اپنے حصے کی شمع ضرور جلائیں!

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ جنگ آزادی کے عظیم مجاہد، دار العلوم دیوبند کے صدر مدرس اور ہزاروں علمائے کرام کے استاد تھے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جس زمانے میں وہ مالٹا کے جزیرے میں اسیر تھے، جب بھی جمعۃ المبارک کا دن آتا وہ بڑے اہتمام سے نماز جمعہ کی تیاری میں مصروف ہوجاتے، کپڑے تبدیل کرتے اور اچھی طرح اپنے آپ کو تیار کرکے جیل کے دروازے پر پہنچ جاتے اور یہ الفاظ دہراتے کہ:

’’اے اللہ! میرے بس میں جو تھا اور جتنا مجھ سے ہوسکا وہ میں نے کرلیا۔ اب آگے آپ کی مرضی ہے۔‘‘

یہ در حقیقت حضرت یوسف علیہ السلام کی اس سنت کو زندہ کرنا تھا کہ جب زلیخا نے آپ علیہ السلام کو عزیز مصر کے محل میں کئی کمروں کے اندر لے جاکر اپنا مقصد پورا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تو یوسف علیہ السلام اس حالت میں بھی دروازے کی طرف بھاگے تھے۔ بظاہر ان کا بھاگنا اور بند دروازوے اور تالے کھلتے ہی چلے گئے کیوں کہ اس وقت انھوں نے اپنے حصے کی کوشش کی اور نتائج اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیے۔

ان واقعات میں ہمارے لیے بڑا سبق موجود ہے کہ حالات کی سنگینی سے گھبرانے اور بہتر اوقات کا انتظار کرنے کے بجائے فی الحال جو کچھ ہم کر سکتے ہیں وہ کر گزریں اور دوسروں کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے سے پہلے اپنے حال پر غور کریں۔

آج ہماری زندگی کا اصول یہ بن گیا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی حالت کی درستی کے بجائے دوسروں کی فکر میں سرگرداں ہے۔ ہم اس حد تک جا چکے ہیں کہ ایک طرف عوام حکمرانوں سے نالاں ہیں تو دوسری طرف حکمران عوام کا رونا روتے ہیں۔ بچے والدین کی مناسب محبت نہ ملنے پر رنجیدہ ہیں، جب کہ والدین اولاد کی نافرمانیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ اگر عورتیں مردوں سے شکایت کرتی نظر آتی ہیں تو مرد بھی عورت کے بے جا اور بے محل مطالبوں کے گلے شکوے کرتے ہوئے اسے مسائل کی جڑ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ غرض ہر ایک ’’خود را فضیحت دیگر را نصیحت‘‘ پر عمل پیرا ہے۔ ہر شخص کو دوسرے پر تنقید کرنے میں لطف محسوس ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اب ایسا لگ رہا ہے کہ ہماری زندگی کا یہ وظیفہ بن چکا کہ ہم دوسروں کو ملامت کرنے میں لگے رہیں اور اپنے آپ کو تمام خرابیوں اور برائیوں سے بری الذمہ قرار دیں۔ اگر ہم دوسروں کی خامیوں، کمزوریوں اور عیبوں پر نظر رکھنے کے بجائے مثبت رویہ اختیار کریں، منفی سوچ سے دستبردار ہوجائیں اور سب سے پہلے اپنی ذات سے اصلاح کا کام شروع کریں تو شاید ہمارے آدھے سے زیادہ مسائل حل ہوجائیں۔

اگر ہم میں سے ہر فرد اپنی ذات کی اصلاح پر توجہ دے، اپنی ذمے داریوں کو صحیح معنوں میں سمجھے اور آنکھیں کھول کر حقائق کا جائزہ لے، تب جاکر بحیثیت مسلمان ہم ایک پاکیزہ اور باکردار معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے او رایک باوقار گروہ بن سکتے ہیں۔ جب ہم میں سے ہر ایک مقدور بھر بہتری کی طرف قدم اٹھائے، اپنے حصے کا کام نیک نیتی اور دیانت داری سے انجام دے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ دے اور اپنی مقدور بھر سعی میں رہے، تو وہ وقت دور نہیں کہ ہماری یہ سعی ہمیں کامرانیوں اور کامیابیوں کی طرف لے جائے گی اور ان شاء اللہ تعالیٰ اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے تعمیر ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ اب بحیثیت فرد ہمیں خود احتسابی پر زور دینا ہوگا، تب جاکر ہم دنیا میں اپنا کھوہا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اپنے حصے کی شمع ضرور جلائیں!

Leave a Reply