گردہ

گردوں کا انفیکشن

گردے جسم انسانی کے اعضائے رئیسہ یعنی اہم ترین اعضا میں شامل ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کے دونوں جانب پشت کے ساتھ موجود لوبیا کی شکل کے یہ اعضا فلٹر پلانٹ کا کام کرتے ہیں۔ یہ خون سے فاسد مادّے جذب کرلیتے ہیں جو پیشاب کی صورت میں جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ جسم میں پانی کی مقدار، بلڈ پریشر، خون میں سرخ جسیموں کی تعداد اور تیزابی مادوں کی مقدار متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

فی زمانہ گردوں میں انفیکشن ایک عام مرض بن چکا ہے۔ حاملہ خواتین اس کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ اس کی سب سے عام وجہ ورم مثانہ کا باعث بننے والا جرثومہ، ای کولی ہے۔ مثانے میں سے یہ جرثومہ پیشاب کی نالی کے ذریعے گردوں میں پہنچ کرگردوں میں انفیکشن پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر جسم کے کسی دوسرے حصے میں انفیکشن ہو تو وہاں سے جراثیم خون میں سفر کرتے ہوئے گردوں میں پہنچ کر انہیں متاثر کرسکتے ہیںـ۔

ای کولی نامی بیکٹیریا انسانی آنتوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں رہتے ہوئے یہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ فضلے کے ساتھ یہ جراثیم خارج ہوتے ہیں۔ قضائے حاجت کے بعد طہارت میں احتیاط نہ کی جائے تو یہ جراثیم کسی بھی طرح پیشاب کی نالی کے ذریعے مثانے میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر گردوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

گردوں میں انفیکشن کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے۔ یہ خواتین میں سب سے عام بیماری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین میں یوریتھرا یعنی پیشاب کا اخراج کرنے والی نالی چھوٹی ہوتی ہے۔ اس لیے جراثیم کا گردوں تک پہنچنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

علامات

گردوں میں انفیکشن ہونے کی علامات درج ذیل ہیں:

٭ بخار ہو جانا

٭ جسم پر کپکپی طاری ہونا

٭ کمر، پہلو یا زیر ناف درد محسوس ہونا

٭ پیٹ میں درد ہونا

٭ پیشاب کا بار بار اور شدت سے آنا

٭ قے اور متلی

٭ پیشاب میں بدبو آنا اور رنگت تبدیل ہونا

مندرجہ بالا علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ان علامات کی روشنی میں وہ ٹیسٹ تجویر کرے گا اور انفیکشن کی تصدیق ہونے کے بعد آپ کو یورولوجسٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دے گا۔ یورو لوجسٹ سے رجوع کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ گردوں کا انفیکشن شدت اختیار کر جائے تو پھر جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

علاج

گردوں کے انفیکشن کئی قسم کے ہوتے ہیں اور تمام کا علاج اینٹی بایوٹک ادویہ سے کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں، خاص طور سے حاملہ خواتین کو انفیکشن کے علاج کے لیے اسپتال میں داخل بھی کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر علاج شروع ہونے کے دو ہفتوں کے بعد مریض خود کو بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔

احتیاط

٭ گردوں کے انفیکشن سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پانی زیادہ استعمال کیا جائے۔

٭ حاجت ہوتے ہی فوراً مثانہ خالی کرلیا جائے۔

٭ قضائے حاجت کے بعد طہارت کا خاص خیال رکھا جائے۔

٭قبض کی شکایت نہ ہونے دی جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عذرا خان

Leave a Reply