹوپی ہو سکتی ہے، شیروانی اور ٹوپی ہوسکتی ہے، عمامہ جبہ اور دستار کا آپشن بھی کھلا ہوا ہے۔

تقریر کو بہتر بنانے کے لیے حوالوں کی ضرورت ہوتی ہے جس میں صفحہ نمبر بتانے کا کچھ اور ہی اثر ہے۔ کس کے پاس وقت ہے کہ کتاب کھول کر دیکھے جب وہ آپ کو دیکھ کر ہی دیوانہ ہونے لگے۔

طے شدہ سوالوں اور طے شدہ جوابوں کے ذریعے بھی ایفیکٹ پیدا کیا جاسکتا ہے۔

اب آپ یہ نادان سا سوال مت کیجیے کہ اسلامی قائد تو لوگ افراد کے علم، تقویٰ، ذہانت، ایثار و قربانی اور اجتماعیت میں اپنے آپ کو ثابت کرنے کے بعد بناتے ہیں۔اور ایک بات یہ بھی ہے کہ کسی اسلامی قائد میں قائد بننے کی رتی بھر خواہش نہیں ہوتی۔وہ اجتماعیت میں شوریٰ کے مشوروں کا پابند اور ان کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔

لیکن آپ کو اتنی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک بار آپ کی فین فالونگ بن جائے تو آپ کو مسند قیادت سے کوئی نہیں ہٹاسکتا۔ اور ہاں کسی اجتماعیت سے آپ کو جڑ کر انفرادیت داو پر لگانے کی کوئی ضرورت نہیں۔اقبال نے کہا تھا :

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

بالکل صحیح فرمایا تھا علامہ نے۔آپ بھی قائم رہنا چاہتے ہیں تو ملت سے ربط میں رہیے اور وہ ربط سوشل میڈیا ہے۔

خبردار!!! کبھی گلی کوچوں میں، غریب بستیوں میں لوگوں کے مسائل حل کرنے کا جوکھم مت اٹھائیے۔ ملت مسائل حل نہ ہونے پر احتساب کرنے لگتی ہے، پیسہ کا حساب مانگتی ہے۔

پیسہ سے یاد آیا۔ تاجروں سے ربط میں رہیے۔ کاروبار میں منافع اور پریشانیوں کے حل کے لیے ہلکے پھلکے ذکر و اذکار سکھادیا کیجیے۔طویل نسخے ایک تو تاجروں کو یاد نہیں ہوتے اور دوسرے ان کے پاس وقت بھی نہیں ہوتا۔ان کا کاروبار اگر چل پڑا تو آپ کا بھی۔

بہت سی باتیں آپ تجربات سے سیکھ جائیں گے۔ صرف ایک بات یاد رکھیے آپ کی فین فالونگ اس وقت تک بنی رہے گی جب تک آپ مسلک ،مسند اور اکابر کی بات کرتے رہیں گے۔ اور جس دن سے امت کو ان کا فرض منصبی صحیح انداز میں بتانا شروع کردینگے اور مسلک اور مسند سے اوپر اٹھ کر امت وسط کا احساس دلایں گے تو سمجھ لیجیے آپ کی قیادت یو ٹیوب بھی نہیں بچا سکتا ہے۔

راز کی بات یہ ہے کہ امت میں ابھی تک اسلامی قیادت کو پہچاننے کا شعور بھی نہیں ہے۔

لاحول و لاقوۃالا …

ارے میں تو بھاگ چلا۔۔۔۔ابلیس جو ٹہرا۔۔۔lll

شیئر کیجیے
Default image
انور حسین

Leave a Reply