کیا میں ایک خراب ماں ہوں؟؟

میرا 15 سالہ بیٹا مجھ پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ کیا میں ایک خراب ماں ہوں ‘‘

محبت اور تشدد کے بیچ، ایک ماں کو خدشہ ہے کہ کسی دن وہ اخبار کی ایسی سرخی نہ بن جائے جس میں لکھا ہو: ’بیٹے کے ہاتھوں ماں کا قتل‘۔

میں کسی اخبار کی سرخی نہیں بننا چاہتی جس میں بیٹے کے ہاتھوں ماں کی کے قتل کی خبر دی گئی ہو۔ میں اپنے شوہر کو خود کشی پر مجبور ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی۔ میں اپنے بیٹے کو ایک عادی مجرم بننے سے روکنے کی ناکام کوشش کررہی ہوں۔

پچھلے 18 مہینے سے میرا شوہر اور میں اپنے پندرہ سالہ بیٹے کے ہاتھوں تکلیف اٹھارہے ہیں، جو ہر وقت ہمیں جسمانی اور ذہنی طور پر پریشان کرتا رہتا ہے۔ کون سی ماں ہے جو پولیس کو فون کرکے اپنے بیٹے کی شکایت کرنا چاہے گی؟ مجھے کئی موقعوں پر پولیس کو بلانا پڑا۔ جنوری کے مہینے میں میں نے بس ایک نیا اسمارٹ فون دلانے سے ہی تو انکار کیا تھا۔ اس نے غصے میں اپنا پرانا موبائل میرے سر پر توڑ ڈالا۔ اور اس کے بعد میرے چہرے پر مکوں کی برسات کردی۔ میری ایک آنکھ ضائع ہوتے ہوتے بچی۔ میری پیشانی پر کئی ٹانکے لگے۔

اپنا بیٹا مجھے ہمیشہ معصوم لگا اور اب بھی لگتا ہے لیکن اس واقعے کے بعد میں نے ایک بار بھی اس کے چہرے یا آنکھوں میں افسوس یا ندامت کا شائبہ تک نہیں پایا۔ اس نے پولیس کے سامنے ہمیں گالیاں تک دیں۔

پچھلے دسمبر میں وہ پندرہ سال کا ہوگیا۔ اب وہ باقاعدگی سے شراب پیتا ہے اور ہماری گاڑی ڈرائیو کرنے کے لیے باہر لے جاتا ہے۔ اس نے کئی حدیں پار کردی ہیں۔ اس نے جعلی شناختی کارڈ بنوائے اور جعلی مارکس شیٹ کی بنیاد پر وہ اپنا مستقبل تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے بیٹے کا یہ پْرتشدد رویہ کسی دن کسی سنگین جرم کی شکل میں سامنے نہ آجائے۔میں نے سنا تھا کہ کم سن مجرم صرف غریب طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں اچھی پرورش کے مواقع حاصل نہیں ہوتے لیکن اسے تو دہلی کے ایک بہترین اور مہنگے اسکول میں داخل کرایا گیا اور وہ ہمارے ساتھ جنوبی دہلی کی ایک پاش کالونی میں رہتا ہے۔

ہمارا بیٹا ابھی بچہ ہے۔ میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں لیکن مجھے یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ کئی بار میں سوچتی ہوں کہ اسے پولیس کے حوالے کردوں اور کبھی اس کی ضمانت نہ کرواؤں۔ میں ایک مایوس ماں ہوں جو نہیں جانتی کہ اپنے نوجوان بیٹے کے پرتشدد رویے سے کیسے نمٹا جائے۔

ہمارا بیٹا ہمیشہ سے تو ایسا نہ تھا۔ دو سال پہلے، وہ ایک بہترین سائیکلسٹ تھا۔ اسے اسکول کی فٹ بال اور باسکٹ بال ٹیم میں بھی اچھا کھلاڑی سمجھا جاتا تھا۔ ان دنوں اسکول میں اس کی پڑھائی میں کارکردگی بھی بہت اچھی تھی لیکن آج اس کی سائیکل ہمارے عالیشان گھر کے ایک کونے میں پڑی دھول کھا رہی ہے۔اس نے کرکٹ اور فٹ بال کے اپنے ساتھیوں کی جگہ کچھ اوباش قسم کے برے لڑکوں کو دوست بنالیا ہے جو اسے غیر قانونی ڈرائیونگ اور شراب نوشی کے لیے لے جاتے ہیں۔ کئی مہینوں سے اس نے ایک لفظ پڑھائی نہیں کی اور شاید اب تو وہ اسکول بھی نہیں جاتا۔

کیا ہم اپنے بیٹے کو ہوسٹل میں ڈال دیں؟ کیا ایسا کرنے سے اس میں ڈسپلن پیدا ہوجائے گا؟ میرے ذہن میں کئی سوالات کلبلاتے رہتے ہیں۔ جن کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔ جب اسے ہمارے ہوسٹل والے منصوبے کی بھنک لگی تو اس نے ہمیں دھمکانا شروع کردیا۔ گھر پر وہ اپنی بات منوانے کے لیے ہم سے مارپیٹ کرتا ہے۔ ہمارے خاندان کے دوسرے لوگوں نے اپنے بچوں کو ہمارے بیٹے سے دور رکھنا شروع کردیا ہے۔ کون اپنے بچوں کی کسی کی بگڑی ہوئی اولاد کے ساتھ خراب کرنا چاہے گا؟

ہم ایک کھاتے پیتے کاروباری گھرانے سے ہیں۔ ہم نے آرام دہ زندگی پانے کے لیے بہت جدوجہد اور سخت محنت کی ہے۔ ایسے شہر میں جہاں نیوکلیئر فیملیاں (مختصر خاندان) ہونا عام بات ہے، ہم نے اپنے بیٹے کی پرورش کے لیے مشترکہ خاندان میں رہنے کو ترجیح دی۔ میرے شوہر کے والدین اور ان کے بھائی کے خاندان والے ایک ساتھ رہتے ہیں۔

ہمارا بیٹاہی ہمارا سب کچھ ہے۔ کیا اسے بگاڑنے میں ہمارا ہی ہاتھ ہے؟ ہم نے اسے بہت محبت سے پالا پوسا اور اسے وہ سب کچھ دیا جس کی اس نے خواہش کی۔ شاید ہماری غلطی یہی ہے کہ ہم نے کوئی حد مقرر نہیں کی۔ اعتدال سے کام نہیں لیا، اسے کبھی پیسے کی قدر کرنا نہیں سکھایا۔

بچے اچانک اپنے والدین کے خلاف کیسے ہوجاتے ہیں؟ ہمارے بیٹے میں یہ تبدیلیاں 2016 کے وسط میں ظاہر ہونا شروع ہوئی تھیں۔ اس وقت تک وہ ایک اچھا طالب علم تھا۔ لیکن آٹھویں کلاس میں اس کے نمبر اچانک نوے فیصد سے پچاس فیصد تک گرگئے۔ میں حیران رہ گئی۔ جب جانچ پڑتال کی تو پتہ چلا کہ وہ باقاعدگی سے اسکول ہی نہیں جارہا تھا۔ اس نے سائیکلنگ کلب جانا بھی چھوڑ دیا تھا اور شراب پینے لگا تھا۔

گھر میں وہ کسی بات پر ’نہیں‘ نہیں سن سکتا۔ ایک ضد ختم نہیں ہوتی کہ دوسری شروع ہوجاتی ہے۔ اس نے برتن اور موبائل فون توڑنا شروع کردیے۔ ہم نے سوچا شاید وہ غلط صحبت میں پڑ گیا ہے اس لیے اسے دوسرے اسکول میں منتقل کر دیا۔

لیکن اس کے بعد تو اس کا رویہ اور بھی جارحانہ ہوگیا۔ قانونی طور پر اب بھی اسے ڈرائیونگ لائسنس ملنے میں کئی سال لگیں گے، لیکن ہماری ہونڈا سٹی کار اب اس کی بن چکی ہے۔ وہ شرب پی کر گاڑی چلاتا ہے۔ میرے شوہر کو اکثر گاڑی میں شراب کی بو آتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی بڑا حادثہ نہ ہوجائے جس میں وہ اور دوسرے لوگ زخمی ہوجائیں۔ مجھے ہمیشہ یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں میرے شوہر کو پولیس اس لیے نہ پکڑ کر لے جائے کہ وہ ایک بچے کو گاڑی چلانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ پچھلے سال نومبر میں اس نے ہماری گاڑی ایک دوسری گاڑی میں ٹکرادی تھی۔ ہم نے جیسے تیسے سمجھا بجھا کر اس گاڑی والے کے نقصان کی تلافی کردی اور خود اپنی گاڑی کی مرمت میں سوا دو لاکھ روپے خرچ کرنے پڑے۔ لیکن مجھے لگتا کہ بس کچھ دنوں کی بات ہے، وہ ضرور کوئی اور بڑا حادثہ کردے گا۔

جب ہم اس کی مخالفت کرتے تھے، یا اسے ڈرائیونگ سے روکنے کی کوشش کرتے تھے تو وہ ہم پر ہاتھ اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتاتھا۔ جب کوئی چارہ نہیں بچا تو ہم نے اس کے لیے ایک ڈرائیور رکھ لیا۔ اب دونوں کی ملی بھگت ہے اور ہمارا بیٹا اس ڈرائیور کو بدلنے بھی نہیں دے رہا ہے۔

ہم اسے پٹرول کے خرچ کے لیے روزانہ پانچ سو روپے دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ہم سے ماہانہ چالیس سے پچاس ہزار روپے جیب خرچ کے طور پر لیتا ہے، جو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اور شراب میں اڑادیتا ہے۔

رات کے کسی بھی پہر وہ اپنے دوستوں سے ملنے چلاجاتا ہے۔ دروازہ کھولنے کے لیے وہ اضافی چابی کا استعمال کرتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم رات کو وہ کیا کرتا ہے۔ شاید اس کی جاسوسی کے لیے مجھے پرائیوٹ سراغ رساں کو رکھ لینا چاہیے۔ میں جذباتی طور پر ٹوٹ چکی ہوں۔ ہمارا بیٹا ہمیں اے ٹی ایم اور گھر کو ایک ہوٹل سمجھتا ہے۔

وہ اپنے باپ کو ’یار‘ کہہ کر پکارتا ہے۔میرے شوہر نرم طبیعت واقع ہوئے ہیں اور بیٹا اسی بات کا فائدہ اٹھاکر ان کا استحصال کرتا ہے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ اس کا سامنا حوصلے کے ساتھ کروں لیکن ڈرتی بھی ہوں کہ کہیں وہ زدو کوب نہ کرے۔میرے شوہر کو کئی بار خودکشی کرنے کا خیال بھی آیا۔ہم نے اپنے بیٹے کو ٹھیک کرنے کے لیے کیا کیا نہیں کیا۔

سینئر پولیس افسروں نے ہماری بات بہت نرمی سے سنی اور مقامی پولیس کو ہدایت کی کہ میرے بیٹے کو سمجھائیں اس کی کاؤنسلنگ کریں۔ ہمارے بیٹے نے انھیں تھانے میں جاکر ملنے سے انکار کر دیا، اور انھیں کہا کہ اگر اس سے ملنا ہے تو گھر پر ملیں۔ وہ میٹھی میٹھی باتیں کرکے افسروں کو بھی رام کرلیتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ قصور ہمارا ہے اور ہمارا بیٹا ہماری اعلی توقعات کا شکار ہے۔

ہم نے اپنے بیٹے کو شہر میں کاؤنسلنگ اور نفسیاتی ماہرین کو بھی دکھایا ہے لیکن اس سے بھی کوئی بات نہیں بنی۔گزشتہ نومبر ہم نے اسے آمادہ کیا کہ وہ دس دن کے لیے ایک اعلی نجی ہسپتال کے نفسیاتی شعبے میں داخل ہوجائے۔ لیکن دو دن کے اندر ہی وہ اپنے پرانے پر تشدد رویے پر آگیا۔

اس کے اساتذہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ وہ اسکول باقاعدہ طور پر نہیں آتا کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس سے ان کی مصیبت کم ہوتی ہے۔ اساتذہ بھی اس کے بارے میں شکایت کرنے سے ڈرتے ہیں۔ وہ اسکول میں مارپیٹ کرتا رہتا ہے۔ کئی بار اس نے دوسرے طلبا کو مارا اور خود بھی پٹا ہے۔

مجھے مستقل یہی سوال پریشان کرتا ہے کہ ’کیا میں ایک بری ماں ہوں؟‘ میں نہیں جانتی آگے کیا کرنا ہے؟ اگر وہ کسی جرم میں ماخوذ ہوگا تو کیا ہم مورد الزام ٹھہرائے جائیں گے؟ میں مجبور ہوں اور ڈرتی ہوں کہ کہیں کسی دن اخبار کی سرخی نہ بن جاؤں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
(بشکریہ: ہندوستان ٹائمز ،ترجمہ: عرفان وحید

Leave a Reply