5

کونسلنگ کیا ہے؟

انسان ایک جذباتی مخلوق ہے۔ جذبات و احساسات کو محسوس کرنے کی صلاحیت، انسان کو دی گئی اہم اور امتیازی صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کی شخصیت کی تشکیل میں اس کے جذبات و احساسات کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ جہاں مثبت اور اچھے جذبات انسان کو خوش و خرم اور کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں وہیں منفی جذبات و احساسات انسان کی زندگی کو جہنم بنادیتے ہیں۔بعض منفی جذبات صرف ہماری ہی زندگی کو نہیں، بلکہ ساتھ رہنے والے دیگر لوگوں کی زندگیوں کو بھی جہنم بنادینے کی طاقت رکھتے ہیں۔

ایسے منفی جذبات بہت سے اسباب سے پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اسباب وہ بھی ہوتے ہیں جن کا ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات، حادثات، ناخوشگوار واقعات، ناکامیاں، بیماریاں،تنازعات وغیرہ بھی ایسے منفی جذبات پیدا کردیتے ہیں۔ یہ جذبات و احساسات ہمارے لئے معذوری بن جاتے ہیں۔ ان سے ہماری شخصیت کو گہن لگ جاتا ہے۔ زندگی کی مسرتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ آگے بڑھنے اور مقابلہ کرنے کی امنگ اور جذبہ سرد پڑجاتا ہے۔ ہماری صلاحیتیں زنگ آلود ہونے لگتی ہیں اور زندگی بوجھ بن جاتی ہے۔دوسرے انسانوں سے ہمارے روابط اور تعلقات میں تلخیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ دھیرے دھیرے ہم اپنے رویّوں سے، ساتھ رہنے والوں اور چاہنے والوں کی زندگیوں کا مزہ بھی پھیکا کرنے لگتے ہیں۔بہت سے نفسیاتی مسائل جسمانی عوارض اور بیماریوں کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔ان مسائل کے نتیجہ میں ہماری قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔ ذیا بطیس، بلڈپریشر، امراض قلب بلکہ کینسر جیسے امراض کے بھی بہت سے کیسوں میں نفسیاتی اسباب ہوتے ہیں۔ اس لئے نفسیاتی عارضہ ایک تباہ کن عارضہ ہے اور ایک طرح کا خاموش قاتل Silent Killerہے۔ اس سے چھٹکارا پانے کی بروقت اور ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے۔

پرانے زمانہ میں دیگر معاملات کی طرح ایسے نفسیاتی عوارض کا علاج بھی ہماری نانیوں اور دادیوں کے پاس ہوا کرتا تھا۔ وہ اپنے قدیم دیسی طریقوں سے، گھریلو ٹوٹکوں اور نسخوں سے ہماری کمزوریوں کا علاج کردیتی تھیں اور خوشگوار اورپر مسرت زندگی کے راز صرف بتاتی ہی نہیں تھیں بلکہ انہیں ہماری شخصیت کا جز بنادیتی تھیں۔ افتاد زمانہ سے ، یہ روایتی رول کمزور پڑگیا۔ جدید زندگی کی بھاگ دوڑ اور کشمکش نے نفسیاتی مسائل کی پیچیدگیاں کئی گنا بڑھادیں اور ا ب ان کے حل کا کام بھی دیگر بہت سی ضروریات زندگی کی طرح، ماہر فن پروفیشنلز کی مدد کے بغیر ممکن نہیں رہا۔

نفسیاتی عوارض کیا ہیں؟

روایتی سماجوں میں نفسیاتی عوارض کو لے کر ایک طرح کی شرم کا احساس پایا جاتا ہے۔اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ نفسیاتی معالج کے پاس جانے والا ہر شخص پاگل یا نیم پاگل ہوتا ہے۔ یہ نہایت غلط سوچ ہے اور جہالت کی پیداوار ہے۔ چھوٹے موٹے نفسیاتی مسائل ، جاڑے بخار کی طرح ہر انسان کی زندگی میں آتے ہیں اور جاڑے بخار ہی کی طرح ہم کو وقتی طور پر معذور کردیتے ہیں۔ ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو وہ ہماری شخصیت کا ناسور بننے لگتے ہیں ۔اس لئے ان پر بروقت توجہ دینا چاہیے اور ان کے علاج کے لئے ماہرین سے رجوع میں کوئی تکلف محسوس نہیں کرنا چاہیے۔

نفسیاتی مسائل کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ بعض مسائل وہ ہیں جنہیں باقاعدہ بیماری Disorderکے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ تناؤ (Stress)پریشانی (Anxiety) دو قطبیت (BPD)سزوفرینیا(Schizophrenia)، خوف(Phobias)، الزامر، جنون و دیوانگی، دورے، وغیرہ بیماریاں ہیں ۔ ان کے علاج کے لئے اکثر دؤاوں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن ان کے علاوہ مایوسی، غصہ میں شدت،غم، موڈمیں تبدیلی، منفی خیالات و رجحانات، اعتماد کی کمی، احساس جرم، موہوم اندیشے ، توہمات، شک، چڑچڑاپن، غیر مستقل مزاجی، حسد و جلن، بوریت، احساس محرومی، احساس ذلت و توہین، نفرت،بے بسی، دل شکستگی، تذبذب، احساس تنہائی، شرم، بچوں میں تعلیم میں دلچسپی میں کمی، سیکھنے کی رفتار کا سست پڑجانا و غیرہ وغیرہ درجنوں منفی کیفیات ہیں جو ہم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ہر شخص کو اپنی زندگی میں ان احساسات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہر شخص کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو ان احساسات کو جنم دیتے ہیں۔ اکثر یہ احساسات وقتی ہوتے ہیں اور ہم خود ہی ان سے نبٹ لیتے ہیں یا وقت کے ساتھ ان کی شدت ختم ہوجاتی ہے لیکن بعض واقعات ہمارے جذبات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان اثرات کا ہم مقابلہ نہیں کرپاتے اور ان میں سے کوئی احساس ہماری شخصیت کا جز بننے لگتا ہے۔ کئی بار ہم کو واقعہ معلوم بھی نہیں رہتا۔ کئی دفعہ بظاہر بہت چھوٹا واقعہ ہوتا ہے، لیکن وہ ہماری شخصیت کو گہرا زخم لگادیتا ہے۔ ایسی صورت میں کسی ماہر نفسیات کی مدد ضروری ہوجاتی ہے۔ خلاصہ کے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ درج ذیل صورتوں میں کسی اچھے کونسلر کی مدد لینی چاہیے۔

۱۔ذہنی و جسمانی بیماری

بہت سے امراض میں آدمی نہ صرف اُس بیماری سے جسمانی طور پر متاثر ہوتا ہے بلکہ نفسیاتی طور پر بھی بہت کمزور ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں اگر اسے نفسیاتی مدد مل جائے تو اس بیماری کو قبول کرنے اور اس سے لڑنے میں اسے کافی مدد مل سکتی ہے ۔ اگر آدمی کے اندر قوت ارادی مضبوط ہو تو بیماری سے مقابلہ کرنے اور صحت یاب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بلڈ پریشر، ذیابطیس، موٹاپا وغیرہ جیسی عام بیماریوں سے لے کر کینسر وغیرہ جیسی جان لیوا بیماریوں تک، اگر کوئی بھی مرض کسی کے سکون کو درہم برہم کررہا ہے تو اسے کونسلنگ سے فائدہ ہوتا ہے۔

اسی طرح نفسیاتی و ذہنی بیماریوں کی صورت میں جیسے غصہ، تناؤ، پریشانی (Anxiety)وغیرہ جیسے مسائل بھی کونسلنگ کے ذریعہ حل ہوسکتے ہیں۔

۲۔ بہترین تعلقات کے لئے

ازدواجی زندگی میں بہترین تعلقات کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس رشتہ میں دراڑ بڑھ گئی ہو تو کونسلنگ کی مدد سے اسکو دور کیا جاسکتا ہے۔ ازدواجی رشتوں کے علاوہ، والدین اور بچوں کے درمیان، یا کسی بھی اور انسانی رشتہ میں بھی کونسلنگ کی مدد سے بہتری لائی جاسکتی ہے۔

۳۔ لت Addiction :

جب کسی شخص کو ہم کسی عادت میں مبتلا پاتے ہیں جو جسمانی، نفسیاتی یا اخلاقی نقصان کا سبب بن رہی ہوتو ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ وہ شخص کسی نفسیاتی دبائو سے بھی جوجھ رہا ہے ۔کونسلنگ کے ذریعہ مسئلے کی جڑ تک پہنچ کر اسے حل کیا جاسکتا ہے۔ بہت ساری خراب عادتیں جیسے شراب نوشی، سگریٹ نوشی، کھانے پینے، سونے جاگنے کی خراب عادتیں وغیرہ انسان کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اب کمپیوٹر گیم اور سوشل میڈیا کی لت وغیرہ کو بھی بیماری سمجھا جارہا ہے۔ بلکہ ناخن کترنا، بیٹھے بیٹھے زور زور سے پیر ہلانا، جنس مخالف کے فرد کو گھورنا وغیرہ جیسی عادتیں بھی گہرے نفسیاتی عوارض کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

۴۔ کسی اپنے کو کھونے کا Bereavementغم

اپنے کسی عزیز کو کھودینا ایک بہت بڑا سانحہ ہوتا ہے۔ موت کی وجہ سے یا رشتہ میں دراڑ اور طلاق وغیرہ کی وجہ سے اگر کسی کا عزیز جدا ہوگیا تو اس کا گہرا نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ اگر وہ اس حادثہ سے باہر نہ نکلیں تو اسکا اثر انکی زندگی کے ہر گوشے میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔یہ اثربچوں پر بہت گہرا ہوتا ہے۔

۵۔ ستانے کا عمل Bullying:

گھریلو تشدد کا اثرنہ صرف جسمانی ہوتاہے بلکہ نفسیاتی بھی ہوتا ہے۔ بچوں میں بھی اس قسم کے واقعات بہت عام ہو رہے ہیں۔ اسکول اور گھر میں وہ ظلم کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنا مسئلہ کسی سے بھی بیان نہیں کرتے حالاں کہ ان کے رویوں اور عام زندگی میں اس کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں لیکن سبب کا پتہ نہیں چل پاتا۔ اگر یہاں پرکونسلر سے مدد لیں توان مسائل پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ خواتین پر کسی بھی قسم اور کسی بھی سطح کی جنسی ہراسانی بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔ بہت سی خواتین اس مسئلہ کو بھی کسی کے سامنے بیان نہیں کرپاتیں۔

ان کے علاوہ آدمی تجارت یا پیشہ وارانہ زندگی میں کسی بڑے خسارہ یا ناکامی سے دوچار ہوجائے، اس سے کوئی جرم، کسی پر ظلم یا ناانصافی یا گناہ سرزد ہوجائے، کوئی الزام لگے یا بدنامی ہوجائے، کسی قریبی شخص کے ذریعہ اعتماد مجروح ہوجائے،کوئی حادثہ ہوجائے یا کسی بڑے حادثہ کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے، اس طرح کی دسیوں صورتیں ہیں جو آدمی کو وقتی طور پر شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار کرسکتی ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے فوری کونسلر سے رجوع کرنا چاہیے و رنہ یہ ناسور بنتے ہیں اور ہماری شخصیت کو مستقل طور پر زخمی کرسکتے ہیں۔

کونسلنگ کیا ہے؟

مذکورہ مسائل کے حل کے لئے جب آ پ ماہر نفسیات یا اس طرح کے مسائل کے حل کے کسی طریقہ کے ماہر سے رجوع کرتے ہیں تو آپ کا سابقہ علاج کے مختلف طریقوں سے پیش آتا ہے۔

۱۔ سائیکو تھراپی: سائیکو تھیراپی زیادہ تر ان مسائل میں استعمال ہوتی ہے جنہیں میڈیکل سائنس مرض سمجھتی ہے۔ سائکیا ٹرسٹPsychiatrist جو ایک ڈاکٹر ہوتا ہے، عام طور پر دواؤں کے ذریعہ ان کا علاج کرتا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان مسائل کا سبب ہمارے جسم میں کیمیائی عدم توازن ہے۔ کوئی کیمیائی مادہ یا ہارمون کم یا زیادہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔دوائوں کی مدد سے اس توازن کودوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ طریقہ علاج زیادہ سیریس مسائل میں، اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب دیگر طریقے کارگر نہ ہوں۔اس طرح کا علاج ،ایک ماہر میڈیکل پروفیشنل یعنی سائکیا ٹرسٹ ہی کرسکتا ہے۔سائکیا ٹری میں استعمال ہونے والی دوائوں کو ماہر ڈاکٹر کے مشورہ کے بغییر ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

۲۔کونسلنگ: دوسرا طریقہ کونسلنگ ہے۔ کونسلنگ میں زیادہ تر ٹاک تھراپی اختیار کی جاتی ہے۔ یعنی باتوں کے ذریعہ علاج۔کو نسلنگ کے عمل میں کونسلر اور کلائنٹ (یعنی وہ فرد جو نفسیاتی مسئلہ کے حل کے لئے اس سے رجوع ہوا ہے) ایک مخصوص رشتہ قائم کرتے ہیں۔کونسلر اس کی باتیں سن کر اپنے مخصوص سوالات اور مخصوص طرز گفتگو کے ذریعہ اس کے مسئلہ کی گہرائی میں جاتا ہے اور اس مسئلہ کے اسباب کو سمجھتا اور اس کی روشنی میں کلائنٹ سے ایسی باتیں کرتا ہے، اُس پر ایسے طریقے آزماتا ہے اور اسے ایسے مشورے دیتا ہے جن کے ذریعہ کلائنٹ جذباتی طور پر مضبوط ہوسکے۔

ہر انسان کے اندر بہتر اور خوشحال زندگی کے لئے درکار بہت سے وسائل اللہ تعالی نے پیدا فرمادیئے ہیں۔ ان وسائل کے عدم استعمال کی وجہ سے ہم مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کونسلر کا کام ان وسائل کی شناخت اور انہیں بروئے کار لانے میں کلائنٹ کی مدد کرنا ہوتا ہے۔کو نسلر اپنی باتوں اور بعض اور مخصوص طریقوں سے آپ کی چھپی ہوئی توانائیوں کو بیدار کرتا ہے۔ منفی اور مہلک چیزوں سے آپ کی توجہ ہٹاکر مفید اور مثبت باتوں پر فوکس کرنے کی لیاقت پیدا کرتا ہے۔

۳۔کوچنگ:ایک تیسرا طریقہ وہ ہے جسے کوچنگ کہا جاتا ہے۔ کوچنگ میں اہداف(Outcomes)پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ فرد کسی ماہر کوچ کی نگرانی و رہنمائی میں اپنے لئے اہداف طے کرتا ہے۔لائف کوچنگ کے عمل میں، یہ اہداف زندگی کو بہتر بنانے سے متعلق ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق مزاج میں کسی تبدیلی سے متعلق ہوسکتا ہے، جذباتی صحت کو بہتر بنانے سے متعلق ہوسکتا ہے، عادتوں پر قابو پانے سے متعلق ہوسکتا ہے اور بیوی سے ، بچوں سے یا کسی اور انسان سے تعلقات کو بہتر بنانے سے متعلق ہوسکتا ہے۔ غرضیکہ زندگی کو بہتر بنانے سے متعلق کوئی بھی ہدف ہوسکتا ہے۔ کلائنٹ ، کوچ کی مدد سے ان اہداف کی تعیین کرتا ہے اور اسی کی مدد سے انہیں حاصل کرنے کی منصوبہ بند کوشش کرسکتا ہے۔ مثلاً سگریٹ نوشی کی عادت ترک کرنے کا ہدف، غصہ پر کنٹرول کا ہدف، خود اعتمادی کے ساتھ اسٹیج پر پرفارم کرنے کاہدف، شوہر یا بیوی کے ساتھ لڑائی جھگڑوں کوختم کرنے کا ہدف و غیرہ۔ کو نسلنگ میں زیادہ تر توجہ ماضی کے زخموں کو مندمل کرنے پر ہوتی ہے جب کہ کوچنگ میں مستقبل کو بہتر بنانے پر۔ کوچنگ میں اصلاً کلائنٹ خود اپنے ڈیولپمنٹ پر متوجہ رہتا ہے اور کوچ صرف اس کی مدد و رہنمائی کرتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نازنین سعادت

تبصرہ کیجیے