رحمتوں کے نزول کا مہینہ

صیام کے لغوی معنی مکمل طور پر رک جانا ہے۔ شرعی اعتبار سے روزہ عبادت کے ارادے سے کھانے پینے اور دیگر روزہ توڑ دینے والی چیزوں سے پرہیز کا نام نہیں بلکہ وسیع تر معانی و مفاہیم میں نہ صرف برائی سے رکنا بلکہ بھلائی کے لیے تگ و دو کرنا بھی ہے۔ روزہ نظر، کان، ہاتھ، پاؤں، زبان اور تمام اعضائے جسمانی کا ہوتا ہے۔ یہ شیطانی خیالات و وسوسات سے پاک کر کے اللہ کی طرف رجوع کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو بھوکے رہنے کا کچھ فائدہ ہے نہ حاصل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’بعض روزے داروں کو روزے سے سوائے بھوک کے کچھ حصل نہیں ہوتا اور بعض قیام کرنے والوں کو قیام سے بیدری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔‘‘ (ابن ماجہ)

اعمال صالح کا عزم بھی لازم ہے۔ روزے کا مقصد صرف یہ روزہ در اصل تربیتِ انسانی کا ایک ذریعہ ہے اور مقصودِ ربی یہ ہے کہ انسان اپنے مزاج میں نرمی اور اعتدال پیدا کرے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر مکمل طور پر کاربند ہو یعنی برائیوں کو ترک، بھلائیوں کی طرف رغبت ہو اور اخلاقِ حسنہ پر کاربند ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے لیے ’’ڈھال‘‘ کا لفظ اسی لیے استعمال کیا ہے کہ یہ شیطان کی چالوں اور وسوسوں کوناکام بنانے کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی حاجت اور پرواہ نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)

ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ماہ رمضان وہ مہمان ہے جو ہم سے کچھ طلب کرنے نہیں بلکہ رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے خزانے لٹانے آتا ہے۔ ہمیں یہ سوچ کر رمضان کا استقبال کرنا چاہیے کہ پتہ نہیں اگلے سال یہ مبارک مہمان نصیب ہوتا ہے یا نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی کرم سے ہمیں یہ ماہِ مبارک عطا فرما دیا ہے تو ہمیں جی بھر کے اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’اور ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے:

’’اے نیکیوں کے طالب! آگے بڑھ اور اے برائیوں کے طالب! باز اآجا۔‘‘ (ترمذی)

’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے، لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس پ رلازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔‘‘(البقرۃ)

البتہ مریضوں اور مسافروں کو دی جانے والی رعایت برقرار رکھی گئی اور حکم ہوا:

’’اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔‘‘ (البقرۃ)

ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا گیا ’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے۔ سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔ (البقرۃ)

یہ وہ ماہِ مقدس ہے جس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’اے لوگو! تم پر عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے۔ اس کی ایک رات (جسے لیلۃ القدر کہتے ہیں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس ماہ کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں اور رمضان المبارک کی راتوں میں بارگاہ ربی میں کھڑے ہونے (نماز تراویح) کو نفل عبادت مقرر کیا ہے جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے نفلی عبادت کرے گا تو اسے دوسرے مہینوں کے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے مہینوں کے ۷۰ فرضوں کے برابر ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدری اور غم خواری کا مہینہ ہے۔ یہ تقویٰ اور صبر جیسی صفات پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔ جب ہم اپنی پسندیدہ چیزوں پر روک لگا دیتے ہیں تو صبر کی صفت پیدا ہوتی ہے جس کے بارے میں حکمت کی رفیع الشان کتاب میں درج کر دیا گیا کہ ’’آج میں نے انہیں ان کے صبر کرنے پر بدلہ دے دیا اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘ (المومنون)

یہ ذکر کا مہینہ ہے ہمیں چاہیے کہ اس ماہِ مبارک میں کثرت سے مسنون دعاؤں اور درود و شریف کا ورد کریں اور کسی پل بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہ ہوں۔ سورہ آل عمران میں اللہ کے بندوں کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ ’’جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔‘‘

یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے، جس نے اس مہینے میں کسی روزے دار کو افطار کرایا تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتشِ دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔‘‘

رب کریم کا ارشاد ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کا اجر بھی میں ہی دوں گا۔ آقاﷺ نے فرمایا: ’’ابن آدم کا ہر اچھا عمل کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور نیکی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بے شک روزہ خالص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کہ بندہ میری خاطر اپنا کھانا اور اپنی خواہش نفس سب چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک افطا رکے وقت اور ایک اپنے رب سے ملاقات کے وقت اور بے شک روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ اچھی اور پاکیزہ ہے۔ (متفق علیہ)

ایک اور جگہ حضورِ اکرمﷺ نے یوں ارشاد فرمایا: ’’تم پر ایک ایسا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہوا ہے جس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں۔ اس میں جنت کے دروازے کھول اور جہنم کے بند کردیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر سے محروم رہا پس وہ محروم ہی رہ گیا۔‘‘ (مسند احمد)

اس حدیث مبارکہ میں ہزار مہینوں سے بہتر جس رات کا ذکر کیا گیا ہے وہ لیلۃ القدر ہے جسے طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ وہ رات ہے جس کی فضیلت میں پوری سورت (سورۃ القدر) اتاری گئی۔ اس رات حضرت جبرئیل علیہ السلام اور فرشتے خیر و برکت کے لیے کثیر تعداد میں زمین پر اترتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا ’’بلاشبہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی تعداد کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ (مسند احمد)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ مہینہ جو تم پر اتارا گیا اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو شخص اس سے محروم رہا۔ وہ ہر بھلائی سے محروم رہا، اس رات کی سعادت سے صرف بدنصیب ہی محروم کیا جاتا ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’رمضان کے آخری عشرے میں شب قدر تلاش کرو۔ پھر اگر تم میں سے کوئی کمزوری دکھائے یا عاجز آجائے تو آخری سات راتوں میں سستی نہ کرے۔‘‘ (صحیح مسلم)

ماہِ صیام کی فضیلت کا اندازہ کیجیے کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’ریان‘‘ ہے۔ اس میں داخل ہونے کے لیے صرف روزہ دار بلائے جائیں گے۔ جو روزہ دار ہوگا، وہی اس میں داخل ہوگا اور جو اس میں داخل ہوجائے گا وہ کبھی پیاسا نہیں رہے گا۔

اس ماہِ مقدس کی حرمت کا یہ عالم ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا: ’’جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہﷺ تمام عشرہ شب بیداری میں بسر فرماتے اور گھر والوں کو بھی عبادت الٰہی کے لیے بیدار فرماتے اور کمر کس کر ہر طرح سے یکسو ہوجاتے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

بطور مسلم ہمیں یہ احساس و ادراک بھی ہونا چاہیے کہ ہم سبھی نے ایک دن اس بڑی عدالت میں پیش ہونا ہے، جہاں کوئی عذر کام آئے گا نہ سفارش اور نہ ہی کوئی پرسان حال ہوگا۔ وہاں تو بس اعمال ہی کے مطابق فیصلہ ہوگا، جن کے سیدھے (دائیں) ہاتھ میں (اعمال کی) کتاب ہوگی، وہ جنتی ہوں گے اور خوش خوش پھر رہے ہوں گے اور جن کے الٹے (بائیں) ہاتھ میں نامہ اعمال ہوگا وہ دکھی اور غمگین ہوں گے اور وہ دوزخی ہوں گے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم جب اس عالم آب و گل میں محو سفر ہوتے ہیں تو سو طرح کا زادِ راہ ساتھ رکھتے ہیں لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ آخرت کے طویل ترین سفر کے لیے زادِ راہ کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ یہ تو رب کریم کا امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص کرم ہے کہ ہماری لغزشوں اور کوتاہیوں کے ازالے کی سبیل اس ماہِ مقدس کی سورت میں کردی۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے ایمانی کیفیت کے ساتھ اور اجر آخرت کی نیت سے روزے رکھے، اللہ اس کے وہ تمام گناہ معاف کردے گا جو پہلے ہوچکے ہیں۔ جس نے رمضان کی راتوں میں ایمانی کیفیت اور اجر آخرت کی نیت کے ساتھ نماز (تراویح) پڑھی تو اس کے ان گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا جو پہلے ہوچکے ہیں۔ جس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا اور وہ صاحب ایمان ہوا اور اللہ سے اجر پانے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کے بھی سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔‘‘ (بخاری ومسلم)

حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کہتے ہیں، رسول اللہؐنے فرمایا کہ روزہ اور قرآن مومن کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: ’’اے میرے رب، میں نے اس شخص کو دن میں کھانے اور دوسری لذتوں سے روکا تو یہ رکا رہا۔ لہٰذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔‘‘ قرآن کہے گا: ’’میں نے اس کو رات کے وقت سونے سے روکا (اور وہ اپنی میٹھی نیند چھوڑ کر نماز میں قرآن پڑھتا رہا) بنا بریں اس کے بارے میں میری (بھی) سفارش قبول فرما۔‘‘ چناں چہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں کی سفارش قبول فرمائے گا۔ (بیہقی) lll

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر رفعت مظہر

Leave a Reply