گھر نہ ٹوٹے

افشاں نے ڈبل روٹی کا ٹکڑا توڑ کر ابھی منہ میں رکھا ہی تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔ غیر ارادی طور پر اس نے گھڑیال کی جانب دیکھا جو سوا گیارہ بجا رہا تھا۔ ’’یقینا نبیلہ آئی ہوگی۔‘‘ اس نے دل میں سوچا اور ہاتھ میں پکڑی چائے کی پیالی میز پر رکھ کر دو پٹا سنبھالتے ہوئے صحن کی جانب چل دی۔ حسب معمول نبیلہ نے اندر آتے ہی سلام کیا اور جھاڑو لینے صحن سے ملحق بائیں جانب چھوٹی سی گلی میں چل دی۔ افشاں نے اندر آکر اخبار کی ورق گردانی شروع کر دی۔ یہ اس کا معمول تھا کہ ناشتے کے وقت وہ میز پر پڑے اخبار، رسالے یا ڈائجسٹ کے مطالعے میں ضرور مصروف رہتی کیوں کہ ناشتے کے بعد وہ گھر کے روز مرہ کاموں میں مصروف ہوتی اور رات کھانے کے بعد وہ اکثر اپنی سہیلیوں، بڑی بھابی اور سعودی عرب میں اپنے شوہر کے ساتھ وٹس ایپ پر بات چیت میں مصروف رہتی۔رات گئے تک باتیں ہوتی رہتیں تو وہ چند گھنٹے ہی سو پاتی۔ صبح اٹھ کر بچوں کو اسکول بھیج کرد میں گیارہ بجے تک سوئی رہتی۔ پھر ناشتہ کر کے روز کے کاموں میں جٹ جاتی۔

نبیلہ بہت چاق و چوبند ملازمہ تھی۔ اگرچہ ابھی اسے آئے دو یا تین ہفتے ہی ہوئے تھے لیکن سارے گھر کا کام بہت اچھی طرح سے کرلیتی تھی۔ نبیلہ سے پہلے ماسی رشیدہ یہاں ملازمہ تھی۔ اس نے پورے دس سال اس گھر میں کام کیا تھا۔ رشیدہ کے بیٹے نے اپنا ذاتی گھر بنا لیا تھا اور اب وہ ماں کو اپنے ساتھ دوسرے شہر لے جانا چاہتا تھا۔ نبیلہ کو ملازمہ ماسی رشیدہ نے ہی رکھوایا تھا۔ اس نے نبیلہ کی ایمانداری کی پوری گارنٹی دی تھی لہٰذا افشاں بہت مطمئن تھی۔

نبیلہ آتے ہی باورچی خانے میں گھس گئی حالاں کہ وہ سب سے پہلے بچوں کے کمرے میں جھاڑو لگاتی۔ صفائی کا کام مکمل کرنے کے بعد وہ باورچی خانے کا رخ کرتی اور چائے کی پیالی بنا کر افشاں کے پاس آبیٹھتی اور ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہتی۔

’’نبیلہ! پہلے صفائی تو کردو… باورچی خانے میں کیوں چلی گئیں آج پہلے؟‘‘ افشاں نے اخبار کا صفحہ پلٹتے ہوئے کہا۔

’’کیتلی میں جو چائے پڑی ہے، گرم کر کے مجھے لادو اور اپنے لیے اور بنالو… برتن کیوں صاف کرنے شروع کردیے آتے ہی؟‘‘ افشاں نے دوبارہ آواز لگائی تو چند لمحوں بعد نبیلہ پیالی میں چائے لے آئی۔ وہ خلاف توقع بہت خاموش تھی اور بار بار آنکھیں مسل رہی تھی گویا چپکے چپکے رورہی ہو۔

’’یہاں بیٹھو میرے پاس… اور بتاؤ کیا ہوا؟‘‘ افشاں نے سامنے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

’’وہ… باجی! میرا شوہر پورے ایک ہفتے سے گھر نہیں آیا۔‘‘ وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔

’’اوہ… کیا کسی کو بتایا تم نے؟ پولیس میں رپورٹ کرائی؟‘‘ نرم دل افشاں بری طرح گھبرا گئی۔

’’وہ اکثر ایسے ہی کرتا ہے۔ لوگوں کے گھروں میں رنگ و روغن کا کام کرتا ہے، فرنیچر پالش کرتا اور کبھی مزدوری کا کام بھی کرلیتا ہے۔ روز گھر آجاتا ہے لیکن مہینے دو مہینے کے بعد وہ ایسے ہی آٹھ آٹھ دس دس دن گھر سے غائب رہتا ہے۔ اپنا فون بھی بند کرلیتا ہے۔‘‘ نبیلہ سسکیاں بھرنے لگی۔

’’لیکن وہ ایسا کرتا کیوں ہے؟‘‘ افشاں کے چہرے پر دکھ کے ساتھ ساتھ تشویش کی لہریں بھی رقصاں تھیں۔

’’بس باجی کیا بتاؤں؟ چار بچے ہیں، تین بچے انگلش میڈیم اسکول میں پڑھ رہے ہیں، چھوٹی بچی ڈیڑھ سال کی ہے، گھر کے اخراجات زیادہ ہیں۔ میں بھی تین گھروں میں کام کرتی ہوں وہ بھی محنت مشقت کرتا ہے پھر بھی گزارہ نہیں ہوتا۔ جب مزدوری کم ملتی ہے تو گھر آنے کے بجائے وہیں مزدوروں کے ساتھ رہتا ہے اور میرا فون بھی نہیں سنتا۔‘‘ نبیلہ تھوڑی دیر سانس لینے کے لیے رکی پھر بولنے لگی۔

’’باجی! سردیوں کی راتیں ہیں، پہلے میری ساس میرے پاس تھی تو پھر بھی حوصلہ تھا۔ آج کل وہ بھی میری نند کی طرف گئی ہوئی ہے۔ ساری رات میں خوف کے مارے سو نہیں پاتی اور آیت الکرسی پڑھ پڑھ کر پھونکیں مارتی رہتی ہوں۔ گھر کی دیوار بھی زیادہ اونچی نہیں ہے۔ کوئی پھلانگ کر اندر آجائے تو…؟‘‘ وہ پھر رونے لگی۔

’’اچھا… اچھا! تم حوصلہ رکھو، سب ٹھیک ہوجائے گا۔ لاؤ مجھے اس کا نمبر دو۔ میں اپنے فون سے کرتی ہوں شاید اٹھالے تو میں اس کو سمجھاتی ہوں۔‘‘ افشاں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی۔ نبیلہ نے اپنے فون پر اپنے میاں کا نمبر نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔ افشاں نے فوراً نمبر ملایا۔

’’بیل جا رہی ہے مگر وہ اٹھا نہیں رہا فون۔‘‘ افشاں نے کئی بار کوشش کی مگر ہر بار بیل بج کر بند ہوجاتی۔

’’اس نے میری زندگی برباد کر کے رکھ دی ہے۔ میرے بھائی اور بہنوں نے میرے رشتہ داروں نے اسے بہت سمجھایا ہے کہ ایسے نہ کیا کرو مگر یہ نہیں مانتا۔ آپ ہی بتائیں بھلا اسے کوئی فکر ہے میری؟ بچوں کی یا گھر کی؟ ایسے شوہر سے تو میں بے شوہر ہی بھلی۔ اب میں اس سے فیصلہ لے کر رہوں گی۔ اب آتا ہے تو مجھے اس سے طلاق لے لینی ہے۔ روز روز کے رونے سے ایک بار رونا بہتر ہے۔ میری بہنوں نے، رشتہ داروں اور ہمسائیوں نے مجھے کتنے بار کہا ہے کہ دفع کرو ایسے انسان کو، کیا فائدہ ایسے شوہر کا؟ تم اس سے طلاق لے لو… اب میں ایسا ہی کروں گی۔‘‘ نبیلہ زار و قطار روتے ہوئے بولی۔

’’طلاق‘‘ کا لفظ سن کر افشاں لرز کر رہ گئی تھی۔ ’’نبیلہ! یہ لفظ منہ سے نہیں نکالتے۔ تمہیں معلوم ہے کہ جب میاں بیوی میں طلاق ہوتی ہے تو عرش کانپ اٹھتا ہے اور یہ واحد حلال کام ہے جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں بے حد ناپسندیدہ ہے۔‘‘

’’تو میں کیا کروں…؟ باجی آپ ہی بتائیں۔ باجی! تبسم اور فاخرہ بھی یہی کہہ رہی ہیں کہ دفع کرو ایسے انسان کو، میرے بچوں کی فیس اور کتابوں کا کافی حد تک بندوبست تبسم اور فاخرہ باجی ہی کرتی ہیں۔ کل بھی ان کے گھروں میں کام کرنے گئی تو وہ یہی کہہ رہی تھیں۔‘‘ نبیلہ نے آنسو پونچھے۔ چند لمحے افشاں بالکل خاموش رہی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس سے کیا کہے اور کیا نہ کہے۔‘‘

’’مہربانی باجی! جس پلازے میں وہ مزدوری کر رہا ہے میں بیٹے کے ساتھ لے کر وہاں جاتی ہوں۔ دیکھتی ہوں گھر آتا ہے یا نہیں؟ وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی اور تیزی سے گھر سے باہر نکل گئی۔ میز پر پڑی افشاں کی چائے بالکل ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ وہ بے حد افسردہ ہوگئی تھی۔ نبیلہ کے بارے میں کچھ معلومات اسے بھی تھیں۔

وہ کام والی ہرگز نہ تھی صرف اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی خاطر وہ تین چار گھروں میں کام کرتی تھی۔ اس نے بچوں کو قریبی اسکول میں داخل کرا رکھا تھا جو بہت اعلیٰ تو نہ تھا لیکن انگلش میڈیم تھا۔ اس کا لباس اگرچہ پرانا ہوتا تھا لیکن صاف ستھرا ہوتا تھا۔ خود بھی اردو لکھ پڑھ لیتی تھی اور کسی حد تک انگریزی بھی سمجھ لیتی تھی۔ فجر کی نماز باقاعدگی سے پڑھتی۔ بلاناغہ قرآن پاک کی تلاوت کرتی۔ بچے اسکول سے آتے تو ان کو کھانا کھلا کر سیپارہ پڑھنے بھیجتی اور پھر ٹیوشن چھوڑ کے آتی۔ سارے محلے میں نبیلہ کے اخلاق و کردار کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کیے جاتے۔ وہ ابھی چھٹی جماعت میں ہی تھی کہ اس کی ماں فوت ہوگئی۔ باقی بہن بھائی اس سے چھوٹے تھے۔ اپنے بہن بھائیوں کی خاطر اس نے ہانڈی چولھا سنبھال لیا اور اسکول کو خیر باد کہہ دیا۔ سب بہنیں اور بھائی پڑھ لکھ گئے۔ بھائی کو اعلیٰ سرکاری ملازمت مل گئی اس کی شادی ہوگئی اور پھر باقی سب بہنیں اور بھائی بھی بیاہے گئے۔ وہ سب اپنے اپنے گھروں میں خوش حال تھے بس آزمائش آئی تو نبیلہ پر۔ بہت کوشش کے باوجود بھی وہ اپنے دل سے علم کی محبت کو نکال نہ سکی۔ خود تو زیادہ نہ پڑھ سکی لیکن اب اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر کسی قابل بنانا چاہتی تھی۔

افشاں نبیلہ کے ان جذبات اور نیک خواہشات کی قدر کرتی تھی۔ وہ اس کی پریشانی پر پریشان نہ ہوتی تو اور کیا کرتی۔ کچھ دیر وہ انہی سوچوں میںگم رہی پھر اٹھ کر باورچی خانے میں جا کر کھانا بنانے لگی کیوں کہ بچے اسکول سے آنے والے تھے۔

وہ سارا دن نبیلہ کے بارے میں سوچتی رہی۔ وہ ایمن کے بارے میں بھی سوچتی رہی۔ ایمن اس کی بہت پیاری دوست تھی اس نے ایم بی اے کر رکھا تھا اور بینک میں جاب کر رہی تھی جب کہ اس کا شوہر بینک میں جاب کا حامی نہیں تھا اور اختلافات اس حد تک پہنچ چکے تھے کہ ایمن طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی۔آج اس نے اخبار میں بھی پڑھا تھا کہ کورٹ میں ہزاروں کی تعداد میں طلاق کے مقدمے زیر سماعت ہیں۔

’’کیا ہوگیا ہے لوگوں کو… جب اللہ تعالیٰ نے ان کو میاں بیوی کے رشتے میں باندھ دیا ہے تو یہ ایک دوسرے کی عزت کیوں نہیں کرتے، ایک دوسرے سے محبت کیوں نہیں کرتے؟‘‘ وہ سوچنے لگی۔ پھر خیالات کا دھارا اس کے اپنے حالات کی طرف بہہ نکلا تھا۔وہ سوچنے لگی کہ اظہر اور اس کے درمیان کی ہم آہنگی اللہ کا فضل ہے۔ اصل میں افشاں نے مصنفہ بانو کا یہ فقرہ پلے باندھ لیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا: ’’مرد اور عورت برابر نہیں ہوسکتے، کیوں کہ مرد کو ایک درجہ بلند اللہ تعالیٰ نے دی ہے تو پھر دونوں کیسے برابر ہوسکتے ہیں۔‘‘ پھر اس نے یہ بھی سوچا تھا کہ اگر میاں بیوی صرف تین چھوٹے چھوٹے الفاظ کا استعمال وقتاً فوقتاً کرتے رہا کریں تو ان میں کبھی اختلافات پیدا نہیں ہوسکتے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت بڑھتی چلی جاتی ہے ار وہ تین الفاظ ’’پلیز، تھینک یو اور سوری‘‘ ہیں۔ افشاں نے یہ بات بڑے پیار سے اظہر کو بھی سمجھا دی تھی کہ جہاں پر آپ غلط ہوں گے، آپ کو سوری کہنا چاہیے اور جہاں پر میں غلط ہوں گی، میں سوری کہوں گی۔ چناں چہ ان تین چھوٹے چھوٹے الفاظ کی بدولت انکی زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔ شادی کو تیرہ سال گزر گئے تھے۔ زندگی میں تبدیلی تب آئی جب اظہر کو تین سال پہلے سعودیہ جانا پڑا۔ ان کا کاروبار اچانک خسارے میں چلا گیا۔ ان کے ایک عزیز نے کوشش کر کے انہیں سعودی عرب کا ویزا دلوا دیا تھا۔ اب وہ ایک تیل کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھے۔ وہ باقاعدگی سے پیسہ کے ساتھ ساتھ افشاں اور بچوں کے لیے ضرورت کا سامان اور تحائف بھجواتے رہتے۔

روپے پیسے کی کمی نہ تھی لیکن افشاں پر ذمے داریوں کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔ اظہر تھے تو گاڑی پر بچوں کو اسکول چھوڑنے جاتے اور لاتے تھے۔ اب رکشا لگوانا پڑا تھا۔ باپ کے ساتھ بچے اسکول سے گھر لیٹ بھی آتے تو اسے کوئی فکر نہ تھی لیکن اب رکشا والا دس منٹ بھی لیٹ ہو جاتا تو بالکونی میں چکر لگانے لگتی اور کبھی رکشے والے کو فون کرتی۔ اشیائے خورد و نوش کی خریداری، بچوں کے اسکول کے مسائل، رشتہ داروں کے ہاں خوشی غمی پر جانا، بجلی، پانی کے بل جمع کرانا، بینک سے رقم نکلوانا… الغرض ڈھیروں کام تھے جو اسے تن تنہا انجام دینے پڑتے تھے۔

کسی عزیز رشتہ دار کی شادی پر جانا ہوتا یا بچے سیر کی ضد کرتے تو بھائی کو ایک ہفتہ پہلے بتانا پڑتا۔ رات کو ذرا آہٹ پر اس کی آنکھ کھل جاتی اور وہ آیت الکرسی پڑھنے لگتی اور ساری رات آنکھوں میں ہی کٹ جاتی۔ بچوں کی استانی کو کوئی مسئلہ در پیش ہوتا اور اسے ملنے جانا ہوتا تو دو گھنٹے اسکول آنے اور جانے میں ضائع ہوجاتے۔

’’اگرچہ میرے پاس روپے پیسے کی کمی نہیں اور اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے بھی مسائل کا شکار ہوں تو نبیلہ اپنے شوہر کو چھوڑ دے گی تو کیسے تمام حالات کا مقابلہ کرے گی؟‘‘ وہ سوچنے لگی۔

حسب توقع اگلے دو دن نبیلہ نے چھٹی کی تھی۔ تیسرے دن وہ آئی تو اور بھی زیادہ پریشان تھی۔

’’باجی! آپ سے ایک مشورہ کرنا ہے… میں کام سے فارغ ہو جاؤں تو آپ سے بات کرتی ہوں۔‘‘ وہ یہ کہہ کر افشاں کے جواب کا انتظار کیے بغیر صفائی میں جٹ گئی۔ کام سے فارغ ہوکر وہ افشاں کے پاس آکر بیٹھ گئی۔

’’باجی! کل میرے سب رشتہ داروں کو اکٹھا ہونا ہے اور میں نے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا ہے… سب لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ میں ٹھیک کر رہی ہوں… آپ بتائیں کیا مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے؟‘‘ وہ فرش کو گھورتے ہوئے بولی۔ اس کے چہرے پر ڈھیروں الجھنیں تھیں۔

’’اچھا! یہ بتاؤ کہ تمہارا شوہر بغیر بتائے اتنے دن گھر سے غائب رہتا کیوں ہے؟‘‘ افشاں نے جواب دینے کے بجائے الٹا اس سے سوال کر دیا۔

’’وہ… اصل میں پیسے کم کما کر لاتا ہے تو مجھے غصہ آتا ہے، میں اس سے لڑائی شروع کردیتی ہوں۔ ویسے اس نے کبھی مجھے مارا نہیں، آج تک گالی نہیں دی۔ بس غصے میں آکر گھر سے چلا جاتا ہے اور میں اس کی اس عادت سے بہت تنگ ہوں۔‘‘ نبیلہ نے جواب دیا۔

’’نبیلہ مرد کے بغیر زندگی بہت مشکل ہے اور پھر ایک طلاق یافتہ عورت کی زندگی بہت کٹھن ہوجاتی ہے۔ غلطی خواہ مرد کی ہو، معاشرہ ہمیشہ موردِ الزام عورت ہی کو ٹھہراتا ہے۔‘‘ افشاں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

’’مجھے پرواہ نہیں، میں خود اس سے زیادہ کما لیتی ہوں۔ گھر کے باہر کے بھی زیادہ کام میں ہی کرتی ہوں۔ اسے چھوڑ کر میں خود مرد بن جاؤںگی۔‘‘ نبیلہ نے اٹل لہجے میں کہا۔

’’عورت اگر مرد بن بھی جائے تو بھی مردوں کی قطار میں کبھی کھڑی نہیں ہوسکتی۔ یہ جو تم اپنے گلی محلے کے مردوں کو اپنے خاوند کی موجودگی میں بھائی یا چاچا کہہ کر پکارتی ہو۔ طلاق کے بعد کوئی ’’بھائی‘‘ یا ’’چاچا‘‘ نہیں رہے گا… سب مرد تمہیں ایک ہی نظر سے دیکھیں گے یعنی شک کی نظر سے۔ اب تو گھر سے جتنی دیر باہر رہتی ہو صرف اپنے خاوند کو حساب دیتی ہو، بعد میں ساری دنیا کو حساب دینا پڑے گا۔ اب تو بچوں کو اکیلا گھر میں چھوڑ کر ہمسائی سے کہہ دیتی ہو کہ ذرا خیال رکھنا، ان کا باپ آتا ہی ہوگا یا حجام کے پاس بیٹے کو بٹھا کر کہتی ہو نا کہ بھائی! حجامت بنادو، ابھی اس کا باپ آکر پیسے دے جائے گا تو اپنے شوہر سے طلاق لینے کے بعد تم اتنی بے پرواہ کبھی بھی نہیں ہوسکتیں۔

’’بے وقوف عورت! اور کچھ نہ سہی لیکن ایک بات سوچو کہ جب تم بیمار پڑتی ہو تو کیا آدھی رات کو کسی بھائی یا رشتہ دار کو فون کر کے کہہ سکتی ہو کہ مجھے دوائی لادو یا میرا سر دبا دو یا مجھے پانی پلا دو۔ مجھے دیکھو۔۔۔ بخار بھی ہو تو خود شام کو ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے، رات کو اٹھ کر خود ہی پانی پینا پڑتا ہے۔‘‘ افشاں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔

’’میں تو کبھی کبھی بڑی حیران ہوتی ہوں ان عورتوں پر جو ہر وقت اپنے شوہروں پر نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں، حالاں کہ شوہر کے روپ میں انہیں ایک چوکیدار، ڈرائیور، خزانچی، پلمبر، الیکٹریشن اور محافظ ملا ہوتا ہے پھر بھی وہ قدر نہیں کرتیں۔‘‘

’’نبیلہ! مجھے صرف ایک بات کا جواب دو کیا تمہارے بچے باپ کے گھر آنے سے خوش ہوتے ہیں؟‘‘

’’ہاں ہاں کیوں نہیں، بچے خوش ہوکر اس سے لپٹ جاتے ہیں۔‘‘ نبیلہ نے سچ سچ بتا دیا۔

’’میں کبھی ننھے بچوں کو دیکھتی ہوں جو اپنے باپ کی انگلی تھامے خراماں خراماں اسکول جا رہے ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر ایک چمک، ایک خوشی ہوتی ہے وہ اچھلتے کودتے، ہنستے مسکراتے اٹکھیلیاں کرتے چل رہے ہوتے ہیں۔ نبیلہ اپنے بچوں کو اس ’’خوشی‘‘ سے محروم نہ کرو جو صرف باپ کی انگلی پکڑ کر یا ہاتھ تھام کر حاصل ہوتی ہے۔ تم یہ خوشی ان کے آگے سونے کے ڈھیر لگا کر بھی نہیں دے سکتیں۔‘‘ افشاں نے نظریں اٹھا کر نبیلہ کی طرف دیکھا۔ وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہ رہے تھے۔

’’دیکھو! عورت کا دوسرا نام ’’قربانی‘‘ ہے۔ تم اپنے بچوں کی خاطر اپنے جذبات کی قربانی دے دو۔ وہ روپے کم بھی کمائے تو تم لڑائی مت کیا کرو۔ اسے آرام سے سمجھاؤ کہ وہ گھر سے اتنے دن باہر نہ رہا کرے کہ بچے خصوصاً تمہاری بچیاں غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ باپ صرف کماتا ہی نہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کا محافظ بھی ہوتا ہے۔ بہرحال میرا مشورہ تو یہی ہے کہ تم اپنا گھر اجڑنے سے بچا لو۔ باپ کے جیتے جی بچوں کو اس کے سائے سے محروم کر کے یہ ظلم نہ کرو۔ اسے سچے دل سے معاف کردو اور وعدہ لو کہ وہ آئندہ اس طرح تمہیں تنہا چھوڑ کر نہ جائے۔‘‘ افشاں اپنی بات ختم کر کے خاموش ہوگئی تھی۔ نبیلہ بھی چپ تھی۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگی ’’باجی! بس آپ نے ہی مجھے یہ باتیں سمجھائی ہیں۔ ان سب کے بارے میں تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔‘‘ پھر وہ سوچوں میں گم ہو جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ افشاں نے بھی اسے روکا نہیں تھا۔

اگلے دن نبیلہ نے چھٹی کرلی تھی ایک حساس اور ہمدرد دل رکھنے کی بنا پر افشاں اس کے لیے دعا گو تھی کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق لے کر اپنے بچوں کو عدم تحفظ کا شکار نہ کردے۔

نبیلہ کی چھٹی ایک سے چار دن پر محیط ہوگئی تھی۔ فون بھی بند تھا سو افشاں کوئی رابطہ بھی نہ کرسکی۔ پانچویں دن وہ آئی تو اس کے چہرے پر خاصا اطمینان تھا۔ آتے ہی وہ افشاں کے پاس بیٹھ گئی۔

’’باجی! میں نے فیصلہ کرلیا تھا… اپنے شوہر کو نہ چھوڑنے کا فیصلہ، اپنے بچوں کو بے آسرا نہ کرنے کا فیصلہ!‘‘ وہ میز کو گھورتے ہوئے بولتی چلی گئی۔

’’آپ کی باتیں سن کر میں شش و پنج میں پڑ گئی تھی کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں؟ایک دن اپنے بچوں سمیت بھائی کے گھر رہنے گئی، دوسرے دن بہن کے گھر۔ لیکن سب کے رویے بدل چکے تھے ابھی تو میں نے صرف طلاق کا نام لیا تھا، محلے اور عورتوں کے تیور بھی بدل گئے، میرے اور میرے بچوں کے لیے چہروں اور لہجوں میں ہلکی ہلکی سی حقارت آچکی تھی… میں حیران رہ گئی۔ پھر میں نے عشا کی نماز کے بعد نمازِ حاجت پڑھی، اپنے رب سے مدد مانگی۔ بستر پر سونے کے لیے لیٹی تو آپ کی باتوں پر غور کرنے لگی۔ باپ کی موجودگی میں اپنے بچوں کے چہروں کی چمک کو سوچنے لگی۔ اپنی بیماری کے دوران اس کی تیمار داری کا خیال آیا۔ کبھی گھر کا بلب ٹھیک کر رہا ہے، کبھی اکھڑے فرش پر سمینٹ لگا رہا ہے، کبھی بچوں کو اسکول چھوڑ کر آرہا ہے، کبھی کرائے پر موٹر سائیکل لے کر مجھے میرے رشتہ داروں سے ملوانے لے جا رہا ہے… باجی! مجھے سب کچھ یاد آیا… سب کچھ…‘‘

نبیلہ سسکیاں بھر کر رونے لگی تھی۔ افشاں نے اسے رونے دیا تاکہ دل کا غبار نکل جائے۔

’’باجی! آپ کا احسان ہے۔ اللہ آپ کو اس کا اجر دے کہ آپ نے میرا گھر ٹوٹنے سے بچا لیا… صرف اور صرف آپ ہی نے مجھے سمجھایا تھا۔‘‘ وہ آنکھیں پونچھتے ہوئے بولی۔

’’یہ سب اللہ کا کرم ہے کہ اس نے تمہیں صحیح سوچنے کی توفیق دی۔‘‘ افشاں نے خوشی سے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور پھر اک گہری سانس بھری۔ اسے یوں محسوس ہوا کہ جیسے اس کے دل کے اندر سکون ہی سکون ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیرا کلثوم

Leave a Reply