ایک شمع جلانی ہے! (قسط ــ 15)

دھیرے دھیرے تکلف کی وہ دیوار جو غافرہ اور زینب آپا کے درمیان تھی، دھویں کی طرح غائب ہوگئی تھی، اور ایک روز چھٹی کے دن وہ پھر ہوسٹل پہنچ گئی۔ ان سے ملاقات کرنے، اپنی الجھن سلجھانے۔ ماویہ کو وہ ابتسام کے پاس چھوڑآئی تھی۔ وہ اب وقت گنوانا نہیں چاہتی تھی کہ کہیں دیر نہ ہوجائے اور قدرت کا عطا کردہ یہ موقع اس کی غفلت کی بنا پر کہیں اس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔

٭٭

سنتا ہوں سرنگوں تھے فرشتے مرے حضور

میں جانے اپنی ذات کے کس مرحلے میں تھا

’’السلام علیکم…‘‘ غافرہ نے زینب آپا کے قریب آکر دھیمے سے کہا جو برگد کے بوڑھے درخت کے نیچے پتھر کی بینچ پر ہاتھ میں کوئی کتابچہ لیے اپنے خیالوں میں کھوئی تھیں، اس کے یوں سلام کرنے پر چونک اٹھیں۔

’’وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ عزیزہ… و علیکم السلام۔۔۔‘‘ وہی انتہائی گرمجوشی ۔۔۔ وہی محبت بھرا انداز۔

’’کیسی ہو غافرہ…؟ دل کو بڑی خوشی ملتی ہے تم سے مل کر۔‘‘ انھوں نے نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں دبائے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دی۔ غافرہ کو انکا یہ انداز اچھا لگتا تھا۔ وہ کبھی آنے والے سے یہ نہ کہتیں کہ کیسے آنا ہوا؟‘‘ بلکہ وہ خوشی کا اظہار کرتیں، کچھ وقت بعد سامنے والا خود ہی اپنا مقصد بتا دیتا لیکن ان کے اظہار پر جو خوشی و محبت وہ اپنے دل میں محسوس کرتا اس کا احساس ہی الگ ہوتا۔ محبت ظاہر کرنے کے نئے نئے انداز ہوتے ہیں نا! آخر ہم کیوں منفی جذبوں میں زندگیاں گزارتے ہیں…‘‘

’’بس زینب آپا… سچ تو یہ ہے کہ آپ سے مل کر مجھے بھی بہت اپنائیت کا احساس ہوتا ہے … پھر کچھ الجھن بھی تھی تو سوچا آپ سے شیئر کرلوں۔‘‘

غافرہ نے بھی بڑی گرم جوشی اور نہایت ادب و سلیقے سے کہا تو وہ مسکرا دی۔

’’رحمیٰ کو تو سب کی تعریف کرنے کی عادت ہے، اور بیٹا سب سے بہتر رہ نمائی کرنے والی ذات تو رب رحیم کی ہے۔ روشنی وہی دکھاتا ہے، روشنی تک رہنمائی بھی وہی کرتا ہے اور اس کے وسیلے بناتا ہے۔ اب یہ بندہ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس روشنی کے تعاقب میں جاتا بھی ہے یا نہیں اور اگر جاتا ہے تو کہاں تک جاتا ہے…‘‘ غافرہ نے مسکرا کر ان کی بات پر ایک گہری سانس بھری۔ وہ بھی تو روشنی کے تعاقب میں نکلی ہے اور اللہ کا بہت شکر و احسان ہے کہ اس نے اسے روشنی دکھائی اور اس نے روشنی کی راہ میں اپنے قدم بڑھا دیے اور پھر مطمئن ہوگئی۔ یہ بات وہ بھول گئی تھی کہ روشنی کا سفر اتنی جلدی ختم نہیں ہوا کرتا اور جو روشنیوں کی راہ میں سفر کرتے ہیں ان کی کچھ ذمہ داریاں ہو تی ہیں، نازک اور بھاری بھرکم، اہم ترین ذمہ داریاں …!‘‘

’’سچ کہہ رہی ہیں آپ… روشنی کا تعاقب انسان کو ساری عمر کرتے رہنا چاہیے، یہی وہ لگن اور تڑپ ہے جو ہدایت کے لیے شرط ہے، رب کریم کی طرف سے مسلسل ہدایت انہیں ہی ملتی ہے جو مسلسل اس کی جستجو میں رہتے ہیں، کسی ایک درجہ پر مطمئن ہو کر بیٹھ جانے والوں کو نہیں…‘‘ غافرہ نے دھیمے لہجے میں کہا… کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر غافرہ نے گفتگو آگے بڑھائی۔

’’کچھ وقت پہلے رحمیٰ باجی سے گفتگو ہوئی تھی تب انھوں نے آپ کا ذکر کیا تھا، آپ نے انھیں بایا تھا کہ زندگی مسلسل Second Chance کا نام ہے۔ عقل مند لوگ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے انہیں اپنے لیے Source of Inspiration بنایا کرتے ہیں… ان سے سبق سیکھ کر وہ خود کو موٹیویٹ کیا کرتے ہیں اور کوئی ایک بھی ہمارے ذریعے اس غلطی سے بچ جائے تو اس میں اپنے ماضی کا کفارہ تلاش کرتے ہیں۔‘‘ غافرہ نے حسب عادت ہاتھ میں موجود انگوٹھی کو مسلسل انگلی میں گھماتے ہوئے مدھم لہجے میں کہا۔ زینب آپا آرام سے ٹیکہ لیے بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں۔

’’انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میری بیٹی میرے لیے سب سے بہترین موقع ہے۔ یہ بات میں سمجھ گئی۔ لیکن اس تین سالہ بچی کو میں کیا سکھاؤں۔ میں اسے اپنے ساتھ لیے نماز پڑھتی ہوں۔ اسے دعائیں اور سورتیں یاد کرواتی ہوں۔ گھر کا ٹی وی بند کر رکھا ہے لیکن پھر بھی یوں لگتا ہے جیسے چیزیں ویسے نہیں ہو رہی ہیں جیسے میں چاہ رہی ہوں۔ وہ صحیح غلط سمجھ نہیں سکتی، میری سختی پر مجھ سے بدظن ہوجاتی ہے، کبھی ابتسام ناراض ہو جاتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ سب کس طرح کروں؟‘‘

غافرہ کے لہجے میں الجھنیں تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ بچوں پر بلا وجہ سختی انہیں ماحول سے بغاوت پر اکساتی ہے اور بچے ایک ہی وقت میں دو طرح کے ماحول کو دیکھ کر کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ ایک وہ ماحول جو گھر کے اندر ہوتا ہے اور ایک وہ جو گھر سے باہر ہوتا ہے، جو اسکول میں کالج میں ہوتا ہے۔ ان دونوں کا تضاد انہیں الجھن میں ڈال دیتا ہے، بالخصوص ان بچوں کو جن کا گھریلو ماحول مذہبی و اخلاقی اقدار کے ساتھ ہو، ورنہ الٹرا ماڈرن قسم کی فیملی کے بچوں کے لیے دونوں طرف کا ماحول یکساں ہوتا ہے۔۔۔ اور آج کے دور میں جہاں انٹرنیٹ، موبائل اور ویسٹرن کلچر عام ہوچکا ہے، برائی کا برا ہونے کا احساس مٹ چکا ہے۔ اس ماحول میں بچوں کی تربیت، ان کی ذہن سازی آخر کس طرح ہو… پچھلی نسلیں اپنی اخلاقی اور مذہبی قدروں اور روایتوں کو نئی نسلوں تک کامیابی کے ساتھ کیسے منتقل کریں کہ ان کا سرمایہ محفوظ رہے۔

٭٭

روک لیتی ہے بھٹکنے سے میرے قدموں کو

تیری الفت کی عجب مجھ یہ نگہبانی ہے

غافرہ کی الجھن اس کے چہرے سے بھی واضح تھی جب کہ زینب آپا مدھم سی مسکراہٹ لیے بیٹھی تھیں۔

’’تم اپنے بچوں کو قرآن سکھاؤ، قرآن انہیں سب سکھا دے گا۔‘‘ انھوں نے اسی مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو غافرہ انہیں دیکھے گئی لیکن وہ غافرہ کو نہیں دیکھ رہی تھیں، ان کی نظریں اسی بوڑھے برگد پر بنے ایک گھونسلے پر تھیں جہاں تین سے چار ننھے منے چڑیا کے بچے شور مچا رہے تھے۔ شام ڈھل رہی تھی اور وہ اپنی ماں کا انتظار کر رہے تھے۔

’’ہم اپنے بچوں کو قرآن نہیں سکھاتے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہم بچوں کو قرآن ویسے نہیں سکھاتے جیسے کہ سکھانا چاہیے۔ ہم انہیں قاعدہ، عربی پڑھا لیتے ہیں، ختم قرآن کرلیتے ہیں، دورہ قرآن کروالیتے ہیں اور بس… اور ہماری حالت کی وجہ بھی یہی ہے کہ تربیت ہم خود کرنا چاہتے ہیں، اپنے اصولوں اپنی شوق کے مطابق اپنے تجربوں ار علم کے مطابق اور جب کچھ غلط ہونے لگے تو اس سوال سے پریشان رہتے ہیں کہ ہماری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی تھی… جب تربیت کے اصول اور خطوط اللہ اور اللہ کی کتاب، رسول اور رسول کی سنت نہ ہوں تو بگاڑ تو پیدا ہونا ہی ہے۔‘‘

’’زینب آپا… وہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ اتنی کم عمر میں، میں اسے کیا بتاؤں؟ کیا سمجھاؤ؟ میں اسے چھوٹی چھوٹی اچھی عادتیں سکھا سکتی ہوں… اسے قاعدہ اور قرآن پڑھنا سکھا دوں گی لیکن قرآن کے احکامات اسے کیسے سمجھاؤں؟ ان سب کے لیے تو وہ بہت کم عمر ہے نا…!!‘‘ غافرہ کی الجھن تو یوں ہی باقی رہی…

’’غافرہ… یہ سب وہی سوچ اور تاویلیں ہیں جن کو سوچ کر ہم اپنے آپ کو پہلے پریشان و فکر مند اور بعد میں مطمئن کرلیتے ہیں کہ ابھی بچے کی عمر ہی کتنی ہے اور ابھی یہ کرنے کی اس کی عمر نہیں ہے… میں بتاؤں تمہیں کہ یہ سب بس وہ وسوسے اور وہ خیالات ہیں جو شیطان ہمارے دماغ میں ڈال دیتا ہے، اور یہ سمجھا دیتا ہے کہ اس کی عمر نہیں ہے، عمر نہیں ہے کرتے کرتے بچوں کی عمر نکل جاتی ہے… وہ عمر نکل جاتی ہے جہاں وہ نرم ٹہنی اور گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں کہ جہاں موڑو مڑ جائیں اور جیسے ڈھالو ڈھل جائیں۔‘‘

وہ تین سال کی ہے اور نئی نسل کے بچے ان زمانوں کے نہیں ہیں جب تین یا چار سال کی عمر میں ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا، یہ نسل انٹرنیٹ، 4G، 5G کے دور کی نسل ہے، جہاں بچے چیزیں سیکھتے نہیں ڈاؤنلوڈ کرتے ہیں۔‘‘

’’زینب آپا… میں اسے سب اچھا اچھا، صحیح غلط بتا بھی دوں، سکھا بھی دوں تو علم تو ہوگا اس کے پاس مگر عمل …؟ آج ہم جس ماحول اور System میں رہ رہے ہیں وہاں میں اسے من چاہا ماحول نہیں دے سکتی۔ گھر کے اور باہر کے ماحول میں ایک واضح تضاد ہوتا ہے، علم اور عمل کا تضاد ہمارے اپنے درمیان ہی کتنا ہوتا ہے۔ میں اسی لیے تو پریشان رہتی ہوں کہ اگر سختی کروں تو وہ مجھ سے دور ہوجائے گی، چیزوں کو ویسے سمجھ نہیں پاتی جیسے ہم سمجھانا چاہتے ہیں۔ بچے کتنے ہی تیز کیوں نہ ہوں، کتنی ہی فاسٹ جنریشن ہو بچپن بچپن ہی ہوتا ہے۔‘‘ الجھن سی الجھن تھی۔ زینب آپا نے گہری اور خاموش نظروں سے اس کے چہرے کے الجھے تاثرات دیکھے اور گہرا سانس لیا۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولیں بھی تو کیا۔!!

’’چائے پیوگی؟‘‘

ان کے اس سوال پر غافرہ ہونق بنی انھیں دیکھے گئی۔

’’جی!!‘‘ اسے یقین نہ آیا کہ یوں اتنی بڑی الجھن کا reply ایسے ملے گا۔ اسے لگا کہ انھوں نے اس کی بات کو ہلکا لے لیا ہے یا وہ اسے سمجھ نہیں پا رہی ہیں۔ اس بات سے وہ بے خبر تھی کہ وہ خود جتنی الجھی ہوئی تھی اس میں اسے زینب آپا کی باتیں ویسے سمجھ نہیں آرہی تھیں جیسے وہ اسے سمجھانا چاہ رہی تھیں۔ حالاں کہ زینب آپا نے اس کی باتوں کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔

ہاں… چائے… انھوں نے ہلکے پھلکے انداز میں اپنی بات دہراتے ہوئے دور کھڑی بتول خالہ کو آواز دے کر چائے اور سموسے لانے کو کہا۔ کچھ ہی دیر میں خالہ چائیاور سموسے لیے آگئیں۔

٭٭

شام ڈھلنے لگی تھی۔ نارنجی رنگ کی تھال افق پر الٹی نظر آرہی تھی، ہلکی ہلکی ہوا ایک خوشگوار احساس دلا رہی تھی دھیرے دھیرے کالج، یونیورسٹی اور جاب سے لڑکیاں واپس آتی نظر آرہی تھی۔ یوں تھوڑی چہل پہل سی ہوگئی تھی۔

’’غافرہ اب میں بات پہلے نقطہ سے ہی شروع کرتی ہوں‘‘ زینب آپا نے چائے کی ایک سپ لیتے ہوئے کہا۔ اسی لمحے غافرہ نے غیر محسوس طریقے سے موبائل کی ریکارڈنگ آن کردی۔ حکمت کی باتوں کو کہیں نہ کہیں محفوظ ضرور رکھنا چاہیے۔ جہاں یہ باتیں بیان کی جائیں وہیں انہیں سنا بھی جائے اور محفوظ بھی کیا جائے کہ بھول جانا انسان کی فطرت میں ہے اور اس کا سب سے بہترین طریقہ قلم اور کاغذ ہے۔ لیکن غافرہ Notes لینے لگ جاتی تو زینب آپا کو اس کی دماغی حالت پر شک ہونے لگتا سو اس نے ریکارڈنگ آن کرلی۔

’’تمہاری الجھنوں کی فہرست بنائی جائے اور انھیں ترتیب سے جمایا جائے تو پہلی بات یہ ہوگی کہ بچوں کو زیادہ علم دے ڈالوگے تو وہ معصوم ذہن علم و عمل کے تضاد میں پریشان ہوجائے گا۔ تو میں بتاؤں تمہیں ایک بات کہ محنت تو ابراہیمؑ بننے کے لیے کرنی پڑتی ہے اسماعیلؑ تو پھر انعام ہوا کرتے ہیں۔

تم اگر تربیت بہتر سے بہتر کرنا چاہتی ہو تو تمہیں خود کو بدلنا ہوگا۔ جو تبدیلی اپنی اولاد میں چاہتی ہو وہ خود میں لانی ہوگی۔ بچوں میں ایک سے چھ سال کی عمر تک تقلید کا مادہ بنیادی ہوتا ہے۔ وہ اپنے بڑوں کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو بڑوں کا عمل ہوگا بچے اسی سے اثر قبول کرتے ہیں۔ بچہ اپنے ماں باپ اور بالخصوص ماں کا اثر جلدی قبول کرتا ہے یہ میں اپنے دل سے نہیں کہہ رہی علم نفسیات (سائیکا لوجی) کی کتاب اٹھا کر Infancey جس میں عمر 0-3 سال اور early childhoold میں 3-6 سال تک کے زمانے کی Definition اور تھیوری دیکھ لو۔

اس عمر میں والدین، بھائی بہنوں اور پسندیدہ ٹیچر کی نقل کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اور اسی عمر میں ان کے سوالات کے مناسب اور صحیح جواب دے کر ان کی تشفی کرنی چاہیے۔ انہیں مکمل طور پر مطمئن کرنا چاہیے تاکہ ان کی جذباتی و ذہنی نشو و نما ہوسکے۔ چھ سال سے بارہ سال تک کا وقفہ Later childhood (لڑکپن) کہلاتا ہے جو کہ شخصیت کی تشکیل کی عمر ہوتی ہے۔ تعلیم و تربیت کے نقطہ نظر سے یہ دور بہت اہم ہے۔ اس میں ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اوربچہ خیالی دنیا سے حقیقی دنیا میں آتا ہے۔ ہر چیز میں کیوں اور کیسے پوچھتا ہے، اور اس کا تسلی بخش جواب چاہتا ہے۔

میں نے اتنی تفصیل تمہیں اس لیے بتائی کہ تم جان سکو کہ تمہیں سب سے پہلے کیا کرنا ہے۔ جیسے کہ میں نے کہا کہ اگر چاہو اولاد اسمٰعیل علیہ السلام کی طرح تو پھر خود بنو ابراہیمؑ کی طرح… اگر زم زم کی چاہ ہو تو ایڑیاں رگڑنا ہی پڑتی ہیں۔ وہ صفا و مروہ کے گرد چکر کاٹتی ماں کی ہی تڑپ ہوتی ہے، جو قبول کرلی جاتی ہے اور چاہِ زم زم عطا کیا جاتا ہے، مقدس، شفاء بخشنے والا، ہر آلودگی سے پاک۔‘‘ وہ دھیمے دھیمے لہجے میں سنہرے الفاظ بول رہی تھیں۔ غافرہ کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ بس وہ اور زینب آپا ہی ہیں۔ آس پاس کا سارا منظر اور سارے لوگ جیسے دھندلا سے گئے تھے۔

’’اسے تم سے صرف علم نہیں بلکہ عمل بھی ملنا چاہیے۔ تمہارے عمل کی وہ نقل کرے گی اور یہی بعد میں اس کی عادت بن جائے گی تو تمہیں خود پر محنت کرنی ہوگی باقی چیزیں خود بہ خود ہوجائیں گی۔ تم آزماکر دیکھ لو اور جان لو کہ چھوٹے بچوں کا (Observation)مشاہدہ بہت تیز ہوتا ہے۔ جہاں وہ تمہیں نماز، قرآن پڑھتے اور اس جیسے دیگر کاموں کو دیکھ کر سیکھے گی وہیں وہ تمہاری ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی پکڑے گی، چاہے وہ انعام کا جھوٹا لالچ ہو یا کھانے پینے کی ہماری روز مرہ کی عادتیں اور ہمارا مزاج۔ بعض باتیں ہمارے لیے معمولی ہوتی ہے لیکن بچے ان سے اپنی ذہنی نشو ونما کے مطابق کئی باتیں اخذ کرنے لگتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ بچے دو مختلف ماحول کو Expose ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اس کا اپنے گھر سے بڑا مضبوط تعلق ہوتا ہے۔ تم بچپن سے ہی اپنے عمل اور تربیت کے ذریعے اس کے اندر صحیح غلط کی کسوٹی لگادوگی نا تو پھر وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو، یہ کسوٹی اسے ہر بات کا، ہر کام کا حساب لگا کر اسے بتا دے گی کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط… پھر یہ اسے کنفیوژ نہیں ہونے دے گی… وہ اپنے معاملات اور اپنے ہر کام میں کرسٹل کلیر رہے گی۔ تم اس کی ٹیچر رہوگی اور جب وہ تمہارے قول و عمل میں کوئی تضاد نہیں دیکھے گی جب وہ تمہیں اچھائی کی طرف بڑھتے اور اچھائی پر قائم رہنے کے لیے کوشش کرتے دیکھے گی تو اس کی اپنی زندگی میں بھی تضاد نہیں ہوگا…‘‘

’’اور پھر عمر کا وہ اہم حصہ جہاں انسان خیالی دنیا سے حقیقی دنیا میں آتا ہے، لڑکپن… اس میں بچے بہت تجسس کا شکار ہوتے ہیں۔ ہر بات میں کیوں اور کیسے پوچھتے رہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تم انہیں قرآن و سنت کے حوالوں سے اسی وقت سمجھا سکتی ہو جب تمہارا اپنا علم پختہ ہوگا۔

جب تم قرآن کا علم رکھوگی تو کیوں اور کیسے کا جواب نہایت حکمت، محبت اور ٹیکنیک سے دے سکوگی، بات سے بات نکال کر کہیں نہ کہیں سے اس میں قرآنی ٹچ ضرور ڈالوگی کہ قرآن علم کا سرچشمہ ہے۔ اس طرح بچوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ تو اپنے اندر ہر قسم کا علم سمیٹے ہوئے ہے۔

شاید تمہیں یہ بہت غیر عملی لگ رہا ہوگا، لیکن جب تم قرآن پڑھنے لگوگی اور سمجھتی رہوگی تو تم جان جاؤگی کہ بچے کے سوال کا کس طرح جواب دیا جائے کہ وہ مطمئن ہوجائے او راس میں قرآنی حوالہ بھی اسے مل جائے تمہیں اس پر محنت کرنی ہوگی۔

ہم دنیاوی تعلیم کے لیے اپنے دن رات لگا دیتے ہیں۔ عمر کا سب سے بہترین دور،دن کا کثیر حصہ اور رات کا آرام سب کچھ اس علم کے لیے لگادیتے ہیں جس کا مقصد ہم بھول چکے ہیں او روہ علم القرآن جو ہماری بقا کے لیے نہایت ضروری ہے اور ہماری دنیا و آخرت کے لیے لازمی ہے اسے بس ایک مخصوص وقت، چند منٹوں میں یا عربی پڑھنے کا وقت ہے کہہ کر پڑھ لیتے ہیں، حالاں کہ اس علم کے بغیر نہ آپ عصری تعلیم میں آگے رہ پائیں گے اور نہ ہی دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکیں گے…‘‘ وہ بڑے افسوس و یاسیت کے ساتھ ایک بڑی ہی تلخ حقیقت بیان کر رہی تھیں۔

’’اور وہ جو ماحول کے تضاد، انٹرنیٹ، موبائل کے Distraction کی بات ہے تو جان لو کہ ڈسٹریکشن ہر دور میں رہا ہے، چاہے وہ علامہ اقبال ہو یا محمد علی جوہراور شوکت علی جوہر… ان کے زمانے میں اس زمانے کے حساب سے ڈسٹریکشن تھے، ہر دور میں ہوتے ہیں لیکن ان کی ماؤں نے ان کی بہترین تربیت کی کہ وہ عظیم شخصیت بن کر ابھرے … ہر دور کا اپنا ڈسٹریکشن، اپنا ایک تضاد ہوتا ہے جیسے کہ آج کے دور میں انٹرنیٹ، موبائل وغیرہ ہے لیکن تمہارے ذریعے دیا گیا علم، عمل اور تربیت ہر ڈسٹریکشن سے اوپر ہوتا ہے۔‘‘

غافرہ خاموشی سے انہیں بولتے دیکھ اور سن رہی تھی۔ وہ اتنے عرصہ سے جو سوچ اسے پریشان کر رہی تھی زینب آپا نے لمحوں میں اسے صفر کر دیا تھا۔ زینب آپا کے اگلے سوال نے اسے چونکا دیا تھا لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ آج ڈھلتی شام کی گزرتی ساعتیں کیسے اس کی زندگی بدل دیں گی اس پر آگہی کے کتنے ہی دروَا کردیں گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply