خوش آمدید: ماہِ مبارک

زمانہ کی رفتار اتنی تیز ہے کہ وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ گزشتہ رمضان کی یادیں ابھی تازہ ہی تھیں کہ ماہِ مبارک پھر اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک مرتبہ پھر یہ سنہرا موقع عنایت فرما رہا ہے کہ وہ اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کریں اور اپنے اوپرسے گناہوں کا گرد و غبار اور میل کچیل دھو ڈالیں اور اپنے قلب کا تزکیہ کریں۔

نبی کریم ﷺکا معمول تھا کہ شعبان کے ایک ایک دن کو شمار فرماتے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ہی کہ آپ ماہ شعبان کی اس طرح حفاظت فرماتے کہ اس کے علاوہ دیگر مہینوں کی اس طرح حفاظت نہ فرماتے۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضور اکرمؐ کس قدر شوق اور بے چینی سے اس ماہ کا انتظار فرماتے اور اس کے استقبال کے لیے بالکل کمر کس کر تیار رہتے۔ ایسا اس لیے تھا کہ اس میں رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنمکے دورازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ سرکش شیاطین قید کردیے جاتے ہیں۔ یہ اس ماہ مبارک کی برکت ہے کہ اس میں ایک شب ایسی ہے جس کی عبادت کا ثواب ایک ہزار ماہ سے زیادہ ہے۔ اس ماہ مبارک کی آمد ہے جس میں ایک فرض کا ثواب ستر فرائض کے برابر کر دیا جاتا ہے۔ اور نفل کا ثواب فرض کے برابر کر دیا جاتا ہے۔ اس ماہ مبارک کے تینوں عشروں کے بارے میں آپ نے فرمایا اس کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے خلاصی کا پروانہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ اعلان بھی کر دیا کہ ’’اے خیر کو طلب کرنے والے کوتاہ دستی سے کام نہ لے ذرا ہمت کر کے آگے بڑھ اور برائی کے متلاشی رک جا۔‘‘

اور اگر خدا نخواستہ اس کی قدر نہ کی اور اس ماہ مبارک میں خیر اور نیکیاں نہ سمیٹ سکا تو وہ بدقسمت اور کوتاہ عمل قرار پایا۔

اس ماہ مبارک کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ماہ مبارک کو یہ شرف حاصل ہے کہ کلام حق قرآن کریم کا نزول اسی ماہ میں ہوا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ماہِ مبارک (رمضان) ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ اور جس شب میں نازل ہوا وہ شب قدر ہے جس کا تذکرہ سورہ قدر میں کیا گیا۔ رمضان کی سب سے اہم عبادت تلاوت قرآن رکھی گئی اور قرآن کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ لوگوں کے لیے ہدایت اور حق و باطل کو چھانٹ کر الگ کردینے والی کتاب ہے۔ چناں چہ اس ماہ مبارک میں جس قدر قرآن پاک پڑھا جاتا ہے، پورے سال اس قدر توفیق نہیں ہوتی اس لیے ضرورت ہے کہ اس سعادت کے حصول کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ نبیؐ نے فرمایا:

’’اے لوگو! تمہارے اوپر ایک مہینہ آنے والا ہے جو نہایت باعظمت اور بابرکت ہے۔ ہرحال میں اس کی قدردانی کرو اور ہر حال میں نہ قدری سے بچو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس ماہ مبارک میں اپنے بندوں کو اعمال خیر انجام دینے کا بھرپور موقع عنایت فرماتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے نامہ اعمال میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اپنے اعمال نامہ میں نیکیوں کا اضافہ کرتے ہیں۔ اس ماہ کی قدر کرنے والوں کو ان کی شایان شان بدلہ دیا جائے گا۔ انہیں ایسی نعمتوں سے نوازا جائے گا جن کا انھوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ اس لیے جنت کے خواہش مندو آگے بڑھو اور رمضان کے مبارک لمحات کو حاصل کر کے اپنے اعمال نامہ میں نیکیوں کا اضافہ کرو۔ اس مبارک ماہ میں خواتین کے پاس عبادت کے لیے وقت نہیں ہوتا کیوں کہ ان کی کچن کی مصروفیات بہت بڑھ جاتی ہیں اور وہ بس تھوڑی بہت تلاوت اور ذکر کرلیتی ہیں اور پھر تھوڑا آرام کرنے کے بعد افطار کی تیاری میں جٹ جاتی ہیں یا بقیہ وقت شوپنگ میں ضرف کردیتی ہیں یہ بہت غلط اور محرومی کی بات ہے۔ ایسا قطعی نہیں ہونا چاہیے۔ اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔ یہ سوچ کر کے نہ جانے ہمیں دوبارہ یہ موقع نصیب ہوگا بھی یا نہیں؟ کیوں کہ یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کی رحمت کا دریا جوش میں آتا ہے۔ وہ اپنے خزانے کے دہانے کھول دیتا ہے جس میں بے حد و حساب لٹائے جانے کے باوجود بھی کسی طرح کی کمی واقع نہیں ہوتی اور بدنصیب ہے وہ انسان جو اپنے رب کے دریائے رحمت کے فضل و کرم کے سیل رواں سے فیضیاب نہ ہوسکیں۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
نور السحر بنت اسد خان

Leave a Reply