افسانے

(۱)

’’کیا ہے… امی… آپ بار بار فون کیوں کر رہی ہیں؟‘‘ موبائل کے بٹن کو پُش کرتے ہوئے کالج میں پڑھ رہی لڑکی نے کہا۔

دوسری طرف سے آواز آئی ’’بیٹی تین بج گئے دوپہر کے، مگر تم ابھی تک کالج سے نہیں آئیں اس لیے مجھے فکر ہو رہی تھی۔‘‘

’’امی… آپ پریشان نہ ہوں آج کالج میں ہمارا پریکٹیکل چل رہا ہے میں دیر سے آؤں گی۔‘‘ نوجوان لڑکی نے قدرے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔

’’ٹھیک ہے بیٹی خیال رکھنا۔‘‘ فکر مند ماں نے کہا۔

’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ لڑکی نے فون کاٹ دیا اور ساتھ بیٹھے اپنے فرینڈ کی طرف دیکھ کر مسکرا دی جو کہ ایک مشہور ریسٹورینٹ میں چائے سموسوں کا آرڈر دے کر مطمئن سے انداز میں بیٹھا تھا۔

(۲)

’’آگئے آپ…‘‘ گوہر جہاں نے اپنے شوہر جمیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ہاں …‘‘ جمیل صاحب نے تھکے تھکے سے انداز میں مختصر سا جواب دیا اور نڈھال سے چارپائی پر بیٹھ گئے۔ گوہر جہاں نے لپک کر پانی کا گلاس لاکر ان کے ہاتھوں میں تھما دیا۔ جمیل صاحب نے ایک دو گھونٹ لے کر گلاس میز پر رکھ دیا۔

’’کیا کہا انھوں نے؟‘‘ گوہر جہاں نے بے تابی سے پوچھا۔

’’اِنکار کر دیا انھوں نے۔‘‘ جمیل صاحب نے مایوسانہ انداز میں کہا۔

’’مگر کیوں؟‘‘ گوہر جہاں نے قدرے صدمے کی حالت میں کہا۔

’’اس لیے۔۔۔‘‘ جمیل صاحب نے ذرا رک کر کہا: ’’کہ ہماری لڑکی ان پڑھ ہے اور اُن کا لڑکا گریجویٹ ہے۔‘‘

’’اس لیے دونوں یعنی لڑکا لڑکی کا کوئی میل نہیں ہے، سو یہ رشتہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ جمیل صاحب نے مزید کہا۔

’’مگر … ہماری لڑکی گھریلو ہے۔ خوب صورت بھی ہے… یہی چیزیں تو آج کل کی لڑکیوں میں دیکھی جاتی ہیں۔‘‘ گوہر جہاں نے کہا۔

’’ہاں… لیکن لڑکے والوں نے انکار کر دیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ لڑکی کم پڑھی ہوئی بھی ہوتی تو چل جاتی۔ کیوں کہ پڑھی لکھی ماں… آنے والی نسلوں کی زیادہ بہتر طریقے سے تربیت کرسکتی ہے۔‘‘ جمیل صاحب نے دل شکستہ ہوکر کہا۔

’’کاش ہم نے بھی لڑکی کو پڑھا لکھا دیا ہوتا تو اتنا اچھا رشتہ ہاتھ سے نہ نکلتا۔ مگر افسوس ہم نے لاپرواہی کی اور لڑکی کو ان پڑھ رہنے دیا۔‘‘

(۳)

’’دیکھو حمیدہ بیگم !… برا مت ماننا، تمہاری لڑکیوں کی شادی کی عمر نکلی جا رہی ہے مگر تم اُن کو بیاہنے کا نام ہی نہیںلے رہی ہو۔‘‘ پڑوسن عورت نے حمیدہ بیگم کو سمجھایا۔

’’مجھے بھی فکر ہے مگر کیاکروں کوئی ڈھنگ کا رشتہ ہی نہیں ملتا۔‘‘ حمیدہ بیگم نے شکایتی لہجے میں کہا۔

زیادہ آسمان کی طرف مت دیکھ منہ کے بل گروگی۔۔۔ تم خود کئی رشتے لوٹا چکی ہو۔ تقدیر بار بار دستک نہیں دیتی دروازے پر۔ اچھا نیک لڑکا دیکھ کر رشتہ کردو بھلے ہی گھر چھوٹا ہو یا کم کماتا ہو مگر تمہیں تو لڑکا اکیلا چاہیے؟ مکان بھی بڑا ہو، ساس نندوں کا جھنجھٹ نہ ہو ایسا چاہتی ہو۔‘‘ پڑوسن نے کھری کھری سنائی۔

حمیدہ بیگم نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا مگر کچھ سوچ کر چپ ہوگئی۔ لوہا گرم دیکھ کر پڑوسن نے چوٹ کر دی۔‘‘ بڑی لڑکی کی عمر تیس سے اوپر ہو رہی ہے، چھوٹی بھی اٹھائیس سے کم نہیں یہ عمر خطرناک ہے جلد ہی ہوش کے ناخن لو اور جلد سے جلد ان کا بیاہ کردو ورنہ تم سمجھ دار ہو جانتی ہو کیا ہوسکتا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر پڑوسن چلی گئی۔ ٹھیک دو ہفتے بعد محلے میں خبر گردش کر رہی تھی کہ حمیدہ بیگم کی بڑی لڑکی گھر سے نکل گئی ہے۔

(۴)

کمرے کے اندر کافی افراد جمع تھے۔ فضا میں خاموشی طاری تھی۔ جیسے کچھ دیر پہلے کافی سنجیدہ گفتگو ہوتی رہی ہو۔ در اصل یہ میٹنگ شادی کی تقریب سے دو دن پہلے دو خاندانوں کے درمیان منعقد ہوئی تھی۔

اچانک نوجوان لڑکے کی آواز خاموش فضا میں گونجی ’’میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں ان سب باتوں کو نہیں مانتا یہ بے کار کے رواج ہیں، جنھوں نے ہمیں جکڑ رکھا ہے۔‘‘

’’مگر بیٹا یہ سب تو کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ لڑکی والوں کی طرف سے کسی بزرگ نے کہا۔ اچانک لڑکے کے والد نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔ ’’دیکھئے بھائی صاحب ہم اس قسم کے خیالات نہیں رکھتے۔ جب میرا لڑکا جہیز کے نام پر کچھ نہیں لینا چاہتا تو آپ لوگوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس رواج کو توڑنے کے لیے ہی تو ہم لوگ خصوصاً یہاں آئے ہیں۔‘‘

لڑکی کے ماموں بولے: ’’مگر بشیر صاحب لڑکی خالی ہاتھ بھی تو نہیں بھیجی جاسکتی۔ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ لوگ اتنے ہی فقیر ہیں اور پھر ماشاء اللہ ہمارا بھرا پرا خاندان ہے لڑکی کے چار ماموں، دو چچا اور ایک تایا ابھی زندہ ہیں۔‘‘

لڑکے نے بے چارگی سے کہا: ’’دیکھئے… پھر بھی ہمیں غلط چیزوں کو مٹانا چاہیے اور اچھی چیزوں کو رواج دینا چاہیے۔ اس طرح جہیز کے کھلے مظاہرے پر آس پڑوس کی بچیوں پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں اور اُن کے والدین بھی استطاعت نہ ہونے کے باوجود اس قسم کے رواج کو ماننے پر مجبور ہیں۔ پتا نہیں کس طرح پیٹ کاٹ کر وہ لوگ جہیز کا سامان جمع کرتے ہیں۔ ہمیں لوگوں کے لیے اچھی مثال پیش کرنی چاہیے۔‘‘

اتنی لمبی گفتگو کے بعد بھی لڑکی کے چچا نے کہا: ’’آپ کی باتیں تو صحیح ہیں مگر معاشرے کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اس سے تو ہماری ناک کٹ جائے گی اور پھر معاشرے میں ہماری عزت بھی توبہت ہے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد نصیر رمضان

Leave a Reply