دعا زندگی کا استعارہ ہے!

دعا مومن کا ہتھیار، عبادت و بندگی کا نچوڑ، پریشان دل کا اور سہارا ہے۔ جب ساری دوائیں ختم ہوجاتی ہیں تو دعا کا نسخہ ہی خوشیوں کا پیغام لاتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ سے فرمایا: ’’تم مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا۔‘‘ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مانگنے کا حکم دیا ہے۔

دعا ایک ایسی عبادت ہے جو اللہ رب العالمین کو سب سے زیادہ پسند ہے۔حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: ’’تم اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگا کرو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ مانگنے کو بہت پسند کرتا ہے اور بہترین عبادت کشادگی کا انتظار کرنا ہے۔‘‘ (ترمذی)

ہارورڈ میڈیکل اسکول امریکا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بربرٹ ہنسن کے مطابق دعا سے امراض قلب اور حملہ قلب روکا جاسکتا ہے۔ ذکر، وِرد اور مذہبی وظائف کی مدد سے بہت سے نفسیاتی مسائل، جیسے ڈپریشن، کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔

نماز کے آغاز اور قرآن کریم کے آغاز میں سورۃ الفاتحہ کو رکھ کر رب تعالیٰ نے دعا مانگنے کا قیمتی طریقہ مرحمت فرما دیا ہے۔ سورہ الفاتحہ در اصل خود ایک دعا ہے اور آدابِ دعا بھی سکھاتی ہے۔ اس سورہ کی ابتدائی تین آیات میں حمد بیان کر کے رب کائنات نے طریقہ سکھایا کہ دعا جب مانگو تو مہذب طریقے سے مانگو۔ یہ کوئی تہذیب نہیں ہے کہ منہ کھولتے ہی جھٹ اپنا مطلب پیش کر دیا۔ تہذیب کا تقاضا ہے کہ جس سے دعا کر رہے ہو پہلے اس کی خوبی کا، اس کے احسانات اور اس کے مرتبے کا اعتراف کرو۔

حضرت فضالہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص آیا اس نے نماز ادا کی اور نماز کے بعد کہا اللھم اغفرلی ’’یا اللہ میری مغفرت فرما۔‘‘ آپؐ نے یہ سن کر اس سے کہا ’’تم نے مانگنے میں جلد بازی سے کام لیا جب نماز ادا کر کے بیٹھو تو پہلے اللہ کی حمد و ثنا کرو پھردرود و شریف پڑھو پھر دعا مانگو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ دوسرا آدمی آیا اور اس نے نماز ادا کر کے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، درود شریف پڑھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اب دعا مانگو، دعا قبول ہوگی۔‘‘ (ترمذی)

دعا کا آغاز رب کو مالک او رآقا، پرورش کرنے والا، خبر گیری اور نگہبانی کرنے والا، فرماںروا، حاکم، مدبر اور منتظم سجھ کر کرنا چاہیے۔ تمام خوبیاں اور تعریفیں خالق کمال کی ہیں نہ کہ صاحب جمال کی۔ دعا کا آغاز مخلوق پرستی کی جڑ ختم کر کے رحمن اور رحیم سے تعلق کو جوڑتا ہے۔‘‘

یعنی دعا کرتے وقت خشوع و خضوع کے ساتھ ساتھ دل میں یہ جذبہ بھی موج زن ہو کہ وہ رحمن اور رحیم ہے اور گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ ’’روز جزا کا مالک ہے۔‘‘ (سورۃ الفاتحہ)

یعنی اس دن کا مالک، جب کہ تمام اگلی پچھلی نسلوں کو جمع کر کے ان کے کارنامہ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور ہر انسان کو اس کے عمل کا پورا صلہ یا بدلہ مل جائے گا۔ اللہ کی تعریف میں رحمان اور رحیم کہنے کے بعد مالک روزِ جزا کہنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ صرف مہربان ہی نہیں بلکہ منصف بھی ہے۔ ہم اس کی ربوبیت اور رحمت کی بنا پر اس سے محبت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے انصاف کی بنا پر اس سے ڈرتے بھی ہیں اور یہ احساس بھی رکھتے ہیں کہ ہمارے انجام کی بھلائی اور برائی اسی کے اختیار میں ہے۔

اس لییہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

عبادت کا لفظ عربی میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (۱) پوجا اور پرستش (۲) اطاعت اور فرماں برداری (۳) بندگی اور غلامی۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں کہ ہم تیرے پرستار بھی ہیں، مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی۔ ساری کائنات کا رب تو ہی ہے اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں اور ساری نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد ہی پر ہمارا اعتماد ہے۔

’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام فرمایا جو معتوب نہیں ہوئے جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘ (الفاتحہ)

یہ اس سیدھے راستے کی تعریف ہے جس کا علم ہم اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں۔ یعنی وہ راستہ جس پر ہمیشہ سے تیرے منظور نظر لوگ (انبیاء، صالحین، شہدا اور اولیا) چلتے رہے ہیں۔ یہاں ’’انعام‘‘ پانے والوں سے ہماری مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر عارضی طور پر تیری دنیوی نعمتوں سے سرفراز تو ہوتے ہیں مگر در اصل وہ تیرے غصب کے مستحق ہیں اور اپنی فلاح و سعادت کی راہ گم کیے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ ’’انعام‘‘ سے ہماری مراد حقیقی اور پائیدار انعامات ہیں جو راست روی اور تیری خوشنودی کے نتیجے میں ملا کرتے ہیں نہ کہ وہ عارضی اور نمائشی انعامات جو پہلے بھی فرعونوں اور نمرودوں اور قارونوں کو ملتے رہے ہیں اور آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے ظالموں، سیاست دانوں، بدکاروں اور گمراہوں کو ملے ہوئے ہیں۔

دعا کی قبولیت کے معاملے میں اللہ پر بھروسا رکھیں۔ اگر دعا کی قبولیت کے اثرات جلد ظاہر نہ ہو رہے ہوں تو مایوس ہوکر دعا چھوڑ دینے کی غلطی کبھی نہ کریں۔ قبولیت دعا کی فکر میں پریشان ہونے کے بجائے صرف دعا مانگنے کی فکر کیجیے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ’’مجھے دعا قبول ہونے کی فکر نہیں ہے، مجھے صرف دعا مانگنے کی فکر ہے، جب مجھے دعا مانگنے کی توفیق ہوگئی تو قبولیت بھی اس کے ساتھ ہی حاصل ہوجائے گی۔‘‘

نبی کریمؐ کا ارشاد ہے: ’’جب کوئی مسلمان اللہ کی طرف منہ اٹھاتا ہے تو اللہ اس کا سوال ضرور پورا کر دیتا ہے یا تو اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے یا اللہ اس کے لیے اس کی مانگی ہوئی چیز کو آخرت کے لیے جمع فرما دیتا ہے۔‘‘

قیامت کے دن اللہ ایک بندہ مومن کو اپنے حضور طلب فرمائے گا اور اس کو اپنے سامنے کھڑا کر کے پوچھے گا: ’’اے میرے بندے! میں نے تجھے دعا کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ میں تیری دعا کو قبول کروں گا تو کیا تونے دعا مانگی تھیَ‘‘ وہ کہے گا ’’پروردگار! مانگی تھی۔‘‘ پھر اللہ فرمائے گا ’’تونے مجھ سے جو دعا بھی مانگی تھی میں نے وہ قبول کی، کیا تو نے فلاں دن یہ دعا نہ کی تھی کہ میں تیرا رنج و غم دور کردوں، جس میں تو مبتلا تھا اور میں نے تجھے اس رنج و غم سے نجات بخشی تھی؟‘‘ بندہ کہے گا ’’بالکل سچ ہے پروردگار!‘‘

پھر اللہ فرمائے گا ’’وہ دعا تو میں نے قبول کر کے دنیا ہی میں میں نے تیری آرزو پوری کردی تھی اور فلاں روز پھر تونے دوسرے غم میں مبتلا ہونے پر دعا کی کہ یا اللہ! اس مصیبت سے نجات دے مگر تونے اس رنج و غم سے نجات نہ پائی اور برابر اس میں مبتلا رہا۔‘‘ وہ کہے گا: ’’بے شک پروردگار!‘‘ تو اللہ فرمائے گا ’’میں نے اس دعا کے عوض جنت میں تیرے لیے طرح طرح کی نعمتیں جمع کر رکھی ہیں اور اسی طرح دوسری حاجتوں کے بارے میں بھی دریافت کر کے یہی فرمائے گا۔‘‘

پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بندہ مومن کی کوئی دعا ایسی نہ ہوگی جس کے بارے میں اللہ یہ بیان نہ فرما دے کہ یہ میں نے دنیا میں قبول کی اور یہ تمہاری آخرت کے لیے ذخیرہ کر کے رکھی اس وقت بندہ مومن سوچے گا کہ کاش میری کوئی دعا بھی دنیا میں قبول نہ ہوتی اس لیے بندے کو ہر حال میں دعا مانگتے رہنا چاہیے۔(حاکم)

سچے دل سے دعا مانگیں صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے بھی مانگیں۔ برما کے مسلمانوں کے لیے جو سمندروں میں بے یارو مددگار ہیں، مہاجر کیمپوں میں مقیم مسلمانوں کے لیے جو بے سر و سامانی کی حالت میں ہیں، ملکی معیشت کی بہتری، چور بازاری کی روک تھام، مہنگائی سے بچاؤ اور اچھے حکمرانوں کے لیے دعا مانگیں۔ رب ذو الجلال نے پوری کیں تو بھی فائدہ اور نہ پوری ہوئیں تو آخرت کا صلہ تو موجود ہی ہے۔

مایوسی کی چادر کو اتار پھینکیں، دعا سے اور عمل کے ذریعے خود کو پہلا فرد جان کر خود سے اچھائی کا آغاز کریں۔ مومن کی شان ہی یہ ہے کہ وہ رنج و راحت، دکھ اور سکھ، تنگی اور خوش حالی مصیبت و آرام ہر حال میں اللہ ہی کو پکارتا ہے۔ اس کے حضور اپنی حاجتیں رکھتا اور برابر اس سے خیر کی دعا کرتا رہتا ہے اور رمضان کا مبارک مہینہ تو خاص ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ مومن کے لیے انعامات و اکرامات کی بارش کیے رکھتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیرا سحر

Leave a Reply