ایک شمع جلانی ہے! (قسط ــ 16)

آج جو ہم موبائل، انٹرنیٹ اور یوٹیوب کے نام سے پریشان ہیں اسے اپنے بچوں کے لیے ڈسٹریکشن کہہ کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں تو والدین کو جان لینا چاہیے کہ یہ مسئلہ انھوں نے خود کھڑا کیا ہے۔ کم عمر معصوم بچوں کو موبائل تھمانے والے ہم خود ہوتے ہیں اور جب اس موبائل کی لت لگ جاتی ہے تو پھر مسائل شروع ہوتے ہیں۔ خیر تو میں کہہ رہی تھی کہ تم ڈسٹریکشن سے پریشان نہ ہو، تمہاری تربیت یعنی عملی تربیت ہر چیز سے اوپر ہے۔ ‘‘

غافرہ خاموشی سے زینب آپا کو بولتے ہوئے سن رہی تھی، وہ اتنے دنوں سے جس ڈسٹریکشن کا سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی وہ انھوں نے لمحوں میں صفر کر دیا تھا۔۔۔ زینب آپا کے اگلے سوال نے اسے چونکا دیا۔

’’تم نے کہاں تک تعلیم حاصل کی…؟‘‘

’’میں نے بی ایڈ کر رکھا ہے ساتھ ہی ایم ایس سی بھی… ارادہ تھا کہ کہیں کسی اسکول میں جوائن ہوجاؤں گی۔ لیکن ابتسام نے اجازت نہیں دی اور ماویہ کے بعد میں بھی بہت مصروف ہوگئی۔‘‘ غافرہ نے خود کو Relax کرتے ہوئے جواب دیا۔ وہ جانتی تھی کہ زینب آپا بنا مطلب کوئی بات نہیں چھیڑیں گی اور اب یہ بات کہاں سے کہاں جائے گی وہ اسی کی منتظر تھی۔

’’ماشاء اللہ۔۔۔ بہت اچھی بات ہے۔ ویسے اتنا کیوں پڑھ لیا تم نے؟ مطلب کیا سوچ کر بی ایڈ کیا تھا۔ آرام سے فری ہوکر جواب دو۔‘‘ زینب آپا نے مسکراتے ہوئے کہا تو غافرہ ہنس دی کیوں کہ زینب آپا کا ماننا تھا کہ اکثر لڑکیاں مقصد تعلیم پوچھنے پر بڑا گاڑھا سا فورمل جواب دیتی ہیں اور ٹھیک ہے نا اب ہر کسی کو ہر بات کیوں بتائی جائے لیکن جب آپ اپنی آنے والی نسل کے لیے فکر مند ہوں تو پہلے ہمیں اپنی تصویر درست کرنی ہوگی۔

’’جی۔۔۔وہ۔۔۔‘‘ غافرہ جھینپ سی گئی تھی اور کوئی جواب بھی نہیں دے پا رہی تھی۔ اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ۔۔۔

’’اچھا چلو ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں… در اصل ہمارے معاشرہ میں لڑکوں کا مقصد تعلیم تو جاب کرنا ہی ہوتا ہے۔ رزق حاصل کرنے کے لیے ڈگری حاصل کی جاتی ہے اور جو لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں ان میں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو کیریئر بنانا چاہتی ہیں یا جنہیں جاب کرنی ہوتی ہے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں انہیں ہی ایجوکیٹیڈ ومن مانا جاتا ہے اور دوسری قسم ہوتی ہے وہ جو اچھے رشتوں کے لیے پڑھائی کرتی ہیں یا پھر اچھا رشتہ آنے تک پڑھائی ان کی مصروفیت ہوتی ہے۔

شادی کے بعد وہ گھریلو زندگی میں مصروف ہوکر ہاؤس وائف مانی جاتی ہیں۔ دھیان رکھو کہ وہ صرف ہاؤس وائف سمجھی جاتی ہیں۔ تعلیم یافتہ ہاؤس وائف نہیں…!! اس میں غلطی بھی لڑکیوں ہی کی ہے۔ ‘‘ زینب آپا کی باتوں پر غافرہ دل ہی دل میں شرمندہ سی ہوکر رہ گئی کہ اس نے بھی تعلیم شادی سے پہلے کی مصروفیت کے طور پر جاری رکھی تھی۔

٭٭

شام کا سہانا موسم اب رات کی سیاہی میں ڈھلنے لگا تھا۔ جابجا لگے روشنی کے بلب جل اٹھے تھے… زینب آپا اور وہ واک کرتے کرتے ایک اور پتھر کی بینچ کے قریب پہنچ گئے تھے… زینب آپا اس پر بیٹھ گئیں اور پھر سے اپنی گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑا۔

’’کچھ لڑکیاں وہ بھی ہوتی ہیں جو کیریئر بنانا چاہتی ہیں لیکن شادی کے بعد حالات بدل جاتے ہیں کبھی اجازت نہیں مل پاتی اور بھی بے شمار الگ الگ وجوہات ہوتی ہے جن کی وجہ سے انہیں کیریئر بھول کر ہاؤس وائف بن جانا پڑتا ہے، اور وہ سمجھتی ہیں کہ ان کا اتنا پڑھنا بیکار گیا، آخر میں کرنا تو چولھا اور چکی ہی کا کام پڑا۔ تو سارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس مقصد تعلیم ہی غلط بنا دیا گیا ہے۔ علم انسان میں شعور پیدا کرتا ہے … Career oriented educated women کا میں ذکر نہیں کروں گی کیوں کہ بات کہیں سے کہیں چلی جائے گی۔

آج تعلیم تو عام ہوچکی ہے، لڑکیاں بہت پڑھ رہی ہیں لیکن مقصد تعلیم بگڑ گیا ہے…‘‘ یہ کہہ کر زینب آپا کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگئیں…

’’میں نے تعلیم اور مقصد تعلیم کا ذکر اس لیے کیا کہ اگر کیریئر یا شادی ہی مقصد تعلیم ہو تو پھر بچوں کی تربیت میں اس تعلیم کا استعمال کیسے ہوگا کہ دماغ پر کہیں یہ بات نقش ہی نہیں ہوتی… گھر سنبھالتے وقت اور بچوں کی تربیت کرتے وقت ہم خود تعلیم یافتہ ہونے کا ثبوت نہیں دیتے… ان کے سوال کا برابر سے Logic کے ساتھ جواب نہیں دیتے۔ نقصان دہ اور غلط باتوں سے انہیں حکمت عملی کے ساتھ مختلف تدبیروں کے ساتھ روکتے نہیں۔ وہی روایتی ’’نا‘‘ ولی رٹ ’ہم نے منع کر دیا نا ایک بار‘ کی گردان، غصہ، ڈانٹ ڈپٹ جھڑکنا وغیرہ۔‘‘

’’اب دیکھو تم نے بی ایڈ کر رکھا ہے اس میں ایک مضمون ہوتا ہے جس میں بچوں کی نفسیات بتائی جاتی ہے۔ کبھی تم نے ایک ماہر نفسیات لارینس کوہل برگ کو پڑھا، جن کا تعلق ہارورڈ یونیورسٹی سے ہے۔ انھوں نے مختلف پس منظر رکھنے والے بچوں کے مطالعہ کے دوران پایا کہ چار سے دس سال تک کے بچے سزا سے بچنے یا انعام اور ستائش کے لیے فرماں برداری کرتے ہیں۔ جب کہ ہمارے گھرانوں میں سزا کا سسٹم ہی زیادہ رائج ہے۔ اگر تمہارے اپنے ذہن میں یہ واضح ہوتا کہ تعلیم تو اس لیے حاصل کی جاتی ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کی تربیت بہترین نقوش پر کرسکیں۔ اور انعام یہ مادی نہیں بلکہ جنت کا انعام، نیکیوں کا اجر اور اچھے کاموں کے لیے رب کی خوشنودی۔

’’بچوں کو ہر بات سکھاتے اور سمجھاتے وقت انہیں اس کا مقصد اور نفع نقصان سمجھانا چاہیے اور مجھ سے پوچھو تو میں یہ مانتی ہوں کہ بچوں میں بچپن سے ہی اللہ کی محبت اور اس کا خوف پیدا کرنا چاہیے۔ یہ بنیادی بات ہے اور یہی محبت اور خوف ہے جو بچوں پر اثر کرتے ہیں اور تیسرا ہے تجسس، دنیا کو کھوجنے کا اور چیزوں کا جاننے کا۔ یہاں تمہارا علم دنیا اور علم قرآن کام آنا چاہیے۔

’’بچے جہاں والدین کی محبت میں، ان سے انعام یا ستائش کی خواہش میں بہت سے کام کرتے ہیں اور بہت سے نہیں کرتے، وہیں وہ والدین کے خوف سے بہت سے کام چھپ کر کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ سے محبت اور اللہ ہی کا خوف تربیت کی کنججی ہے…‘‘ زینب آپا دھیرے دھیرے غافرہ کی ہر الجھن دور کیے جا رہی تھیں اور بالآخر غافرہ نے تربیت کا سب سے اہم اور بنیادی نقطہ سمجھ لیا تھا۔ ’’اللہ کی محبت اور اللہ کا خوف۔‘‘

غافرہ کا سیل فون اس کے ہاتھ میں تھا اور ہر بات اپنے سسٹم میں ریکارڈ کر رہا تھا جب کہ غافرہ خاموشی سے سنتے ہوئے ہر بات خود میں جذب کر رہی تھی۔

’’میں اب تمہیں ہر مرحلہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں تو نہیں بتا سکتی، البتہ چند اہم اور بنیادی چیزیں بتا رہی ہوں۔ راستہ تمہیں خود بنانا ہے، اپنے بچے کی نفسیات، عادات اور مزاج کے حساب سے اسے اللہ سے محبت کا احساس دلاؤ اور اللہ کا خوف بھی پیدا کرو۔‘‘ انھوں نے غافرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سرہلا کر رہ گئی۔

’’بچے اچھا کام کریں چاہے وہ ایک چھوٹی سی اچھی بات ہی کیوں نہ ہو تو ان کی حوصلہ افزائی کرو اور انہیں کچھ نہ کچھ انعام دو چاہے وہ ایک چھوٹا سا چاکلیٹ ہی کیوں نہ ہو۔ انعام اور ستائش ملے گی تو بچے اسے دہرائیں گے اور نیکی عادت بن جائے گی۔۔۔ ایک بار پھر کہہ رہی ہوں کہ ابتدائی عمر میں بچے اپنے ماں باپ کو دیکھ کر ان کی نقل کرنے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں اس لیے ہر وہ کام جو تم اسے سکھانا چاہتی ہو وہ اس کے سامنے خود کرو اور دھیرے دھیرے ان کاموں کو، اپنی باتوں کو، اسے سکھائی جانے والی عادتوں کو اور ہر کام کو ہلکے پھلکے انداز میں محبت سے اللہ کی طرف اس کی کتاب کی طرف اور نبی کی سنت کی طرف پھیر دو۔‘‘

’’یہ کام بڑا مشکل، دقت طلب اور محنت طلب ہے۔ لیکن جب تک مائیں اس صفا و مروہ کے درمیان چکر نہ کاٹیںزم زم نہیں ملے گا…‘‘ زینب آپا تو بات کہہ کر خاموش ہوگئیں… کچھ دیر کی خاموشی کے بعد انھوں نے غافرہ کا ایک ہاتھ تھام لیا۔ ’’غافرہ… تم ایک بیٹی کی ماں ہو تو اسپیشلی تمہیں یہ خیال رکھنا ہوگا کہ اپنی بیٹی کو ہینڈل و دکٹر Handle with care والا پروڈکٹ مت بناؤ کہ ذرا کچھ ہوجائے تو خوب آنسو بہنے لگیں، چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر پریشان ہوجائے اور اپنے مسئلے خود نہ حل کرسکے… ماں باپ کی محبت کے درمیان لڑکیاں عموماً بہت نازک مزاج بن جاتی ہیں… اسے تم حضرت عمارۃ، حضرت صفیہؓ جیسی بناؤ نڈر اور بہادر۔

تمہیں پتا ہے آج جب تم موبائل خریدنے بازار جاؤ تو سیلزمین اس کی Screen glass کے متعلق کہتا ہے کہ گوریلا Glass ہے، مطلب ہے تو کانچ ہی، دیکھنے میں نازک، خوب صورت، آرپار دکھانے والی کانچ۔ لیکن کتنا ہی زور سے گر جائے ٹوٹے گا نہیں… تو لڑکیوں کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے، کہنے کو تو صنفِ نازک ہو مگر خصوصیت گوریلا glassوالی ہو۔‘‘

٭٭

شام مکمل ڈھل چکی تھی اور اندھیرا چھا چکا تھا، ایک روشنی تھی جو اسے اپنے اندر محسوس ہو رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ غلطی کہاں ہوتی ہے۔۔۔؟ وہ تشکر بھری نگاہوں سے زینب آپا کو دیکھ رہی تھی۔ لوگوں میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کا احسان ایسا ہوتا ہے کہ آپ چاہ کر بھی نہیں اتار سکتے اور پھر معاملہ اللہ سے اجر کی دعا پر چھوڑ دینا ہوتا ہے۔

’’جزاک اللہ خیراً کثیراً… میں زیادہ وعدہ تو نہ لوں گی مگر انشاء اللہ میں اپنے عمل سے بتا دوں گی کہ میں نے اسمٰعیل کی چاہ میں ابراہیم علیہ السلام بننے کی کوشش کی اور انشاء اللہ اسمٰعیل علیہ السلام اور زم زم مرا مقدر ضرور بنے گا۔‘‘ وہ تشکر کے جذبات سے گھری انہی کے الفاظ میں ان سے کہہ رہی تھی تو وہ دھیمے سے مسکرا دیں۔

اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی جو آٹھ بچنے کا اعلان کر ہی تھی، ساتھ ہی موبائل بھی زوزو کرنے لگا۔ ابتسام کی کال آرہی تھی وہ باہر گیٹ پر آگئے تھے…

’’چلئے پھر ملاقات ہوگی انشاء اللہ۔۔۔‘‘ غافرہ نے شگفتگی سے کہا۔۔۔ ’’انشاء اللہ۔۔۔‘‘ انھوں نے محبت سے اس کا ہاتھ بھینچا اور وہ آخری الفاظ پھر سے غافرہ کے لیے امید بن گئے۔

’’غافرہ میں نے بہت سوچا کہ تمہیں وہ کون سا ورد دوں جو اس سارے عمل کے دوران تمہاری زبان پر رہے، جو دوران تربیت تمہارا دل بھی بڑھائے، اور تمہیں سکون بھی دے… پہلے میں نے سوچا کہ سورہ لقمان کے ذریعے تمہیں بتاؤں کہ تربیت کے رہنما اصول کون سے ہیں؟ پھر سوچا کہ سورہ فاتحہ کی انقلابیت بتاؤں جو تم خود اپنے اور اپنی اولاد میں بسا لو تو کیا ہی زندگی ہوجائے لیکن پھر میں نے سوچا کہ اب اسپون فیڈنگ نہیں… یہ سب تمہیں خود کرنا ہے… قرآن سے یہ سب کچھ تمہیں خود سیکھنا ہے… لیکن میں تمہیں ایک دعا بتا سکتی ہوں، چند الفاظ ؟؟ دعا… ابھی نہیں، کل دوپہر کے بعد ہوسٹل سے قریب ہی ایک مسجد ہے وہاں مسجد کو لگ کر ایک کمرہ ہے جہاں کل میرا درس ہے، خواتین و لڑکیوں کے لیے۔۔۔ آجانا تم وہاں۔۔۔‘‘ انھوں نے دھیمے لہجے میں ہلکی مسکراہٹ سے کہا جب کہ غافرہ سحر زدہ ہوگئی تھی ان الفاظ پر۔۔۔

وہ اس بات سے لاعلم تھی کہ کل والا درس کس طرح نہ صرف اس کی زندگی بدل دے گا بلکہ اسے قرآن کے قریب کر کے اس سے ایک عجیب رابطہ پدیا کردے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply