ماہِ صیام اور صحتِ انسانی

لگ بھگ ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب صحرائے عرب میں دین مبین کا نور پھیلا تو نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ مسلمانوں کے فرائض قرار دیے گئے۔ نماز اور روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ٹھہرا جب کہ حج اور زکوٰۃ کو استطاعت سے مشروط کر دیا گیا۔ مذہبی لحاظ سے یومِ آخرت میں ماہِ صیام کے فوائد سے قرونِ اولیٰ کا ہر مسلمان بخوبی آگاہ تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ رب کریم کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ لیکن اس حکمت پر مہر تصدیق جدید میڈیکل سائنس نے ثبت کی اور ثابت کیا کہ وہ احکام طبی لحاظ سے بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ جدید ترین میڈیکل ریسرچ نے ثابت کیا کہ نہ صرف روزے رکھنے بلکہ نماز پڑھنے، کھانے کے شروع میں پانی پینے اور غصے کو کم کرنے کے لیے پانی پینے سے جسم پر اچھے اثرات ہوتے ہیں۔ آئیے آج ہم رمضان میں رکھے جانے والے روزوں کے انسانی جسم پر اچھے اثرات پر غور کرتے ہیں۔

وزن کم کرنے میں مدد

جو لوگ وزن کم کرنا چاہتے ہیں انہیں روزہ رکھنے کی صورت میں وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ معمول کی ڈائٹنگ کی نسبت روزے کی طرح دن میں چند گھنٹے بھوکا رہنے سے چربی زیادہ پگھلتی ہے کیوں کہ جسم اپنی جمع شدہ چربی استعمال کرتا ہے اور چربی کی کمی سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

جدید طبی تحقیق کے مطابق عموماً کھانا کھانے کے آٹھ گھنٹوں کے اندر آنتیں ساری خوراک جذب کرلیتی ہیں۔ روزے کے دوران جب دورانیہ آٹھ گھنٹے سے بڑھ جاتا ہے تو جسم، جگر اور پٹھوں میں موجود گلوکوز استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب یہ گلوکوز بھی ختم ہوجاتا ہے تو پھر توانائی کا ذریعہ چربی بن جاتی ہے اور جسم آہستہ آہستہ جمع شدہ چربی استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے جس سے وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر طویل عرصے تک بھوکا رہا جائے تو جسم چربی کے بعد پروٹین کو خوراک کا ذریعہ بنا لیتا ہے جو انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ افطار میں جلدی کرنے میں یہی حکمت پوشیدہ ہے۔ حضور اکرمﷺ نے بھی افطار میں جلدی کی تلقین فرمائی ہے۔ روایت ہے کہ جونہی افطار کا وقت ہوتا تو حضور اکرمؐ حضرت بلالؓ کو آواز دیتے کہ ’’لاؤ میرا شربت۔‘‘ حضرت بلالؓ کہتے: ’’یا رسول اللہﷺ ابھی تو آسمان پر لالی باقی ہے۔‘‘ تو آپﷺ فرماتے کہ نہیں افطار کا وقت ہوگیا ہے۔

روزہ اور اعصابی نظام

روزہ دماغی اور اعصابی نظام کو طاقت و توانائی بخشنے کا سبب بنتا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس کی مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزہ رکھنے سے جسم میں ایک پروٹین جسے برین ڈیرائیوڈ نیورو ٹروفک فیکٹر(Brain Derived Neurotrophic factor)کہا جاتا ہے کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو دماغ کے Stem Cellsسے نئے خلیے یا نیورونز(Neurons) بنانے میں مدد کرتا ہے۔ Stem Cellجسم میں موجودہ خلیے ہوتے ہیں جن سے مزید خلیے بنتے ہیں، جو بننے کے بعد جسم میں مختلف کام انجام دے کر اعضائے جسمانی کو صحت مند رکھتے ہیں۔

Neurons جسم میں موجود وہ خلیے ہوتے ہیں جو دماغ تک پورے جسم کے سگنلز کو پہنچانے میں مدد کرتے ہیں اور پھر دماغ سے جوابی سگنلز لے کر جسم کے حصوں میں واپس جاتے ہیں۔ یعنی اگر ہم کسی گرم شے کو ہاتھ لگائیں گے تو یہی Neurons فوراً دماغ کو خبر دیں گے کہ گرم چیز کو ہاتھ لگ گیااور پھر دماغ جب کہے گا کہ ہاتھ کو پیچھے ہٹا لینا چاہیے تو فوراً ہاتھ کو یہ خبر دیں گے کہ ہاتھ پیچھے ہٹالیں۔ اس طرح یہ مائیکرو سیکنڈز یعنی پلک جھپکتے میں سگنل پہنچا دیتے ہیں اور ایسے دوسرے کیمیکل جو دماغی صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں ان کی مقدار بڑھاتا ہے۔ نیز یہ کہ پارکنسز اور الزائمر کی بیماری سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔ یہ وہ دماغی بیماریاں ہیں جن میں دماغ میں موجودہ کیمیائی مادے جو اِن Neurons کو کام کرنے میں مدد کرتے ہیں وہ کم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح Neurons اور دیگر کیمیائی مادوں کی مقدار میں اضافہ ہونے سے Parkinsons اور Alzheimer کی بیماری دیر سے ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں نفسیاتی طور پر بھی خشوع و خضوع اور اللہ کی رضا کے سامنے خود کو سرنگوں ہونے سے دماغی پریشانیاں کم ہوکر انسانی نفسیات کو بہتر کرنے میں مدد دیتی ہے۔

انسولین کے کام میں بہتری

Insulin جسم میں موجود وہ کیمائی مادہ ہے جو شوگر یعنی Glucose (گلوکوز) جگر میں منتقل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب یہ گلوکوز جگر میں چلا جاتا ہے تو جگر اسے توڑ پھوڑ دیتا ہے اور خون میں موجود شوگر یعنی گلوکوز کم ہو جاتا ہے۔

روزہ رکھنے سے انسولین کی حساسیت بڑھ جاتی ہے اور اس طرح جسم کار بوہائیڈ ریٹ جن میں گلوکوز یعنی شوگر بھی شامل ہے کو زیادہ بہتر طور پر استعمال کرتا ہے۔

نظام ہضم

ہمارا نظام ہضم روزانہ کے معمولات کی وجہ سے چوبیس گھنٹے کام کرتا رہتا ہے۔ رمضان میں روزہ رکھنے سے دن میں چند گھنٹے نظامِ ہضم کو آرام ملتا ہے جس کے جسم پر حیران کن حد تک اچھے اثرات سامنے آتے ہیں اور نظامِ ہضم کا یہ آرام اعضائے جسمانی پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس طرح جسم کا (Metabolism) تیز ہوتا ہے جس سے کیلوریز جلانے میں بھی مدد ملتے ہے۔

Metabolism جسم میں پایا جانے والا ایسا نظام ہے جو جسم میں آنے والی ہر شے کو توڑتا ہے۔ پھر چاہے وہ کھانے کی اشیا ہو یا دوائی، یہ ہر چیز کو توڑ کر نہ صرف چھوٹا کرتا ہے بلکہ اس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ جسم کے پانی میں حل ہوکر پیشاب یا پاخانے کے ذریعے نکل جائے۔ اس طرح میٹابولزم کی تیزی نظامِ ہضم کی بہترین کا باعث بنتی ہے۔

روزہ اور بھوک

ذرا سوچئے اگر آپ ہر تین سے چار گھنٹے بعد کھانا کھاتے ہوں تو کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کو بھوک کی اصل نوعیت کا احساس ہوسکے یا یہ ہی اندازہ ہوکہ بھوک ہوتی کیا ہے؟ یقینا نہیں! بھوک ہونے کا احساس تب ہی ممکن ہے جب آپ بارہ سے چوبیس گھنٹے تک بھوکے رہیں۔ روزہ جسم میں موجود ہارمونز (Hormones) کو اس انداز سے متوازن رکھتا ہے کہ بھوک کا احساس زیادہ اچھی طرح سے ہوتا ہے اور یہ بھی بہتر طریقے سے سمجھ میں آنے لگتا ہے کہ کب پیٹ بھر گیا۔ یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ عموماً موٹے لوگوں کے دماغ میں سگنل ٹھیک سے نہیں پہنچ رہے ہوتے جس کی بنا پر انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ کب پیٹ بھر چکا۔ اسی لیے وہ زیادہ کھاتے رہتے ہیں۔ مگر روزہ ان کی بھوک کو سمجھنے کی صلاحیت کو بڑھا دیتا ہے، اس لیے وہ مناسب خوراک پر ہی اکتفا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں روزہ ان کا وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

قوت مدافعت میں اضافہ

روزہ جسم کی قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے کیوں کہ یہ جسم میں موجود Free Radicals کو کم کرتا ہے۔ Free Radicals کی جسم میں زیادتی کینسر، دل کی بیماری اور بڑھاپا پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ فالج، پھیپھڑوں کی بیماری، ہڈیوں، جوڑوں کے درد، ذیابیطس اور دیگر کئی بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ روزہ جسم میں ان کیمیائی مادوں کو بھی متوازن رکھتا ہے جو سوجن کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

نقصان دہ کیمیکل کا خاتمہ

روزے رکھنے سے جب جسم کی چربی پگھلتی ہے اور چربی میں شامل وہ کیمیائی مادے جو جسم کے لیے خطرناک اور زہریلے ثابت ہوتے ہیں وہ بھی پگھل کر جسم سے باہر نکل جاتے ہیں۔ اس عمل کو Detoxification کہا جاتا ہے۔ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب کریم نے ماہِ رمضان کی صورت میں ہمارے جسم میں موجود زہریلے مادوں کی نکاسی کا خود ہی بندوبست کر دیا ہے۔

بلڈ پریشر اور کولیسٹرول

تحقیق سے یہ ثابت ہوچکا کہ روزہ جسم کے باقی حصوں اور نظام کی بہتری کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مگر بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور ذیابیطس کے مریضوں کو ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ہی روزہ رکھنا چاہیے کیوں کہ بیماری اور دواؤں کو دیکھتے ہوئے ہی یہ فیصلہ کیاجا سکتا ہے کہ روزہ رکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔ یہاں یہ امر ملحوظِ خاطر رہے کہ رب کریم نے بیمار اور مسافر کو پہلے ہی روزے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ بیمار اپنی بیماری سے نجات کے بعد اور مسافر اپنے سفر کے اختتام پر قضا ہوئے روزے رکھ سکتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض والدین اپنی شفقتِ مادری و پدری کی بنا پر اپنی اولاد کو روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے لائق تحسین نہیں۔ بچہ یا بچی اگر بالغ اور روزہ رکھنے کے قابل ہے تو اسے اپنے رب کی رحمتیں سمیٹنے کا موقع ہرگز نہیں گنوانا چاہیے۔

سحری کے فوائد

حضورِ اکرمﷺ نے سحری کی تاکید کی کیوں کہ آپﷺ سحری کی افادیت سے بہ خوبی آگاہ تھے۔ حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’سحری کھایا کرو کہ سحری میں برکت ہے۔‘‘ (بخاری ومسلم)

یہ بھی حضور اکرمﷺ ہی کا فرمان ہے کہ مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے روزوں میں سحری کا فرق ہے۔

لیکن آج کل سحری نہ کرنا عام ہوتا جا رہا ہے اور لوگ اس کی وجہ زیادہ تر نیند پوری نہ ہونا، وقت کی کمی یا ڈائٹنگ بتاتے ہیں جو کہ درست نہیں بلکہ نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ سحری نہ کرنے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں سر میں درد، تھکاوٹ اور چڑچڑا پن بڑھنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ سحری میں توانائی بخش غذا کا استعمال کرنے سے نہ صرف مندرجہ بالا نقصانات سے محفوظ رہا جاسکتا ہے بلکہ جسم بھی تندرست و توانا اور دماغ ہشاش بشاش رہتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ سحری میں بہت زیادہ چکنائی اور بادی اشیا کا استعمال معدے کی تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ چناں چہ اچھی صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور اشیا کا استعمال سحری میں کرنا چاہیے۔ موسم گرما میں خصوصی طور پر پانی، دہی، لسی اور رس کا بھرپور استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ سحری میں کھجور کا استعمال بھی پورا دن جسم کو توانا رکھتا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے کھجور میں بے پناہ توانائی رکھی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سحر مظہر

Leave a Reply