کونسلنگ کیسے کی جاتی ہے؟ (۲)

جب آپ پہلی دفعہ کسی کونسلر کے پاس جاتے ہیں تو پہلی ملاقات میں کونسلر آپ کو اور آپ کے مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ عام طور پر پہلی ملاقات میں ایک آدھ گھنٹہ کی بات چیت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس مسئلہ کی وجہ سے اس سے رجوع ہوئے ہیں۔ یہ سوال آپ کو موقع فراہم کرتا ہے کہ آپ تفصیل سے اپنا مسئلہ بیان کریں اور اپنے دل کی باتیں رکھیں۔ کونسلر اس ملاقات میں آپ کی ذاتی زندگی اور آپ کی پرسنل ہسٹری سے متعلق سوالات کرسکتا ہے۔ آپ کی عادتوں، مزاج اور طرز زندگی کو سمجھنے کی بھی کوشش کرسکتا ہے۔ کبھی کبھی مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ہی ایک سے زیادہ سیشن درکار ہوتے ہیں۔

دوسرے مرحلہ میں عام طورپر ٹسٹ کرائے جاتے ہیں۔ بہت سے کونسلر پہلے سائیکو میٹرک ٹسٹ کراتے ہیں، جس سے آپ کی شخصیت اور مزاج کی خصوصیات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے بعد آپ کے مسئلہ اور کونسلر کے اپروچ کے مطابق دیگر ٹسٹ بھی ہوسکتے ہیں۔ سائکیاٹرسٹ ہے تو میڈیکل ٹسٹ بھی کراسکتا ہے۔ دیگر لوگ دیگر نفسیاتی ٹسٹ کراتے ہیں۔ ٹسٹ کرانے سے پہلے عام طور پر کونسلر اس کے مقاصد و غیرہ کے بارے میں آپ کو ضروری معلومات بھی دیتا ہے۔

اس کے بعد کا مرحلہ علاج کا مرحلہ ہوتا ہے۔ ہر ایک کا اپنا طریقہ علاج ہوتا ہے۔ سائیکیا ٹرسٹ دوائوں کا استعمال کرتا ہے جبکہ دیگر کونسلرز بات چیت اور دیگر نفسیاتی طریقے استعمال کرکے علاج کرتے ہیں۔ اکثر علاج کا یہ عمل انفرادی ملاقاتوں کے اندر ہوتا ہے جس میں آپ کونسلر کے ساتھ تنہا بیٹھتے ہیں، لیکن بعض اوقات گروپ تھیراپی کی بھی ضرورت پیش آسکتی ہے، خاص طور پر ان مسائل میں جن کا تعلق دوسرے لوگوں سے ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں گروپ تھیراپی کے کسی سیشن میں آنے کے لئے کہا جاسکتا ہے۔شوہر ، بیوی کے تعلقات سے متعلق مسائل میں ، کونسلر ون ٹو ون کونسلنگ بھی کرتے ہیں اور دونوں کو ساتھ بٹھاکر Couple Counseling) بھی بات کرتے ہیں۔ )۔جیسے جیسے علاج آگے بڑھتا ہے، آپ کے اندر ہورہی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لئے مزید ٹسٹ کرائے جاسکتے ہیں۔

آج کل اکثر کونسلرز واضح طور پر علاج کے اہداف کا تعین کرتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ دس سیشن کے بعد آپ کی تمباکو کی عادت چھوٹ جانی چاہیے یا آپ کو رات میں سکون کی نیند آنی چاہیے وغیرہ۔ ان اہداف کی تعیین میں مریض کو سرگرم حصہ لینا چاہیے۔ اسی طرح جو سوالات پوچھے جائیں، چاہیے وہ زبانی گفتگو میں ہوں یا ٹسٹ کے دوران، ان کے صحیح صحیح اور بالکل درست جواب دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کھل کر بات کرنا چاہیے۔ آپ کی باتوں ہی سے آپ کے مسئلہ کی تشخیص میں مدد ملتی ہے۔ اس لئے آپ اپنے کونسلر پر جتنا اعتماد کریں گے اور جتنا کھل کر بات کریں گے، آپ کے مسئلہ کا حل اتنا ہی آسان ہوگا۔ پروفیشنل کونسلرز آپ کے رازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور غیر ضروری حسّاس ذاتی معلومات، خود بھی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہی معلومات چاہتے ہیں جو آپ کے مسئلہ کی تشخیص یا اس کے علاج کے لئے ضروری ہوں۔

اپنے جذبات اور رویہ کو بدلنا ایک مشکل کام ہے۔ آپ کو اس کے لئے کمٹمنٹ کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پابندی سے سیشن کرنا، کونسلر سے بات کرتے ہوئے صحیح صحیح اور درست معلومات فراہم کرنا اور اس کے مشوروں پر عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا، کسی بات پر عمل نہ ہوسکے تو اس کا اقرار کرنا اور اس کو روبہ عمل لانے کے لئے اس کی مدد طلب کرنا وغیرہ، وہ ضروری شرائط ہیں جن کی مریض کے ذریعہ تکمیل مطلوب ہوتی ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ آپ علاج کے پورے عمل سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اس کے لئے آپ کو خود بھی سوالات کرنے چاہئیں اور طریقہ علاج، دورانیہ، مطلوب نتائج، علاج کے کامیابی کے امکانات، علاج کا طریقہ و اپروچ وغیرہ وغیرہ پر کھل کر سوال کرنا چاہیے۔

بالمشافہ کونسلنگ(Face to face ) : کونسلنگ کا موثر طریقہ یہی ہے کہ آپ کونسلر سے وقت لے کر اس کے آفس میں جاکر ملاقات کریں۔کیونکہ وہاں آپ کو ایک سازگار ماحول میسرآتا ہے۔ کونسلر کے آفس کا ماحول ہی اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ یہاں آپ کو اعتماد کااحساس ہونے لگتا ہے۔کونسلر کو بھی راست ملاقات میں آپ کی باڈی لنگویج ، آپ کے چہرے کے تاثرات،آنکھوں کی حرکات و غیرہ کے ذریعہ آپ کے حقیقی جذبات کو اور ان کے حوالہ سے آپ کے مسئلہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

ٹیلی کونسلنگ (Telecounseling):یہ طریقہ ان لوگوں کے لئے ہے جو مصروف رہتے ہیں یا سفر نہیں کرسکتے یا کسی ایسے کونسلر کی مدد لینا چاہتے ہیں جو بہت دور رہتا ہو۔ ایسے لوگوں کے لئے بعض کونسلر یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ وقت دے کر ان سے فون پر بات کریں۔ بعض کونسلر ابتدائی اور آخری کچھ سیشن، فون پر لیتے ہیں اور درمیانی سیشنوں کے لئے بالمشافہ کونسلنگ کی ہدایت دیتے ہیں۔ بعض ہلکے پھلکے مسائل صرف فون پر گفتگو کے ذریعہ بھی حل ہوسکتے ہیں۔

آن لائن سیشن Online : اب بعض کونسلر ٹکنالوجی کا استعمال کرکے آن لائن کونسلنگ کے بھی موقعے فراہم کررہے ہیں۔ اس کے لئے عام طور پر ٹیلی فون کی طرح ہی آن لائن ذرائع کی مدد سے بات چیت ہوتی ہے، کبھی کونسلر ضرورت محسوس کرے تو ویڈیو کانفرنسنگ کے لئے بھی کہہ سکتا ہے۔ ٹسٹ وغیرہ بھی آن لائن لئے جاتے ہیں۔ بہر حال سب سے مفید بالمشافہ کونسلنگ ہی ہے۔ اس میں دشواری ہو تو اکثر صورتوں میں کونسلر کے مشورہ سے، علاج کا ایک حصہ یا مکمل علاج ٹیلی فون یا آن لائن کی مدد سے بھی مکمل کیا جاسکتا ہے۔

نفسیاتی مسائل کے حل کے مختلف اپروچ اور اسلام

تھراپسٹ، کونسلر یا کوچ ، مسائل کے حل کے لئے مختلف اپروچ اختیار کرتے ہیں۔ یہ الگ الگ اپروچ الگ الگ فلسفوں اور نظریات کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں۔ اس لئے ان میں آپس میں اختلافات بھی ہیں۔ سائکیاٹریPsychiatryجیسا کہ عرض کیا گیا، میڈیکل سائنس کی شاخ ہے۔اس کی فلسفیانہ اساس یہ نقطہ نظر ہے کہ انسانی جسم میں نفسیاتی مسائل کے بشمول ، تمام امراض کا بنیادی سبب جسم میں کیمیائی مادوں اور ہارمونز کا عدم توازن ہے۔ چنانچہ نفسیاتی مسائل کی تشخیص کے لئے بھی وہی طریقے اختیار کئے جاتے ہیں جو دیگر جسمانی مسائل کے سلسلہ میں میڈیکل سائنس میں رائج ہیں۔ ظاہری علامتوں کے علاوہ ڈاکٹر خون و غیرہ کے ٹسٹ کراتے ہیں۔ ایکس رے، الٹرا ساونڈ، سی ٹی اسکین و غیرہ کرائے جاتے ہیں۔ اور مرض کی تشخیص کے بعد دوائوں کے ذریعہ علاج کیا جاتا ہے۔ دوائوں کے ذریعہ سمجھا جاتا ہے کہ جو کیمیائی عدم توازن پیدا ہوا ہے، اس کو درست کیا جاسکتا ہے اور اس طرح مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

سائیکو اینالیسس Psychoanalysisوہ طریقہ ہے جس کی بنیا د سگمنڈ فرائڈ اور جوزف بریور وغیرہ کے نظریات پر رکھی گئی ہے۔ اس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ نفسیاتی مسائل کی جڑ زیادہ تر بچپن کے تجربات اور حادثات میں ہوتی ہے جو لاشعوری کشمکش Unconscious Conflictکو جنم دیتی ہے۔ معالج اس کشمکش کی تشخیص کرتا ہے اور اس کا علاج کرتا ہے۔ تشخیص کے لئے زیادہ تر مریض سے بات کی جاتی ہے اور بعض اوقات لائسنس یافتہ ماہرین اس پر کچھ ٹسٹ کرتے ہیں۔ یہ نفسیاتی ٹسٹ اکثر سوالناموں کی صورت میں ہوتے ہیں، جن کے جوابات سے مریض کے ذہن کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ مریض کے ذہن کا اندازہ اس کے خوابوں Dream Analysisسے بھی کیا جاتا ہے۔۔اس کے بعد کونسلر کئی سیشن لے کر مریض کا علاج کرتا ہے۔ عام طور پر یہ طریقہ کافی وقت طلب اور صبر آزما ہوتا ہے اور علاج کے لئے کئی طویل سیشن درکار ہوتے ہیں۔

سی بی ٹی Cognitive Behavior Thrapyکی بنیاد اس نقطہ نظر پر ہے کہ انسان کے رویے اصلاً اس کے خیالات کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اگر ذہن منفی خیالات کی آماجگاہ ہو تواسی سے غلط رویے پیدا ہوتے ہیں اور خیالات بدل کر زندگی بدلی جاسکتی ہے۔اس طریقہ میں کونسلر ہمارے خیالات کا تجزیہ کرتا ہے اور اُن خیالات کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے جو ہمارے لئے نفسیاتی مسائل پیدا کررہے ہیں اور پھر گفتگو کے ذریعہ ان خیالات کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ہماری زندگی بہتر ہوسکے۔ اس کے لئے انفرادی ملاقات One to One Sessionکا طریقہ بھی اختیار کیا جاتا ہے اور بعض مسائل میں اجتماعی نشستوں Group Therapy کا بھی۔ اس میں بہت زیادہ ماضی زیر بحث نہیں آتا بلکہ حال میں یعنی آج ہمارے ذہن میں کیا خیالات چل رہے ہیں، ان پر فوکس کیا جاتا ہے۔

ان دنوں این ایل پی کا بھی کافی چرچا ہے۔ این ایل پی کی بنیاد کچھ مفروضوں Presuppositionsپر ہے۔ اس میں زیادہ تر اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ لاشعور کی ری پروگرامنگ کی جائے ۔ یعنی ہمارے لاشعور کو اس طرح دوبارہ ڈیزائن کیا جائے کہ خراب عادتیں، رویے اور جذبات سے چھٹکارا ملے اور اچھی عادتوں، خیالات ، اور جذبات کی افزائش ہو تاکہ اچھے رویئے پیدا ہوں۔ لاشعور کو خراب اجزاء سے پاک کرنے اور اس میں اچھے اجزا کو شامل کرنے کی کچھ خاص تکنیکیں ہیں جنہیں این ایل پی پریکٹیشنرز اختیار کرتے ہیں۔ این ایل پی سے نسبتاً زیادہ تیزی سے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

ان کے علاوہ کا گنیٹیو تھراپی Cognitive Therapy بیھیویریل تھراپی Behavioral Therpay ہیومنسٹک تھراپی Humanistic Therapyہولسٹک تھراپی Holistic Therapy اور اس طرح کے کئی ماڈل اور اپروچ ہیں جو دنیا میں رائج ہیں۔

انسانی نفسیات ایک نہایت پیچیدہ چیز ہے۔ مذکورہ تمام طریقوں کی بنیاد کچھ تھیوریز پر ہے۔ اس لئے ان میں آپس میں شدید ٹکرائو بھی ہے۔ ایک دوسرے پر شدید تنقیدیں بھی ہیں۔ اور ایک دوسرے کو غلط سائنس Pseudoscienceباور کرانے کی کوششیں بھی ہیں۔ ان سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ یہ سب انسانی علم کے ناقص ہونے کی دلیل ہے۔ جو کچھ باتیں انسان کی ابھی تک سمجھ میں آئی ہیں، اس کی بنیاد پر علاج کی کوشش ہمیں کرنی چاہیے اور حتمی نتیجہ کو اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے اور یہ یقین بھی رکھنا چاہیے کہ انسان چاہے کتنا ہی ترقی کرلے، اس کا علم ناقص اور ادھورا ہی رہے گا اور حقیقی علم تو اللہ کے پاس ہی ہے۔

اسی طرح یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ دیگر تمام جدید علوم کی طرح ، نفسیات سے متعلق یہ علوم بھی، غیر اسلامی اور سیکولر نظریات کی پیداوار ہیں۔ چاہے سماجیات و معاشیات ہوں یا نفسیات وفلسفہ، بلکہ میڈیکل سائنس اور کیمیا و طبعیات ہی کیوں نہ ہوں، ان سب علوم کی جو جدید شکلیں اس وقت ساری دنیا میں رائج ہیں ان کی بنیاد میں گہرے غیر اسلامی اور ملحدانہ فلسفے موجود ہیں۔مسلمان کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آنکھیں کھلی رکھ کر اور قرآن و سنت کی شمع کو روشن رکھ کر، ان علوم کے اچھے اور قابل قبول پہلووں سے استفادہ کریں اور غلط باتوں سے بچیں۔پھر یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ نفسیاتی مسائل کے حل کے سلسلہ میں اسلام کا اپنا نقطہ نظر بھی ہے۔ اسلام کے عقائد، تصورات ،عبادات اور اسلامی معاشرت اور اخلاق نیز آداب ان سب کا نفسیاتی مسائل کے حل میں اپنا ایک کردار اور رول ہے۔ذکر، دعا، نماز، روزہ، تلاوت وغیرہ سکون و اطمینان کی موثر ترین تکنیکیں بھی ہیں۔ ہم جدید تکنیکوں سے بھی ضرور استفادہ کریں، اسلام اس سے منع نہیں کرتا لیکن اسلام کی اساسی تعلیمات کو سامنے رکھ کر اور اس کو اصل مان کر، اسی کو کسوٹی بناکر، دیگر جائز طریقہ سے استفادہ کریں۔ دنیا کے علوم و فنون کے سلسلہ میں یہی معقول اسلامی رویہ ہے۔

اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ اسلام کا فہم و شعور رکھنے والے لوگ ان میدانوں میں آگے بڑھیں تاکہ اسلام کے اصولوں اور حق کی پائیدار بنیادوں پر ان علوم و فنون کی اصلاح ہوسکے۔ الحمد للہ یہ کام ہو بھی رہا ہے اور آج دنیا میں مسلمان اہل علم سائکیالوجی ، سی بی ٹی، این ایل پی وغیرہ فنون کو بھی اسلام کی روشنی میں پریکٹس کرنے اور ان کے اسلامی ماڈل تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لئے ایسے لوگ ملتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر نہیں ملتے تو ہمیں اپنے معالج کی باتوں اور مشوروں کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھنا چاہیے اور وہی باتیں قبول کرنی چاہیے جو ہمارے اصولوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نازنین سعادت

Leave a Reply