لنگڑا ڈاکٹر

ایسے لوگ جو لولے ہوں، لنگڑے ہوں، اندھے ہوں یا ایسے بیمار ہوں جن کے بارے میں یقین ہو کہ وہ اچھے نہیں ہوسکتے اور کام کرنے سے بالکل معذور ہوں تو انہیں زمین کی چھاتی بر بوجھ بننے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ کسی پہاڑ سے اپنے کو گرا کر ختم کر دیں یا ڈوب کر ماجائیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کے وجود سے دنیا کو پاک کردے۔ کیوں کہ بے کار اور فضول لوگوں کو پالنا در اصل دوسرے لوگوں کے لیے ایک روگ پالنا ہے۔ انہیں زندہ رکھنا دوسرے کارآمد لوگوں کی بہت بڑی حق تلفی ہے۔

یہ تھے میرے وہ خیالات جو اس وقت تھے جب میں میڈیکل کالج میں ڈاکٹری پڑھ رہا تھا۔ میرے ساتھی مجھے سمجھانے کی لاکھ کوشش کرتے کہ ہم ڈاکٹری کی تعلیم ہی اس لیے حاصل کر رہے ہیں کہ لولوں، لنگڑوں اور دوسرے معذوروں کا علاج کریں، ان کی دیکھ بھال کریں اور جس طرح ہوسکے ان کی مدد کریں، یہی انسانیت ہے۔

میں ساتھیوں کی یہ نصیحت سن تو لیتا، لیکن میرا اصل سوال تو یہ تھا کہ پھر اس سے فائدہ؟ ان لوگوں کی مدد میں جو قوت صرف ہوتی ہے وہ اگر کارآمد لوگوں کے کام آئے تو دوہرا فائدہ ہے ایک طرف یہ کارآمد لوگ آگے بڑھ کر ملک کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکیں گے، دوسرے یہ کہ معذوروں کو ختم کر کے ہم ملک کی اقتصادی حالت میں مددگار ثابت ہوں گے۔ میں ساتھیوں کو یہی جواب دیتا۔ ان کی زبانیں بند ہوجاتیں۔ انہیں کوئی جواب نہ سوجھتا، وہ شکست کھا کر پیچھے ہٹ جاتے تھے۔

میڈیکل کالج سے جس سال ڈگری ملنے والی تھی اس سال میرے سپرد ایک خاص کام کیا گیا۔ اسپتال میں ایک غریب جرمن عورت آئی۔ وہ حاملہ تھی۔ اسے بچہ پیدا کرانے کی خدمت مجھے انجام دینی پڑی۔ وہ عورت ایک نہایت گندے اور غیر تعلیم یافتہ علاقے سے آئی تھی۔ وہ اس سے پہلے نو بچوں کو جنم دے چکی تھیں۔ یہ اس کا دسواں بچہ تھا جو میں نے پیدا کرایا۔ اس دسویں بچے کی ایک ٹانگ اس کی دوسری ٹانگ سے چھوٹی تھی۔ اور وہ بے دم ساتھا ڈاکٹری اصول کے تحت مجھے اس بچے کے منہ میں پھونک بھرنی تھی تاکہ سانس لینے میں اسے مدد ملے۔ عادتاً میں اس کی طرف بڑھا۔ معاً مجھے خیال آیا کہ اس بچے کو زندہ رکھنے سے کیا فائدہ ہے۔ عمر بھر لنگڑاتا پھرے گا۔ دوسرے لوگ اسے لنگڑا لنگڑا پکاریں گے۔ اگر یہ نہ پیدا ہوا ہوتا تو دنیا کا کیا نقصان ہوتا؟

اگر میں اس وقت آزاد پیشہ ہوتا اور مجھے قانون کا ڈر نہ ہوتا تو میں یقینا اسے زندہ نہ رکھتا۔ لیکن مجھے اپنی کارگزاری دکھانی تھی، مجھے اچھے سے اچھے نمبر حاصل کرنے تھے اور مجھے یہ جتانا تھا کہ میں بنی نوعِ انسان کا سب سے زیادہ ہمدرد ہوں، چناں چہ اپنے سرٹیفکیٹ میں چار چاند لگانے کے لیے میں نے اس بچے کے منے منے پھیپھڑوں کو اپنے منہ کی پھونک سے مدد پہنچانا شروع کردی۔ وہ سانس لینے لگا۔ سانس لینے سے اس کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی اور وہ ہلکی سی آواز کے ساتھ رونے لگا۔

میں کامیاب ہوگیا۔ بچہ عورت کو دے دیا گیا۔ وہ خوشی خوشی لے کر چلی گئی۔ جب وہ جا رہی تھی تو میں سوچ رہا تھا کہ میں نے یہ کیا کیا؟ اس غریب گھر میں اب بھی ضرورت سے زیادہ بچے موجود ہیں۔ میں نے اس ناقص اور نامکمل بچے کو بچا کر ان سب پر ظلم کیا۔ میں نے ناحق اسے بچا لیا۔ دنیا اس لنگڑے بچے کے بغیر ہی اچھی تھی۔

اس کے بعد میں نے نمایاں نمبروں کے ساتھ ڈاکٹری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا۔ پھر کچھ دن یہاں، کچھ دن وہاں اور نہ جانے کہاں کہاں پریکٹس کرتا اور نئے نئے تجربے حاصل کرتا رہا۔ آخر میں نے ایک بڑے شہر میں جم کر کام شروع کر دیا۔ اپنی ناموری اور شہرت کی خاطر ہمدردی جتانے کا فن مجھے آتا ہے۔ میں تھوڑے ہی دنوں میں مشہور اور مقبول ہوگیا۔ کام کی کثرت سے دم مارنے کی فرصت نہیں مل رہی تھی۔ مجھے اتنا موقع بھی نہ تھا کہ اپنے پچھلے خیالات پر نظر ثانی کرتا، مریضوں کا ایک تانتا تھا کہ ختم ہی نہ ہوتا۔ کوئی بخار کا مریض ہو یا کالرا کا۔ کوئی لولا ہو یا لنگڑا، کیسا ہی معذور اور ناقابل علاج مریض ہو، میں اس کے علاج کے لیے کولہو کے بیل کی طرح جٹا رہتا۔ اس لیے نہیں کہ اس سے مجھے ہمدردی تھی، اس لیے کہ زیادہ سے زیادہ میری شہرت ہو اور زیادہ سے زیادہ آمدنی ہو۔

میرا کلینک برسوں جما رہا اور اسی شان سے چلتا رہا۔ میں نے شادی کی، میرے بال بچے ہوئے، میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہت خوش تھا، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ اس سچی بات کا اعتراف میں نے بڑھاپے میں کیا۔ جب کہ ایک حادثہ میں میری بیوی اور میرا بیٹا موت کے منہ میں جا پہنچے۔ وہ کار سے بڑی احتیاط کے ساتھ جا رہے تھے۔ زندہ رہنے کے لیے جس احتیاط کی ضرورت ہے، میری بیوی اس سے بہ خوبی واقف تھی۔ اس وقت میری محتاط بیوی ہی اپنی موٹر چلا رہی تھی۔ وہ ایک موڑ پر پہنچی۔ اس سے کسی طرح کی بے احتیاطی نہیں ہوئی لیکن اچانک ایک بس موڑ سے نکلی اور اس کی زد میں میری بیوی کی خوب صورت اور چھوٹی سی کار آگئی۔ پھر نہ میری بیوی موت سے بچ سکی اور نہ بیٹا۔

اب بیوی کی یادگار میرے پاس ایک بچی تھی۔ وہ بچی ہی میری محبت کا مرکز تھی۔ میں اسے بڑے لاڈ پیار سے پال رہا تھا۔ اس کی نگرانی کی خاطر اب میں نے کام میں تخفیف کر دی تھی۔ تخفیف ان معنی میں کہ میں کام کم کرتا۔ میرے اسسٹنٹ ہی زیادہ تر کام کرتے تھے، جو معقول معاوضے پر میرے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔

میری یہ بچی دس برس کی ہوئی تو ایک دن جب کہ گرمی کا موسم تھا، وہ صبح کو سوکر اٹھی تو اس کی گردن اکڑی ہوئی تھی۔ اور اس کے ہاتھوں، پیروں میں ایک درد سا تھا اور کسی قدر لرزش بھی۔ میں نے بہت غور کیا، لیکن میں تشخیص نہ کر سکا کہ اچانک اسے کیا ہوگیا۔ میں نے اپنے سے زیادہ تجربہ کار ڈاکٹروں سے مشورہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے جسم میں کسی ایسی بیماری کا زہر سرایت کر گیا ہے جس کے متعلق ہم نے طب کی قدیم کتابوں میں پڑھا ہے، لیکن ایسے مریض کو ہم نے کبھی دیکھا نہیں اور ہم اس کی دوا بھی نہیں جانتے۔ اب میں نے ان ڈاکٹروں سے رجوع کیا جو اعصابی مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ انھوں نے بھی کانوں پر ہاتھ رکھا۔ پھر میرے ایک ہمدرد نے مشورہ دیا کہ اسے ڈاکٹر ٹی ایچ کے پاس لے جائیے۔ یہ ڈاکٹر نوجوان ہے اور اسے قدیم نسخوں کی کھوج کا شوق دیوانگی کی حد تک ہے۔ اس نے طب کی قدیم کتابوں سے کئی ایسے نسخے حاصل کیے ہیں جن کا علم اس کو اور صرف اسی کو ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ تشخیص کر سکے۔

میں نے ڈاکٹر ٹی ایچ کا پتہ پوچھا۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک جرمن ڈاکٹر ہے۔ پھر مجھے خود ہی خیال آیا کہ اس کے تو کئی تحقیقی مقالے رسالوںمیں پڑھ چکا ہوں۔ چنانچہ میں بچی کو لیے اس نوجوان ڈاکٹر کے پرائیویٹ ہسپتال کی طرف چلا۔ میں نے دیکھا وہ جرمن ڈاکٹر لنگڑا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ سے چھوٹی تھی۔

ڈاکٹر ٹی ایچ کو دیکھ کر میں نے ان ٹانگوں پر نظریں جما دیں۔ مجھے اس وقت کچھ بھولی بسری یادیں آرہی تھیں۔ نوجوان ڈاکٹر نے مجھے دیکھا۔ وہ سمجھ گیا بولا: میری اس چھوٹی ٹانگ نے مجھے ان اپاہجوں میں شامل کر دیا ہے جن کی خدمت میں نے اپنے ذمے لی ہے۔ ان کے علاج کے لیے میں نے قدیم نسخوں سے بڑی چھان بین کی۔ میرے لنگڑے پن نے مجھے مطالعہ میں بڑی مدد دی۔ اگر میں لنگڑا نہ ہوتا تو جم کر مطالعہ نہیں کر سکتا تھا۔ میں تفریح کے بہانے سیر سپاٹے کو جاسکتا تھا، میں دنیا کی دوسری تفریحات اور لہو و لعب میں حصہ لے سکتا تھا۔ لیکن میری اس چھوٹی ٹانگ نے روکا اور اسی نے بتایا کہ بیٹھ اور جم کر مطالعہ کر۔

میرے خدا نے مجھ پر بڑا فضل کیا۔ جی ہاں! میں خدا کا قائل ہوں اور میرا عقیدہ ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ یہ اسی خدا کا فضل ہے کہ میں نے ایسی دوائیں ایجاد کی ہیں کہ ان کی ہوا تک دوسروں کو نہیں لگی۔ اور یہ اسی لیے ہوسکا کہ میں چلنے پھرنے سے معذور تھا۔ یہاں سب لوگ مجھے لنگڑا ڈاکٹر کہتے ہیں۔ اور میں یہ نیا نام سن کر بہت خوش ہوتا ہوں۔

میں نوجوان ڈاکٹر کی باتیں بڑی حیرت کے ساتھ سن رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ’’مجھے بچوں سے بڑی محبت ہے۔ میں آپ کی بچی کا علاج کروں گا، اور مجھے امید ہے! آپ سمجھے کس سے امید ہے؟ اس خدا سے امید ہے جو سب کو پیدا کرتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے اس طرح پیدا کرتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کے بھید کیا ہیں۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں ڈاکٹر؟ تشریف رکھئے، میں نے کہا کہ میں آپ کی بچی کا علاج کروں گا۔‘‘ اور یہ کہہ کر اس نے میرا شانہ ہلایا، میں چونکا ’’او خدا!‘‘ میری زبان سے نکلا۔ ’’یہ وہی بچہ ہے‘‘ اور پھر میں سب کچھ جان گیا۔ اب تک جو نہ سمجھا تھا وہ میری سمجھ میں آگیا۔ میڈیکل کالج کے ساتھیوں سے بار بار کی بحث میں جس بات کا جواب نہ پاسکا تھا، اس وقت میرے سامنے تھا۔ کس قدر اندھا تھا میں اس وقت۔ کوئی نہیں جانتا کہ خدا کو کس سے کیا کام لینا ہے۔ میں جسے اس زمین کا بوجھ سمجھ رہا تھا وہی سب سے زیادہ میرا سہارا بنا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ جس بچے کو دنیا میں زندہ رہنے سے باز رکھنا چاہتا تھا وہ خود میرا کارساز بنے گا اور اسی کے پاس میں اپنی پیاری بیٹی کو علاج کی غرض سے لے کر جاؤں گا؟ واقعی کتنا اندھا تھا، میں نے نوجوان ڈاکٹر سے مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور دل میں کہا ’’مجھ اندھے سے تو لنگڑا بہتر ہے۔‘‘lll

(اگست ۱۹۷۳ کے حجاب سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
مائل خیر آبادی

Leave a Reply