حضرت خولہ بنت ثعلبہؓ

جی ہاں وہ ایک عورت ہی تھی۔ ایک دن خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت سے لوگوں کے ساتھ کسی ضروری کام سے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں وہی عورت ملی۔ حضرت عمرؓاس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اتنی دیر تک باتیں کرتے رہے کہ ساتھی عاجز آگئے۔ تنگ آکر کسی کی زبان سے نکل گیا۔‘‘ اس بوڑھیا سے تو ہم اکتا گئے۔‘‘ یہ سن کر خلیفہ دوم نے اس شخص کو تیز نظروں سے دیکھا اور فرمایا: کمبخت تجھے معلوم ہے، یہ بوڑھیا کون ہے، یہی وہ عورت ہے جس کی درد ناک آواز اللہ نے عرش سے سنی۔ سن یہ ہے ’’خولہ بنت ثعلبہؓ ‘‘ آیت قد سمع اللہ اسی کے بارے میں نازل ہوئی۔ اگر یہ رات تک ٹھہرتی تو بھی میں سوائے نماز کے کوئی کام نہ کرتا اور اسی سے باتیں کرتا رہتا۔

٭

اوپر سورۂ مجادلہ کے ابتدائی الفاظ کا ترجمہ اور اس کے نیچے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک عورت کی طرف یہ التفات دیکھ کر یہ شوق بھی ابھرتا ہے کہ اس واقعہ کو بھی معلوم کریں، جس نے عرشِ الٰہی کو متوجہ کرلیا اور پھر ایک عورت کو اتنا بلند مرتبہ بنا دیا کہ بڑے بڑوں کے سر اس کے آگے جھک جاتے ہیں۔ اور آج جب ہم اس نیک نہاد خاتون کا نام لیتے ہیں تو ساتھ ہی رضی اللہ عنہا کہنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ آئیے وہ واقعہ سنئے:

حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا ایک مشہور صحابیہ اور مدینے کی بلند مرتبہ خاتون تھیں۔ انصار کے مشہور قبیلہ خزرج سے تھیں اور مشہور صحابی حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ فقہ کا مشہور مسئلہ ظہار انہی بزرگ خاتون کی بدولت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسان ہوا۔ اس کا واقعہ یوں ہے کہ ا ن کے شوہر حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ بڑھاپے میں بہت چرچڑے ہوگئے تھے، ایک بار غصے میں بیوی سے کہہ دیا: ’’انت علی کظھر امی‘‘ یعنی تو مجھ پر میری ماں کی طرح حرام ہے۔

کہنے کو تو کہہ دیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد جب غصہ اترا تو آنکھیں کھلیں کہ یہ کیا زبان سے نکل گیا۔ بہت پریشان ہوئے۔ پریشانی کی بات یہ تھی کہ زمانہ جاہلیت سے ایک رسم چلی آرہی تھی کہ جو شخص ایک مرتبہ بیوی سے ظہار کرلیتا تھا یعنی اس کو اپنی ماں کی طرح حرام کرلیتا تھا تو ہمیشہ کے لیے میاں بیوی کا رشتہ ٹوٹ جاتا تھا۔

حضرت خولہ بنت ثعلبہؓ نے ان سے کہا: ’’تم نے مجھے طلاق دے دی ہے لیکن چوں کہ یہ جاہلیت کی رسم ہے اس لیے نہیں معلوم کہ اس کے بارے میں اللہ اور اللہ کے رسولؐ کا فیصلہ کیا ہو۔ اب تم نبیﷺ کی خدمت میں جاؤ اور جو کچھ کہہ چکے ہو اس کے بارے میں فیصلہ لاؤ۔‘‘

حضرت اوس رضی اللہ عنہ تھے تو جذباتی انسان لیکن تھے نہایت غیرت دار۔ بیوی سے کہا: ’’مجھے اس کے متعلق نبی کریمﷺ سے عرض کرنے میں شرم آتی ہے۔ تم ہی جاؤ، امید ہے کہ اللہ ہم پر رحم فرمائے اور حضورؐ کے ذریعہ اس مسئلہ میں سہولت بہم پہنچائے۔

خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاکر حضورؐ سے ملیں۔ حضورؐ نے حال پوچھا تو عرض کیا: ’’یا رسول اللہؐ! اوس کو آپ جانتے ہیں، میرے شوہر ہیں اور چچا زاد بھائی بھی۔ وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ اب بڑھاپے کی کمزوری کی وجہ سے چڑچڑے پن کا یہ عالم ہے کہ وہ کچھ کہہ جاتے ہیں جو ان کے دل کی بات نہیں ہوتی۔ انھوں نے آج غصے میں ایسی بات کہہ دی جس کے متعلق قسم کھاکر کہہ سکتی ہوں کہ وہ طلاق نہیں ہے۔ انھوں نے مجھ سے کہہ دیا انتِ علی کظہر امی۔

نبیﷺ نے سن کر فرمایا کہ میرے خیال میں تم ان پر حرام ہوگئیں۔ حضورؐ سے یہ سنا تو حضرت خولہؓ کو بے حد دکھ ہوا۔ گڑگڑا کر حضورؐ سے جھگڑتی رہیں لیکن جب حضورؐ نے پھر یہی فرمایا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اور اس طرح التجا کرنے لگیں ’’اے اللہ! میں تجھ سے اپنے سب سے بڑے دکھ اور اوس کی جدائی کے غم کا شکوہ کرتی ہوں۔ اے اللہ! جو بات ہمارے لیے خیر کا باعث ہو، اپنے نبیؐ کی زبان سے کہلوا دے۔‘‘

یہ ساری گفتگو حضرت عائشہؓ بڑی حیرانی اور پریشانی کے ساتھ سن رہی تھیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ یہ منظر ایسا درد ناک تھا کہ ہم سب خولہؓ کی ہمدردی میں رونے لگے۔ ہم سب اسی حال میں تھے کہ نبیﷺ پر وحی اُترنے کے آثار نظر آنے لگے میں یہ آثار پہچانتی تھی۔ میں نے خوش ہوکر خولہ سے کہا: ’’عنقریب اللہ تمہارا فیصلہ فرمانے والا ہے۔‘‘ خولہ نے میری زبان سے یہ سنا تو ان کی بے چینی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ امید و بیم کے درمیان ایک عجیب کشمکش میں تھیں۔ امید کے ساتھ یہ خطرہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ بھی اسے طلاق ہی فرما دے۔ مجھے اندیشہ پیدا ہوگیا کہ اگر خدا کا فیصلہ خولہ کی خواہش کے خلاف ہوا تو یہ زندہ نہیں رہ سکتیں۔ وہ دم بخود حضورؐ کو تکے جا رہی تھیں۔ اچانک حضورؐ کے پیارے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔ خولہ خوشی کے مارے کھڑی ہوگئیں۔ آپؐ نے مبارک باد دے کر فرمایا۔ اللہ نے تمہارے بارے میں فیصلہ فرما دیا۔ اس کے بعد نازل شدہ آیتیں تلاوت فرمائیں اور کفارے کا حکم سنایا۔ فرمایا کہ اپنے شوہر سے کہو، ایک لونڈی یا غلام آزاد کردیں۔ خولہؓ عرض کرنے لگیں: یا رسول اللہؐ! اوس کے پاس نہ کوئی لونڈی ہے نہ غلام اور نہ میرے سوا کوئی خدمت گار، وہ کسے آزاد کریں؟‘‘ ارشاد ہوا غلام آزاد نہیں کرسکتے تو پے درپے ساٹھ روزے رکھیں۔ وہ بولیں: ’’خدا کی قسم اوس میں اتنی طاقت نہیں وہ تو دن بھر میں کئی بار کھاتے ہیں۔ کمزوری کی وجہ سے آنکھیں جاتی رہی ہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’اچھا تو کہہ دو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں، عرض کیا کہ حضورؐ! یہ بھی ناممکن ہے، وہ تو نہایت غریب شخص ہیں۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی سانس بھری پھر فرمایا جاکر ام المنذر بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلا لائیں، ان سے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر کھجوریں لے کر صدقہ کردیں۔‘‘

خولہؓ سلام کر کے خوش خوش گھر کی طرف چلیں۔ حضرت اوس رضی اللہ عنہ دروازے پر منتظر کھڑے تھے۔ بڑی بے چینی سے پوچھنے لگے: ’’خولہ! کیا فیصلہ ہوا؟‘‘

جواب دیا سب خیریت ہے اور تم بہت ہی خوش قسمت ہو۔

اس کے بعد ایک اونٹ کھجوریں مانگ کر صدقہ کی گئیں اور اس طرح حضرت اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔

اور اس طرح امت مسلمہ کو ظہار کے مسئلے میں سہولت حاصل ہوئی۔ کاش کہ آج کے مسلمان کو یہ معلوم ہوتا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
؟

Leave a Reply