رمضان اور معمولات زندگی

رحمتوں برکتوں اور مغفرتوں کا ماہِ مبارک آن پہنچا۔ خوش نصیب ہیں وہ جنھوں نے رب کی خوش نودی کی خاطر ترکِ حلال کی مشق کر کے رحمتیں سمیٹنے کی سعی کی اور بدنصیب ہے وہ جو ماہِ رمضان پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا:

’’آمین، آمین، آمین۔‘‘

پھر فرمایا: میرے پاس جبرئیل آئے اور کہا:

’’اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ اسے اپنی رحمت ربانی سے دور کرے جس نے رمضان پایا اور وہ اپنے رب سے اپنی بخشش نہیں کراسکا، آپ کہیں آمین، میں نے کہا آمین۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی)

’’اللہ تعالیٰ ہر رات، آدھی رات یا ایک تہائی رات کے آخری حصے میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے استغفار طلب کرے اور میں اسے بخش دوں۔‘‘ (ابوداؤد)

یہ وہ ماہ مقدس ہے جس میں صحف ابراہیم اور تمام کتب سماویہ تورات، زبور اور انجیل نازل ہوئیں۔جس میں ہر رات اللہ تعالیٰ لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے، جس میں تقویٰ، اخلاص، ہدایت، صبر، انسانی ہمدردی اور تزکیہ نفس جیسی اعلیٰ اقدار حاصل ہوتی ہیں۔جو بری عادات کو اچھی میں بدلنے اور روحانی، جسمانی، ذہنی اور قلبی صحت حاصل کرنے کا مہینہ ہے۔

اس ماہِ مقدس کے احترام میں برے خیالات، منفی سوچ، جھوٹ، غیبت، چغلی، لڑائی جھگڑا، بدگمانی سبھی سے پرہیز کریں اور عبادات، صدقہ، خیرات اور دوسروں کی مدد میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیں بلکہ سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔ اس لیے کہ روزہ صرف کھانا پینا چھوڑ دینے کا ہی نام نہیں۔

ایک روزے دار کا روزہ مکمل اس وقت ہوتا ہے جب اس کے کانوں کا بھی روزہ ہو، اس کی آنکھ کا بھی روزہ ہو اور اس کی زبان کا بھی روزہ ہو۔ یعنی نہ وہ کوئی بری بات سنے، نہ دیکھے، نہ کہے اور اس کے جسم کا کوئی بھی عضو روزے کی حالت میں اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ ہو۔ حالتِ روزہ اور غیر روزے کی حالت ہرگز ایک جیسی نہ ہو بلکہ ان دونوں حالتوں میں واضح اور نمایاں فرق ہو۔

روزے کا دوسرا بڑا باعث اجر عمل راتوں کو جاگ کر زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت میں مشغول رہنا ہے جسے قیام لیل کہا جاتا ہے۔ رات کی تنہائی میں اور بابرکت ساعتوں میں سوکر وقت ضائع کرنے کی بجائے اس کی بارگاہ میں عجز و نیاز کا اظہار کرنا خاص عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جس نے رمضان کی راتوں میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘‘ (بخاری)

راتوں کا قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل معمول تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور تابعین بھی اس کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔

رمضان المبارک کا تیسرا بڑا عمل صدقہ و خیرات کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی کے کاموں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ سخاوت رمضان کے مہینے میں ہوتی تھی۔ صدقہ و خیرات میں بہت سے اعمال شامل ہیں جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے فقراء و مساکین، یتیموں، بیوگان، معذور اور بے سہارا افراد کی ضروریات پوری کرنا، ان پر خرچ کرنا اور ان کی خبر گیری کرتے رہنا۔

رمضان المبارک کا ایک اور بڑا عمل روزے داروں کے روزے کھلوانا یا افطار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا، تو اس کو بھی روزے دار کی مثل اجر ملے گا بغیر اس کے کہ روزے دار کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔‘‘(ترمذی)

اس ماہ میں نبی کریمﷺ جبرئیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی اس ماہ میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ قرآن مجید کی محض تلاوت کرلینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کو کتابِ ہدایت سمجھ کر اور اس کے مفہوم سے آشنا ہوکر، پورے خضوع و خشوع کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ ہمارے حضورؐ جب قرآن پاک کی تلاوت سماعت فرمایا کرتے تھے تو ان کی آنکھوں سے اشک مبارک رواں ہو جایا کرتے تھے۔

رمضان المبارک میں جتنا ممکن ہو توبہ استغفار پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اپنے گناہوں دانستہ اور نادانستہ کی معافی پوری عاجزی اور پچھتاوے اور ندامت کے آنسوؤں کے ساتھ مانگنی چاہیے کیوں کہ یہ رحمتوں، برکتوں، نعمتوں اور بخشش کا مہینہ ہے۔ اس مختصر اور بابرکت مہینے میں کم سے کم سونا اور زیادہ سے زیادہ عبادت کرنا ہی ایک مسلمان کا مقصد اور نصب العین ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
رضا خالد

Leave a Reply