پیاس بجھاتے چلو! (قسط-13)

نصریٰ باجی کو گیٹ سے رخصت کر کے وہ واپس پلٹی تو امی اور تائی جان نظر آئیں… تائی جان اوپر برآمدے میں کھڑے تھیں اور امی برآمدے کے نیچے لان میں۔ وہ شاید لان کے درمیانی دروازے سے گھر جار رہی تھیں۔

تائی جان کا چہرہ دیکھتے ہی اسے نصریٰ باجی کے ساتھ کی گئی ان کی طنزیہ اور دل چھیدنے والی گفتگو یاد آگئی۔ فائزہ پیر پٹختی تن فن کرتی ان کے بازو سے گزر کر صبا کے کمرے کی طرف جانے لگی۔ اپنا سارا غصہ وہ صبا پر نکالنا چاہتی تھی… تبھی اس نے امی کو تائی جان سے کہتے سنا۔

’’اچھا ہوا بھابھی! صبا سوگئی … صبح سے بے چین تھی اب قرار آیا ہے۔ نیند پوری ہوگی تو طبیعت سنبھل جائے گی اور ان شاء اللہ صبح تک بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘

فائزہ رکی نہیں سیدھی اندر چلی گئی… ابو کے دیر سے لوٹنے کا پیغام تو وہ پہلے ہی امی کو دے چکی تھی اور اب رات کو صبا کے ساتھ سونے کے ارادے سے بھی امی کو آگاہ کرچکی تھی۔

امی لان کے دونوں گھروں کے درمیانی دروازے سے گھر جاچکی تھیں۔ فائزہ صبا کے کمرے میں آئی تو اندر اندھیرا تھا صرف زیرو کے بلب کی زرد روشنی روم میں پھیلی تھی۔ پلنگ پر صبا سر تک چادر تانے سوچکی تھی…

فائزہ نے دریچوں کے بلائنڈرز سر کائے اور پردے ہٹا دیے۔ باہر کی سرد ہوا اندر آنے لگی تھی… ایک بھرپور سانس کھینچ کر وہ پلٹی اور صبا کے بیڈ کے کنارے آئی پھر زور سے صبا کی چادر کھینچ لی۔

صبا دم سادھے آنکھیں بھینچے بے حس و حرکت پڑی رہی جب کہ دل اس کا زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

فائزہ نے سوئچ بورڈ کے پاس جاکر بتیاں جلا دی تھیں کمرہ روشن ہوگیا تھا۔

’’تم کیا مجھے الو سمجھتی ہو کہ کھانسنے کی اور سونے کی ایکٹنگ کروگی اور میں سمجھ نہیں پاؤں گی۔

صبا نے ناچار آنکھیں کھول دیں۔ ویسے بھی ٹیوب لائٹ کی روشنی میں سونے کی اداکاری کرنا بے کار تھا اور مشکل بھی۔

’’اب جانے بھی دو۔ امی نے جو کچھ کہا میں تو اس کی ذمہ دار نہیں ہوںنا۔‘‘

انداز ایسا تھا گویا مجھے الزام مت دو۔

’’بالکل تم ہی ذمہ دار ہو…سو فیصد۔‘‘ فائزہ نے بے لچک لہجے میں کہا۔ ’’آخر تم بیمار پڑیں ہی کیوں؟ تم ہی نصریٰ باجی کے دل دکھانے کا سبب بنی ہو…‘‘

فائزہ ملول ہوگئی۔ نصریٰ باجی کا زرد پڑتا چہرہ آنکھوں میں آن سمایا تھا۔ ’’امی کو واقعی ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔‘‘ صبا کو افسوس ہوا۔

’’کیا نصریٰ باجی ناراض ہوگئیں…؟ انہیں تو بہت برا لگ گیا ہوگا؟‘‘ اس نے تشویش سے فائزہ پر نگاہ ڈالی۔

’’انہیں چھوڑو! وہ بے چاری تو اعلی ظرف ہیں مجھ سے پوچھو مجھے کتنا برا لگا ہے۔‘‘ وہ پھنکارتے ہوئے پھر اس پر چڑھ دوڑی تھی۔

صبا نصریٰ باجی کے تعلق سے فائزہ کے احساسات اور جذبات سے واقف تھی… فائزہ نصریٰ باجی کو آئیڈیلائز کرنے لگی تھی اور ان کو دکھ پہنچنے سے وہ بھی لازماً ہرٹ ہوئی تھی اسی لیے اپنے غم کا اظہا رکر رہی تھی۔

’’ٹھیک ہے بابا! اب بیمار نہیں پڑوں گی اگر ہو بھی گئی تو کوشش کروں گی کہ کم از کم نصریٰ باجی میری عیادت کو نہ آئیں بس… اب اس قصے کو ختم کرو…‘‘

’’خیر۔‘‘ فائزہ دھپ سے اس کے پاس والی کرسی پر گر پڑی… اندر کا ابال قدرے کم ہوا تھا…

’’تم نے آج بیمار ہوکر اتنا بھی برا نہیں کیا…‘‘

’’کیسے؟‘‘

’’ابو نے آج شام کو پھپھو کی طرف جانے کا پلان بنایا تھا اور میں وہاں نہیں جانا چاہتی تھی۔ جب تمہاری طبیعت بگڑی تو میں خوش ہوگئی کہ چلو اچھا بہانہ ہاتھ آگیا… اور اتفاق سے ابو بھی گھر آنے میں لیٹ ہوگئے۔‘‘ اس کے انداز میں مسرت بھری طمانیت تھی۔

’اچھا میری طبیعت بگڑی تو تم خوش ہوگئی تھیں؟‘‘

صبا کو اس کے پورے بیان میں صرف یہی بات قابل توجہ لگی تھی۔

’’افوہ…‘‘ فائزہ مدھم ساہنسی…‘‘ مطلب کہ ہر شر میں خیر ہوتا ہے۔ تمہارا بیمار ہونا میرے حق میں بہتر ہی ہوا ناں…‘‘

’’زیادہ خوش مت ہو کیوں کہ خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں ہے میڈم۔‘‘

’’یعنی؟‘‘ صبا کے کہنے پر فائزہ نے اسے وضاحت طلب نظروں سے دیکھا۔

’’یعنی یہ کہ اگر آپ پھپھو کے گھر جانے سے رہ گئی ہیں تو چاچو بھی کوئی ان سے مل کر نہیں آگئے۔ مطلب یہ کہ اب کل یا پرسوں آپ کے وہاں جانے کی نوبت آسکتی ہے۔ سمجھیں کچھ؟؟‘‘

صبا کی بات سن کر تو اس کا اطمینان کافور ہوگیا۔ بات تو اس کی درست تھی… اب؟؟؟ وہ ذرا بدمزہ ہوئی پھر الٹا صبا کو ہی ڈانٹ دیا جو محظوظ مسکراہٹ سے اس کے فق ہوتے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔

’’جب بھی منہ کھولوگی براہی بولوگی! سوجاؤ چپ چاپ…‘‘

’’ہاں سچ مچ مجھے بہت نیند آرہی ہے… تم بھی سوجاؤ۔‘‘

صبا جماہی لیتے ہوئے بولی… پھر پائنتی سے چادر اٹھا کر اپنے اوپر ڈالی۔

’’وہی چادر جو فائزہ نے اس پر سے اٹھا کر پھینک دی تھی۔ سکون سے تکیے پر سر رکھا پھر کسی خیال کے تحت کہنی کے بل اٹھ کر فائزہ کو دیکھا۔

’’تم سوجاؤ آرام سے… میں کچھ دیر بعد سوؤںگی مجھے ابھی نیند نہیں آرہی ہے۔‘‘

اس کے دیکھنے پر فائزہ نے آف موڈ کے ساتھ کہا… اس کے چہرے پر پھیلے بے زاری کے تاثرات دیکھتے ہوئے صبا سنجیدگی سے گویا ہوئی۔

’’ٹھیک ہے لیکن میں سونے سے پہلے ایک شعرعرض کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

’’ارشاد…‘‘ فائزہ نے بلا تامل اجازت دے دی (چلو اسی بہانے کوفت کم ہو جائے گی) ’’بشرطے کہ شعر دل جلانے والا نہ ہو۔‘‘

اس نے پہلے ہی صبا کو تنبیہ کردی۔

’’پھر بھی اگر تم شاعر سے اتفاق نہ کرو تو میری بیماری اور کمزوری طبیعت کو تمہیں ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا…‘‘

صبا نے بھی پیش بندی کی۔

’’اب ارشاد فرمائیے بھی!‘‘ فائزہ شرائط و ضوابط سے تنگ آکر طنزیہ انداز میں بولی۔

’’آہم آہم‘‘ صبا کھنکھاری۔

’’ارادے جن کے پختہ ہوں، یقین جس کا خدا پر ہو۔‘‘

’’ہاں پتہ ہے تلاطم خیز موجوں سے …‘‘

فائزہ نے اکتاہٹ بھرے انداز میں کہہ کر اسے شعر مکمل نہیں کرنے دیا۔ ’’نہیں بابا! مصرعہ ثانی کچھ الگ ہے… سنو!

ارادے جن کے پختہ ہوں یقیں جن کا خدا پر ہو

وہ حسینائیں پھپھو کے بیٹوں سے گھبرایا نہیں کرتیں

فائزہ نے تکیہ اٹھا کر اس کے منہ پر دے مارا تھا۔ صبا ہنستی ہوئی دوبارہ لیٹ گئیں… فائزہ کا مزاج برہم ہو رہا تھا۔ نہ جانے صبا نے کو کیسے اندازہ ہوگیا تھا۔ یقینا اریب بھائی کی چھچھوری حرکتیں دیکھ کر۔ اس نے کینہ توز نگاہیں صبا کے سپرد کیں اور ناراضگی کے اظہا رکے طو رپر کمرے سے واک آؤٹ کرگئی۔

’’جاتے ہوئے لائٹ آف کر دینا۔‘‘ وہ کمرے سے نکل رہی تھی تو چادر کے اندر سے صبا کی آواز سنائی دی۔ یعنی کہ میڈم کو پہلے سے اندازہ تھا کہ وہ بگڑ کر ضرور ہی باہر چلی جائے گی۔

٭٭

تایا جان کھانا کھاکر فارغ ہوچکے تھے… اس نے پہلے تایا جان اور تائی جان کے لیے چائے بنائی پھر جوٹھے کپ کھنگالتے ہوئے گھر پر امی کو کال کر کے ابو کے متعلق پوچھا۔

’’وہ تو نہیں آئے لیکن فون پر مجھے بتا رہے تھے کہ آدھے گھنٹے بعد گھر پہنچ جائیں گے۔‘‘

’’میں ابو کو رِنگ کرلوں؟‘‘

’’اب کیا ضرورت ہے…؟ ان کے موبائل کی بیٹری ختم ہونے کو ہے تم انہیں فون مت کرو۔‘‘

’’ٹھیک ہے تو ابو آجائیں تو مجھے اطلاع کردیجئے گا۔‘‘

گیس سلنڈر کا ناب چیک کر کے اس نے روشنی بجھائی اور کچن کا دروازہ اچھی طرح بند کر کے صبا کے کمرے میں آگئی… صبا گہری نیند سوچکی تھی… ڈاکٹر افراح نے جانے سے پہلے خود اپنے ہاتھوں سے اسے رات کا ڈوز دیا تھا۔

فائزہ بستر پر لیٹنے کی بجائے کرسی پر بیٹھ گئی۔ نیند تو فی الحال آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ کچھ دیر سوشل میڈیا کی ایکٹی ویٹیز اور اپ ڈیٹس دیکھے پھر بیٹری لو ہونے کے اشارے پر موبائل کو اٹھ کر چارجنگ پر لگا دیا…

’’اب…‘‘ اس نے پیر جھلاتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا۔ میز پر کچھ اخبارات اور رسائل رکھے ہوئے تھے۔

فائزہ نے مڑ کر پہلے صبا کو دیکھا وہ ٹیوب لائٹ کی مخالف سمت کروٹ لے کر سوئی تھی… فائزہ نے لائٹ جلایا اور ھر سے صبا کو دیکھا۔ وہ ذرا بھی نہیں کسمسائی نہ آنکھیں بھینچیں۔ لائٹ کی دوسری طرف رخ ہونے کی وجہ سے اس کی نیند میں کوئی خلل نہیں پڑا تھا۔

اب فائزہ سکون سے مطالعہ کرسکتی تھی۔ اس نے ایک میگزین منتخب کیا اور واپس کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ کوئی ماہنامہ نہیں تھا بلکہ ایک مشہور اخبار کے ساتھ سپلیمنٹ کے طور پر آیا تھا۔

روز نامہ ’’نوید ہندوستان‘‘ ہر چھ ماہ بعد ایک میگزین بطور خصوصی ایشو ریلیز کرتا تھا۔ جو ظاہری اور باطنی طور پر واقعی خاص شمارہ ہوا کرتا تھا۔ ان اسپیشل ایشوز کو لاکھوں کی ایڈز ملتی تھیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک مضامین بڑے بڑے لکھاریوں و تنقید نگاروں اور مبصرین و مفکرین کی تحریریں اور سوشل ایکٹی ویٹس کے مضمون اس جریدے کی زینت بنتے تھے۔ میز پر رکھے بہت سے رسائل میں سے فائزہ نے اسی میگزین کو اٹھایا تھا۔ اخبارات تو وہ اب نہیں دیکھتی تھی۔

’’چلو اس سے کچھ حالات حاضرہ کی معلومات لے لی جائے۔‘‘

وہ اس شمارے کے چکنے چکنے اور رنگ برنگی صفحات کا مطالعہ کرنے لگی۔ سر ورق کے بعد کئی صفحات پر صرف اشتہارات ہی تھے۔ ان پر توجہ دیے بنا وہ صفحات الٹتی اداریے تک پہنچی اور بہت دھیان اور سنجیدگی سے پڑھنے لگی۔ یہ ’’نوید ہندوستان‘‘ اخبار کے سب ایڈیٹر کے ذریعے لکھا جانے والا ایڈیٹوریل تھا۔ جس میں انھوں نے تمہیدی گفتگو کے بعد اندر کے صفحات کے مضامین کا ذکر کیا تھا۔

پچھلے ایک سال میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی طویل فہرست ان کی وجوہات، حکومت و عوام کی خاموشی پر فکر مندی کا اظہار اور سرکار کی توجہ ان ایشوز پر مبذول کرانے کی سعی۔‘‘

فائزہ کی نگاہیں لفظ لفظ عبور کر رہی تھیں۔

’’ایک مسلمان کو روزے کی حالت میں زبردستی نوالہ کھلانے کی کوشش۔‘‘

’’چلتی ٹرین میں ایک جواں سال حافظ قرآن کا دن دہاڑے قتل۔‘‘

’’گائے کشی کے الزام میں ایک بے گناہ بزرگ کا بھیڑ کے ذریعے بے رحمانہ قتل۔‘‘

فائزہ نے ایسی ہی دل دہلا دینے والی خبروں کی وجہ اخبار پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اس شمارے میں ہر حادثے کے پیچھے کی کہانی اور سازش سے مطلع کیا گیا تھا۔ اور مسلمانوں کا ان حالات میں لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے اس پر سیر حاصل گفتگو کی گئی تھی۔

سب ایڈیٹر جناب عبد الباری وسیم کے مضامین وہ بہت دلچسپی سے پڑھا کرتی تھی۔ وسیم صاحب کے قلم کی ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ آسان اور سادہ زبان استعمال کرتے تھے۔ ان کی تحریریں پڑھتے وقت قاری کو سمجھنے کے لیے ذہن پہ زور نہیں دینا پڑتا تھا۔ اسی لیے الفاظ کی بجائے قاری کی توجہ تحریر کے اصل مضمون و مقصود ہی کی جانب رہتی تھی اور ذہن آسانی سے وسیم صاحب کی باتوں کو جذب کرلیتا تھا۔

اس میگزین کے اندرونی صفحات میں ان کا ایک اور آرٹیکل موجود تھا۔ فہرست دیکھ کر فائزہ نے مطلوبہ پیج نکالا۔

’’ہندوستان میں ۲۰۱۴ کے بعد سے مسلمانوں کی صورتِ حال۔‘‘

رات کی تنہائی اور سناٹے میں کرسی کی بیک سے ٹیک لگائے گرد و پیش سے بے خبر فائزہ پوری طرح اس آرٹیکل میں محو تھی۔

اس مضمون میں انھوں نے گجرات کے چند دلت لڑکوں کے منہ میں گوبر ٹھونسنے کا اور انہیں برہنہ کر کے سر عام کوڑے لگانے کے واقعے کا بھی ذکر کیا تھا۔

بیانیہ کچھ یوں تھا…

’’گزشتہ دنوں دلتوں کے ذریعے مردہ گائے کی کھال نکالنے کے ’’جرم‘‘ میں دلت لڑکوں پر جو تشدد کیا گیا وہ انسانیت کے لیے شرمناک ہے۔ ’’گئو رکشا دل‘‘ کے غنڈوں نے گاڑی سے باندھ کر سارے گاؤں میں ان نیم برہنہ نو عمروں کی عزت کا جلوس نکالا تھا۔ اس ذلت سے دل برداشتہ ہوکر پانچ نوجوانوں نے زہر پی کر اجتماعی خود کشی کی کوشش کی لیکن پولیس کے بروقت پہنچ جانے پر ان کو فوراً اسپتال لے جایا گیا تین تو بچ گئے لیکن دو نوجوان جاں بحق ہوگئے… سوال یہ ہے کہ یہ ظلم آخر کہاں جاکر رکے گا؟؟

صفحہ کے بیچوں بیچ ان نیم برہنہ لڑکوں کی تصویر تھی۔ ان کے دونوں ہاتھ ایک چار پہیوں والی گاڑی سے باندھے گئے تھے۔ انھوں نے پینٹ پہنی ہوئی تھی جب کہ جسم کا اوپری حصہ مکمل طو رپر برہنہ تھا۔

فائزہ ٹھہر سی گئی… اور خاموش اس بے بسی کی تصویر دیکھے گئی۔ اس واقعے کا ویڈیو اس نے نیوز چینل پر دیکھا تھا۔ اور انسانیت کی ایسی تذلیل اسے رلا گئی تھی… وہ دکھ کے حصار میں گھری رنجیدہ ہوگئی۔

مضمون میں ہندوستان کی مختلف عوامی جگہوں پر قوت پذیر والے مسلمانوں کو ہلاک کر ڈالنے کی ہی خبریں تھی اور بھیڑ کو ایک خطرناک وحشی آدم خور جانور سے تشبیہ دی گئی تھی۔ انڈیا میں اب جیسے کوئی مقام محفوظ نہیں رہ گیا تھا۔ کسی بھی معصوم کو قتل کرنے کے لیے صرف اس کا مسلمان ہونا کافی سمجھا جا رہا تھا۔ عام دنوں اور پبلک پلیس پر بھی وہ ہونے لگا تھا جو اس سے قبل صرف فسادات کے دوران ہوا کرتا تھا۔ ظالم فسادی ٹولے ہر جگہ دندناتے پھر رہے تھے کہ جہاں کوئی لقمہ تر ملا اسے آسانی سے نگل لیں۔ پولیس اور حکومت سے تو خیر کیا سپورٹ کی امید رکھی جائے کہ انہیں کی شہ پر تو یہ سب کچھ ہو رہا تھا… لیکن عوام…؟؟ ہمارے ہم وطن جو کبھی آپس میں بھائی بھائی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اس طرح کے حادثات کو دیکھ کر آج ان کے ہاتھ مدد کے لیے نہیں اٹھتے بلکہ موبائل سے ویڈیو شوٹ کرنے کے لیے اٹھنے لگے تھے… اور اس طرح کے ویڈیوز وائرل ہونے سے خوف و ہراس مزید پھیلنے لگا تھا۔ اپنے لڑکوں کو باہر کے شہروں میں اکیلے بھیجتے ہوئے ماں باپ کے کلیجے منہ کو آنے لگے تھے کہ نہ جانے کس ماں کا نجیب یا کسی ماں کا جنید سلامت گھر واپس نہ آئے۔ او رنہ جانے کس ٹرین یا بس کا سفر کسی انسان کے لیے آخری سفر ثابت ہو۔

فائزہ نے تھوک نگلا۔ اب وہ آرام دہ حالت میں نہیں بیٹھی تھی… اس کا سکون غارت ہوگیا تھا۔ اس کی سنجیدگی میں اب رنجیدگی بھی شامل تھی لب لب بھنچے وہ سراسیمگی کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی تھی۔ میگزین کے چکنے صفحہ پر پھیلنے والی اس کی نگاہوں میں دہشت تھی… اور آنکھوں کی پتلیاں بیقراری سے پھیل اور سکڑ رہی تھیں۔

اس کے زیر نظر اب اگلا مضمون تھا۔ ’’باطل تحریکات: ایک جائزہ‘‘ نے رمضان بخاری مسلمانوں کے خلاف سرزمین ہند میں کس کس نے کون کون سا مورچہ کھول رکھا ہے اور مسلمانوں کو کس کس محاذ پر لڑنے کی ضرورت ہے۔ راشٹریہ سویم سیکوک سنگھ کی تقریباً ساری تنظیموں کا تفصیلی تعارف ان کی برانچ کی تعداد اور ان کے طریقہ کار و طریقہ تربیت کی تفاصیل، ان کے ٹریننگ کیمپوں کا مرعوب کن احوال، ان کی ایکٹی وٹیز کی تصاویر اور ان کا اپنے مقصد (ہندو راشٹر کا قیام) کے تئیں ان کی سنجیدگی اور خود سپردگی۔‘‘

رائٹر کی معلومات وہ بھی اعداد و شمار کے ساتھ متاثر کن تھی۔ فائزہ کو آج معلوم ہوا تھا کہ RSS کے ساتھ اس کی ذیلی تنظیموں کا ایک پورا قافلہ تھا جسے سنگھ پریوار کہا جاتا تھا… یہ تقریباً 82 تنظیمیں تھیں۔ جن کی کم از کم 3500 شاخیں تھیں… مضمون سے متعلقہ فوٹوز دیکھ کر فائزہ بے چینی محسوس کر رہی تھی۔ یہ بجرنگ دل کے چیختے چلاتے لڑکوں کی پکچر تھی۔ اپنی پیشانیوں پر زعفرانی پٹیاں باندھے، ہاتھوں میں تلواریں اور ترشول، آنکھوں میں خون اترا ہوا، نفرت انگیز اور زہریلے نعرے لگاتے نوجوان جیسے سب کچھ تباہ و برباد کر دیں گے جو سامنے آئے گا نیست و نابود ہوجائے گا۔

فائزہ کی پیشانی پسینے سے تر ہوگئی۔ ٹیوب لائٹ کی روشنی میں ننھے شبنمی قطرے اس کی شفاف جبیں پر چکنے لگے۔ باہ رکے موسم میں سردی اور خنکی تھی۔ روشن دان کھلے ہونے کے باوجود ایک دم ہی اسے کمرے کی فضا پوجھل اور حبس زدہ محسوس ہونے لگی تھی۔ زبان و حلق خشک ہوگئے تھے۔ اس نے پانی سے بھرا جگ گلاس میں انڈیلا اور ان تصاویر کو دیکھتے ہوئے غٹاغٹ چڑھا گئی۔ گلاس ٹیبل پر رکھ کر وہ گہری سائنس لینے لگی… ایک ہاتھ ابھی بھی خالی گلاس کو پکڑے ہوا تھا۔

اس نے پھر دوسری تصاویر پہ نگاہ ڈالی۔ یہ ان کے جسمانی تربیت گاہوں کا منظر تھا۔ آگ کے بلند ہوتے شعلوں کو کودنے پھاندنے کی پریکٹس کرتے لڑکے … ہاتھوں میں لمبی لمبی رائفلیں اور نشانہ لگانے کی مشق … منہ میں متی کا تیل ڈال کر آگ کے گولے چھوڑنے کا خطرناک کرتب… لاٹھی چلانے سے لے کر بندوق چلانے تک کی تربیت انہیں دی جا رہی تھی۔

اس دوڑ میں راشٹریہ سیویکا سمیتی (آر ایس ایس کی خواتین ونگ) اور درگا واہنی (وشوا ہندو پریشد) بھی کسی طرح پیچھے نہیں تھیں۔ سمیتی کے دو سے پندرہ روز تک کے کیمپ منعقد کیے جاتے تھے… جہاں خواتین کے زہن بھی تیار کیے جاتے تھے اور جسم بھی… یعنی ہدنو قوم کے Defence کے لیے انہیں بھی یوگا ورزش اور بعض اسلحوں کی تربیت دی جاتی تھی۔ ان نو عمر لڑکیوں کی بھی رنگین تصویریں ساتھ ہی تھیں۔ درگا واہنی کی وہ معصوم صورت لڑکا فائزہ کی ہی ہم عمر لگ رہی تھیں یا شاید اس سے بھی کم عمر…

فائزہ اضطراب کی کیفیت میں اس صفحہ کو کونہ مسلسل مروڑے جا رہی تھی۔ اپنی اس حرکت کا اسے خود بھی پتہ نہیں تھا۔ لگاتار مسلنے کی وجہ سے وہ کونہ اب پھٹنے کے قریب ہوگیا تھا۔فائزہ نے ان تصآویر پر انگلی پھیری۔ اس وقت وہ سخت اذیت سے دوچار تھی۔ نہ جانے ان کے ساف و شفاف ذہنوں میں زہر گھول کر انہیں کیا سے کیا بنادیا گیا تھا… کمر پر کس پر دو پٹہ لپیٹا ہوا، پورے نظم و ضبط کے ساتھ قطاروں میں ہاتھ میں ننگی تلواریں لیے وہ وار کرنا سیکھ رہی تھیں۔ ان کی حرکات ان کے معصوم چہروں سے میل نہیں کھا رہی تھیں… لیکن یہ سب ہندوستان میں ہو رہا تھا۔ اب ان کے کیمپ جلدی جلدی لیے جانے لگے تھے۔ اور یوگی حکومت آنے کے بعد سے یوپی میں منعقد ہونے والے ان ٹریننگ کیمپوں کی تعداد بڑھ گئی تھی… مسلمانوں کے تئیں ان کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کے مقصد سے RSS نے تاریخ کا ہر ظلم مسلمان حکمرانوں کے نام کھو دیا تھا۔ سچی جھوٹی کہانیاں گھڑی گئی تھیں۔ ہندو عورتوں کا اغوا، زنا بالجبر اور زبردستی تبدیلی مذہب کے ان گنت افسانے بنائے گئے تھے…

میگزین پر فائزہ کی گرفت ڈھیلی ہوگئی تھی۔ ہتھیلیوں میں پسینہ آگیا تھا۔ گھبراہٹ سے دل اتھل پتھل ہو رہا تھا… سینے میں دھڑکتے دل کی دگرگوں حالت، ایک انجانا سا خوف اور نیند کے غلبے سے فائزہ کی گردن بار بار لڑھک رہی تھی…

وطن عزیز ہندوستان گہرے اندھیروں میں ڈوبنے جا رہا تھا… روشنی کی کرن کہاں سے پھوٹنے والی تھی… اس مادرِ وطن کو تاریکیوں میں غرق ہونے سے کون بچانے والا تھا۔۔۔ نفرت کے اس زہر کا تریاق کہاں سے ملنے والا تھا۔۔۔ کہاں سے۔۔۔ کس راستے سے۔۔۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین آکولہ

Leave a Reply