4

ہر بازی ہار گئی میں

اس دن نکہت کو ایک دھچکا سا لگا، وہ تلملا اٹھی۔

اپنے کالج کے اسٹاف ممبروں کے سامنے گویا وہ سبک ہوگئی تھی۔ اس کو زک پہنچی تھی، جب اسٹاف ممبر اس دن گھر آئے تو وہ انہیں فخریہ طور پر اپنے منے اور منی کو دکھانا چاہتی تھی۔ دونوں بچے تھے بھی بڑے پیارے … گورے چٹے… گول مٹول اور ہنس مکھ۔ قد بھی خوب پایا تھا۔ تین چار سال کے تو تھے مگر چھ سات سال سے کم نہیں لگتے تھے۔ ابھی لے آئی بچوں کو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اندر چلی آئی۔ بچے کچن میں اپنی نانی کے پاس بیٹھے کھیل رہے تھے۔ نانی ماما کو ہدایت دے رہی تھی، اپنی ممی کو آج خلاف معمول کچن میں دیکھا تو وہ نانی کے قریب سرک گئے۔ نکہت نے منی کو گود میں لینا چاہا تو وہ رو پڑی اور منا نانی کی پیٹھ سے لگ کر بیٹھ گیا۔ وہ دونوں ہلنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ نکہت چمکار کر پاس بلاتی رہی مگر نانی کا پلو بچوں سے نہ چھوٹا۔ نکہت کا خون کھولنے لگا اور نہ جانے کیوں ایکا ایکی، اس کے دل و دماغ میں یہ خیال دوڑ گیا کہ ماں اس کی دشمن ہے۔ اس نے اپنے بچوں کو اس سے دور کر دیا ہے، اس سے چھین لیا ہے۔ ’’کیا بے ہودہ پن ہے منی، چلو وہ لوگ تمہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ تقریباً دبی آواز میں چلا اٹھی۔

’’نئے لوگ ہیں نا، بچے جو ٹھہرے، جانے سے گھبرا رہے ہیں۔‘‘ ماں نے وکالت کی، نکہت کو ایسا لگا کہ ماں نے جیسے طنز کیا ہے کہ وہ بھی تو اپنے بچوں کے لیے نئی ہے۔ صبح اٹھ کر وہ کالج چلی جاتی اور شام میں لیڈیز کلب سے گھر پہنچتے پہنچتے دیر ہو جاتی، اس وقت بچے سو رہے ہوتے، صرف اتوار کا ایک دن ایسا تھا جب کہ وہ ننھوں کو ہنستے کھیلتے دیکھ سکتی تھی۔

’’بیٹی، میں لیے آتی ہوں، تم چلو‘‘ ماں نے کہا اور نکہت کا کسی نے کلیجہ نوچ لیا، وہ تو غیر ہوگئی، جیسے وہ بچوں کی ماں نہیں، وہ تو اُن نئے لوگوں میں ایک ٹھہری۔

’’کیوں، بچے کہاں ہیں؟!!‘‘ اسٹاف ممبر میں سے ایک نے پوچھا، نکہت نے ایسا محسوس کیا کہ کوئی ہنسی اڑا رہا ہو، وہ ایک دو لمحوں کے لیے بت بنی کھڑی رہی۔

’’ہاں… ہاں انہیں ماں لے کر آرہی ہیں‘‘ وہ یہ کہتے ہوئے شرم سی محسوس کر رہی تھی، مانو اس نے کھلے طور پر یہ اقرار کرلیا کہ بچے اس سے مانوس نہیں… اس سے دور بھاگتے ہیں … بچوں سے بھلا اس کا کیا رشتہ ۔۔۔ وہ تو غیر ہے اس گھر میں … وہ کسی کی کچھ نہیں لگتی، وہ ماں نہیں ہے…

بچوں کو لے کر جب ماں ڈرائنگ روم میں آئی، تو بچوں کو ماں سے یوں لگے ہوئے دیکھ کر اس کا رواں رواں رشک و حسد کی آگ میں جل اٹھا۔ ماں اس کی نظروں میں ایک ڈائن تھی، جس نے اس کے بچوں پر ایسا جادو کر دیا تھا کہ وہ اپنی ممی کو بھلا بیٹھے تھے۔

’’سویٹ چلرنگ نکہت‘‘ روزی نے منے کو اپنی گود میں لے کر سینے سے بھینچ لیا، نکہت کے دل میں اس وقت یہ آرزو مچل اٹھی کہ وہ منے کو اپنے سینے سے لگالے، اپنے میں چھپائے مگر ان کے سامنے ایسا کر بھی نہ سکتی تھی۔ مبادا وہ رو پڑے اور اس کی مامتا کا کہیں مذاق نہ اڑ جائے… نہ جانے کیسی ماں ہے اور کیسے بچے … بچے تو اپنی ماں کی گود کے لیے مچلتے ہیں مگر وہ تو عجیب ماں ہے اور بچے بھی عجیب و غریب…

’’سویٹ گرل… ‘‘ پریمہ کماری نے منی کو لے کر اس کے روئی جیسے گالوں کو پیار سے چھوا۔ نکہت کا جی چاہتا تھا کہ وہ منی کے گالوں کو خوب چومے۔

نہ جانے کیوں اس دن اس کی مامتا جاگ اٹھی۔۔۔ اس سے قبل اس کو کیا ہوگیا تھا… اتنے پیارے بچوں کا کبھی کیوں خیال نہیں آیا۔۔۔ ان کے وجود سے وہ بے بہرہ کیوں تھی… کیوں؟ کیوں؟ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا مگر وہ ٹھیک طور سے کہہ نہیں سکتی تھی۔

دوسری اتوار وہ گھر چھوڑ کر کہیں نہیں گئی۔ وہ اپنے کمرے کے بجائے ڈرائنگ روم میں ٹی وی کے قریب بیٹھی دکن کے لوگ گیت سن رہی تھی، بچے کھیلتے کھیلتے ڈرائنگ روم میں چلے آئے، اپنی ممی کو غیر متوقع یہاں پایا تو وہ باہر نکل جانا چاہتے تھے مگر نکہت نے منی اور منے کے ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کرلیا، اس نے دونوں کے ننھے ننھے نازک ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبائے رکھا، ان کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتی رہی۔ بچے محو حیرت بنے گھورے جا رہے تھے کہ نہ جانے ان کی ممی پر یہ کیا جنون سوار تھا اور جب اُنہیں نکل بھاگنے کا موقع ملا تو وہ اس کی گرفت سے آزاد ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ نکہت کی آنکھوں میں آنسو تیر گئے۔ اس نے اپنے میاں کی یکایک آواز پر دو پٹہ سے اپنے آنسو پونچھ لیے مگر ننھے ننھے آنسوؤں کے قطرے پلکوں پر ناچ کر چغلی کھا رہے تھے۔

’’کیا بات ہے نکہت‘‘ کلیم نے قریب آکر پوچھا۔ اس سوال پر وہ رو پڑی۔ وہ اپنے میاں کے سینے سے لگ کر ایسے زار و قطار رونے لگی مانو اس گھر میں کسی کی موت ہوگئی ہے۔

’’بھئی کیا بات ہے بھلا‘‘ کلیم حیران و پریشان تھے، ان کی قمیص بھیگ گئی تھی۔

’’کچھ بھی تو نہیں‘‘ نکہت نے بات کو ٹالنے کے لیے کہا۔ یوں ہی جی چاہا کہ رولوں۔‘‘

’’بھلا یوں بھی کوئی ہچکیوں پر آجاتا ہے؟ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔‘‘ کلیم نے ٹھوڑی کو اونچا کر کے آنکھوں میں جھانکا۔ نکہت کے آنسو پھر سے اُمڈ پڑے، وہ میاں کے سینے سے لگ گئی۔

’’کوئی بات ضرور ہے؟‘‘ کلیم بولے: ’’نکہت کہتی تو کیا کہتی، کیا سبب بتاتی… کیا یہ کہتی کہ اس کے بچے غیر ہوگئے… اس سے پناہ مانگتے ہیں… دور بھاگتے ہیں … کیا وہ یہ کہہ دے کہ وہ اپنی ماں سے نفرت کرتی ہے، جلتی ہے … رشک کرتی ہے، اس کا وجود اس کے لیے ناقابل برداشت ہے، اس کے اور اپنے بچوں کے درمیان حائل اس دیوار کو ڈھا دینا چاہتی ہے… وہ کسی بھی قیمت پر اپنے بچوں کی محبت واپس لینا چاہتی ہے؟

محرم راز کے سامنے بھی یہ بات اس لیے راز ہی رہی کہ اس نے اس بات پر خبردار کیا تھا کہ عورت کا مقام گھر ہے۔ گھر کی ذمے داریاں اتنی معمولی نہیں کہ عورت ایک ساتھ گھر گرہستی اور دفتر اور کالج کو بہ حسن و خوبی سنبھالے … میاں نے شادی کے تیسرے ہی دن سوال کیا تھا کیا تم سمجھی ہو کہ میری تنخواہ اتنی کافی نہیں کہ ہم چین کی زندگی بسر کر سکیں، کیا یہ ضروری ہے کہ تم بھی ملازمت کرو، میں تو ترکِ ملازمت پر زور نہیں دیتا مگر اتنا ضرور بتا دینا چاہوں گا کہ گھر کی ذمے داریوں کو حسن و خوبی سے سنبھالنا بھی کوئی کھیل نہیں، اس کے لیے تمہاری پوری توجہ درکار ہے… پھر جب ہمارے بچے ہوں گے تو تمہاری ذمہ داریوں میں اور اضافہ ہوجائے گا اور پھر گھر سے باہر رہ کر تم بچوں سے وہ پیار حاصل نہ کرسکوگی جو تمہیں ملنا چاہیے۔‘‘

میاں کا آخری جملہ اس وقت کتنا بے کار اور فضول معلوم ہوا تھا۔ مگر آج حقیقت بنا کھڑا تھا۔ اس نے ترکِ ملازمت کا فیصلہ کرلیا۔ اگر کلیم نے اس کا سبب پوچھا تو؟ کیا میں بات بنا سکوں گی؟

’’اگر میں ملازمت چھوڑ دوں تو کیسا رہے گا‘‘ نکہت اپنے میاں کی ٹائی کی گرہ کو درست کرتے ہوئے بولی۔‘‘ کلیم کی آنکھیں مسکرا پڑیں۔ ’’میں تو ملازمت اس خیال سے کرتی رہی کہ گھر کا جب خرچ بڑھ جائے تو آپ کو زیادہ فکر نہ کرنی پڑے اور آپ پر سارا بوجھ نہ پڑ جائے۔‘‘ وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی۔

’’میں تمہارے لیے سب کچھ کر سکتا ہوں‘‘ میاں گویا آنکھوں ہی آنکھوں میں بولے۔‘‘ تم آرام سے گھر پر رہو اور گھر کی ذمہ داریاں سنبھالو، کمانا تو میرا کام ہے۔‘‘

کلیم کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔ انھوں نے نکہت کی ٹھوڑی کو اونچا کر کے اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملائیں تو شرم سے اس کی پلکیں سو گئیں۔

’’آج میں اپنا استعفیٰ بھجوا رہی ہوں‘‘ نکہت کی پلکیں بدستور سو رہی تھیں۔

آج ترکِ ملازمت کا پہلا دن تھا۔ وہ گھر پر ایک عجیب اور ان کہے احساس سے دو چار تھی۔ چھ بجے شام جب سکوئٹر کی آواز آئی تو نکہت اپنے کمرے سے دوڑ کر پورٹیکو میں چلی آئی۔ اس کو میاں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک عجیب خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے مسکرا کر میاں کی طرف دیکھا، کلیم کا چہرہ کھل اٹھا اور ایک عجیب مسرت ناچنے لگی، پھر وہ لان پر آبیٹھے، چائے وہیں لائی گئی۔ آج اس کا دل خوشی سے بلیوں اچھل رہا تھا مگر وہ ایک چیز کو بری طرح محسوس کر رہی تھی، کاش اس کے بچے دوڑے چلے آتے اور اس کی گود میں مچل جاتے، لپٹ جاتے، چمٹ جاتے۔

ایک ماہ گزر گیا مگر بچے اس سے مانوس نہیں ہوئے۔ وہ اپنی نانی سے لگے رہے۔ اس کا خون کھولنے لگتا۔ وہ کبھی یہ سوچ بھی نہ سکی تھی کہ ان چار سالوں میں بچے اس سے اس قدر دور کھسکتے چلے جائیں گے۔ ایک ماہ کی مدت اس کی اپنی غلطی کے مداوے کے لیے کافی نہیں ہوئی۔

بچوں کے پیار کو اپنانے کے لیے آخر کون سی چال تھی جو نہ چلی، کون سا پانسا تھا کہ نہ پھینکا، کونسا داؤ تھا جو نہ لگایا مگر سب کے سب بیکار گئے۔ وہ اپنی ماں کو اس راہ میں ایک بڑی چٹان تصور کرنے لگی۔ لاشعوری طور پر اس کے من میں یہ خواہش ابھرنے لگی کہ جس قدر جلد یہ چٹان ہٹا دی جائے اسی قدر جلد بات بنے گی۔ بچوں کو ماں سے دور رکھنے کے لیے اس نے بچوں کی دیکھ بھال کا سارا انتظام اپنے کندھوں پر لے لیا۔ تعلیم و تربیت کے سلسلے میں وہ اپنے بچوں پر سختیاں برتنے لگی۔ وہی پابندیاں عائد کرنے لگی جو اس کے بچپن میں اس پر عائد کی گئیں تھیں۔ نانی کو بچوں کی پرورش اور تعلیم سے کوئی زیادہ سرورکار نہیں ہوتا تھا۔ وہ بچوں سے محبت اور ہمدردی سے پیش آتی تھی۔ بچے یہ محسوس کرنے لگے کہ ان کی ماں کونین ہے اور نانی شکر۔ ان کو ایسا لگا کہ ان کی من چاہی ساری چیزیں نانی میں موجود ہیں اور ماں ان سے یکسر خالی۔ لہٰذا بچے پوری طرح نانی کی طرف جھک گئے۔ نکہت کے رشک و حسد کا شعلہ اور بھی بھڑک اٹھا۔ جتنا وہ اپنے بچوں کو اپنے سے قریب کرنے کی کوشش کرتی رہی وہ اس سے اتنی ہی دور بھاگنے لگے، مانو وہ اس کے لیے چندا ماموں بن گئے تھے۔

نکہت کے لیے اب صرف ایک ہی راستہ باقی رہ گیا تھا۔ اس نے میاں کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ اپنے سے دور بچوں کو کانونٹ میں داخل کرا دیں۔ اس نے کلیم کے دل و دماغ میں نہ جانے کیسے یہ بات بٹھا دی کہ گھر سے زیادہ کانونٹ میں رہ کر بچوں کی تعلیم اچھی ہوگی۔ ان کا مستقبل روشن ہوگا۔ میاں خود کب بچوں کو اپنے سے جدا کرنا چاہتے تھے مگر ان کی خوش آیند زندگی کا تصور دل و دماغ میں اس قدر گھر کر گیا تھا کہ نکہت کی ہر بات کو انھوں نے مان لیا۔ نکہت کے لیے بچوں کا گھر پر یا گھر سے دور رہنا دونوں ایک سی بات تھی، پھر امید کی ایک جھلک ضرور تھی کہ اس طرح چند دن دور رہ کر وہ نانی کو بھلا بیٹھیں گے اور شاید وہ اس وقت بچوں کی محبت جیت لے گی سو دانہ پھینکا اور جال بچھا کر اطمینان کی سانس لی۔

’’میں اپنے بچوں کی دشمن نہیں امی جان‘‘ نکہت نے ماں کو تقریباً ڈانٹ دیا، نانی نے بچوں کو گھر سے دور رکھنے کے خلاف برابر احتجاج کیا۔ نکہت کو کیا پتہ کہ جو مسرت ان بچوں سے اس کو حاصل تھی وہ بے دردی سے چھینی جا رہی ہے۔ ان کی زندگی میں ایک خلا سا پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے پاس اتنا بہت سا وقت تھا کہ ان کو نہ سوجھتا تھا کہ کس طرح یہ وقت گزرے۔ بڑھاپا شکست کھاتی ہوئی زندگی ہے، یہاں اپنے بھی پرائے ہیں، بیٹی اپنی ہوکر بھی شوہر کی سب کچھ اور اس کی بہت کم کچھ تھی۔ اپنے جذبہ مادریت کو تسکین ان بچوں ہی سے تھی اور اصل سے بیاج جو پیارا ہوتا ہے؟ پھر جب دبا دبا سا یہ احساس جاگے کہ ان پر کسی اور کا حق ہے تو مامتا مچل اٹھتی ہے۔ مچل اٹھتی تھی نانی کی مامتا، اسے ان بچوں کے قرب نے بڑھاپے کا احساس نہ دلایا تھا، وہ مامتا کے معاملے میں ماضی کی ذرا سی چوک کی کسر بھی پوری کر رہی تھی، وہ ابھی بوڑھی ہونا نہ چاہتی تھی۔ لیکن عملی دنیا میں ان کا خیال ہار گیا کیوں کہ دشمن غیر ہوکر بھی اپنے ہی جگر کا ٹکڑا تھا اور یہ ماں تھی، اُف، ان کی مسرتیں لوٹ لی گئیں۔ بچوں کو اس سے چھین کر اس کو اندھیرے میں دھکیل دیا گیا تھا۔

بچے جدا ہوئے اور جیسے نانی پر سوکھے کی بیماری نے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ وہ گھٹتی اور گھٹتی چلی گئیں۔ نکہت کے دل میں نہ جانے کیا کیا خواہشیں ابھر رہی تھیں جن کا اظہار اس کی ذات تھی، لاشعور میں یہ دبی دبی خواہش ابھر رہی تھی کہ کاش ماں کی یہ سنگین دیوار جو اس کے اور بچوں کے درمیان کھڑی ہے جلد ٹوٹ جائے۔ یہ سوچتے سوچتے وہ بعض وقت اپنی نظروں مین خود ذلیل ہوجاتی، اور وہ ایسا ہونا بھی نہیں چاہتی تھی، اس کا فیصلہ وہ خود نہیں کر سکتی تھی۔ وہ مغموم تھی اُداس تھی۔ اس کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ چیخے چلائے، دور کہیں بھاگ جائے جہاں کوئی نہ ہو اور پھر بیٹھ کر سکون سے جی بھر کر روئے۔ اس کو یہ پتہ نہیں تھا کہ دن کیسے بیت رہے ہیں۔ گھر میں کون کون افراد ہیں، وہ دن بھر کیا کرتی ہے، اس کو سکون کیوں نہیں ملتا، اطمینان کہاں کھو گیا، یہ پریشانی اور یہ بے قراری کس لیے، یہ انجانے خوف کیوں!!

ایک دن گویا اس کو ایکا ایکی یہ پتہ چلا کہ اس کی ماں بستر مرگ پر ہے اور اپنی آخری خواہش کے طور پر اپنی بیٹی سے یہ التجا کر رہی ہے کہ منے اور منی کو فورا گھر بلوائے، وہ ان کو مرنے سے قبل دیکھنا چاہتی تھی۔

منا اور منی چلے آئے اور اپنی نانی کی چھاتی سے لگ کر زار و قطار رونے لگے۔ وہ اپنے آپ کو نانی کے سوکھے نمایاں ہڈیوں پر چمڑا منڈھے سینے میں چھپا دینا چاہتے تھے۔ نانی کے لبوں پر ایک مسکراہٹ آئی جو ہمیشہ کے لیے نکہت کے لیے ایک نشتر بن کر رہ گئی۔ اس کو ایک دھچکا سا لگا جب اس کو پتہ چلا کہ جس دیوار کے ٹوٹ جانے کی وہ آرزو اپنے دل میں سینچ رہی تھی، آج سچ مچ ڈھیر ہوگئی تھی۔ اس کو جیسے نجات مل گئی، اطمینان ہوگیا تسکین مل گئی، مگر دوسرے ہی لمحے غم نے اس کا کلیجہ نوچ لیا۔ بچوں کو بہ مشکل نانی کے مردہ جسم سے الگ کیا گیا۔ وہ بچوں کی طرف بے تحاشہ لپکی، ان کی نظروں میں ایک حقارت تھی، نفرت تھی، مانو ان کی آنکھیں کہہ رہی ہوں کہ تم نے نانی کو مارا ہے، تم خونی ہو خونی ہو۔ وہ ماں کی طرف مڑی، اس کی مسکراہٹ کہہ رہی تھی۔

’’اس میں میرا کیا قصور، تم خود اپنے بچوں کی نظر میں غیر ہوگئیں، تم اپنی تفریح اور کاموں میں اس قدر محو ہوگئی تھیں کہ تمہیں اپنی اولاد کا بہت کم خیال آیا۔ ان کو پیار چاہیے تھا اور مجھے اپنی مامتا کے جذبے کو تسکین اور نچھاور کرنے کا موقع، لہٰذا ہم ایک دوسرے سے قریب ہوگئے، میں نے کب چاہا تھا کہ تمہیں دھکا لگے، تم رشک و حسد کی آگ میں جلو، تمہارے بچے تم سے دور بھاگیں، تم نے مجھے اپنی راہ کی رکاوٹ سمجھا، یہ رکاوٹ بھی ختم ہوگئی مگر پھر بھی بچے تمہارے نہیں ہوسکتے۔‘‘

’’ماں، بس کرو ماں! اللہ کے لیے کچھ نہ کہو، میرا کلیجہ چھلنی نہ کرو‘‘ نکہت چیخ رہی تھی ’’میں نے تمہیں بھی کھو دیا اور اپنے بچوں کا پیار بھی نہ پاسکی۔‘‘

’’نکہت! نکہت!! ‘‘ کلیم نے سہارا دے کر اٹھایا۔

’’تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم یہ کیا کہہ رہی ہو، یہ تو تمہارے بچے ہیں۔‘‘

’’آپ ہی بتائیے کہ چار سال میں نے اپنے بچوں کا خیال نہ رکھا، وہ مجھ سے دور ہوگئے، اتنی چھوٹی سی غلطی اور اتنی بڑی سزا، میری ماں ہی رہی اور نہ میں نے اپنے بچوں کا پیار پایا… ہر بازیہار گئی میں۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
نعیم اقبال

تبصرہ کیجیے