میری بیٹی میرا !

کچھ دن پہلے اسکے موبائل پر انجانے نمبر سے کال آنے لگی۔ اس نے یہ سوچ کر کہ کسی دوست یا جاننے والی کی کال ہوگی۔ کال ریسیو کرلی۔ مگر دوسری طرف سے مردانہ آواز سنتے ہی رانگ نمبر کہہ کر کال منقطع کردی۔ بس وہ دن ہے اور آج کا دن میسجز اور کالز کا ایسا تانتا بندھا جو رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔

کال تو اس نے کوئی رسیو نہ کی مگر میسجز پڑھتی رہی۔ نام پوچھا جاتا، فون اٹھانے پر اصرار کیا جاتا اور اسکی آواز کی خوب تعریف کی جاتی، اپنے بارے میں بتایا جاتا اور جواب نہ دینے کے باوجود میسجز اور کالز کا سلسلہ مستقل مزاجی سے جاری تھا۔

عفت کے لیے یہ سب نیا تھا۔ چھوٹی سی عمر کا ایک انجانا سا احساس تھا جسے وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی۔

کیا ہوا اگر میں بھی ایک میسج کردوں؟ یہی پوچھ لیتی ہوں کہ کون ہو اور کیوں مجھے تنگ کررہے ہو، اس کے دماغ میں خیال آیا۔ رات کے تین بج رہے تھے۔کتنی ہی بار اس نے میسج لکھ کر مٹایا۔ عجیب شش و پنج کا شکار تھی۔ کوئی اس سے بات کرنے کے لیے بے چین تھا۔ یہ خیال اسے نہ جانے کیوں ایک انجانی سی خوشی دے رہا تھا۔

بالآخر سوچ بچار کے بعد اس نے ایک میسج ٹائپ کرلیا۔ جس میں اس نے لکھا کہ وہ کون ہے اور رات کے اس پہر اسے کیوں تنگ کررہا ہے۔ ہاں کوئی بات نہیں ایک میسج ہی تو ہے اور پوچھ لینے میں قباحت ہی کیا ہے، اس نے خود کو تسلی دی۔

بٹن دبانے ہی لگی تھی کہ اچانک ایک چہرہ اسکی دماغ کی اسکرین پر ابھرا۔

’’میری بیٹی تو میرا مان ہے۔‘‘

یہ جملہ اس کے بابا اس کا ماتھا چومتے ہوئے اکثر دہرایا کرتے تھے. اس کے حلق میں کانٹے چبھنے لگے.

’’بیٹیاں جب معاشرے میں سر جھکا کر چلتی ہیں تب ہی اس کے بھائی اور باپ سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوتے ہیں۔‘‘

شفقت و محبت سے کہا گیا بابا کا ایک اور جملہ دل کے تار چھیڑ گیا۔

جب کبھی امی جی بابا کو اسے سر چڑھانے کا طعنہ دیتیں تو بابا کی طرف سے ایک مخصوص جواب آتا کہ

’’عفت تو اپنے بابا کا مان ہے۔‘‘

اور ہمیشہ ہی اسے یہ جملہ سرشار کر دیتا۔

اسے اپنا سارا وجود سن ہوتا ہوا محسوس ہوا، بڑی مشکل سے بستر سے اٹھی۔ پسینے سے شرابور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بالکونی میں جا کھڑی ہوئی۔

’’میری بیٹی تو میرا مان ہے‘‘

’’میری بیٹی تو میرا وقارہے‘‘

’’میری بیٹی بہت بہادر ہے‘‘

کانوں میں گونجتی بابا کی آوازیں اب تک سنائی دے رہی تھیں۔

جی بابا جانی میں کمزور نہیں ہوں۔آپ کی عِفّت آپکا مان نہیں توڑے گی اور نہ آپ کے وقار کو زک پہنچنے دے گی۔ ان شاء اللہ۔آپ کا سر کبھی جھکنے نہیں دے گی اور آپ کا یہ مان ہمیشہ قائم رکھے گی۔ آپ کی دی گئی محبت کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھائے گی۔

وہ سرگوشی میں بولتی گئی۔ آنسو اسکے گالوں کو بھگو رہے تھے۔

اس نے جلدی سے اس نمبر کو بلاک کیا۔ سکون کے احساس کے ساتھ اس نے گہرا سانس لیا اور آسمان کی جانب دیکھنے لگی۔ رات کی آخری پہر تھی کچھ دیر میں سحر ہونے کو تھی۔

نیچے صحن کی طرف دیکھا تو بابا تہجد پڑھنے کے بعد اللہ رب العزت کے سامنے ہاتھ پھیلائے دعا مانگنے میں مصروف نظر آئے۔

باپ اللہ سے اس کی عزت و آبرو کی دعا مانگیں اور اللہ پاک اسے گناہوں کی دلدل سے نہ بچائیں ایسا کیسے ہوسکتا تھا.

اسے اس لمحے اپنے بابا پر بیحد پیار آیا۔ ان کی صحت و سلامتی کی دعا کرتی وہ وضو کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔

انجان نمبروں کے ذریعے پھینکا ہوا یہ شیطان کا جال ٹوٹ چکا تھا۔ یہ وہ جال ہے اکثر معصوم بچیوں پر پھینکتا ہے۔ ایک جگہ سے نشانہ چھوٹ جائے تو دوسری جگہ آزماتا ہے اور جہاں نشانہ لگ گیا رسوائی و پچھتاوا لڑکی کے حصے میں ہی آتا ہے۔

قابل تعریف ہیں وہ لڑکیاں جو ان جالوں سے اپنی اور اپنے سے وابستہ رشتوں کی ناموس کو بچالیتی ہیں اور اپنے والدین کا مان ٹوٹنے نہیں دیتیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مرسلہ: ابراہیم خان (آکولہ)

Leave a Reply