ساس بہو کا جھگڑا

کہتے ہیں کہ ساس بہو کا مسئلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اور آج تک قائم ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف برصغیر میں ہے بلکہ کافی حد تک مغربی ممالک میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس مشکل مسئلہ پر کافی غور و خوض اور تحقیق کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ، در حقیقت یہ مسئلہ ملکیت کا ہے۔ جب ماں اپنے بیٹے کو صرف اپنی ملکیت سمجھے اور بیوی اپنے شوہر کو اس حد تک اپنا بنانا چاہے کہ وہ اپنے والدین اور رشتہ داروں سے بھی دور ہوجائے تو ایسی صورت میں کچھ اس طرح کا نقشہ سامنے آتا ہے کہ بیٹا درمیان میں ہے، اس کا ایک بازو ماں نے پکڑا ہوا ہے اور دوسرا بیوی نے اور دونوں اپنی پوری قوت سے اسے اپنی جانب گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ اس کھینچا تانی میں بیٹا جس تکلیف اور اذیت سے گزرتا ہے اس کا حساب شاید کوئی نہیں کرتا۔

ایک جانب ماں ہے جس کا بیٹا اس کے جسم کا حصہ ہوتا ہے، جس کے پاؤں تلے اولاد کی جنت ہوتی ہے، جس کو محبت سے دیکھنا اولاد کے لیے حج کے ثواب کا درجہ رکھتا ہے جو اولاد کے لیے دنیا میں سب سے بہترین سلوک کی مستحق ہوتی ہے اور جس کی دعاؤں سے اولاد پھولتی پھلتی ہے۔ دوسری جانب بیوی ہے، جس کو لباس کہا گیا ہے اور جو اس کی قریب ترین ساتھی، دوست، شریک حیات اور اس کے بچوں کی ماں ہوتی ہے، جس کو اسلام نے بہت حقوق دیے ہیں، پھر بھلا یہ دونوں محترم ہستیاں برسر پیکار کیوں رہتی ہیں؟

ساس بہو کا جھگڑا کیوں ختم نہیں ہوتا اور کیا وجہ ہے کہ بہو جب خود ساس بنتی ہے تو بہو کے لیے اس کی شفقت اور محبت کی شدت میں کمی آجاتی ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں عموماً لڑکوں کو بیوی اور ماں کے درمیان توازن رکھنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ وہ یا تو والدین کے ہوکر رہ جاتے ہیں اور بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتے یا وہ بیوی کے ہوکر والدین سے علیحدگی اختیار کر کے ان کے حقوق سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

اگر شوہر بیوی کے حقوق پورے کرتے ہوئے والدین کے حقوق بھی پورے کرے، دونوں کو اپنی اپنی جگہ اہمیت دے اور اپنے سلوک اور برتاؤ میں توازن رکھے تو خود بھی سکون سے رہ سکتا ہے اور والدین اور بیوی کو بھی شکایات نہیں ہوگی۔ اس طرح گھر کا امن بھی برقرار رہ سکے گا، لہٰذا اس ضمن میں میرے مطالعے میں جو وجوہات یا مسائل آئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

مسئلہ نمبر۱: کچھ گھرانوں میں لڑکیوں کی مائیں اس سوچ کا شکار ہوتی ہیں کہ اگر ان کی بیٹی ساس کو اپنی ماں سمجھنے لگے گی تو اس طرح وہ اپنی بیٹی کو کھو بیٹھیںگی۔ تحت الشعور میں اس خوف اور عدم تحفظ کی وجہ سے مائیں اپنی بیٹی کے ذہن میں شروع ہی سے ساس کا ایک ظالم اور خوفناک ہستی کی حیثیت سے تصور بٹھا دیتی ہیں۔ ایسی ہستی جو ازل سے بہو کی دشمن ہو، وہ اپنی بہو سے جو کچھ بھی کہے گی وہ اسے نقصان پہنچانے اور تکلیف دینے پر مبنی ہوگا۔ وہ اپنے بیٹے سے جو بھی بات کرے گی وہ بہو کی برائی کرنے اور بیٹے کو بہو کے خلاف بھڑکانے کے سوا کچھ نہیںہوگا۔ یہ تصور اور سوچ لے کر جب لڑکی سسرال جاتی ہے تو اسے اپنی ساس کی اچھی بات میں بھی برائی نظر آتی ہے۔ ساس کا ہر عمل اسے اپنے خلاف سازش نظر آنے لگتا ہے۔ یہ ایک بڑی وجہ ہے ساس بہو کے مسئلہ کی اور دوسرے یہ کہ معاشروں میں بھی ساس کا کردار اچھا نہیں دکھایا جاتا۔

اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ والدین جب اپنی بیٹی کی پرورش اور تربیت کریں تو اس دوران ساس کے بارے میں یہ ذہن نشین کرائیں کہ ساس اچھی اور بری دونوں طرح کی ہوتی ہیں۔ اس لیے بہو پر لازم ہے کہ وہ شادی کے بعد ان کے رویے اور برتاؤ کو غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھے، پرکھے اور پھر فیصلے کرے۔ اگر اسے اپنی ساس کے سلوک میں خلوص، محبت اور اچھائی نظر آئے تو وہ اس کا جواب بڑھ چڑھ کر محبت اور احترام سے دے اور اگر ساس کے سلوک میں ظلم، زیادتی اور برائی ہو تو جہاں تک ممکن ہو صبر، تحمل اور درگزر سے کام لے اور اگر ناقابل برداشت ہو تو اس کا سدباب کرے۔

مسئلہ نمبر۲: ایسی خواتین جن کو خود ظالم قسم کی ساس سے سابقہ پڑا ہو اور جو سسرال والوں کے ظلم و ستم کا شکار رہی ہوں، تو ان میں سے جو سمجھ دار ہوتی ہیں وہ اپنی بہو سے شفقت اور محبت سے پیش آتی ہیں کیوں کہ وہ خود جس تکلیف سے گزر کر آتی ہیں، اس کا احساس کرتے ہوئے اپنی بہو کو وہ اذیت نہیں دینا چاہتیں۔ لیکن کچھ ایسی بھی ساسیں ہوتی ہیں، جو انتقاماً اپنی بہو کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر تسکین محسوس کرتی ہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں گھر کے ہر فرد خصوصاْ شوہر اور ان کے علاوہ سسر، نند، دیور، جیٹھ وغیرہ پہ لازم ہے کہ وہ گھر کی بہو پر ظلم نہ ہونے دیں اور ظالم ساس کو ہر طریقے سے منع کرنے کی کوشش کریں۔ اگر یہ بھی کارگر نہ ہو تو خود بہو کو چاہیے کہ وہ شوہر سے کہے کہ وہ اپنی والدہ کو سمجھائیں، اگر پھر بھی فرق نہ پڑے تو شوہر بیوی کو لے کر علیحدہ رہائش اختیار کریں۔ بیٹا خود والدین کے حقوق ادا کرتا رہے، لیکن اپنی بیوی کو ظلم کا شکار نہ ہونے دے۔ یاد رکھئے جب تک معاشرے میں ظلم و ستم برداشت کیا جاتا رہے گا اس وقت تک ظالم ظلم کرتے رہیں گے۔

مسئلہ نمبر۳: اکثر گھرانوں میں ساس اپنی بہو سے یہ توقع رکھتی ہیں کہ وہ ان سے بھی اسی شدت سے محبت کرے جس طرح وہ اپنے والدین سے کرتی ہے اور ہر بات پر اپنی بہو کا مقابلہ اپنی بیٹی سے کرتی ہے، اسی طرح بہویں بھی اپنی ساس سے یہ توقع کرتی ہیں کہ وہ اسی مامتا بھری محبت کا اظہار ان سے کریں جیسا وہ اپنی بیٹی سے کرتی ہیں اور اپنا مقابلہ اپنی نند سے کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں دونوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ یہ سوچ اور توقعات غیر فطری اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں اور ایسی توقعات نہ پوری ہونے کی صورت میں ساس بہو کے تعلقات میں مایوسی کے ساتھ ساتھ کشیدگی اور تناؤ پیدا ہوتا ہے، جو بڑھ کر دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیتا ہے۔

ساس اور بہو کو اس حقیقت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ خونی رشتوں کا مقابلہ تعظیمی رشتوں سے کرنا حقیقت پسندی نہیں۔ ساس اور بہو کے رشتے اور تعلقات کا انحصار ایک دوسرے سے برتاؤ پر منحصر ہے۔ اگر دونوں ایک دوسرے کا مقام تسلیم کریں، عزت اور محبت سے پیش آئیں، ایک دوسرے کی ضروریات اور احساس کا خیال رکھیں اور دکھ سکھ میں شریک رہیں تو یہ رشتہ مضبوط اور مثالی ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ رشتہ خونی رشتہ پر بھی سبقت لے جاتا ہے۔ ہر رشتہ محبت، خیال رکھنے اور قربانی سے مضبوط ہوتا ہے اور اس میں پہل بہو کی جانب سے ہونا زیادہ موثر ہے کیوں کہ وہ سسرال میں باہر سے آتی اور اپنے حسن سلوک سے اپنی جگہ بناتی ہے۔ اس کے برخلاف یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ محبت نچھاور کرنے کی شروعات ساس کی جانب سے ہونی چاہیے کہ وہ اس کے بیٹے کی بیوی ہے۔ اگر وہ بہو کو بیٹی کی طرح محبت دے تو توقع کی جاسکتی ہے کہ بہو بھی بیٹی جیسا برتاؤ کرے۔ دوسری اہم بات یہ کہ شروع ہی سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں تاکہ بعد میں مایوسی اور شکوے شکایات نہ ہوں۔

مسئلہ نمبر۴: ہمارے ہاں معاشرے میں جہاں دوسری بہت سے سماجی برائیاں ہیں، وہیں جہیز کا رواج بھی عام ہے۔ جہیز کے علاوہ شادی کے وقت لڑکی والوں کی طرف سے سسرال والوں کو جوڑے اور ساس کو کڑے یا زیور دینے کا بھی رواج ہے۔ یہ سامان کم ملنے یا نہ ملنے کی صورت میں اکثر سسرال والے، خصوصاً ساس اپنی بہو کو طعنے دیتی رہتی ہے۔ شادی کے بعد لڑکے والوں کی طرف سے اکثر مطالبات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے، جن کے پورا نہ ہونے کی صورت میں ساس بہو کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔

جہیز کے متعلق صرف اتنا کہوں گی کہ لالچی کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مطالبات کرنے والوں کا احتساب ہو، اس ضمن میں معاشرے کی سوچ، رویوں اور رواجوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ساس اور بہو کے تعلقات اگر لین دین کی وجہ سے خراب ہو رہے ہوں تو ایسی صورت میں خاندان کے دیگر افراد پر لازم ہے کہ وہ ساس کو اس کے غیر مناسب رویے کا احساس دلائیں اور اس سے باز رکھیں۔ ساس بہو کے درمیان اچھے تعلقات میں لڑکی والوں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو صحیح تربیت دیں، بزرگوں کی عزت کرنا سکھائیں، صبر، تحمل اور برداشت کی عادت ڈالیں، محبت اور اپنائیت سے رہنے کی تلقین کریں، رشتوں کا حسب مراتب احترام کرنا سکھائیں، شادی شدہ بیٹی کے معاملات میں دخل اندازی سے اجتناب کریں اور بیٹی کے سسرال والوں خصوصاً داماد کو عزت و احترام دیں اور حسن سلوک سے پیش آئیں تو اس طرح یقینی طور پر دونوں گھرانوں میں محبت اور مفاہمت کی فضا پیدا ہوگی اور ساس بہو کے تعلقات بھی بہتر ہوں گے۔

اسی طرح لڑکے والوں کا رویہ بھی نہایت اہم ہے۔ لڑکے کی والدہ چوں کہ اس گھرانے کی منتظم اعلی اور ’’لیڈی آف ہاؤس‘‘ ہوتی ہیں، اس وجہ سے ان کا کردار اور برتاؤ کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اگر وہ گھر میں اتفاق، حسن سلوک اور انصاف کی بنیاد ڈالیں تو گھر کے دیگر افراد باہمی افہام و تفہیم اور سلوک سے رہ سکتے ہیں اور ساس بہو کے درمیان بھی اچھے تعلقات قائم ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر ساس کو بہو سے شکایات ہوں تو بہتر یہی ہے وہ فوری طور پر بات کر کے خود ہی اسے دور کرلیں۔ کسی دوسرے سے بہو کی برائی ہرگز نہ کریں اور نہ ہی رشتہ داروں، ملنے والوں اور پڑوسیوں کو یہ اجازت دیں کہ وہ بہو کے خلاف کوئی بات کریں۔

دوسرے یہ کہ اپنے بیٹے کو بہو کے خلاف بھڑکانا انتہائی غلط رویہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شوہر بیوی کے درمیان نااتفاقی ڈلوانا انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر کسی بات کی وضاحت کرنی ہو تو بیٹے اور بہو دونوں کے سامنے کریں۔ اس ضمن میں گھر کی بہو پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماں اور بیٹے کے رشتے کے تقدس، قربت اور محبت کو ذہنی طور پر قبول اور دل سے تسلیم کرلے اور کبھی بھی اپنا مقابلہ اپنے شوہر کی ماں سے نہ کرے، کیوں کہ دونوں کا مقام اور مرتبہ مختلف ہے۔ اولاد ماں کے جسم کا حصہ ہوتی ہے اور بیوی شریک حیات اور شوہر کا لباس، دونوں کی حیثیتیں اپنی اپنی جگہ نہایت اہم اور مستحکم ہیں، لیکن ان میں تصادم کی کوئی گنجائش نہیں، کیوں کہ دونوں کے دائرہ کار مختلف ہیں، اس لیے بیوی کو ماں بیٹے کی محبت اور تعلقات کے درمیان آنے یا بیٹے کو ماں سے دور کرنے کی کوشش ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ ظلم ہے اور ظلم چاہیے ساس کرے یا بہو، دونوں غلط اور ناقابل برداشت ہیں۔ والدین لڑکے کے ہوں یا لڑکی کے، وہ چراغ سحری ہوتے ہیں۔ جتنے عرصے بھی وہ دنیا میں ہوں، ان کی قدر کرنی چاہیے۔ ان کی دعائیں لینے سے دین اور دنیا دونوں ہی سنورتی ہیں۔ ان کا دل دکھانے یا ان کے حقوق ادا نہ کرنے والا کبھی پھولتا پھلتا نہیں۔ یہ میرا مشاہدہ اور ایمان ہے۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں زندگی انتہائی مصروف ہوگئی ہے۔ اس مصروف اور مشینی زندگی میں انسان ذہنی سکون اور قلبی اطمینان سے روز بروز دور اور دماغی تناؤ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے دور میں ساس بہو کے روایتی جھگڑے کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس طرح ساس، بہو اور بیٹا تینوں ہی ذہنی پریشانیوں اور کرب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ جب کوئی کسی دوسرے کو تکلیف دیتا ہے تو وہ خود بھی ذہنی تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ میرے خیال میں ساس بہو کی چپقلش اور لاحاصل کشیدگی کا اب خاتمہ ہو جانا چاہیے۔

اس سلسلے میں معاشرے کے تمام طبقے، خصوصاً میڈیا کے ذریعے اس موضوع پر مختلف پروگراموں، ڈراموں اور بات چیت کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ انسان اپنی مختصر سی زندگی میں برداشت اور تحمل سے کام لیتے ہوئے تمام رشتوں کے تقدس اور ان کے حقوق کی پاس داری کرے۔ آپس میں محبت اور سلوک سے مل جل کر رہنے کا لطف اٹھائے تو یہی کامیاب زندگی ہے۔ لڑائی جھگڑے کرنے اور ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنے والے نہ خود چین اور سکون سے رہ پاتے ہیں اور نہ دوسروں کو رہنے دیتے ہیں۔ آخر میں سوائے باہمی نفرت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔دیکھئے ڈاکٹر محی الدین غازی نے کتنی قیمتی بات کہی ہے:

ذرا سی زندگی میں دشمنی کیا بغض و کینہ کیا

محبت کے تقاضے پورے ہو جائیں غنیمت ہے!

شیئر کیجیے
Default image
رزینہ عالم خان

Leave a Reply