دار السلام

میں ہوں’’آپ یہ مغز ماری چھوڑ دیجیے‘‘ نہ آپ دن دیکھتے ہیں، نہ رات! کام میں کچھ توازن تو ہونا چاہیے۔‘‘

’’اور تم میرے لیے خواہ مخواہ کی فکر مندیوں میں گھل جاؤگی، تم بہت زیادہ حساس ہو مجھے بالکل ایک معصوم، انجان بچہ سمجھ کر مجھ پر رحم کرتی چلی جاتی ہو۔ جانم!‘‘

’’مرد ہمیشہ بچہ ہی ہوتا ہے۔ اور بچے ہی کی طرح اس کا محتاج ہوتا ہے کہ اس پر شفقت کی جائے، اسے نادانیوں سے بچایا جائے۔ یہی تو وجہ ہے کہ قرآن نے عورت کا مقصد وجود بیان کرتے ہوئے مرد کو ’’لیسکن علیہا‘‘ کا درس دیا۔ چنانچہ مرد جب بچہ ہوتا ہے تو ماں سے، لڑکپن میں ہوتا تو بہن سے جوان ہوتا ہے تو بیوی سے، اور بوڑھا ہو تو بیٹی سے، اپنی بے شمار فطری کمزوریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سرمایہ تسکین و شفقت حاصل کرتا ہے۔ عورت مختلف مراحل میں مختلف مراتب کے ساتھ اس کے سامنے آتی ہے، لیکن ہر مرحلے اور ہر مرتبے میں اس کا سینہ ایک سرچشمہ راحت و رحمت ہوتا ہے۔ یہ انتظام نہ ہوتا تو مرد اس دنیا میں پاگل ہو جاتا۔ سو اس خادم کی درخواست آپ سے یہ ہے کہ پاگل ہونے کی کوشش نہ کیجیے سیدھی طرح زندگی گزارئیے!‘‘

’’مگر عورت اگر اتنی فلسفی بن جائے تو پھر فطرت کی ساری اسکیم بگڑ جائے گی۔‘‘

’’اجی! عورت کو آپ لوگوں کو سنبھالنے کے لیے نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔‘‘

’’جانم! تم روز میرے کام اور میری مغز ماری کا قصہ لے بیٹھتی ہو اور دیکھتی نہیں کہ اسلام دشمن طاقتیں کتنی تیزی سے اپنا کام کر رہی ہیں۔ ان کے پاس کارکن زیادہ، ذرائع و سائل بے اندازہ، علم کار مضبوط، سرمایۂ علم و ادب بے پناہ، پروپیگنڈے کی مشینری تیز رفتار —اور ہم چند جانیں بے سرو سامان، ان سے ٹکر لینے کے لیے میدان میں قدم رکھ کر مجبور ہیں کہ ہر قطرۂ خون نچوڑ دیں۔‘‘

’’میں اس سے نہیں روکتی، لیکن میں جانتی ہوں کہ تم میرے لیے خواہ مخواہ کا بار بڑھا رہے ہو، تمہیں میری ضروریات کی بڑی فکر رہتی ہے حالاں کہ وہ میری ضروریات نہیں ہیں وہ تمہاری خود تجویز کردہ ہیں، بس میں اس سے روکنا چاہتی ہوں۔‘‘

’’بیگم! میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ جب میں تمہیں ان کپڑوں میں دیکھتا ہوں — اور تمہیں برتن مانجھتے اور کپڑے دھونے اور جھاڑو پونچھا کرتے پاتا ہوں تو مجھے کتنی پریشانی ہوتی ہے۔ ذرا لاؤ ادھر ہاتھ! یہ دیکھو تو کیسی چڈھیاں پڑی ہوئی ہیں، جلد کس طرح پھٹ رہی ہے، میں یہ حالت دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ تم نہ جانے کیا خیال کرتی ہوگی؟‘‘

’’اجی چھوڑیے مجھے بہکائیے نہیں، اسلام کے سوا مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ آپ پورا وقت دعوت حق میں صرف کیجیے پھر مجھے یہ کپڑے بھی محبوب ہونگے، یہ چڈھیاں بھی پیاری ہوں گی یہ پھٹی ہوئی جلد بھی عزیز ہوگی۔ مجھے فخر ہے کہ میرا جوڑا ایسے شخص سے لگا جو بلند فکر، عالی ظرف، سلیم الطبع، پاکیزہ کردار اور تحریک اسلامی کا سرگرم سپاہی ہے مجھے اور کچھ نہیں چاہیے!‘‘

’’تمہیں کچھ نہیں چاہیے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس مہنے تمہارے لیے کسی نہ کسی طرح ایک اونی شال خریدنے کا انتظار کرلوں۔ عمر گزر گئی اور تم کو ایک شال خرید کے نہ دے سکا۔‘‘

’’لاحول و لا قوۃ، رفیق من! میں شال کبھی نہ اوڑھوں گی قسم کھاتی ہوں!‘‘

’’کیوں‘‘

’’اگر آپ کو کچھ گنجائش ملے تو براہ کرم پہلے اپنے لیے کوٹ سلوائیے جب تک کوٹ آپ کے بدن پر نہ ہوگا، میرے سر کو شال گوارا نہ ہوگی۔‘‘

’’تو اعلانِ جنگ ہوانا؟‘‘

’’ہا… ہاں… ہاں جنگ تو جنگ سہی!‘‘

’’ہونی بھی چاہیے، اتنی مدت ہوئی ازدواجی زندگی کو اور کسی دن کوئی جنگ نہ ہوسکی!‘‘

’’چاہیے تو سہی…!‘‘

’’پھر بنائیں پروگرام!‘‘

اسلام نے ہم پر کتنا کرم کیا ہے، کتنا سکون دیا ہے، کتنی صاف ستھری زندگی ہے، گھر کی کشتی وقت کے سمندر میں ہچکولے لیے بغیر کیسی سبکی سے رواں ہے۔ اے اللہ تیرا شکر۔‘‘

(۲)

’’امی! دیتھئیے مدھے جلّی نے تپت لدادی ہے۔‘‘

’’ہائیں! جلی نے میری بچی کو، میری منو کو چپت کیوں لگا دی۔‘‘

’’جلی مجھ سے دیندماندتا تھا۔‘‘

’’تو چپت زور کی لگی یا ہلکی سی۔‘‘

’’امی بالکل ہلتی سی!‘‘

’’تو پھر جلی کو بھی لگائیں چپت؟‘‘

’’ماں، امی، جلی پارا بھائی دان!‘‘

’’منو! یہ گیند، میں تم کو دینے آیا ہوں، امی! مجھ سے غلطی ہوگئی منو مجھ سے روٹھ آئی ہے۔‘‘

’’میری منو اپنے بھائی جان سے نہیں روٹھتی!‘‘

’’امی! منو سے کہئے، مجھے معاف کردے۔‘‘

’’جلی بڑا اچھا ہے، منو بڑی نیک ہے، دونوں کو بڑے ہوکر نیکی کا سپاہی بننا ہے۔‘‘

’’مگر امی میں منو سے معافی مانگنے آیا ہوں۔ یہ مجھے معاف نہ کرے گی تو اللہ میاں اپنی عدالت میں مجھ سے حساب لیں گے، امی خدا کے فرشتے ہماری سب باتیں لکھ رہے ہیں۔ انھوں نے لکھ لیا ہوگا کہ جلی نے منو کو چپت لگائی۔ اور میں نے امی واقعی ہلکی سی چپت لگا دی تھی۔ اب منو مجھے معافی دے دے تو پھر اللہ میاں بھی معاف کردیں گے۔ میں نماز پڑھ کر دعا بھی مانگوں گا۔‘‘

’’جلی میرا نیک بچہ ہے، منو اسے معاف کردے گی، منو کہو معاف کیا!‘‘

’’ماپھ — جلی — ماپھ!‘‘

(۳)

’’ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئی ہیں کہ انجمن ترقی خواتین کا پیغام پہنچائیں!‘‘

’’بہت شکریہ! تو بہن ترقی خواتین کیا ہیں؟‘‘

’’عورتوں سے مردوں نے ان کے حقوق چھین رکھے ہیں، ملاؤں نے ان کو پردے میں جکڑ ڈالا ہے۔ حالاں کہ ان کو مردوں کے دوش بدوش قوم اور ملک کی بیش بہا خدمات انجام دینی چاہئیں۔‘‘

’’یہ ساری باتیں میرے لیے بہت دلچسپ ہیں۔ بہن! حقوق دینے والا مرد کون ہوتا ہے۔ مجھے تو اپنے لیے جو حقوق لینے ہیں وہ خدا و رسول سے لینے ہیں اور وہ مجھے حاصل ہیں، لیکن دوسری طرف میرے سامنے سوال صرف حقوق ہی کا نہیں، حقوق سے زیادہ فرائض اور ذمے داریوں کا ہے۔ حقوق اگر مجھے کم بھی ملے تو اس پر خدا گرفت نہ کرے گا لیکن ادائے فرائض میں کوتاہی ہوئی تو کس طرح نجات پاسکوں گی۔ اآپ ترقی خواتین سے صرف حقوق حاصل کرنا مراد لیتی ہیں یا ادائے فرائض بھی؟ اور ہاں بہن! میں نے تو اپنا پردہ خود خدا کی کتاب اور اس کے رسول کے احکام کو پڑھ سمجھ کر حاصل کیا ہے، کسی ملا سے میں نے اسے نہیں پایا۔ مجھے ان تمام نتائج سے نفرت ہے جو بے پردہ سوسائٹیوں میں برآمد ہو رہے ہیں۔ میں سرخی پوڈر کی نمائش نہیں کرنا چاہتی، سڑکوں پر گھومنا درست نہیں سمجھتی، میں وزرا کو گارڈ آف آنر پیش کرنا گناہ سمجھتی ہوں، میں ضیافیوں میں مردوں کے ساتھ بیٹھ کر تصاویر کھچوانا حرام جانتی ہوں، میں آزاد محبت کی قائل نہیں، میں برتھ کنٹرول کو جرم یقین تصور کرتی ہوں، کسی مرد کے دباؤ سے نہیں، مولویوں کے وعظوں کے اثر سے نہیں، خود اپنے علم، اپنے دین اور اپنی عقل کی بنیاد پر۔ میرے نزدیک یہ سب کچھ عورت کے تنزل و انحطاط کا پروگرام ہے۔‘‘

’’مگر ملک کے صنعتی ترقی اور دفاعی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عورتیں صرف بچے پالنے کی مشینیں بن کے نہ رہیں، بلکہ پردے سے باہر آکر اعلیٰ درجہ کی خدمات انجام دیں۔‘‘

’’یعنی بچے پالنا اور گھر کی ریاست کو چلانا کوئی گھٹیا کام ہے اور اعلیٰ کام وہ ہیں جو مرد کرتے ہیں، حالاں کہ میری نگاہ میں ملک کی دولت میں اضافہ کرنے، جوتوں، سائکلوں اور کپڑے کی پیداوار بڑھانے اور اس سے بھی آگے نکل کر بندوق چلانے سے زیادہ اہم، زیادہ ارفع و اعلیٰ، زیادہ قیمتی اور استحکام بخش خدمت بچوں کی تعمیر فکر و سیرت ہے۔ میں اس انتہائی اہم صنعت کی انچارج ہوں جسے مرد انجام نہیں دے سکتا، اور میں اس مورچے پر لڑ رہی ہوں جہاں صرف عورت ہی معرکہ سر کرسکتی ہے، مرد نہیں کر سکتا۔‘‘

’’مگر بیگم! آپ جیسی عورتیں قدامت پسندانہ خیالات میں مبتلا رہیں گی تو ملک پیچھے رہ جائے گا۔‘‘

’’جی ہاں! ملک آگے تو اسی صورت میں ہوگا ناں جب کہ اسے نظامِ تمدن و حکومت کو چلانے کے لیے پانچ فیصدی کارکن بھی ایسے ملیں جن کے سیرت و کردار پر پورا پورا بھروسہ کیا جاسکتا ہو۔ ذرا دیکھئے تو جاکر معاشرہ کا حال، کون سا پہلو ہے جس پر خیانت مسلط نہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عورت نے ملک کی اخلاقی قوت کی تعمیر کی ذمے داریوں اور اس کی (Manpower) کو مضبوط کرنے کے فرائض کو چھوڑ کر غیر ضروری مشاغل اختیار کرلیے ہیں۔ میں گھر میں قید ہوکے نہیں پڑی ہوں، بلکہ اس نگار خانے میں انسان سازی کے آرٹ کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہوں۔ یہ ذمہ داریاں، کسی فرض شناس عورت کو دوسرے کاموں اور خصوصاً تفریحات اور سوسائٹی میں گردش (Move)کرنے کے لیے ایک منت بھی نہیں دے سکتیں۔‘‘

’’اور کیا ابتدائی زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور صحابیات نے لڑائی میں خدمت نہیں کی ہے؟‘‘

’’بہن ضرور، مگر صرف ہنگامی حالات کے اندر ایسا ہوسکتا ہے۔ ایسی ضرورت پڑے تو میں اپنا موجودہ محاذ عارضی طو رپر چھوڑ کر محاذ جنگ پر جاسکتی ہوں، مجھے سائیکل چلانا، موٹر ڈرائیونگ، بندوق چلانا، فسٹ ایڈ کی تربیت حاصل ہے، کسی قدر نرسنگ بھی کرسکتی ہوں اور ان صلاحیتوں کو لے کر زیادہ سے زیادہ ممکن پردہ دارانہ حدود کے ساتھ بوقت ضرورت خدمت ملک میں آپ سے پیچھے نہ رہوں گی۔ مگر مجھے مظاہرۂ حسن و جمال سے نفرت ہے، مجھے تصویریں کھچوانے سے دلچسپی نہیں، مجھے دوسری فضولیات کے لیے وقت نہیں ملتا، کیوں کہ میں مردوں کے کاموں سے زیادہ اہم اور قیمتی فرائض میں مصروف ہوں۔‘‘

’’چلئے، آپ کے خیالات درست سہی، لیکن آپ دوسری خواتین کی تعلیم و تنظیم کے لیے بھی کیا کچھ کرنا ضروری نہیں سمجھتیں۔ ہماری انجمن کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں کو ترقی کی راہ پر لگایا جائے۔‘‘

’’اللہ کے فضل سے میں اپنی دوسری بہنوں میں کام کرنے کی سعادت سے محروم نہیں ہوں۔ میں ان کی ترقی کے لیے جو کچھ بن آتا ہے، کرتی ہوں لیکن میرا تصور ترقی ہی دوسرا ہے۔ میں اپنی رشتہ دار خواتین، اپنی پڑوسنوں اور سہیلیوں سے ربط رکھتی ہوں اور ان کو اسلام کے بنیادی اصولوں کی تعلیم دیتی ہوں، ان کو عبادات کی تلقین کرتی ہوں، ان کے اندر اسلام کی اخلاقی قدریں ابھارتی ہوں، انہیں قرآن و حدیث سے آشنا کرتی ہوں، ان کو زوجین کے حقوق و فرائض بتاتی ہوں، ان کو پردے کی تعلیم دیتی ہوں، ان کو بچوں کی تربیت کا اسلامی طرز سکھاتی ہوں، ان کے اجتماعات کرتی ہوں، ان میں باہمی اخوت و ہمدردی اور تعاون کی اسپرٹ ابھارتی ہوں، ان کو مغربی معاشرت کے مفاسد سے آگاہ کرتی ہوں۔ مگر یہ سارے کام میں صرف اس حد تک کرتی ہوں کہ نہ تو میں گھر کے نظم و نسق میں کوتاہی کروں، نہ بچوں کی تعمیر سیرت کی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال دوں۔ میرے اولین فرائض ہیں!‘‘

’’تو آپ ہمارا ساتھ نہیں دیں گی۔‘‘

’’آپ اگر اسلام کے اصولوں پر کام کریں تو میں ہمہ تن حاضر ہوں اور اگر کسی اور روش پر چلیں تو نہ صرف یہ کہ تعاون نہ کروں گی بلکہ انشاء اللہ اپنی قوت کے مطابق آپ کے اصولوں سے جنگ کروں گی۔ اسی کام کے لیے میں اسلام پسند خواتین کو منظم کر رہی ہوں۔‘‘

’’لیکن ہم تو عین اسلام کے اصولوں کی علمبردار ہیں۔ نہیں مانتیں تو ملاؤں کے اسلام کو نہیں مانتیں!‘‘

’’ملا کے اسلام اور اآپ کے اصلی اسلام کا فرق مجھے اچھی طرح معلوم نہیں، لیکن یہ دریافت کرتی ہوں کہ جن کاموں کو میں کر رہی ہوں وہ کون سا اسلام ہیں۔ مثلاً ایمان پیدا کرنا، نماز،نئی نسلی کی تربیت، گھر کی فضا کو درست رکھنا، خواتین کو مغرب کی جاہلی تہذیب سے بچانا وغیرہ۔ آپ کے خیال میں ملاؤں کا اسلام ہیں یا خدا و رسول کا؟‘‘

’’یہ سارے کام بھلے کام ہیں بیگم!‘‘

’’تو ذرا ارشاد ہو کہ آپ کی انجمن ان میں سے کون کون سے کام کر رہی ہے؟‘‘

’’ہماری انجمن یہ کام تو نہیں کرتی، وہ تو عورتوں کی ترقی کے لیے کوشش کر رہی ہے!‘‘

’’ترقی یہ کہ ایک تو عورتوں کو بے پردگی کی تعلیم دی جائے، دوسرے مردوں میں گھلنا ملنا سکھایا جائے، تیسرے تربیت نسل کی ذمہ داریوں سے غافل کیا جائے، چوتھے خاندان کا ادارہ اجاڑ دینے کا اہتمام کرایا جائے، پانچویں جو کام مردوں کے حصے میں آئے ہیں ان کو اعلیٰ اور معزز تر سمجھنے اور ان پر رشک کرنے کا درس دیا جائے۔ یہ ہے ناں اصلی اسلام!‘‘

’’بات اصل میں بحث میں پڑ گئی۔ آپ مردوں کے لگائے ہوئے جال میں الجھ چکی ہیں۔‘‘

’’نہیں نہیں، بحث کا کیا مقام، صورت یہ ہے کہ مرد کی اصل فریب زدہ عورت وہ ہے جو اس کے لیے بنتی، سنورتی اور تھرکتی پھرتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے خلاف مردانہ کاموں کا بار اپنی اصل ذمہ داریوں کے ساتھ شامل کرتی جا رہی ہے۔ اس کا صلہ کیا ملتا ہے۔ خوشنما لفاظی، دل پسند ادبی فقرے ، خوشامد کے کلمات، حقیر سی شہرت!‘‘

’’امی! امی! اذاں ہو رہی ہے، نماز کا وقت ہوگیا۔‘‘

’’اچھا، وقت ہوگیا۔ جاؤ جلّی، منّو کو بھی بلاؤ، وضو بناؤ پھر مل کر نماز ادا کریں گے۔‘‘

’’اچھا بہن ! ہم لوگ جاتے ہیں، السلام علیکم!‘‘

’’آپ ذرا ٹھہرتیں، ابھی چائے بنتی، مجھے افسوس ہے کہ کوئی تواضع آپ کی نہ کرسکی۔ خدا کے لیے ذرا رک جائیے!‘‘ نہیں ہم جاتے ہیں۔

’’اچھا خدا حافظ۔ وقتاً فوقتاً ضرور ملتی رہیے، بڑی خوشی ہوئی!‘‘

(۴)

’’میں کھانا نہیں کھاؤں گا، سر میں درد سا ہے۔‘‘

’’آپ نہیں کھائیں گے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تنہا میں کھالوں گی۔‘‘

’’نہیں خدارا! تم کیوں فاقہ کرو۔ ایسی اندھی محبت کا کیا موقع!‘‘

’’جی! یہ محبت اندھی نہیں ہے، اس کی آنکھیں تو جب سے چار ہوئی تھیں، چار ہی چلی آرہی ہیں!‘‘

’’میں اب جبراً کیسے ٹھونسوں؟‘‘

’’مجھے شبہ ہے کہ آپ بیمار نہیں ہیں بلکہ کسی پریشانی میں مبتلا ہیں اور اپنی عادت کے مطابق مجھ سے چھپا رہے ہیں۔ سرتاج من! جان گھلانا کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ یا تو مشکلات کی گرہیں کھولنی چاہئیں یا ان کو بھلا دینا چاہیے اور یا پھر ڈٹ کے مردانہ وار ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ لائیے میں سر دَبادوں اور آپ ذرااپنے ضمیر کی قیامت اگل ڈالیے، مجھ سے نہ کہیں گے تو کس سے کہیں گے۔‘‘

’’میں اپنی پریشانیوں کا بوجھ خود ہی اٹھانا پسند کرتا ہوں، تم پر لادنے کو ظلم سمجھتا ہوں۔‘‘

’’اے سبحان اللہ! یہاں ابھی تک من دیگرم تو دیگری ہی کا سماں ہے!‘‘

’’کوئی خاص پریشانی ایسی تو ہے بھی نہیں کہ اپنے سوا کسی اور سے کہہ سکوں۔‘‘

’’مگر مجھ سے کہنا اپنے سوا کسی اور سے کہنے کے معنی نہیں رکھتا!‘‘

’’میں کھانا لاتی ہوں، اتنے میں آپ اپنی بات کہنے کے لیے موزوں الفاظ تلاش کیجیے۔‘‘

’’دیکھئے یہ جناب والا کے لیے خاص طور پر شامی کاب بنائے گئے ہیں، اور یہ ذرا سا سوہن حلوہ بھی کہیں سے آگیا ہے، اب اگر آپ نے کھانے میں کوئی کوتاہی کی تو دسترخوان میدانِ جنگ بن جائے گا۔‘‘

’’اور اسلحہ جنگ؟‘‘

’’چمچے تلوار کا کام دیں گے اور پلیٹیں ڈھالوں کا۔‘‘

’’لیکن ڈونگے؟‘‘

’’یہ بڑے اچھے خود بن جائیں گے۔ اور دسترخوان مرہم پٹی کے کام آئیے گا، نرسنگ مجھے آتی ہے۔

’’یعنی پہلے خود ہی زخم لگاؤگی اور پھر خود ہی نرس بن کر مرہم پٹی کرنے بیٹھ جاؤگی۔‘‘

’’جی ہاں! ہم لوگ ایسا ہی کرتے ہیں، خود ہی زخم لگاتے ہیں پھر خود ہی مرہم پاشی بھی کرتے ہیں۔‘‘

’’دسترخوان پر نمک بھی موجود ہے،‘‘

’’مرہم پاشی بعد میں، پہلے نمک پاشی!‘‘

٭٭

’’تو آخر آپ کن سوچوں میں پڑے اپنے اعصاب کو تباہ کیے دیے رہے ہیں؟‘‘

’’کچھ نہیں! دردِ سر تو ویسے ہوگیا ہے، سوئِ ہضم کی وجہ سے! البتہ ایک احساس بھی ستا رہا تھا کہ …‘‘

’’کہ حرفِ بیان ہے اور اسے زبان پر لانے کے بعد سکوت اختیار کرلیا جائے تو گرامر بچاری شہید ہوجاتی ہے۔‘‘

’’توبہ ہے تم عورتوں کی نکتہ آفرینیوں سے!‘‘

’’تو ہاں آپ نے فرمایا کہ۔‘‘

’’بھئی کیا کہوں!تم نے تو بات کا بتنگڑ بنا ڈالا۔ قصہ یہ ہے کہ آج کل ہمارا کام جن نازک منزلوں سے گزر رہا ہے، وہ تو تم جانتی ہی ہو۔ قدم قدم پرمالی مطالبات سامنے آتے ہیں، اور اسلام کو اپنے لیے نام لیوا ملے بھی تو ہم جیسے غریب لوگوں کے طبقے سے۔ آج ایک ضرورت سامنے تھی اور افسوس کہ ہم سارے ساتھی مل کر بھی اسے پورا نہ کرسکے۔ چار ہزار روپے فوری طور پر مطلوب تھے لیکن صرف ڈھائی ہزار ہوسکا اور وہ بھی پوری طرح جیبیں نچوڑنے کے بعد! اس صورتِ حالات سے میں شدید طور پر متاثر ہوا ہوں کہ کل خدا کو ہم کیا منہ دکھائیں گے کہ محض ڈیڑھ سو روپے کی کمی نے ایک موقع پر مقصد کو نقصان پہنچا دیا اور ہم کچھ نہ کرسکے۔ افسوس کہ میرے پاس نہ اندوختہ ہے، نہ کوئی قابل فروخت قیمتی چیز! یہ تھی داستان اور تم سمجھتی ہوگی کہ میں شاید دل ہی دل میں تمہارے خلاف شکایت پال رہاہوں گا۔‘‘

’’جی نہیں میں آپ کے دل کا حال جانتی ہوں، جو شکایتوں کی فصل دینے کے لحاظ سے قطعی طور پر بنجر ہے۔ آب پاشی اور کھاد دینے سے بھی کچھ نہ بنے گا۔‘‘

’’تمہارے ہاتھ کے شامی کباب کبھی کبھی تو غضب کے ہوتے ہیں۔ مگر سوہن حلوا اتنا تھوڑا ہے کہ میں تمہیںسارے کا سارا فی سبیل اللہ بخشتا ہوں۔‘‘

’’مگر یہ نا چیز اس خاندان سے تعلق رکھتی ہے جس کے لیے قیامت تک خیرات لینا نبی صلعم نے ممنوع قرار دیا ہے۔ لہٰذا عطائے توبہ لقائے تو!‘‘

’’ادھر اس بندے کا تعلق بھی ایسے خاندان سے ہے جس کے لیے ایک مرتبہ کی دی ہوئی چیز کو واپس لینا داغ ننگ بن جاتا ہے۔‘‘

’’داغ تو میں دھولوں گی، ورنہ ہمارا دھوبی یہ کام کر دے گا۔‘‘

بھئی تم کھالو، اس طرح ذائقہ تمہیں مل جائے گا اور ثواب ہمیں!‘‘

’’مرد اسی لفاظی سے اپنے بوجھ عورت کے سر ڈالتا ہے۔‘‘

معلوم ہوتا ہے کہ اگلے دن جن ترقی پسند خواتین کے وعظ کا تذکرہ کر رہی تھیں ان کا کچھ نہ کچھ اثر ہوگیا۔ اب میں ان کو مکان میں گھسنے نہ دوں گا۔‘‘

’’عورتوں کے معاملے میں عورت ہی آخری اتھارٹی ہے، آپ نہیں! اچھا چھوڑئیے! میں آپ کی پریشانی دور کرنے کا انتظام کرتی ہوں۔‘‘

’’ہے کچھ رکھا ہوا؟‘‘

’’مالیات میں عورت ہمیشہ مرد سے آگے رہتی ہے۔ میں اپنے جھمکے آپ کی وساطت سے خد ا کے دین کے لیے پیش کرتی ہوں۔‘‘

’’ہاہا نہیں، ایسا نہ کرو! زیور عورت کی جان ہوتا ہے۔‘‘

’’میں آپ پر احسان نہیں کر رہی اور نہ آپ جیسے دس ہزار کی ناز برداری کے لیے یہ کرسکتی ہوں، مجھے تو اپنا اندوختہ اللہ میاں کے بنک میں آخرت کی ضرورت کے لیے جمع کرانا ہے۔‘‘

’’لیکن میں ریاست خاندان کے صدر کی حیثیت سے حکم دیتا ہوں کہ ایسا نہیں کیا جاسکتا!‘‘

’’حضور والا! صدر ہیں، لیکن آپ کے اختیارات حدود اللہ کے باہر صفر ہیں اور میں اپنے املاک کے بارے میں جو آزادی رکھتی ہوں اس میں مداخلت کرنا حدود اللہ کی خلاف ورزی ہے، یہ ہے اس ریاست کے نظم کا ایک کانسٹی ٹیوشنل مسئلہ!‘‘

’’اچھا تو درخواست کرتا ہوں کہ میری جذباتی ترغیب کے تحت ایسا نہ کیجیے، بعد میں آپ جب کانوں کو جھمکوں سے خالی پائیں گی تو آپ کو دکھ ہوگا۔‘‘

’’آپ نے سخت بدگمانی کی، میں اپنے جھمکے کوئی رشوت دینے کے لیے دے رہی ہوں، کسی گناہ کے لیے پیش کر رہی ہوں، یا کیا آپ سے جزا لینے کے لیے خرچ کرنا چاہتی ہوں۔ جب یہ معاملہ میرے اور خدا کے درمیان ہے تو آپ مداخلت کیوں کرتے ہیں؟ کسی نیکی کے کام میں مزاحم ہونا خود ایک گناہ ہے۔ بجائے اس کے کہ آپ میری ہمت بندھائیں الٹا مجھ میں کمزوری پیدا کر رہے ہیں۔‘‘

’’ہاں مجھ سے غلطی ہوئی — جزاک اللہ! —

ربنا ہب لنا من ازواجنا و ذریتنا قرۃ اعین و اجعلنا للمتقین اماما!‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
نعیم صدیقی

Leave a Reply