چھوٹے بچوں کو تنہا مت چھوڑیے!

یوں تو زندگی میں چھوٹے موٹے حادثات و واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں کہ زندگی اسی کا نام ہے اور دکھ سکھ کی سانجھ چلتی رہتی ہے۔ لیکن انسانی زندگی میں کچھ حادثات ایسے بھی در آتے ہیں جو دکھ ہی نہیں بلکہ پچھتاوے اور خلش کی صورت اختیار کرجاتے ہیں اور ہم یہ سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کہ اگر ہم یوں کرلیتے تو ایسا نہ ہوتا، اگر ویسا کرلیتے تو یہ نہ ہوتا وغیرہ۔ لیکن ’’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔‘‘

زندگی میں ایسی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں لیکن بہت ہی کم مائیں ہوں گی جو ان واقعات سے سبق حاصل کرتی ہوں گی۔ وہ اپنے آپ کو بدلنا تو درکنار، الٹا خود کو مکمل اور بہترین ہی سمجھتی ہیں۔ لیکن اگر ان حادثات کو سامنے رکھ کر بچوں پر دھیان دیا جائے تو کئی قسم کے غیر متوقع واقعات و حادثات سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔

مثلاً ایک نومولود بچے کی ماں پلنگ کے پاس ہیٹر لگا کر خود باورچی خانے میں کام کرنے چلی گئی۔ بچہ گہری نیند سو رہا تھا، ماں نے اس مہلت کو غنیمت سمجھا اور جلدی جلدی اپنے کام نپٹانے لگی اور کام کے دوران اسے وقت کا اندازہ نہ رہا۔ جب فارغ ہوکر کمرے میں آئی اور بچے کو اٹھایا تو نہ صرف وہ پسینے میں شرابور تھا بلکہ تقریبا بے ہوش ہوچکا تھا اور اس کا رنگ لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔ در اصل ہیٹر کچھ زیادہ ہی قریب تھا اور بچہ اتنا چھوٹا تھا کہ خود ہل کر ہیٹر سے دور یا پیچھے نہ ہوسکتا تھا۔ سو وہ مجبور تھا ہیٹر کی اتنی گرمی اور تپش برداشت کرنے پر۔ خاتون نے بچے کی یہ حالت دیکھی تو گھبرا کر فوراً اس کے کپڑے اتار دیے۔ تب اسے معلوم ہوا کہ جس رخ پر ہیٹر تھا، جسم کے اس رخ پر آبلے پڑ چکے تھے اور کیا پتا وہ تکلیف سے رویا بھی ہو، نہ جانے کتنی دیر روتا بھی رہا ہو، لیکن اس کی ننھی سی آواز، باورچی خانے میں برتنوں اور پانی کے نل کے شور اور پریشر ککر کی سیٹیوں کی آواز میں دب کر رہ گئی اور یوں بچہ موت کے منہ میں جاتے جاتے بچا۔ لیکن وہ اس قدر بیمار پڑا کہ جان کے لالے پڑ گئے۔ ان آبلوں کا بروقت علاج تو ہوگیالیکن جسم پر گہرے داغ رہ گئے اور جو اذیت اور تکلیف اس ذرا سی جان نے سہی وہ الگ۔ وہ خاتون آج تک تاسف اور پچھتاوے سے کہتی ہیں کہ اگر وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد باورچی خانے سے آکر بچے کو دیکھتی رہتی تو وہ سب نہ ہوتا جو ہوا۔

شادی بیاہ کی تقریبات پر عموماً خواتین اپنے چھوٹے بچوں کو سلانے کے لیے کوئی تنہا اور محفوظ جگہ تلاش کرتی ہیں تاکہ بچہ بے زار نہ ہو اور اس کی نیند میں خلل نہ پڑے۔

ایسا ہی ایک واقعہ شادی والے گھر میں پیش آیا، جہاں خاتون نے اپنی آٹھ ماہ کی بچی کو سلایا اور پھر اسے شور و ہنگامے سے دور الگ تھلگ ایک اسٹور میں کونے میں پڑی چارپائی پر لٹا آئی۔ اس کا خیال تھا کہ وہاں بچی پر سکون سوتی رہے گی اور شور و غل سے جاگ کر اسے پریشان نہیں کرے گی۔ یوں ماں کو کافی وقت سہیلیوں کے ساتھ تفریح کے لیے مل جائے گا۔

بچی کو لٹا کر آنے کے بعد ماں خود گانے بجانے اور کھانے پینے کے ہنگاموں میں ایسی کھوئی کہ اسے کافی دیر تک بچی کا خیال ہی نہ آیا۔ بہت دیر بعد جب اچانک اسے بچی کی یاد آئی تو وہ بھاگم بھاگ اپنی بچی کو دیکھنے گئی… لیکن … بچی وہاں کہاں؟

وہاں تو بستروں کا ڈھیر پڑا ہوا تھا جو کوئی نوکر باہر سے سمیٹ کر اسٹور کی اس چارپائی پر ڈال گیا تھا۔ ملگجے اندھیرے میں اسے کمبل سے ڈھکی وہ بچی نظر نہ آئی اور نہ ہی اس نے دیکھنے کی زحمت گوارا کی۔ ماں نے پاگلوں کی طرح چیخ چیخ کر بستر اٹھانے اور ہٹانے شروع کیے تو دیکھا کہ ننھی بچی بستروں کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبنے سے سانس گھٹ کر ہمیشہ کے لیے سو چکی تھی اور یوں شادی والے گھر میں دیکھتے ہی دیکھتے ماتمی فضا چھاگئی۔ شادی والے گھروں میں عموماً حادثات اس لیے بھی زیادہ ہوتے ہیں کہ کوئی شخص زیادہ پرواہ ہی نہیں کرتا۔ روشنیوں اور دیگر ضروریات کے لیے بجلی کے تار بلا تکلف ادھر ادھر بکھرے رہتے ہیں جن پر پاؤں رکھ کر یا ہاتھ سے ہٹا کر سبھی گزرتے رہتے ہیں۔ جہاں کہیں سے ذرا سی بھی تار خراب ہوئی، حادثہ رونما ہوگیا۔ اگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھا جائے تو حادثات بہت کم ہوسکتے ہیں۔

بے شمار ایسی خبریں آپ کی نظر سے گزری ہوں گی کہ بچہ ابلتے دودھ میں یا کھولتے ہوئے پانی میں گر گیا اور بری طرح جھلس گیا اور آخر کار زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوگیا اور پورا گھر سوگ میں ڈوب گیا۔ یہ سچ ہے کہ جان بوجھ کر کوئی ماں ایسا کرتی ہے ناکرنا چاہتی ہے لیکن ذرا سی غفلت اور لاپروائی افسوس ناک رنگ دکھا دیتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے واقعات زیادہ تر کم وسیلہ او رغریب گھروں میں پیش آتے ہیں یا پھر جہاں دولت تو ہو مگر تعلیمی معیار پست ہو۔

بعض گھروں میں باورچی خانے صحن یا برآمدے میں بنائے جاتے ہیں۔ ایسے گھروں میں چولھے زمین پر رکھے ہوتے ہیں۔ حالات پر بے شک کسی کا زور نہیں نہ ہی ان کا قصور، مگر ان خواتین میں شعور و آگہی بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو اس قسم کے واقعات سے بچاؤ اور محفوظ رہنے کے مشورے دے سکتے ہیں، انہیں سمجھا سکتے ہیں اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ گھر جاکر اپنے گلی محلے کی سب خواتین میں یہ شعور پیدا کریں تاکہ وہ نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی ناخوشگوار واقعات سے بچا سکیں۔

جب کہ دوسری طرف متمول اور خوش حال گھروں کے بچوں کو بھی ایسے خطرات اس طرح لاحق رہتے ہیں کہ ان کے کمروں میں ویڈیو گیمز، ٹی وی وغیرہ کے لیے لگائی جانے والی لیڈز، تاریں اور ایکسٹینشن جگہ جگہ پھیلی ہوتی ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر آپ وقتاً فوقتاً ان تاروں اور ایکسٹینشنز کو چیک کرتی رہیں کہ کہیں وہ پرانی ہوکر یا کسی چیز سے رگڑ کھاکر چھل تو نہیں گئیں اور کہیں کرنٹ کا خطرہ تو نہیں۔ رات کو بچوں کے سو جانے کے بعد ان کے کمرے کا چکر ضرور لگائیں اور تمام کمرے کا جائزہ لے کر اطمینان کر لیں کہ کہیں کوئی چیز خدانخواستہ کسی حادثے کی وجہ نہ بن سکے۔ یہ ذرا سی احتیاط بہت سے آنے والے حادثات و خطرات سے بچوں کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

اگر گھر میں ایسے چھوٹے بچے ہوں، جنھوں نے ابھی نیا نیا چلنا سیکھا ہو تو بجلی کے تمام سوئچ اور ساکٹ ان کی پہنچ سے باہر یا دور لگوائیں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان پر مضبوط کور لگوالیں تاکہ ان کے سوراخوں میں بچے انگلی نہ ڈال سکیں یا کوئی ایسا خطرناک کام نہ کرسکیں جس کی انہیں خود بھی سمجھ نہ ہو۔ سیڑھیوں کی ریلنگ کے درمیان اکثر کافی فاصلہ ہوتا ہے، یا تو اسے کم کروادیں یا کم از کم وقتی طور پر کوئی جنگلا یا رکاوٹ کھڑی کردیں تاکہ بچہ انمیں سے پھسل کر نیچے نہ گر پڑے۔

بعض مائیں گھر کے کام کاج کے دوران بچوں کا دھیان بٹانے کے لیے اور انہیں ایک جگہ آرام سے بٹھائے رکھنے کے لیے کوئی کھانے کی چیز اس کے سامنے رکھ کر خود کاموں میں مصروف ہوجاتی ہیں اور بچہ کھانے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ چھوٹے بچے کو کبھی بھی یوں تنہا بٹھا کر ایسی کوئی چیز مثلاً مونگ پھلی، چلغوزے، چنے، بادام وغیرہ کھانے کو نہ دیں جن کے گلے میں پھنس جانے کا ڈر احتمال ہو کیوں کہ ایسے بہت سے حادثات رونما ہوچکے ہیں کہ ایسی کوئی سخت چیز بچے کے گلے میں اٹکی اور پھر جان لے کر ہی گئی۔ اکیلے بیٹھ کر کھانے کے لیے بچے کو کوئی نرم پھل او رغذا ہی دیں۔ جیسے گودے والے پھل، کھچڑی یا نرم حلوہ۔ لیکن اس میں بھی خاص احتیاط کہ زیادہ گرم نہ ہو اور اس صورت میں بھی اس کو وقتاً فوقتاً دیکھتی رہیں کہ کہیں اسے کوئی پریشانی تو نہیں ہو رہی، کوئی مشکل تو نہیں پیش آرہی۔

گھر کے مرد سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو اس صورت میں بھی بچے پر نگاہ رکھنی ضروری ہو جاتی ہے۔ مردوں کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وہ اپنے سگریٹ، ماچس یا لائٹر بچوں کی پہنچ سے دور کسی اونچی جگہ پر رکھیں۔ ایش ٹرے ہمیشہ صاف ستھری رکھیں کیوں کہ چھوٹے بچے سگریٹ کے ٹکڑے اٹھا کر منہ میں ڈال سکتے ہیں اور ویسے بھی چھوٹے بچے تو بڑوں کی نقل کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔

خواتین کو چاہیے کہ باورچی خانے کا کام ختم ہونے کے بعد باورچی خانے کا دروازہ بند کر دیں۔ مبادا ان کا دھیان کہیں اور ہو یا وہ سو رہی ہوں اور بچہ باورچی خانہ میں موجود چھری چاقو یا ایسی ہی کسی چیز سے خود کو نقصان پہنچا لے۔ اس کے علاوہ اسٹور کا دروازہ بھی احتیاط سے بند رکھنا پڑے گا۔ جہاں بعض اوقات کیڑے مار ادویات، پینٹ اور باغبانی کے اوزار وغیرہ پڑے ہوتے ہیں اور جو بچے کے ہاتھ لگ جائیں تو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہوسکتا ہے۔

یہ بھی خیال رہے کہ گھر کے تمام دروازوں کے تالوں کی چابیوں کا ایک فالتو سیٹ کسی ایسی جگہ پر ضرور رکھیں جہاں سے بوقت ضرورت فوری طور پر آپ حاصل کرسکیں۔ نیز غسل خانوں میں ٹب بالٹیاں بلا ضرورت پانی سے بھرکر نہ رکھیں۔ اگر ان تمام باتوں کا خیال رکھا جائے تو بچوں کے ساتھ ہونے والے ناخوشگوار واقعات اور حادثات میں بہت حد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ مندرجہ بالا حفاظتی اقدامات نو ماہ سے سات سال کے بچوں کے لیے ضروری ہیں۔lll

(اردو ڈائجسٹ، لاہور)

مرسلہ: اقبال احمد ریاض (وانم باڑی)

شیئر کیجیے
Default image
عافیہ جہانگیر

Leave a Reply